
افواه كا معنى ومفہوم :’’افواہ‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جو ” فَوَهٌ” سے بنا ہے اردو زبان میں بھی مستعمل ہے، قرآن مجید میں اس لفظ کو بارہ (12) مقامات پر ذکر کیا گیا ہے، جس کے معنی ہیں ’’بے اصل بات مشہور کرنا، جھوٹی خبر مشہور کرنا ، اڑتی ہوئی خبر، غیر یقینی و نا معتبر لوگوں کی خبریں۔ لفظ ’افواہ‘ کو مختلف انداز اور لب و لہجے میں شعراء کرام نے بھی استعمال کیا ہے کسی شاعر نے کہا :
آتا ہے کون کون میرے غم کو بانٹنے
محسن تو میری موت کی افواہ اڑا کے دیکھ
شاعر راحت اندوری نے کہا تھا:
افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے
لوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کر دیا
اور ایک شاعر حزیں لدھیانوی نے کہا تھا:
جتنے مفلس ہیں وہ ایک روز تو نگر ہوں گے
ایک افواہ سنی ہے مگر اخباری سی
افواہ کے عناصر: دین اسلام نے افواہ کو گناہ اور ایک سماجی برائی تصور کیا ہے اور اس سماجی برائی کوسختی کے ساتھ ختم کرنے کی تعلیم دی ہے اور ایسے لوگوں کو دنیاو آخرت کے انجامِ بد سے باخبر بھی کیا ہے، عوام الناس میں سے بعض کا یہی مشغلہ ہوتا ہے کہ وہ صبح سے شام تک کوئی نہ کوئی افواہ پھیلاتے رہتے ہیں اور انسانی سماج بالخصوص مسلم امت کو آزمائشوں ، اضطراب و کرب سے دو چار کرتے رہتے ہیں ۔ اس دور میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جدید میڈیا و ذرائع ابلاغ و خبر رساں ادارے بھی اس کے محرک و علمبردار ہیں، جس کے متعلق ایک عظیم مفکر نے کہا تھا:
”اے اخبار والو! تمہارے حسن نگاہ کی بھی خیر ہو ، چاہو تو زرّے کو پہاڑ بناڈ والو، اور چاہو تو کوہِ ہمالیہ تمہیں ٹیلہ نظر آئے۔‘‘
ان افواہوں کے سبب سماجی زندگیاں درہم برہم ہیں، بنا کسی تحقیق و تصدیق سے کوئی نہ کوئی خبر مشہور کردی جاتی ہے کسی کے ساتھ بھی نا جائز رشتوں کو جوڑ دیا جاتا ہے، کسی بھی خاندان کو بدنام کر دیا جاتا ہے، کسی کے بھی انتقال کی خبر عام کر دی جاتی ہے، کہیں بھی فسادات کی خبریں مشہور کر دی جاتی ہیں، کسی کا الزام کسی کے سر ڈال دیا جاتا ہے، راتوں رات کسی کو بھی دیش دروہی بنا دیا جاتا ہے اور معصوم دہشت گرد بنا دئے جاتے ہیں اور نا کردہ گناہوں کی سزائیں بھگتے ہیں، ایسی خبروں سے انسانیت مجروح ہو جاتی ہے اور سماجی نفرتیں پروان چڑھنے لگتی ہیں، خاندان وقبائل ٹوٹ جاتے ہیں، فرقہ وارانہ منافرت پھیل جاتی ہے، دنگا فساد مچ جاتا ہے اسی لئے دین اسلام نے سب سے پہلے اس بات کی تعلیم دی ہے کہ
﴿ بايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلَى مَا فَعَلْتُمُ نَادِمِينَ﴾
’’اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے لئے پریشانی اٹھاؤ ۔‘‘ (سورۃ الحجرات:6)
کسی بھی خبر کی تصدیق سے پہلے تحقیق ضروری ہے، میڈیا اور واٹس ایپ کے اس دور میں لوگوں کو غیر مصدقہ خبریں اڑانے میں بڑی دلچسپی نظر آتی ہے یہ سلسلہ چنگاری کو آگ اور شعلے کو آتش فشاں بنا دیتا ہے اور لوگ اس سے لذت حاصل کرتے ہیں، یہی نہیں گھر یلو جھگڑے، مساجد و مدارس اور مذہبی جماعتوں کے اختلافات، مذہبی وسیاسی شخصیتوں کی کمزوریوں کو بڑی لذت نفس کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے، ایک زمانہ تھا خبیث و جاہل قسم کے گروہ یہ کام انجام دیا کرتے تھے اب تو شریف النفس علماء ، زعماء، قائدین ہر کس و ناکس اس میدان کے ہیر و نظر آتے ہیں، اسلامی شریعت نے گمراہ کن خبروں اور افواہوں سے نمٹنے کے متعدد طریقے استعمال کئے ہیں ، اس میں سے ایک جھوٹ ہے جس سے جنگی خطوط پر نمٹا گیا ہے، کیونکہ افواہ پھیلانے والوں کی ابتداء ایسے ہی لوگوں سے شروع ہوتی ہے جو حقیقت واقعہ کے بالکل خلاف باتوں کو گھڑتے ہیں جو شریعت کی نظر میں حرام ہیں، اسی لئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
﴿ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الكَاذِبِينَ﴾
’’ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘ (سورۃ آل عمران : 61)
اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
« وَاَنَّ الكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الفُجُوْرِ، وَإِنَّ الفُجُوْرَ يَهْدِى إِلَى النَّارِوَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكتَبُ عِنْدَ اللهِ كَاذِبًا»
’’ یقیناً جھوٹ برائی کی جانب لے جاتی ہے اور برائی جہنم کی طرف لے جاتی ہے، اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری:6094)
اسی طرح جھوٹ کی مذمت یوں بیان کی گئی ہے کہ حضرت حسن بن علی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
« دَعْ مَا يُرِيْبَكَ إِلَى مَالَايُرِيْبُكَ فَإِنَّ الصِّدْقُ طُمَانِيْنَةٌ وَالكِذب رِيْبَةٌ»
’’اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اس چیز کو اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، سچائی دل کو مطمئن کرتی ہے اور جھوٹ دل کو بے قرار کرتا ہے۔‘‘ (جامع ترمذی : 2518)
افواہ پھیلانے والوں کا انجام : جھوٹی خبروں کو عام کرنے اور افواہوں کے پھیلانے والوں کو اس حدیث شریف سے سبق لینا چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ
’’دوفرشتے آپ کو لے کر ایک ایسے شخص کی جانب چلے جو اپنی گدی کے بل چت لیٹا ہوا تھا، اور اس کے پاس ایک اور شخص (فرشتہ ) لوہے کا تر شول لئے کھڑا تھا، پھر وہ اس کے منہ کے ایک طرف جا کر اس کا جبڑا گڈی تک بھاڑ ڈالتا۔ نتھنے اور آنکھ کو بھی اسی طرح گدی تک چیر دیتا پھر دوسری جانب پلٹ کر ایسا ہی کرتا، جیسا کہ پہلی جانب کیا تھا، اور ایک طرف چیر کر فارغ نہیں ہوتا کہ دوسری طرف کا حصہ بالکل درست ہو کر اپنی اصلی حالت پر آجاتا، پھر وہ اس کی طرف پلٹ کر ایسا ہی چیر پھاڑ کرتا جیسا کہ پہلی بار چیر پھاڑا تھا، نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں :
”تو میں نے اپنے ساتھ والے دونوں فرشتوں سے پوچھا: سبحان اللہ، یہ دونوں کون ہیں؟ تو ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ وہ شخص جس کے پاس آپ آئے اور جس کا جبڑا اور نتھنے کو گدّی تک چیرا جار ہا تھا وہ ایسا شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور جھوٹ بولتا جو دور دور تک پھیل جاتا ( افواہ بن جاتی ) ۔‘‘ (صحیح بخاری:7047)
بے سمجھی بوجھی بات کا انجام : اس طرح جھوٹی خبر اور افواہ پھیلانے والے ہر مسلمان کو رسول اللہ ﷺکے اس ارشاد پر غور وفکر کرنا چاہئے:
«إِنَّ العَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَبَيَّنُ فِيْهَايَزِلُّ بِهَا فِى النَّارِ أَبْعَدَ مِمَّا بَيْنَ المَشْرِق»
’’ آدمی اپنی زبان سے ایک بات بولتا ہے اور اس کے متعلق سوچتا نہیں ( کہ وہ بات کتنی پھیلے گی کتنا کفر و وفساد اور بے حیائی کی طرف لے جائیگی، قوم وملت پر اس کا کیا اثر پڑے گا ) جس کی وجہ سے وہ جہنم کے گڑھے میں اتنی دور تک گرتا ہے جتنا پچھم سے پورپ کا فاصلہ ہے ۔‘‘ (صحیح مسلم 8892)
بنا تصدیق افواہ پھیلانے کا انجام : افواہوں کو ہوا دینے والا ایک دوسرا عنصر یہ ہے کہ آدمی جو سنتا ہے اسے بنا تصدیق کے پھیلا دیتا ہے ایسے بہت سے کم ظرف ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بات میڈیا اور واٹس ایپ پر آئی ہم نے شیئر کر دی، فلاں فلاں شخص نے کہہ دی ہم نے پھیلا دیا، یہ انداز فکر انتہائی گھناؤنا ہے اور اللہ کی نظر میں بہت ہی بری بات ہے، رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کی مذمت کی ہے اور کہا کہ ایسا ہی آدمی سب سے بڑا جھوٹا و کذاب ہے اور فرمایا:
« كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِباً أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ»
’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات (بلا تحقیق ) بیان کر دے۔‘‘ (صحیح مسلم: 5)
اسی لئے تمام مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ نے اس بات کی تعلیم دی ہے کہ
« مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ باللهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا ، أَوْ لَيَصْمُتْ »
’’جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان ویقین رکھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اپنی زبان کھولے تو بھلی بات کرے یا خاموش ہو جائے۔‘‘ (صحیح بخاری:6019)
منہ سے نکلنے والا ہر لفظ محفوظ ہے: ہر افواہ پھیلانے والے اور جھوٹی خبر کو عام کر کے اضطراب پیدا کرنے والے مسلمان کو یہ عقیدہ رکھنا چاہئے کہ ان کی ہر حرکت کو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعہ محفوظ کروارہا ہے، کر اما کاتبین ہمارے ہر بول کو محفوظ کر رہے ہیں، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں کیا ہے:
﴿مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلِ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيدٌ﴾
’’(انسان ) منہ سے جو لفظ بھی نکالتا ہے، اس کے پاس نگہبان (فرشتے اسے لکھنے کے لئے) تیار رہتے ہیں ۔‘‘ (سورہ ق: 18 )
جو لوگ افواہوں کو سن کی یقین کر لیتے ہیں، انہیں اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ہرگز یقین نہ کریں بلکہ کنارہ کشی اختیار کر لیں، افواہ پھیلانے والے مسلم سماج میں خفیہ طور پر داخل ہو جاتے ہیں، دراصل وہ منافق ہیں جو چاہتے ہیں کہ مسلم سماج میں اضطراب و بے اطمینانی کی کیفیت برقرار رہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے:
﴿لَوْ خَرَجُوا فِيكُمْ مَّازَادُوكُمُ إِلَّا خَبَالًا وَّلَا أَوْضَعُوا خِلٰلَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ وَالله عَلِيمٌ بِالظَّالِمِینَ﴾
’’ اگر یہ تم میں مل کر نکلتے بھی تو تمہارے لئے سوائے فساد کے اور کوئی چیز نہ بڑھاتے بلکہ تمہارے درمیان خوب گھوڑے دوڑا دیتے اور تم میں فتنے ڈالنے کی تلاش میں رہتے، ان کے ماننے والے خود تم میں موجود ہیں اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے ۔‘‘ (سورۃ التوبہ: 47)
اس آیت کی رو سے وہ سب لوگ منافقانہ عادتوں کو اختیار کئے ہوئے ہیں، جو افواہوں کو پھیلا کر مسلم امت و سماج کو انتشار کی سمت دھکیلنا چاہتے ہیں اور ان میں باہمی افتراق پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ افواہیں اور جھوٹی خبروں کو سننے کے بعد اہل ایمان کا یہ رد عمل ہونا چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو کنارہ کش کر لیں اور اپنے دامن کو بچالیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ وَإِذَا سَمِعُو اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنُهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ لا نَبْتَغِى الْجَاهِلِیْن﴾
’’اور جب بےہودہ بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کنارہ کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے تم پر سلام ہو ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے۔‘‘ (سورۃ القصص: 55)
حضرت امام ضحاک رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ
”جب کوئی آدمی تمہارے پاس آکر یہ کہے کہ فلاں مرد اور فلاں عورت ایسے ایسے برے کام کرتے ہیں تو اس کی تصدیق نہ کرو۔‘‘ (الدر المنشور)
تاریخ اسلام اور احادیث میں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جس میں دشمنان اسلام اور منافقین اور حاسدین کی جانب پھیلائی جانے والی افواہوں کے سبب ملت اسلامیہ کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے، پوری ملت اسلامیہ میں ہیجان بپا ہوا، نفسا نفسی کا معاملہ پیش آیا، چند واقعات کا تذکرہ یہاں کیا جاتا ہے۔
1۔ سب سے پہلا واقعہ:
افواہوں کی تاریخ کا پہلا واقعہ تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر عائد کیا جانے والا ’واقعہ افک‘ ہے جو منافقین کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہوں میں سے سب سے بڑی افواہ تھی جسے ان کے سردار عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے چیلوں نے تحریک بنا کر پیش کیا ، سارے منافقین اس افواہ کو پھیلا کر اپنے کمینے پن اور دل کے روگ کو ثابت کیا، لیکن اس کی زد میں بعض مسلمان بھی آگئے اور اس افواہ کو یقینی سمجھ لیا ، خو د رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر صدیق اَلم و اضطراب اور کشمکش کی صورت حال سے گزرے، سارے صحابہ کرام حیران و پشیمان رہے ، اس وقت کا سارا اسلامی معاشرہ ہیجان و اضطراب کی کیفیت کا شکار ہو گیا، سارے مسلم سماج پر غم کی تاریکی چھا گئی ، صورت حال ایسی ہوگئی کہ کریں تو کیا کریں اور کہیں تو کیا کہیں ۔ افواہیں اسی طرح سارے سماج کو مضطرب کر دیتی ہیں۔ حتی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے والد کے گھر جانا پڑا ۔ اس افواہ کے متعلق جو بھی واقعات کتب احادیث میں ہم پڑھ سکتے ہیں، لیکن اس کی تصویر و تکلیف کو قلمبند نہیں کر سکتے۔ ایک مہینہ کے اضطراب کے بعد اللہ تعالیٰ نے جب آپ رضی اللہ عنہا کی شان میں پاکدامنی کی آیتیں نازل فرمایا تب جا کر رسول اللہ ﷺ ، ابو بکر صدیق ، اور تمام صحابہ کرام اور مسلم سماج کو سکون و راحت نصیب ہوا۔ اس سارے واقعہ میں کمال کا پہلو یہ ہے کہ افواہ کی اس تحریک سے خود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بے خبر رہیں۔ اسی چیز کو افواہ کہتے، شخصیتیں حقیقت حال سے بے خبر رہتی ہیں لیکن اس کے خلاف افواہ پھیلا دی جاتی ہے۔ اسی لئے اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ جب ایسی افواہ والی ، بے بنیاد جھوٹی خبریں عام ہو جائیں تو اسے یقین کرنے کے بجائے اس کو رد و مسترد کر دیں اور کہیں کہ
﴿ سُبْحَانَكَ هذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ ﴾
’’اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے یہ تو سب سے بڑا الزام ہے۔‘‘ اسی طرح اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ کسی معزز و معتبر متقی ، پرہیز گار، قائد ، رہنما، رہبر، عالم وفاضل کے متعلق خبر آئے تو اس کے متعلق خیر و بھلائی سوچیں اور کہیں کہ یہ تو واضح کھلم کھلا بہتان ہے ۔ (سورۃ النور: 12)
2۔ دوسرا واقعہ :
افواہوں کی تاریخ کا دوسرا واقعہ یہ کہ مدینہ منورہ میں یہ افواہ پھیلا دی گئی تھی کہ یہودیوں نے مسلمانوں پر جادو کر دیا ہے، اسی لئے مسلمانوں کے یہاں کوئی اولاد پیدا نہیں ہورہی ہے اور ظاہری بات ہے کہ موجودہ زمانے میں ایسی ہی افواہیں پھیلا کر رشتے اور ناطے توڑ دئے جاتے ہیں اور ازدواجی زندگی کو اجیرن بنا دیا جاتا ہے ) اس طرح کی افواہوں کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سماج و معاشرے کو ذہنی طور پر الجھا دیا جائے اور ان میں اضطراب پیدا کیا جائے، اس افواہ سے متعلق پوری روایت کتب حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ
”حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ان کے پیٹ میں تھے انہوں نے کہا کہ پھر میں (جب اہجرت کے لئے ) نکلی تو وقت ولادت قریب تھا، مدینہ منورہ پہنچ کر میں نے پہلی منزل قبا میں کی اور یہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے ، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بچے کو لے کر حاضر ہوئی اور اسے آپ کی گود میں رکھ دیا، رسول اللہ ﷺ نے کھجور طلب فرمایا اور اسے چبایا اور بچے کے منہ میں اپنا تھوک ڈال دیا، چنانچہ پہلی چیز جو اس بچے کے منہ میں گئی وہ رسول اللہ ﷺ کا دھن مبارک تھا، پھر آپ نے کھجور سے تحنیک کی اور اس کے لئے برکت کی دعا فرمائی، یہ سب سے پہلا بچہ اسلام میں (ہجرت مدینہ کے بعد ) پیدا ہوا ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہت خوش ہوئے کیونکہ یہ افواہ پھیلائی جارہی تھی کہ یہودیوں نے تم مسلمانوں پر جادو کر دیا ہے اس لئے تم مسلمانوں کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوگا۔‘‘ (صحیح بخاری:5469)
3۔ تیسرا واقعہ :
افواہوں کی تاریخ کا تیسرا واقعہ جنگ احد کا ہے جو سنہ 3 ہجری میں واقع ہوئی، جب جنگ کا شیرازہ بکھر گیا، اور مسلمان حیران و سرگر دان تھے، ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کدھر جائیں ،شیطان نے یہ افواہ پھیلادی، کسی پکارنے والے کی پکار سنائی دی کہ محمدﷺقتل کر دئے گئے ہیں ، اس خبر سے مسلمانوں کا رہا سہا ہوش بھی جاتا رہا، اکثر لوگوں کے حوصلے بھی ٹوٹ گئے ، بعض نے لڑائی سے ہاتھ روک لیا اور درماندہ ہو کر ہتھیار پھینک دئے۔
اس خبر کے صحیح ہونے میں شک وشبہ کی گنجائش تک باقی نہ تھی ، بقول حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ابھی ہماری یہی کیفیت تھی کہ نبی کریم ﷺ سعد نامی دو صحابہ کے درمیان نمودار ہوئے، ہم نے ان کی چال ڈھال سے پہچان لیا ، ہم بہت خوش ہوئے اور ایسی خوشی محسوس ہوئی کہ گویا ہمیں کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیں ۔ (الرحیق المختوم 413 ، مسند احمد : 2478 ) ( یہاں واقعہ مختصر بیان کیا گیا ہے )
4۔ چوتها واقعہ:
افواہوں کی تاریخ کا چوتھا واقعہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی افواہ کا ہے، جب صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنا سفیر بنا کر اہل مکہ کی خدمت میں روانہ کیا، کیونکہ ان کا خاندان و قبیلہ مکہ میں قیام پذیر تھا اور وہ اچھی طرح آپ کا پیغام پہنچانے کے متحمل تھے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ
”انہیں ( اہل مکہ) کو بتا دو کہ ہم لڑنے کے لئے نہیں آئے ہیں، بلکہ عمرہ کرنے آئے ہیں، انہیں اسلام کی دعوت بھی دو۔‘‘ اور آپ نے فرمایا کہ
’’ مکہ میں اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے پاس جا کر انہیں فتح کی بشارت سنادیں اور بتلادیں کہ اللہ عزوجل اب اپنے دین کو مکہ میں ظاہر و غالب کرنے والا ہے یہاں تک کہ ایمان کی وجہ سے کسی کو یہاں روپوش ہونے کی ضرورت نہ ہوگی۔ ‘‘
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آپ کا پیغام لے کر روانہ ہوئے ، مکہ پہنچ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سربراہان قریش کو رسول اللہ ﷺ کا پیغام سنا دیا، جب آپ کی سفارت مکمل ہو چکی تو قریش نے باہمی مشورہ اور قطعی فیصلہ کرنے کے لئے آپ کو روک لیا تاکہ عثمان رضی اللہ عنہ کو جواب دے کر واپس کر دیں ، لیکن دوسری جانب (منافقین کی جانب سے ) یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اہل مکہ نے قتل کر دیا ہے، جب رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے ایک درخت کے نیچے تمام صحابہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ لینے کے لئے بیعت رضوان لی، جب بیعت مکمل ہوئی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی واپس آگئے اور انہوں نے بھی بیعت کی اس بیعت میں سب حاضر تھے سوائے ایک منافق کے جس کا نام جد بن قیس تھا۔ (الرحیق المختوم 533 ، مسند احمد 10790 ) (اس واقعہ کو یہاں بہت ہی مختصر بیان کیا گیا ہے )
5۔ پانچواں واقعہ:
افواہوں کی تاریخ کا پانچواں یہ ہے کہ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ
اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تلوار چلانے والے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہیں، ایک مرتبہ یہ افواہ پھیلی کہ رسول اللہ ﷺ کو کافروں نے گرفتار کر لیا ہے، اس خبر پر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تلوار تھام کرلوگوں سے گزرتے ہوئے گئے ، رسول اللہ ﷺ مکہ کے بالائی حصے میں تھے، ملاقات ہوئی تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
’’اے زبیرا کیا ہوا؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ
’’ مجھے خبر ملی تھی کہ آپ کو کافروں نے پکڑ لیا ہے، اس پر رسول اللہ ﷺنے انہیں دعا دی اور ان کی تلوار کے لئے بھی دعا فرمائی ۔ ‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ : 19864)
الغرض افواہوں کی بھی ایک تاریخ ہے لیکن یہاں غور کرنا ہے کہ افواہیں پھیلانا اور افواہوں پر یقین کرنا مسلمان کا کام نہیں ہے، افواہ پھیلانا اور اصل یہ منافقین، مشرکین اور یہود و کفار کا طریقہ ہے جو افوہوں کے ذریعہ مسلمانوں کو خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں۔ امت مسلمہ میں جو لوگ افواہوں کو پھیلانے کے عادی ہیں یا اس طرح کی افواہوں کی تصدیق کرتے ہیں تو انہیں اپنی عادتیں بدلنی چاہیے کیونکہ یہ غیر مسلمانہ کافرانہ ومنافقانہ یہودیانہ عادتیں ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اضطراب آمیز جھوٹی افواہیں پھیلانے سے محفوظ رکھے ۔(آمین)
☆☆☆
حکمت اور تکبر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
’’ہر شخص کے سر (دماغ) میں حکمت (عقل)ہوتی ہے جس پر ایک فرشتہ مقررہوتا ہے جب وہ تواضع اختیار کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے کہ
اس کی حکمت کو بڑھادو اور جب وہ تکبر کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے کہ
اس کی حکمت ودانائی میں کمی کردو۔‘‘
(سلسلہ صحیحہ :2133)
٭٭٭
تبصرہ کریں