رسول اللہﷺکا پیغام اساتذہ کے نام۔ محمدعبد الرحیم خرم عمری جامعی

استاذ تعلیم دینے والے کو کہتے ہیں جو بچوں کی روح کو پاک کرتا ہے جو طالب علم کی مددور ہنمائی کرتا ہے اور انہیں تربیت دیتا ہے اور ان کے اخلاق کو سنوارتا ہے اور انہیں قابل انسان بناتا ہے، درسگاہ کوئی بھی ہو، معلم کے بغیر درسگاہوں کا تقدس بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ماں کے بغیر گھر ، معلم کے بغیر تعلیم کا حصول ناممکن ہے تعلیم و تدریس کا پیشہ مقدس ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ جو سب سے پہلے معلم انسانیت تھے، اساتذۂ کرام کی سب سے بہترین رہنمائی کی ہے، ایک معلم بچوں کی اچھی تربیت اور تعلیم دے کر اپنی قوم وملت ، ملک وطن کی تعمیر کرتا ہے۔ ایک مفکر نے استاذ کی اہمیت کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:

’’ کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے اچھے استاذ کی بہترین تربیت کار فرما ہوتی ہے ، خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاذ میسر آجاتے ہیں، ایک معمولی سے نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر استاذ کی مرہون منت ہوتا ہے، وہ ایک طالب علم میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں، استاذ قوموں کی تعمیر میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں، اچھے لوگوں کی وجہ سے اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور اچھے معاشرے سے ایک بہترین قوم تیار کی جاسکتی ہے۔ ‘‘

دیگر اقوام و معاشروں اور مذاہب کے بالمقابل اسلام نے اساتذہ کی تکریم اور ان کے تقدس اور ان کی اہمیت کو خوب اجاگر کیا ہے، کیونکہ ایک استاذ اپنے طالب علم کو پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے، بلا شبہ رسول اللہ ﷺ معلم انسانیت تھے، جنہوں نے اپنے صحابہ کی اس قدر تربیت کی کہ وہ تا قیامت کا ئنات کیلئے مثال اور اہل ایمان کی اصلاح کا ذریعہ بنے ، حالانکہ عرب کا معاشرہ جاہلی سماج کہلاتا تھا ، جہاں ایسی کوئی برائی و خباثت اور منکرات وفحش نہیں تھے، جسے اس سماج نے اختیار نہ کیا ہو، زنا ، شراب نوشی ، چوری، قتل و غارت گری، لوٹ ماریہ تو عمومی باتیں ہیں جو ہر سماج میں ہوتی ہیں لیکن اہل عرب اس سے بھی آگے تھے کہ وہ اپنی اولا د کو بیٹی ہونے کے سبب زندہ درگور کر دیتے ، اور قبائلی عصبیتیں و نفرتیں اتنی پھیلی ہوئی تھیں کہ برس ہا برس تک قتل و غارتگری کا بازار گرم رہتا نسلیں تباہ ہو جاتیں لیکن جاہلیت کا یہ عالم تھا کہ ہر مرنے والا سردار اپنے بعد آنے والے جانشین کو انتقام کی وصیت کرتا ،ایسے میں رسول اللہ ﷺ نے اس سماج کی تربیت کی اور انہیں سدھارا اور انہیں تعلیم دی تو وہ سماج اس قدر نکھر گیا کہ اللہ کی رضا مندی حاصل ہوئی اور ان کے حق میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ

﴿رَضِيَ الله عَنْهُمْ وَرَضُوْاعَنه﴾ ’’ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔‘‘ (سورۃ المائدہ: 199)

استاذ کا فریضہ:

ہر مسلمان استاذ کو چاہئے کہ وہ اپنے منصب و مقام اور اہمیت و ذمہ داری کو سمجھے جب تک وہ اپنے مقصد کو نہیں سمجھے گا نہ کامیاب استاذ ثابت ہوگا اور نہ اس سے فیضیاب ہونے والے طلباء سماج و معاشرہ کے لیئے مفید ثابت ہو سکتے ہیں رسول اللہ ﷺ کی زندگی اساتذہ کے لئے نمونہ و مثال ہے، اللہ تعالیٰ نے معلم انسانیت کے مقصد رسالت کو یوں بیان فرمایا ہے:

﴿ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايْتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتب وَالْحِكْمَهَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُّبِينٍ ﴾

’’وہی ہے جس نےنا خواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے . یقیناً یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ ‘‘ (سورۃ الجمعہ : 2)

اس آیت کریمہ میں بحیثیت معلم ہر استاذ کو چاہئے کہ وہ ان چار باتوں کا خیال رکھے جو رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد تھا۔ عوام الناس اور طالب علموں کو آیات کی تلاوت کر کے سنانا، ان کے اخلاقی جرائم و برے اعمال کی نشاندہی کرنا، کتاب پڑھ کر سنانا اور انہیں حکمت کی باتیں بتانا اسی کے ذریعہ سے نسلوں کی اصلاح ہوگی۔ اساتذہ کو چاہئے کہ وہ اس آیت کی روشنی میں اپنے طلباء کی تربیت کریں، انہیں سابقہ لوگوں کے واقعات سنائیں ، کتاب پڑھانے کے دوران انہیں گزرے ہوئے حقائق سے واقف کروائیں ، اقوال زرین ،صحابہ وتابعین اور بڑے بزرگ مسلمان سائنس دانوں کے اقوال سنائیں ، ان کے نام بتائیں۔

کیونکہ موجودہ دور کا طالب علم 70 سال قدیم تاریخ سے نا آشنا ہے، ہر دور میں تبدیل ہونے والے نصاب تعلیم نے مسلمانوں کے کارناموں کو فراموش کر دیا ہے، کتنے ایسے اساتذ ہیں جو تدریس کے دوران اپنے طلباء کو مسلم بادشاہوں کے واقعات سناتے ہوں گے جیسے بنگال کے نواب سراج الدولہ ، سلطنت خداداد ٹیپو سلطان اور مغلیہ سلطنت، آصف جاہی سلطنت، تغلق سلطنت ، عادل شاہی سلطنت کے عدل وانصاف و ترقی پسندی کے واقعات اور ان کے زوال کے اسباب، اسی طرح پولیس ایکشن اور وہ واقعات جو آزادی ہند کے بعد رونما ہوئے اسی طرح آزادی ہند میں علماء کی قربانیاں اور ان تحریک کا تعارف جنہیں علماء اکرام نے قائم کیا تھا، اسی طرح ان خانوادوں کا تعارف جو آزادی ہند کی خاطر تاراج کر دئیے گئے ، اسی طرح ان مدارس کا تذکرہ جنہیں انگریزی استعمار نے ملیا میٹ کر دیا تھا وغیرہ۔

اگر اساتذہ ان کی ذہن سازی نہ کریں تو طلباء کی ذہنی نشونما کیسے پروان چڑھے گی؟ طلباء تو وہی سمجھیں گے جو موجودہ تاریخ میں بیان کیا جا رہا ہے، ہمارے طلباء کے پاس اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ خارجی مطالعہ کے ذریعہ تاریخی حقائق کو جان سکیں ، اساتذہ کو چاہئے کہ وہ اس حقیقت کو اپنے پیش نظر رکھیں کہ تاریخ کے وہ حقائق جو 30 سال قبل طلباء کو پڑھائے جاتے تھے، اب وہ نصاب تعلیم سے ہٹا دئے گئے ہیں، مسلم حکمرانوں کو پہلے ہندوستانی بادشاہوں کے نام سے پڑھایا جا تا تھا لیکن اب انہیں بھارت کے غاصب و جابر و ظالم حکمران کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، اسی لئے معلم انسانیت رسول اللہ ﷺ نے عربوں کو ان کی قدیم تاریخ سے آگاہ کیا جو وہ نہیں جانتے تھے۔

استاذ بچوں کو زجر و توبیخ نہ کرے:

ہر معلم کو چاہئے کہ وہ اپنے طلباء کو جھڑ کے نہیں اور نہ ڈانٹے اور نہ ان پر غصے کا اظہار کرے، اس سے بچوں کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں اور وہ استاذ سے خوفزدہ رہتے ہیں اور اپنی کوئی بھی بات یا سوال ان سے کرنا نہیں چاہتے ، جس کے سبب ان کی ذہنی نشونما میں فرق پڑ جاتا ہے، کئی ایک اساتذہ ہیں جو بچوں کے ساتھ غلط زبان استعمال کرتے ہیں، جیسے بیوقوف ، گدھے، نالائق، نکمے ، کیا ہے رے، کیا بولا، وغیرہ ان الفاظ کو اساتذہ کی زبانی سنا گیا ہے اس ضمن میں رسول اللہ ﷺاپنی ذات اور شخصیت کے متعلق یہ بیان فرمایا کہ

«إِنَّ اللهَ لَمْ يَبْعَثَنِى مُعَنْقاً، وَلكِنْ بَعَثَنِي مُعَلَّما مُيسراً»

’’ بلا شک وشبہ مجھے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو جھڑ کنے والا بنا کر مبعوث نہیں فرمایا، بلکہ مجھے آسانی کرنے والا معلم بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ (المسند :14515)

استاذ میں احساس ذمہ داری ہو:

ہر استاذ و معلم کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرے کیونکہ وہ اللہ کے پاس اپنی ذمہ داری کے متعلق سوال کیا جائیگا۔ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:

«كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْئُول»

’’ تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اپنی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائیگا۔“ (صحیح بخاری : 5188)

ہر استاذ و معلم اپنے طالب علموں سے متعلق سوال کیا جائے گا کیونکہ ان کی تعلیم تربیت کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی ہے۔ 4 سال کی عمر کے بچے کو ان کے حوالے کر دیا گیا، اساتذہ اپنی ذمہ داری کو روحانیت کے ساتھ نبھائیں ۔وہ اپنی ذمہ داری کو پیشہ ورانہ نہ سمجھیں، قدیم زمانے میں اساتذہ کا بہت اکرام کیا جاتا تھا کیونکہ وہ حد درجہ اخلاص کے ساتھ خدمت انجام دیتے تھے لیکن فی زمانہ اساتذہ پروفیشنل یعنی پیشہ ور ہو چکے ہیں یعنی تعلیم تجارت بن گئی ہے۔ اس لئے طلباء میں وہ صلاحیت نہیں پائی جاتی ہے جو قدیم طلباء میں پائی جاتی تھی ، ضرورت ہے کہ اساتذہ اپنی خدمات کا دائرہ تبدیل کریں، قوموں کا انقلاب، قائدین کی پیداوار، زمانے کی تبدیلی اساتذہ کے ہاتھوں میں ہے، اگر ہم امت مسلمہ میں انقلابی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو اساتذہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔

استاذ طالب علم کا خیر مقدم کرے :

ہر مسلمان استاذ کو یہ چاہئے کہ وہ اپنے طلباء کا خیر مقدم کرے کیونکہ وہ حصول علم کے لئے ان کے پاس آتے ہیں، معلم انسانیت رسول اللہ ﷺ نے اس بات کی تعلیم دی، حضرت صفوان بن عسال روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس وقت آپ اپنی سرخ چادر پر ٹیک لگائے مسجد میں تشریف فرما تھے، تو میں نے عرض کیا: ”میں طلب علم کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مَرْحَباً بِطَ العلم»

’’طالب علم کو خوش آمدید! یقیناً طالب علم کو فرشتے اپنے پروں سے گھیر لیتے ہیں، پھر وہ ایک دوسرے کے اوپر سوار ہوتے ہوئے آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں وہ سب کچھ حصول علم کی محبت میں کرتے ہیں۔‘‘ (طبرانی: 7347؛ سلسلہ صحيحہ:3397، اسناده حسن ورجاله ثقات صحیح)

رسول اللہ ﷺنے صحابہ کرام کو طالب علم کے خیر مقدم کا حکم دیا۔ حضرت ابوسعید خدری بیان فرماتے ہیں کہ یقیناً آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«سَيَأْتِيْكُمْ أَقْوَامٌ يَطْلُبُوْنَ العِلْمَ فَإِذَا رَأَيْتُمُوْهُ فَقُوْلُوْالَهُمْ: مَرْحَباً ! مَرْحَباً بِوَصِيَّةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقْنُوهُمْ: قُلْتُ لِلْحَكَمِ مَا أَقْنوهُمْ ؟ قَالَ: عَلَمُوْهُمْ»

’’عنقریب تمہارے پاس قو میں علم طلب کرنے کے لئے آئیں گی ، پس تم جب انہیں دیکھو تو رسول اللہ ﷺ کی وصیت کے مطابق ( ان کا استقبال کرو ) ان سے کہو : خوش آمدید ، خوش آمدید، اور انہیں وہ چیز دوجو ذخیرہ کئے جانے کے قابل ہے۔ (امام ابن ماجہ کے استاذ محمد بن حارث فرماتے ہیں ) میں نے اپنے استاذ حکم بن عبدہ سے پوچھا: قابل ذخیرہ چیز دینے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس کا مطلب ہے کہ انہیں علم سکھاؤ۔“ (ابن ماجہ :203؛ حسن، صحیح الجامع:3651، حسن ؛ الجامع الصغير: 4717)

حصول علم کا ذوق و شوق رکھنے والوں کا استقبال ہونا چاہئے ، اس سے ان کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور ان کے مزاج میں جدت پیدا ہوتی ہے، چونکہ کسی بھی مدرسہ یا اسکول و کالجز اور یو نیورسٹیوں میں طلباء قلیل مدت کے لئے داخل نہیں ہوتے بلکہ طویل مدت کے لئے داخل ہوتے ہیں گویا ان کے گھروں کے بعد دوسرا گھر مدرسہ یا اسکول و کالج و یو نیورسٹی ہی ہوتا ہے، پچھلے زمانے میں آج کل کی طرح گھروں کے قریب اسکول نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ حصول علم کے لئے نئے علاقوں اور شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا، جہاں اپنوں کو چھوڑ کر بیگانوں میں زندگی بسر کرنا ہوتا تھا۔ ایسے میں اساتذہ کے اس استقبال سے انہیں اپنائیت کا احساس ہوگا۔

لیکن افسوس آج ہمارے مدارس و اسکولز، اور کالج و یونیورسٹی اور جامعات میں جدید طلباء کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے، ان کے ساتھ ریکنگ کی جاتی ہے، انہیں ستایا جاتا ہے، جس کے سبب نئے طلباء یا تو مدرسہ و اسکول اور کالج ویونیورسٹی و جامعات چھوڑ دیتے ہیں اور ترک تعلیم اختیار کر لیتے ہیں بلکہ غیرت کے مارے بعض طلباء خود کشی کر لیتے ہیں۔ یہ ماحول بنا ہوا ہے، جس کی اصلاح بہت ضروری ہے۔

استاذ طالب علم کے سوال کا جواب دے :

استاذ کو چاہئے کہ جب بھی کوئی طالب علم سوال کرے تو اس کو جواب دے اور استاذ کی توجہ اور نظر طالب علم کی طرف مرکوز رہے،اگر استاذ کی توجہ طالب علم کی جانب مرکوز نہیں ہوگی تو وہ اپنے سوال کو سمجھنے سے قاصر رہے گا اور اسے اطمینان حاصل نہیں ہو گا۔ یہ اصول معلم انسانیت رسول اللہ ﷺ نے اختیار کیا ہے اور ہمیں سکھایا ہے، ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑائی کیا ہے؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی غصے کی وجہ سے لڑتا ہے اور کوئی غیرت کی وجہ سے جنگ کرتا ہے ۔ تو آپ ﷺ نے اس کی طرف اپنے سر کو اٹھایا۔ آپ نے اس لئے اس کی طرف سراٹھایا کہ وہ (سائل) کھڑا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ قَاتَلَ لِتَكُوْنَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ العُلْيَافَهُوَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

’’ جو اس لئے لڑائی کرے تا کہ اللہ کے کلمہ کوسر بلندی حاصل ہو وہ اللہ عزوجل کے راستے میں ہے۔“ (صحیح بخاری: 123)

اس حدیث کے تعلق ائمہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ جواب دینے والے کا جواب دیتے وقت سوال کرنے والے کی جانب متوجہ ہونا مسنون ہے۔ اسی طرح امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”اس حدیث سے جواب دینے والے کا سائل کی طرف متوجہ ہونا ثابت ہے۔‘‘

علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اس سے متکلم کا مخاطب کی طرف متوجہ ہونا ثابت ہے۔‘‘

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے ، حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ

صَلَّی بِنَارسولُ اللهِ ﷺ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةٌ بَلِيْغَة

’’رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر اپنے چہرے کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں انتہائی مؤثر وعظ فرمایا۔‘‘ (سنن ابن ماجہ : 44)

جماعت یعنی کلاس روم پرسکون رھے :

استاذ کو اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ سب سے پہلے اپنے شاگردوں کو خاموش بٹھائے، طلباء کے سکوت اور خاموشی کے بغیر مدرس اپنی بات کیسے سمجھا سکے گا ؟ طلباء کلاس میں شور کر رہے ہوں ، کھیل رہے ہوں ، باتیں کر رہے ہوں ۔ اسی لئے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’ الجامع الصحیح‘ میں ان الفاظ کے ساتھ ایک باب باندھا ہے کہ ”باب الانصات للعلماء‘‘ ’’علما کی بات خاموشی سے سننے کا باب‘‘ اس کی تشریح میں امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

” ان کی بات کو خاموشی اور دھیان سے سنے۔‘‘

امام ابن بطال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

” ان الانصات للعلماء لازم للمتعلمين

’’علماء كى بات توجہ سے سننا طلباء پر لازم ہے۔‘‘ (صحیح بخاری/ فتح الباری)

اس ضمن میں کچھ مثالیں بطور تعلیم کے دی گئی ہیں :

1۔ پہلی مثال خطبہ حجتہ الواداع کی ہے، جہاں ایک لاکھ صحابہ اکرام موجود تھے اور رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے سے پہلے فرمایا:

«اسْتَخْصِتِ النَّاسَ»

’’لوگوں سے کہو کہ خاموش ہو جائیں۔‘‘ یہ سن کر لوگوں نے خاموشی اختیار کہ اس کے بعد آپ نے تاریخ ساز خطبہ دیا جو ملت اسلامیہ کے لئے تا قیامت مشعل راہ ہے۔

اس ضمن میں دوسری مثال یہ ہے کہ جب معلم سکھا رہا ہو اور طلباء کتابوں ، قلم ،کنکروں وغیرہ سے کھیل رہے ہوں تو یہ بہت ہی بے ہودہ حرکت ہے جس سے ان کی توجہ معلم کی جانب نہیں رہتی ۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«وَمَنْ مَسَّ الحَصَى فَقَدْ لَغَا»

’’ جس نے کنکریوں کو چھوا تو اس نے بے ہودہ حرکت کی۔‘‘ ( صحیح ابن ماجہ : 1847 ؛ صحیح الجامع :6553 ؛ الجامع الصغير :9025 حسن)

اس ضمن میں تیسری مثال یہ ہے کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ تشریف لائے تو فرمایا:

أَلا تَسْمِعُوْن

’’سنو‘‘ ہم نے عرض کیا:

قَدْ سَمِعْنَا ’’یقیناً ہم نے سنا ( اسطرح آپ نے تین مرتبہ فرمایا جب سب لوگ متوجہ ہو گئے ) تو آپ ﷺنے فرمایا:

«إِنَّهُ سَيَكُوْنُ أمرَاءُ فَلا تُصَدَّقُوْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَا تُعِيْنُوْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَمَنْ صَدَّقَهُم بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّى وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَى الحَوْضِ»

(ایک روایت میں :

«إِنَّهُ سَيَكُوْنُ بَعْدِى أُمَرَاءُ» ایک اور روایت میں : إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ“ کے الفاظ ذکر کئے گئے ہیں ۔

’’بلاشک وشبہ میرے بعد امراء ہوں گے، تم ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرنا اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی اعانت کرنا کیونکہ جس نے ان کے جھوٹ کو سچ قرار دیا اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہیں کی وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور عنقریب وہ حوض کوثر پر آئے گا۔‘‘ (الامالی المطلقۃ: 219؛ حسن ، صحیح الترغيب :2245 ؛ ابن حبان : 284 ؛ مجمع الزوائد: 1 25-5 )

ان تمام احادیث سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ استاذ کو چاہئے کہ سبق پڑھانے سے پہلے طلباء کو خاموش کروا ئیں جب وہ خاموش ہو جا ئیں تو سبق کا آغاز کریں۔

طلباء کے حق میں دعا:

استاذ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے طلباء کے حق میں دعا کرتا ر ہے عموما اساتذہ غصے میں اپنے شاگردوں کو برے الفاظ کا تبادلہ کرتے ہیں یہ بات نا مناسب ہے بلکہ انہیں دعائیں دینا چاہئے کیونکہ رسول اللہ ﷺ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے سینے سے لگا کر ان الفاظ میں دعا دی تھی کہ

اللهُم عَلَّمْهُ الكِتَابَ

’’ اے اللہ ! اس کو کتاب کو علم عطا فرما دیجئے ۔‘‘ (صحیح بخاری : 3756)

اس دعا کا یہ اثر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور آپ عظیم مفسر قرآن بن گئے۔ تمام صحابہ میں آپ حبر الأمۃ ’’ترجمان القرآن“ کے لقب سے مشہور ہوئے۔

رسول اللہ ﷺ کے عظیم شاگردوں میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں جو بھوکے، پیاسے اور فاقے کاٹ کر رسول اللہ ﷺ کے مدرسہ صفہ سے وابستہ رہے اور احادیث رسول حفظ کیا۔ رسول اللہ ﷺنے ان کے حق میں ان الفاظ میں دعا دی کہ

«اَللَّهُمَّ حَبِّبْ عَبَيْدَكَ هَذَا يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ. وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادَكَ المُؤْمِنِيْنَ وَحَبِّبْ إِلَيْهِمُ الْمُؤْمِنِينَ»

’’اے اللہ! اپنے اس چھوٹے سے بندے۔ یعنی ابو ہریرہ۔ اور اس کی ماں کو اپنے مؤمن بندوں کا محبوب بنادیجئے اور مؤمنوں کو ان کا محبوب بنادیجئے۔‘‘ (صحیح مسلم :6396)

رسول اللہ ﷺکے تربیت یافتہ شاگردوں میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی ہیں، ان کے حق میں رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں دعا کی تھی:

«اَللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ. وَبَارِكْ لَهُ فِيْمَا أَعْطَيْتَهُ»

’’اے اللہ! اس کے مال اور اولاد میں زیادتی عطا فرما اور جو کچھ تو اسے عطا فرمائے اس میں برکت عطا فرما۔‘‘ ( صحیح بخاری :6380/6378)

اس دعا کا یہ اثر ہوا کہ حضرت انس کی اولاد ، نواسے نواسیاں ، پوتے پوتیاں جو زمین پر زندہ تھیں، ان کی تعدد 96 تھی اور کئی تو وفات بھی پاچکے تھے اور ان کے کھجور کے باغ میں کھجور کے 1000 ہزار درخت تھے ، بسا اوقات رحمت باراں کا نزول صرف ان ہی کے باغ پر ہوتا۔ استاذ کی دعا کا بہت اثر ہوتا ہے اس لئے اساتذہ بد عا دینے اور برا بھلا کہنے کے بجائے دعا کا سہارا لیں اگر ان کی دعا قبول ہو جائے تو شاگرد کامران ہو جائیں گے، اکثر اساتذہ کامیاب طالب علم کے حق میں دعائیہ الفاظ ادا کرتے ہیں اور کمزور طلباء کو نظر انداز کر دیتے ہیں یہ رویہ غلط ہے اس سے کمزور طالب علم کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں۔

انداز تدریس:

استاذ کو چاہئے کہ وہ سبق پڑھاتے وقت واضح الفاظ کے ساتھ سبق پڑھا ئیں ٹھہر ٹھہر کر سبق پڑھا ئیں تا کہ طلباء کو سمجھنے میں آسانی ہو، سبق پڑھانے میں جلد بازی نہ کریں، اکثر اساتذہ کو نصاب مکمل کرنے کی دھن سوار ہوتی ہے، اسی لئے وہ جلدی جلدی کرتے ہیں، طالب علم سمجھے یا نہ سمجھیں اس سے انہیں کوئی غرض نہیں ہوتی، یہ اصول غلط ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ

كَانَ فِي كَلامِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ تَرْتِيْلٌ أَوْ تَرْسِيْلٌ

’’رسول اللہ ﷺ کی گفتگو میں انتہائی ٹھہراؤ ہوتا تھا۔‘‘ (سنن ابوداؤد :4838، صحیح)

اس کے معنی یہ ہیں کہہ آپ ﷺکی گفتگو میں ٹھہراؤ ، توقف، حروف و حرکات کا خوب ادا کرنا شامل تھا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ

كَانَ كَلَامُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ كلاماً فضلاً يَفْهَمُهُ كُلُّ مَنْ سَمِعَهُ

’’رسول اللہ ﷺ کی گفتگو اس قدر واضح ہوا کرتی تھی کہ ہر سننے والا اسے سمجھ لیتا تھا۔‘‘ (سنن ابوداؤد: 4279)

استاذ طلباء کی لیاقت کا خیال رکھیں :

استاذ کو چاہئے کہ وہ سبق پڑھاتے ہوئے طلباء کے فہم کا خیال رکھے، جب تک بچوں کو سمجھ میں نہ آجائے ، آگے نہ بڑھے جب بچے دہرانے کے لئے کہیں تو اس بات کو دھرا ئیں سبق کو دھرانے میں کسی بھی قسم کی خفگی کا اظہار نہ کریں۔ اس سے طالب علم کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں۔ حضرت ابو سعید خدری بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ رضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِيَا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَجَبَتْ لَهُ الجَنَّة

اے ابوسعید ! جو اس بات پر راضی ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے ، اسلام اس کو دین ہے، اور محمد ﷺ اس کے نبی ہیں، اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔‘‘ اس بات سے خوش ہو کر ابوسعید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:

أعِدْهَا عَلَيَّ يَارَسُوْلَ اللهِ ﷺ

’’ یا رسول اللہ ﷺ ! میرے لئے یہ بات دوبارہ فرمادیجئے۔‘‘ (صحیح مسلم 4879)

بعض احادیث میں رسول اللہ ﷺ کا بات کو دو، دوبار، اور تین تین بار دہرانا بھی ثابت ہے۔

نقش ونگار کے ذریعہ طلباء کی تفہیم :

استاذ کو چاہئے کہ وہ بچوں کو نقشے (ڈائی گرام) ڈال کر سبق سمجھا ئیں، اس سے سبق اور آسانی سے سمجھ میں آجائے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لئے ایک لکیر کھینچی، پھر فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کی راہ ہے، پھر آپ ﷺ نے اس کی دائیں جانب اور اس کی بائیں جانب لکیریں کھنچیں اور فرمایا کہ یہ ( جدا جدا، الگ الگ ) راہیں ہیں، ان میں سے ہر راہ پر شیطان بلا رہا ہے اور آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی:

﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِىْ مُسْتَقِيماً﴾(سنن ابن ماجہ : 11 ؛ صحیح ابن حبان : 16؛ المستدرک علی الصحیحین:3283؛ تخريج مشكاة المصابیح: 165 )

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک مربع ( چار کونی) شکل بنائی اور اس کے درمیان ایک لکیر کھینچی جو اس سے نکلی ہوئی تھی اس کے درمیانی لکیر کی طرف چھوٹی چھوٹی لکیریں کھینچیں اور فرمایا: یہ انسان ہے، اور یہ اس کی موت اس کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ باہر نکلی ہوئی لکیر اس کی آرزو ہے، اور یہ چھوٹی چھوٹی لکیریں اس کی مشکلات و مصائب ہیں پس وہ اگر ایک سے بچ نکلتا ہے تو دوسری میں پھنس جاتا ہے اور دوسری سے نکلتا ہے تو تیسری میں پھنس جاتا ہے۔‘‘ (مسند احمد: 9824)

مثالوں کا استعمال :

استاذ کو چاہئے کہ وہ مثالیں دے کر سبق سمجھائے کیونکہ مثالوں سے سبق بآسانی سمجھے میں آجاتا ہے یہ طریقہ رسول اللہ ﷺ کا تھا، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«إِنَّ مِثْلِى وَمِثْلَ الأنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوْفُوْنَ بِهِ، وَيَعْجِبُوْنَ لَهِ وَيَقُوْلُوْنَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ: فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمَ النَّبيين»

’’میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے کوئی عمارت بنائی اور اس کو خوب آراستہ و پیراستہ کیا لیکن اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی لوگ اس میں گھومتے رہے اور اس کو دیکھ کر خوش ہوتے رہے اور کہتے رہے اس اینٹ کو کیوں نہیں رکھا گیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تو میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبین ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری :3535)

اسی طرح ایک اور حدیث میں مثال دیتے ہوئے فرمایا:

«مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لا يَذْكُرُ رَبَّهُ مَثَلُ الحَى وَالمَيِّت»

’’اپنے رب کا ذکر کرنے والے اور ذکر نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ جیسی ہے۔ ‘‘ (صحیح بخاری:6407، 6460)

اسی طرح ایک اور مثال دے کر سمجھایا کہ

«مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ ، وَالجَلِيْسِ السُّوْءِ ، كَمَثَلِ صَاحِبَ المِسْكِ، وَكِير الحَدَّادِ ، لا يَعْدَمُكَ مِنْ صَاحِبِ المِسْكِ، إِمَّا تَشْتَرِيْهِ أَوْتَجِدُ رَيْحَهُ ، وَكِيرَ الحَدَّادِ يُحْرِقُ بَدَنَكَ أَوْثَوْبَكَ أَوْتَجِدُ مِنْهُ رِيْحاً خَبِيْثَةً»

’’نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے عطار اور بھٹی دھونکنے والے لوہار کی مانند ہے، مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پالوگے، یا تو مشک ہی خرید لو گے ، ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پاسکو گے لیکن لوہار کی بھٹی یا تو تمہارے بدن اور کپڑے کو جھلسادے گی ورنہ بد بو تو اس سے ضرور پا لو گے۔‘‘“ (صحیح بخاری: 2101؛ صحیح مسلم 2628)

سبق سے متعلق اجمالی سوالات :

استاذ کے لئے ضروری ہے کہ وہ جب بھی سبق پڑھانے جا رہا ہو، اس سے متعلق بچوں سے اجمالی سوالات کرے تاکہ ان کی معلومات کا جائزہ لیا جا سکے۔ بعض بچے ذہین ہوتے ہیں وہ مقصد کو پہنچ جاتے ہیں، یہ بھی سبق پڑھانے کا ایک اسلوب ہے جسے معلم انسانیت ﷺنے سکھایا تھا۔ ایک مرتبہ صحابہ کرام کی جماعت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں تشریف فرما تھی تو رسول اللہ ﷺنے ان سے سوال کیا کہ

«إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ فَحَدِّثُوْنِيْ مَاهِيَ؟ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ البَوَادِ. قَالَ عِبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ . ثُمَّ قَالُوْا: حَدَّثنا مَاهِيَ يَارَسُوْلِ اللهِ؟ قَالَ: هِيَ النَّخْلَة»

’’درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ یقیناً ! مسلمان کی مانند ہے۔ پس بتلاؤ کہ وہ کون سا درخت ہے؟ لوگوں کا خیال جنگل کے درختوں کی طرف دوڑا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ (جو اس وقت معصوم بچے تھے ) میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، مگر شرمایا ( اور خاموش رہا کیونکہ اس مجلس میں بڑے بڑے صحابہ موجود تھے ، بزرگوں کے بیچ گفتگو بے ادبی تصور کی جاتی ہے اسی لئے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سکوت اختیار کیا ) پھر صحابہ نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول ﷺ ہمیں بتلائیے کہ وہ کونسا درخت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔‘‘ (صحیح بخاری 61,62,72)

اسی طرح ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کی جماعت سے سوال کیا کہ

قَالَ أَتَدْرُوْنَ مَا المُفْلِس ؟ قَالَ: المُفْلِسُ فِيْنَامَنْ لا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعِ فَقَالَ: «إِنَّ المُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ القِيَامَة بِصَلَاةٍ وَزَكَاة وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هذا، وَأكل مال هذا، وَسَفَكَ دَم هذا، وَضَرَبَ هذا، فيعطى هذا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِه قَبل أنْ يَقْضِى مَا عَلَيْهِ أَخذ مِنْ خَطَايَاهم فطرحت عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ»

’’ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم و دینار اور ساز و سامان زندگی نہ ہو اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “بےشک میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز نماز، روزے، زکوۃ کے ساتھ آئیگا اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت باندھی ہوگی کسی کا مال ناجائز کھایا ہوگا، کسی کا خون ناحق بہایا ہوگا، اور کسی کو نا جائز مارا ہوگا اس مظلوم کو اس کی نیکیوں سے بدلہ دیا جائیگا۔ دوسرے کو بھی اس کی نیکیوں سے بدلہ دیا جائیگا اسی طرح اگر اس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی باقی رہ جائینگی اور نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان مظلوموں کے گناہوں کو اس ظالم کے حصے میں ڈالا جائیگا ۔‘‘ (صحیح مسلم 6579؛ جامع ترمذی :2418؛ سلسلہ صحیحہ:1313)

کنائے و استعارے اور رموز کا استعمال:

استاذ کے لئے ضروری ہے کہ دوران سبق شرم و حیاء کی باتوں ، سیاسی باتوں ، راز کی باتوں کو کنایہ و استعارے کے ذریعہ سمجھا ئیں یہ اسلوب اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بیان کئے ہیں، جیسے حضرت آدم و حوا علیہا السلام کو اس بات کا حکم دیا کہ

﴿ولا تَقْرَبَا هِذِهِ الشَّجَرَةَ﴾

’’تم دونوں اس درخت کے قریب نہ جاؤ ۔‘‘ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ

﴿فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ﴾

’’اپنے جوتوں کو اتارو۔‘‘ اسی طرح یوسف علیہ السلام کے واقعہ میں ملکہ عزیز کے بارے میں فرمایا:

﴿ قَالَتْ هَيْتَ لك﴾

’’لو آ جاؤ۔‘‘ (سورۃ البقرة: 35 ؛ سورہ طہ : 12 ؛ سورہ يوسف :23)

اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا (جس میں سے ایک ):

«وَرَجُلٌ دَعَتْهُ اِمْرَأَةٌ ذَاتَ مَنْصَبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا، فَقَالَ : أَخَافُ اللهِ عَزَّوَجَلَّ»

’’ وہ آدمی جس کو کسی حسب و نسب اور حسن والی عورت نے بلایا تو اس نے جواب دیا کہ یقیناً میں اللہ سے ڈرتا ہوں ۔۔۔‘‘

یہاں رسول اللہ ﷺنے کنایہ کیا کہ

”اس عورت نے اسے طلب کیا ۔‘‘ کیوں ’’بدکاری کی غرض ‘‘سے اسی بات کو کنا یہ کیا گیا۔ یہ چند گزارشات تھے جو عرض کر دئے گئے ہیں، اس ضمن میں اور بہت سے باتیں ہو سکتی ہیں۔ بہر حال ہمارے اساتذہ کو چاہئے کہ وہ اسلوب تعلیم میں نبوی طریقہ اختیار کریں۔

٭٭٭

ذوالحجہ کے دس ایام میں اعمال صالحہ کرنا

کیونکہ اللہ تعالیٰ کواعمال صالحہ محبوب ہیں اوراس وجہ سے یہ لازم ہے کہ اس کا اجروثواب بھی اللہ تعالیٰ سے بہت زيادہ ملے گا، لہٰذا جس کے لیے حج کرنا ممکن نہيں اسے چاہیے کہ وہ ان افضل ایام واوقات کواللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری میں گزارتے ہوئے نماز اورقرآت قرآن کریم اورذکر واذکار اوردعا وصدقہ وخیرات اوروالدین سے حسن سلوک اور نیکی کاحکم اوربرائی سے روکنے اوراسی طرح دوسرے خیر وبھلائی کے موں کا خاص اہمتام کرے ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں