
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (سورۃ البقرۃ: 183)
رمضان المبارک کا مہینہ وہ مقدس مہینہ ہے جس کی فضیلت و برکت کو خود خالقِ کائنات نے اپنے کلامِ مجید میں بیان فرمایا۔ یہ مہینہ محض دنوں، ہفتوں اور تاریخوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ روحانی تربیت، قلبی صفائی اور اعمال کی درستگی کا سنہری موقع ہے۔ یہ وہ موسمِ بہار ہے جس میں نیکیوں کی کھیتیاں سرسبز ہو جاتی ہیں، ایمان کی کلیاں کھل اٹھتی ہیں، رحمت کی ہوائیں چلتی ہیں، مغفرت کی بارش برستی ہے اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:
«تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ هَلُمَّ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ»
اس(مہینے) میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور ہر رات منادی آواز لگاتا ہے: اے خیر (بھلائی) کے طلب گار! خیر کے کام میں لگ جا ، اور اے شر (برائی) کے طلب گار! برائی سے باز آ جا۔“(سنن نسائی: 2109 )
یہ وہ خاص مہمان ہے جو ہمارے دلوں میں تقویٰ کی شمع روشن کرنے آتا ہے، ہماری عملی زندگی میں انقلاب پیدا کرتا ہے اور ہمیں دنیا کی فانی لذتوں سے نکال کر دائمی سعادتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ رمضان ایک غیر معمولی مہینہ ہے جو نہ صرف ہماری عبادات میں جوش و خروش پیدا کرتا ہے بلکہ ہمارے کردار و عادات کی اصلاح کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ اس مہینے میں ہمارا تعلق قرآن سے مضبوط ہوتا ہے، ہماری راتیں قیام و دعا میں بسر ہوتی ہیں، دن ضبطِ نفس اور صبر و استقامت کی تربیت فراہم کرتا ہے اور یہ مہینہ ہمیں اخلاص و للہیت کا درس دیتا ہے۔ روزہ ہمیں صرف بھوک اور پیاس سہنے کی مشق نہیں کراتا، بلکہ یہ ہمیں ان تقاضوں کی یاد دلاتا ہے جو اللہ کے ایک مخلص بندے کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے چاہئیں۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کس طرح انسان اپنے جذبات، خواہشات اور جبلّی تقاضوں پر قابو پا کر ایک بہتر اور صالح شخصیت میں ڈھل سکتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا رمضان صرف بھوکا رہنے اور افطار کے دسترخوان پر مختلف نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کا نام ہے؟ کیا اس مقدس مہینے کی برکتیں صرف سحری اور افطاری تک محدود ہیں؟ یا پھر یہ وہ موقع ہے جس میں ہمیں اپنے شب و روز کا ایک واضح لائحہ عمل طے کرنا چاہیے، تاکہ ہم اس کے حقیقی مقاصد سے کماحقہ فائدہ اٹھا سکیں؟ یہ مہینہ محض رسمی عبادات اور روایتی معمولات کے لیے نہیں آیا، بلکہ یہ ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے، اپنی زندگی میں بہتری لانے اور اپنے رب کے قریب ہونے کا عملی موقع فراہم کرتا ہے۔
پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سوچیں اور غور کریں کہ رمضان میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ وہ کون سے کام ہیں جو ہمیں اس مہینے میں خصوصی طور پر انجام دینے چاہئیں تاکہ ہم اللہ کی رضا حاصل کر سکیں، اپنی آخرت سنوار سکیں اور اس مہینے کی حقیقی برکتوں سے مستفید ہو سکیں؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس پر ہم آج کے خطبہ جمعہ میں گفتگو کریں گے اور دیکھیں گے کہ رمضان میں کرنے والے ہمارے کام کون کون سے ہونے چاہئیں۔
1۔ روزہ رکھنا:
رمضان المبارک میں سب سے اہم عمل روزہ رکھنا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے روزے ہر مکلف مسلمان پر فرض کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (سورۃ البقرۃ: 183)
’’اے ایمان والو !تم پر روزے فرض کر دئے گئے ہیں ، ویسے ہی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی کی راہ اختیار کرو۔‘‘
اور فرمایا:
﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾
’’پس جو شخص بھی اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزے رکھے۔‘‘(سورۃ البقرۃ: 185)
روزہ ارکانِ اسلام میں سے ہے ، سیدنا عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ»
”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک حضرت محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ (صحیح مسلم:113)
روزے کی فضیلت بہت زیادہ ہے، سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
«الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ وَإِنْ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا»
” روزہ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ہے اس لیے (روزہ دار ) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہوناچاہئے کہ میں روزہ دار ہوں، (یہ الفاظ ) دو مرتبہ (کہہ دے ) اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے، (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور (دوسری ) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتا ہے۔“ (صحیح بخاری: 1894)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَقُومُونَ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ»
”جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہوگا، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہے؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جاسکے گا۔“ (صحیح بخاری: 1896)
سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَأَكْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ»
”اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ روزہ خالص میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔ بندہ اپنی شہوت، کھانا پینا میری رضا کے لیے چھوڑتا ہے اور روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اس وقت جب وہ افطار کرتا ہے اور ایک خوشی اس وقت جب وہ اپنے رب سے ملتا ہے اور روزہ دار کے منہ کی بو، اللہ کے نزدیک مشک عنبر کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔“ (صحیح بخاری: 7492)
سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: «مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، بَعَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا» ”جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ( جہاد کرتے ہوئے ) ایک دن بھی روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت کی دوری تک دور کردے گا۔“ (صحیح بخاری: 2840)
سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»
”جو شخص رمضان میں ایمان اور ثواب کا کام سمجھ کر روزہ رکھے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔“(صحیح بخاری: 38)
سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ»
”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔“ (صحیح بخاری: 1899)
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بَلِیِّ کے دو آدمیﷺکے پاس (ہجرت کرکے مدینہ) آگئے۔ وہ دونوں اکٹھے مسلمان ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت (نیکی کے کاموں میں) زیادہ محنت کرنے والا تھا، چنانچہ اس محنت کرنے والے نے جہاد کیا اور شہید ہوگیا۔ دوسرا آدمی اس کے بعد ایک سال تک زندہ رہا، پھر وہ فوت ہو گیا۔ حضرت طلحہ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوں۔ اچانک دیکھا کہ وہ دونوں بھی وہاں موجود ہیں۔ جنت سے ایک آدمی باہر آیا اور اس نے بعد میں فوت ہونے والے کو (جنت میں جانے کی) اجازت دے دی۔ (کچھ دیر بعد) وہ پھر نکلا اور شہید ہونے والے کو اجازت دے دی۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر کہا: واپس چلے جاؤ ، ابھی آپ کا وقت نہیں آیا۔ صبح ہوئی تو طلحہ نے لوگوں کو خواب سنایا۔ انہیں اس پر تعجب ہوا۔ رسول اللہﷺ کو بھی معلوم ہوا، اور لوگوں نے نبیﷺ کو (تفصیل سے خواب کی) بات سنائی۔
آپﷺنے فرمایا: تمہیں کس بات پر تعجب ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دونوں میں یہ شخص زیادہ محنت والا تھا، پھر اسے شہادت بھی نصیب ہوئی لیکن جنت میں دوسرا اس سے پہلے چلا گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ (دوسرا) اس (پہلے) کے بعد ایک سال تک زندہ نہیں رہا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس میں روزے رکھے اور سال میں اتنی اتنی رکعت نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«فَمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ»
”ان دونوں (کے درجات) میں تو آسمان و زمین کے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ فرق ہے۔“ (سنن ابن ماجہ: 3925 )
2۔ وقت پر نماز ادا کرنا:
دوسرا عمل نماز ہے ، یہ بہت ضروری عمل ہے کیونکہ نماز اسلام کا ایک بڑا اور اہم رکن ہے۔ جو شخص روزہ رکھتا ہے اور نماز نہیں پڑھتا، اس کا روزہ اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جگہ جگہ نماز کا حکم دیا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿الم 0 ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ 0 الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ 0 وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ 0 أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
”الم یہ کتاب ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ، اس میں متقین کیلئے ہدایت ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں او رہم نے انھیں جو دیا اس سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ نیز وہ آپ کی طرف نازل شدہ (وحی) پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئی اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ اپنے رب کی طرف سے (نازل شدہ) ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“ (سورۃ البقرہ: 1۔5)
دوسری جگہ فرمایا:
﴿ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ﴾
”اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔“ (سورۃ البقرہ: 43)
تیسری جگہ ارشاد ہوا:
﴿اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ﴾
”اس کی تلاوت کر جو کتاب میں سے تیری طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کر، بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور یقیناً اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔“ (سورۃ العنکبوت: 45)
بے نماز کا ٹھکانہ جہنم ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ 0 فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ 0 عَنِ الْمُجْرِمِينَ 0 مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ 0 قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ 0 وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ﴾
”مگر داہنے والے۔ باغوں میں ہوں گے، پوچھیں گے۔ گناہگاروں سے۔ کس چیز نے تمہیں دوزخ میں ڈالا۔وہ کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے۔ اور نہ ہم مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔“ (سورة المدثر: 39-44)
سیدنا جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ
’’ آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز چھوڑنا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 247)
سیدنا عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا: أَيُّ العَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟
اللہ عزوجل کے ہاں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟
آپﷺنے فرمایا:الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا
”بروقت نماز ادا کرنا۔“ پھر پوچھا: اس کے بعد کون سا؟ آپﷺنے فرمایا: بِرُّ الوَالِدَيْنِ ”والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔“ پھر پوچھا: اس کے بعد کون سا؟ آپﷺنے فرمایا: الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“(صحیح بخاری: 5970)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے ایک دن نماز کا ذکر کیا اور فرمایا:
«مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ نُورٌ وَلَا بُرْهَانٌ وَلَا نَجَاةٌ، وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ قَارُونَ، وَفِرْعَوْنَ، وَهَامَانَ، وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ»
”جس نے نماز کی اچھی طرح حفاظت کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے روز نور، دلیل اور نجات ہو گی اور جس نے اس کی پوری طرح حفاظت نہ کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نہ نور ہو گا، نہ دلیل اور نہ نجات اور ایسا آدمی قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔“ (مسند احمد: 6576 )
3۔ رات کا قیام کرنا:
تیسرا عمل قیام اللیل ہے۔یعنی راتوں کو اللہ کی عبادت اور اس کی بارگاہ میں عجز ونیاز کا اظہار کرنا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے عبادالرحمان(رحمان کے خاص بندوں) کی جو صفات بیان فرمائی ہیں ،ان میں ایک یہ ہے:
﴿وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا﴾
”ان کی راتیں اپنے رب کے سامنے قیام وسجود میں گزرتی ہیں۔“ (الفرقان: 64)
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»
”جس نے رمضان(کی راتوں) میں قیام کیا،ایمان کی حالت میں ،ثواب کی نیت(اخلاص) سے،تو اسکے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔“ (صحیح بخاری: 2009 )
قیام اللیل(رات کا قیام) کے اور بھی بہت سارے فضائل و فوائد ہیں ، سیدنا عبد اللہ بن سلام کہتے ہیں کہ جب نبیﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ جلدی جلدی آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے اور (عام لوگ) کہنےلگے: اللہ کے رسولﷺ تشریف لے آئے۔ اللہ کے رسولﷺ تشریف لے آئے۔ اللہ کے رسولﷺ تشریف لے آئے۔ تین بار (کہا) میں بھی لوگوں کے ساتھ زیارت کے لیے حاضر ہوا۔ جب میں نےنبیﷺ کے چہرۂ اقدس پر توجہ سے نظر ڈالی تو مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹ بولنے والےکا چہرہ نہیں۔ نبیﷺ کا جو ارشاد میں نے سب سے پہلے سنا، وہ یہ تھا؛
«يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ، وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ»
’’ اے لوگو! سلام عام کرو، کھانا کھلایا کرو، صلہ رحمی کرو، اور جب لوگ سو رہے ہوں تو تم رات کو نماز (تہجد) پڑھو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: 3251)
سیدنا مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں:
«قَامَ النَّبِيُّ ﷺ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا »
”رسول اللہ ﷺ نماز میں رات بھر کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں سوج گئے ۔ آپ سے عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی تمام خطائیں معاف کردی ہیں۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔؟“ (صحیح بخاری: 4836)
سیدنا مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَإِنْ أَبَتْ,نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإِنْ أَبَى، نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ»
” رحم فرمائے اللہ تعالیٰ اس بندے پر جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا اور اپنی بیوی کو جگاتا ہے۔ اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے اور رحم فرمائے اللہ تعالیٰ اس بندی پر جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتی اور اپنے شوہر کو جگاتی ہے۔ اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتی ہے۔“ (سنن ابوداؤد: 1308)
4۔ کثرت سے تلاوت کرنا:
قرآن کریم کا نزول رمضان المبارک میں ہوا،اس لیے قرآن کریم کا نہایت گہراتعلق رمضان المبارک سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس ماہ مبارک میں نبی اکرم ﷺ حضرت جبرئیل کے ساتھ قرآن کریم کادور فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: 1902)
اور صحابہ وتابعین بھی اس ماہ میں کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کااہتمام کرتے تھے۔ تلاوتِ قرآن کے بہت سارے فوائد ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ﴾
”وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی ہے، اسے پڑھتے ہیں جیسے اسے پڑھنے کا حق ہے، یہ لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کوئی اس کے ساتھ کفر کرے تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔“(سورۃ البقرہ: 121)
سیدنا عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ »
”جس نے کتاب اللہ کاایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی،اور ایک نیکی دس گنا بڑھادی جائے گی ، میں نہیں کہتا” الم “ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔“ (جامع ترمذی: 2910 )
رسو ل کریم ﷺ نے فرمایا:
«لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَسَمِعَهُ جَارٌ لَهُ، فَقَالَ: لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلَانٌ فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُهْلِكُهُ فِي الْحَقِّ، فَقَالَ رَجُلٌ: لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلَانٌ فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ»
”رشک تو بس دو ہی آدمیوں پر ہونا چاہئے ایک اس پر جسے اللہ تعا لی نے قرآن کا علم دیا اور وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا رہتا ہے کہ اس کا پڑوسی سن کر کہہ اٹھے کہ کاش مجھے بھی اس جیسا علم قرآن ہوتا اور میں بھی اس کی طرح عمل کرتا اور وہ دوسرا جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے حق کے لئے لٹا رہا ہے ( اس کو دیکھ کر ) دوسرا شخص کہہ اٹھتا ہے کہ کاش میرے پاس بھی اس کے جتنا مال ہوتااور میں بھی اس کی طرح خرچ کرتا۔“(صحیح بخاری: 5026 )
5۔صدقہ وخیرات کرنا:
چوتھا عمل صدقہ وخیرات کرنا ہے۔سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں:
«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ اجود الناس وَكَانَ أجود مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْانَ، فَلَرَسُولُ اللَّهِ -ﷺ -اجود بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ»
”رسول اللہ ﷺ بھلائی کے کاموں میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے تھے اور آپ کی سب سے زیادہ سخاوت رمضان کے مہینے میں ہوتی تھی۔اس مہینے میں(قرآن کا دور کرنے کے لیے) آپﷺ سے جب جبرئیل ملتے،تو آپ کی سخاوت اتنی زیادہ اور اس طرح عام ہوتی جیسے تیز ہوا ہوتی ہے ،بلکہ اس سے بھی زیادہ۔‘‘ (صحیح مسلم : 2208)
اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾ ”ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، ایک دانے کی مثال کی طرح ہے جس نے سات خوشے اگائے، ہر خوشے میں سو دانے ہیں اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ (سورۃ البقرہ: 261)
دوسری جگہ فرمایا:
﴿مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴾
”کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، پس وہ اسے اس کے لیے بہت زیادہ گنا بڑھا دے اور اللہ بند کرتا اور کھولتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“ (سورۃ البقرہ: 245)
رسول اللہﷺنے فرمایا:
«مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ وَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ»
”جو شخص حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ صرف حلال کمائی کے صدقہ کو قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے پھر صدقہ کرنے والے کے فائدے کے لیے اس میں اضافہ کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی اپنے جانور کے بچے کو کھلا پلاکر بڑھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا صدقہ پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔“ (صحیح بخاری: 1410)
سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
«مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ»
”صدقے نے مال میں کبھی کوئی کمی نہیں کی اور معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ بندے کو عزت ہی میں بڑھاتا ہے اور کوئی شخص (صرف اور صرف) اللہ کی خاطر تواضع (انکسار) اختیار نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کا مقام بلند کر دیتا ہے۔“ (صحیح مسلم: 6592)
6۔ کثرت سے دعا کرنا:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے احکام ومسائل کے درمیان دعا کی ترغیب بیان فرمائی ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ﴾
”جب میرے بندے آپ سے میری بابت پوچھیں،تو میں قریب ہوں،پکارنے و الے کی پکار کو قبول کرتا ہوں جب بھی وہ مجھ کو پکارے ،لوگوں کو چاہیے کہ وہ بھی میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔“ (البقرہ: 186)
اس سے علماء اور مفسرین نے استدلال کیا ہے کہ اس انداز بیان سے اللہ تعالیٰ کی یہ منشا معلوم ہوتی ہے کہ رمضان المبارک میں دعاؤں کا بھی خصوصی اہتمام کیاجائے،کیونکہ روزہ ایک تو اخلاص عمل بہترین نمونہ ہے،دوسرے ،روزے کی حالت میں انسان نیکیاں بھی زیادہ سے زیادہ کرتا ہے،راتوں کو اٹھ کر اللہ کی عبادت کرتا اور توبہ واستغفار بھی کرتاہے اور یہ سارے عمل انسان کو اللہ کے قریب کرنے والے ہیں۔ اس لیے اس مہینے میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی خوب کی جائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا دعا کرنے والوں سے وعدہ ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾
”اور تمھارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔“ (سورۃ المؤمن: 60)
سیدنا سلمان فارسی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
«إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا »
” بلاشبہ تمہارا رب بہت حیا والا اور سخی ہے ۔ بندہ جب اس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے حیا آتی ہے کہ انہیں خالی لوٹا دے ۔ “ (سنن ابوداؤد: 1488)
سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ لَمْ يَسْأَلْهُ يَغْضَبْ عَلَيْهِ»
”جو اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کرتا، الله تعالیٰ اس پر غصے ہوتا ہے۔“ (الادب المفرد: 658 )
7۔ عمرہ کرنا:
سیدناابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
العُمْرَةُ إِلَى العُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالحَج المبرور ليسَ لَهُ جَزَاء إِلَّا الجَنَّة
”ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔“ (صحیح بخاری : 1773)
رمضان میں اس کی فضیلت اور بھی زیادہ ہے ، ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری خاتون سے پوچھا کہ تو ہمارے ساتھ حج کیوں نہیں کرتی؟ وہ کہنے لگی کہ ہمارے پاس دو اونٹ تھے ایک پر ابوفلاں (یعنی اس کا خاوند) اور اس کا بیٹا سوار ہو کر حج کے لئے چل دیئے اور ایک اونٹ انہوں نے چھوڑا ہے، جس سے پانی لایا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:«فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِى فَإِنْ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلْ حَجَّةً » ”اچھا جب رمضان آئے تو عمرہ کر لینا رمضان کا عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے۔“(صحیح مسلم : 3038)
8۔ روزے إفطار کروانا:
پانچواں عمل روزے کھلوانا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
« مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا»
”جس نے کسی روزے دار کا روزہ کھلوایا،تو اس کو بھی روزے دار کی مثل اجر ملے گا،بغیر اس کے کہ اللہ روزے دار کے اجر میں کوئی کمی کرے۔“ (جامع ترمذی : 807 )
ایک دوسری حدیث میں فرمایا:
«مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا أَوْ جَهَّزَ غَازِيًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ»
”جس نے کسی روزے دار کا روزہ کھلوایا یا کسی مجاہد کوتیار کیا(سامان حرب دے کر) تو اس کے لیے بھی اس کی مثل اجر ہے۔“ (صحیح الترغیب: 2901)
9۔ اعتکاف کرنا:
رمضان کی ایک خصوصی عبادت اعتکاف ہے۔نبی اکرم ﷺ اس کابھی خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ رمضان کے آخری دس دن ،رات دن مسجد کے ایک گوشے میں گزارتے اور دنیوی معمولات اور تعلقات ختم فرمادیتے۔نبی کریم ﷺپابندی سے اعتکاف فرماتے تھے،جس سال آپ کی وفات ہوئی،اس سال آپ نے رمضان میں دس دن کی بجائے 20 دن اعتکاف فرمایا۔ (صحیح بخاری : 2044)
٭٭٭
استقبال رمضان
مسلمانو! اٹھو اب ماہ رمضاں آنے والا ہے
کرو تیاریاں روزوں کی شعباں جانے والا ہے
کرو رمضاں کا استقبال تم بے حد مسرت سے
کرو روزوں کا استقبال تم سچی محبت سے
عبادت کا مہینہ ہے کریں اس میں عبادت ہم
سخاوت کا مہینہ ہے کریں اس میں سخاوت ہم
کرو تم ذہن ودل کو پاک پاکیزہ مہینہ ہے
منور کر لو ظاہر اور باطن گر قرینہ ہے
ہر ایک لمحہ غنیمت ہے خزانہ جمع کر لیجیے
مہینہ صبر کا ہے غصہ قلعہ قمع کر لیجیے
مسلمانو! کرو رمضان کی روحانی تیاری
بہ الفاظ دگر جسمانی ونورانی تیاری
مہینہ ہے یہ قرآں کا تلاوت کیجیے قرآں کی
مہینہ ہے یہ تقوے کا یہ ہے پہچان رمضاں کی
ہے شہر احتساب اس میں کریں ہم احتساب اپنا
نجاتِ اخروی کے واسطے کر لیں حساب اپنا
اسی میں ہم زکوٰۃ وصدقہ وعطیات دیتے ہیں
جو دیتے ہیں کسی کو واسطے حسنات دیتے ہیں
سحر، افطار کرتے ہیں مساکین اور فقراء بھی
ہے منظر روح پرور کیا کبھی لوگوں نے سوچا بھی
بہت خوش ہو کے بچے بھی ہمارے روزے رکھتے ہیں
ہر اک سے آگے بڑھنے کی مسلسل سعی کرتے ہیں
قیام اللیل سے جب مسجدیں بقعہ سی لگتی ہیں
بہ وقتِ فطر واللہ نور کا حالہ سی لگتی ہیں
خدا شاہد ہے بڑھ جاتی ہیں اس میں رونقیں بے حد
کہ ہو جاتی ہیں ہر مؤمن کے دل میں عظمتیں بے حد
سبھی بچتے ہیں کھانے پینے سے اور خواہشوں سےبھی
برائی کے ہر اک پہلو سے بدتر عادتوں سے بھی
بہ کثرت توبہ استغفار کرتے ہیں گناہوں سے
دلوں میں نور رہتا ہے دعاؤں اور آہوں سے
یقیناً ہے مہینہ برکت وغفران کا لوگو
شیاطین لعیں کے واسطے زندان کا لوگو
ہے رکھتا آخری عشرہ بھی اس کا اجر بے پایاں
شب قدر اس میں ہے جس پر ہزاروں ماہ ہیں قرباں
دعاؤں کا مہینہ ہے کرو اس میں دعائیں تم
برائے مغفرت کرتے رہو ہر وقت آہیں تم
برائے امت مرحوم بھی اس میں دعا کیجیے
بڑی پابندی سے یہ کام بھی صبح ومساء کیجیے
خوشی میں ماہِ رمضاں کی ہے مثال بندۂ ثاقب
کرم ہے تیرا بےپایاں میری تقدیر کے کاتب!
ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی
٭٭٭
تبصرہ کریں