رسول اللہ ﷺ کا پیغام عصبیت اختیار کرنے والوں کے نام-محمدعبد الرحیم خرم عمری جامعی

تعصب عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ ’ع ص ب ‘ ہے جس میں باندھنے کا مفہوم پایا جاتا ہے، اسی سے ’عصاب‘ اور ’عصابہ‘ ہے جو پٹی کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ اردو زبان میں بھی مستعمل ہے، جیسے ہم کہتے ہیں : ’’یہ تعصب کی بات ہے۔‘‘ یا ہم یہ کہتے ہیں کہ ’’یہ آدمی تعصب پسند ہے۔‘‘ یا ’’اس کے دل میں تعصب ہے۔‘‘ وغیرہ ۔ تعصب کے معنی میں کشادگی پائی جاتی ہے۔ اہل لغت نے اس کا معنی یہ بتایا ہے کہ طرف داری کرنا ، پٹی باندھنا، تعصب سے کام لینا، دھڑے بندی، دلیل ظاہر ہونے کے بعد بھی سچ کو نہ ماننے کا نام عصبیت ہے۔

تفسیر بیضاوی میں اس کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ

هِيَ مُتَابِعَةُ الهَوَى

’’یہ خواہشات کی پیروی کا نام ہے۔‘‘ (بیضاوی انوار التنزیل: 1؍196)

یہ ایمان کے برعکس ہے کیونکہ ایمان کی حقیقت یہ ہے :

” وَنَهَى النَّفْسَ عنِ الهَوى

’’ایمان در اصل نفسانی خواہشات سے بچتے رہنے کا نام ہے۔‘‘ (سورۃ النازعات : 40)

اس ضمن میں ایک واقعہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ اصحاب کرام ایک معرکے سے واپس لوٹے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

” تم ایک چھوٹے معرکے سے نکل کر ایک بڑے معرکے میں اور جہاد اصغر سے نکل کر جہادا کبر کی طرف لوٹے ہو اور اس جہادا کبر کی تعریف آپ نے یہ فرمائی :

” مُجَاهَدَةِ العَبْدِ هَوَاهُ

’’بندے کا اپنی نفسانی خواہشات کے خلاف جنگ۔‘‘ (رواہ الخطیب فی تاریخ بغداد : 13؍ 523؛ والدیلمی ، البیہقی الزهد :373؛ ضعيف الجامع : 4080 ؛ الجامع الصغير : 6089 ضعیف، عن جابر )

جب کہ رسول اللہ ﷺ نے مومن کی یہ صفت بیان کی کہ

لايُؤْمِنُ أَحَدَكُمْ حَتَّى يَكُوْنَ هَوَاهُ تَبْعاً لِمَا جِئْتُ بِهِ

’’ تم میں سے کوئی بھی آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی تمام خواہشات میری شریعت کے مطابق نہ ہو ۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح: 167)

عصبیت اپنی حقیقت اور اصل کے اعتبار سے محبت ہی کی ایک شدید اور غیر متوازن اور غیر عادلا ناقسم کا نام ہے، محبت ہر انسان اور جانور میں فطری طور پر پائی جاتی ہے اس میں بے اعتدالی اور عدم توازن پیدا ہو جائے تو وہ ’تعصب‘ کہلاتا ہے ، عربی زبان کا ایک محاورہ ہے :

” حُبُّكَ الشَى يُعْلٰی وَيُصِم .” ’’کسی چیز سے تمہاری محبت تمہیں اندھا بھی بنا دیتی ہے اور گونگا بھی ۔‘‘ اپنے کسی گروہ، قبیلے، پارٹی ، لیڈر اور عقیدے والوں کی ہر غلط بات کو درست ماننے اور اپنے مخالف کی درست بات کو بھی جھٹلانے کا نام ’عصبیت‘ ہے۔ یہ اگر زبان کی بنیاد پر ہوتو لسانی عصبیت، نسل کی بنیاد پر ہو تو نسلی عصبیت، قومی بنیاد پر ہو تو قومی عصبیت، مذہب کی بنیاد پر ہوتو مدہبی عصبیت، سیاست کی بنیاد پر ہو تو سیاسی عصبیت ، مسلک کی بنیاد پر ہو تو مسلکی عصبیت کہلاتی ہے۔ دین اسلام نے اس سلسلے میں ہمہ قسم کی عصبیت کی شدید مخالفت کی ہے اور عدل و انصاف اور تقوی کا راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ عصبیت دور جاہلیت کی بری عادتوں میں سے ایک عادت ہے۔

اپنی قوم سے محبت عصبیت نہیں : یقینا ہر انسان کو اپنے قبیلے وخاندان اور قوم سے محبت ہوتی ہے اور وہ ان کی خوبیاں اور تعریف کرتے ہوئے تھکتا نہیں ہے اپنوں کے کارناموں پر سینہ چوڑا ہو جاتا ہے،سرفخر سے اونچا ہو جاتا ہے یہ فطرت کا تقاضا بھی ہے اور ہونا بھی چاہئے اور یہ کوئی قابل گرفت بات بھی نہیں ہے اور اس طرح کے طرز عمل میں کوئی عصبیت بھی نہیں ہے حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ خادم رسول حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو بارگاہ نبوی میں ایک خیر کا موقع ہاتھ آیا تو انہوں نے بھر پور کوشش کی کہ یہ سعادت مندی کسی انصاری (یعنی ان کے ہم وطن ) کو ہی حاصل ہو اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يُحِبُّ قَوْمَهُ إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يُحِبُّ قَوْمَهُ إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يُحِبُّ قَوْمَهُ

آپ نے یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا کہ” آدمی اپنی قوم سے محبت کرتا ہے۔ آدمی اپنی قوم سے محبت کرتا ہے۔ آدمی اپنی قوم سے محبت کرتا ہے ۔‘‘ ( مجموع الزوائد: 9؍ 129؛ البحر الزخار المعروف بمسند البزار : 14؍ 80)

اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا :

لا يلامُ الرَّجُلُ عَلَى حُبِّ قَوْمِهِ

’’ اپنی قوم سے محبت کے سبب آدمی ملامت نہیں کیا جائیگا ۔‘‘ (مجموع الزوائد : 9؍ 128؛ در السحابہ: 157)

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

«خَيْرُكُم المُدَافِعُ عَنْ عَشِيْرَتِهِ مَالَمْ يَأْثَمْ»

’’ تم میں بہترین آدمی وہ ہے جو اپنی قوم کا دفاع کرے جب تک کہ وہ گناہوں میں مبتلا نہ ہوں ۔‘‘ (سنن ابوداؤد:5120 ؛ المعجم الاوسط: 6993، اسناده ضعیف)

عصبیت کا تعارف:جب قومی و خاندانی و قبائلی محبت فطرت کا تقاضا کرتی ہے تو پھر عصبیت کسے کہیں گے؟ اپنی قوم کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے دوسروں کو نیچا دکھانا ، دوسروں کوطنز و تشنیع کرنا ، عار دلانا اور اپنوں کے ظلم زیادتی پر سکوت اختیار کرنا اور ظلم میں اس کی مدد کرنا ’عصبیت‘ کہلاتا ہے۔

حضرت وائلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ پوچھا کہ اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ ’عصبیت‘ کیا چیز ہے، آپ ﷺ نے فرمایا :

«أن تُعِيْنَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلم »

’’تو اپنی قوم کا ظلم وزیادتی میں معاون و مددگار بن جائے۔‘‘ (سنن ابوداؤد : 5119؛ سنن ابن ماجہ :3949)

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ

مِنَ العَصْبِيَّةِ أنْ تُعِيْنَ الرَّجُلَ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ

’’عصبيت یہ ہے کہ تم کسی آدمی کی ظلم وزیادتی میں مددکر و ۔‘‘ (مسند احمد: 17030)

اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک صحابی نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ “أمِنَ العَصْبيَّةَ أنْ يُحِبَّ الرَّجُلَ قَوْمَهُ ” کیا یہ بات بھی عصبیت میں داخل ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت کرے؟ “ یہ سن کر آپ ﷺ نے جواب دیا کہ

« لاَوَلكِن مِنَ العَصْبِيَّةِ أَنْ يَنْصُرَ الرَّجُلَ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلم»

’’عصبیت یہ ہے کہ تم کسی آدمی کی ظلم و زیادتی میں مدد کرو ۔‘‘ (مسند احمد: 16988)

ظلم و زیادتی میں مدد کئی طرح سے ہوتی ہے کہ ظلم و زیادتی کے باوجود یہ کہہ دینا کہ میری قوم و قبیلے و خاندان کا آدمی ایسا کر رہی نہیں سکتا ظلم کے باوجود اس کی پشت پناہی کرنا، بے جا اس کی تائید کرنا، اس کے قصور کو چھپانا ، اس کے لئے جھوٹی گواہی دینا، اس کی محبت میں اندھا بن جانا یہ سب باتیں ’عصبیت‘ کہلاتی ہیں۔

عصبیت کی مذمت : رسول اللہ ﷺ نے عصبیت کی سختی کے سے مذمت بیان کی ہے اور عصبیت اختیار کرنے والوں کو ان کے برے انجام سے آگاہ کیا ہے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَالَى عَصْبيَّةِ ، وَلَيْسَ مِنْ مَنْ قَاتَلَ بِعَصْبِيَةٍ ، وَلَيْسَ مِنَّامَنْ مَاتَ عَلَى عَصْبِيَّة »

’’جس نے عصبیت کے نام پر لوگوں کو پکار اوہ ہم میں سے نہیں ، جس نے عصبیت کی خاطر جنگ کی وہ ہم میں سے نہیں، جس نے عصبیت پر اپنی جان دی وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ (مختصر سنن ابو داؤد: 35121؛ مرسل : 3؍ 415؛ سنن ابوداؤد:5121 ، قال شعیب الأرنؤوط اسناده ضعیف لكنه صحیح بمعناه ؛ الجام الصغیر: 7665، صحیح)

اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«من قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عَمِيَّةٍ يَدْعُوْا إِلَى عَصْبيَّةِ ، أَوْ يَغْضَبُ بعَصْبيَّة فَقَتلَتَهُ جَاهِليَّة ﴾

’’جس نے اندھی جنگ کے جھنڈے تلے محض عصبیت کی خاطر غصہ ہو کر لڑا، یا اس نے عصبیت کی خاطر کسی کی مدد اور اس میں مارا گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا ۔‘‘ (مشكوٰۃ المصابیح: 2669 ؛ سنن ابن ماجہ :3948؛ سلسلہ صحیحہ: 2786، 1784)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

” تَعَصُّبُ الرَّجُلِ لِطَائِفَةٍ مُطْلَقَافِعْلُ أهْل الجَاهِلِيَّةِ مَخْدُورٌ مَذْمُوم .”

’’تعصب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی محض اپنا گروہ ہونے کی وجہ سے حمایت کرتا ہے تو یہ اہل جاہلیت کی حرکت ہے جو مذموم اور معیوب ہے ۔‘‘ (فیض القدیر: 5؍ 386)

اگر کوئی آدمی عصبیت کا نعرہ لگاتا ہے جیسے پٹھان پٹھان ایک، شیخ شیخ ایک ، خان خان ایک قبیلہ قبیلہ ایک وغیرہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو نا پسند کیا اور اس کی مذمت بیان کی ہے کیونکہ مسلمان ایک امت ہیں فرقہ نہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے جاہلیت کا نعرہ لگایا: «فَهُوَ مِنْ جُشَاءِ جَهَنَّمَ » ’’وہ جہنم کا ایندھن ہے۔‘‘ لوگوں نے پوچھا: “وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى ” فقال : «وَإِنْ صَامَ وَصَلَّی» ’’صحابہ نے کہا کہ اگر چہ کہ وہ نماز پڑھاتا ہے اور روزہ بھی رکھتا ہے۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا : ”اگر وہ نماز ہی پڑھتا رہے اور روزہ ہی رکھتا ہی رہے۔ ‘‘ پھر آپﷺ نے فرمایا:

« تُسَمُوا بِاسْمِ اللهِ ، الَّذِى سَمَّاكُمُ المُسْلِمِيْنَ المُؤْمِنِينَ »

’’جس نام سے اللہ نے تمہاری نسبت کی ہے اسی نام سے پکارو جس نے تمہارا نام مسلمان اور مؤمن رکھا۔‘‘ (مسند احمد: 22910؛ جامع ترمذی: 2863؛نسائی فی سنن الكبرى : 8866)

عصبیت کا وبال : جب عصبیت کے نعرے بلند ہونگے تو اللہ تعالیٰ کی مدداٹھ جاتی ہے اور جنگ مسلط کر دی جاتی ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ

إذا قالت نزار یا نزار ، وقالت أهل يمن يا قحطان ، نزل الضرر ورفع النصر وسلط عليهم الحديد “

’’جب اہل نزار عصبیت میں کہنے لگیں گے ، اے نزار اور اہل یمن کہنے لگیں گے ، اے قحطان ۔ تو ضرور بہ ضرور شر نازل ہوگا اور مدد و نصرت اٹھ جاتی ہے اور جنگ مسائل کر دی جاتی ہے ۔‘‘ ( ابونعیم)

متعصب کی سرزانش : جب بھی کوئی انسان تعصب کا اظہار کرے تو اس کی سرزنش وسر کو بی کا حکم دیا گیا ہے، اس کی حوصلہ شکنی کے لئے گالی بھی دی جاسکتی ہے جیسا کہ حدیث میں ایک واقعہ مذکور ہے حضرت مکحول رحمہ الله بیان فرماتے ہیں کہ

’’عجر د بن مدرع تمیمی نے کسی سے کہا یا آل تمیم ، یہ سب لوگ مشہور صحابی ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ جملہ سنا تو فوراً بولنے لگے:

“اعضك اللهُ بِأَيْرِ أَبِيْكَ “

حاضرین نے کہا:

” ماعهدناک یا ابا المنذر فحاشا “

’’ابوالمنذرکو تو ہم نے کبھی فحش کلامی کرتے ہوئے سنانہ تھا۔‘‘

سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے یہی حکم دیا ہے کہ جب کسی کو جاہلیت کا نعرہ لگاتے سنیں تو اسے اس طرح نام لیکر گالی دیں، اشاروں اور کنایوں میں نہیں۔‘‘ ( فیض القدیر تاریخ دمشق : 61؍ 46)

ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

’’ایک آدمی جاہلیت کی نسبت کے ساتھ منسوب ہوا، حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ وہ اپنے باپ کی شرم گاہ چبائے اور انہوں نے بات کنایۃً نہیں کیا، لوگوں نے تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھا لیکن انہوں نے کہا: جو چیز تم اپنے دل میں محسوس کر رہے ہو میں اس کو جانتا ہوں، جب کہ میں صرف یہی کچھ کہنے کی طاقت رکھتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ

«إِذَا سَمِعْتُمْ مَنْ يَعْتَزِيْ بِعَزَاءِ الجَاهِلِيَّةِ، فَاعِضُوْهُ وَلَا تكنوا »

’’ جب تم کسی شخص کو جاہلیت والی نسبتوں کی طرف منسوب ہوتے ہوئے دیکھو تو اشارہ کنایہ کئے بغیر اس کو کہو :’’ تو اپنے باپ کی شرمگاہ چبا ۔‘‘ (مسند احمد :9738/9737)

اسی طرح کا ایک واقعہ مذکور ہے کہ ”بصرہ میں ایک شخص نے آواز لگائی کہ ”یا لعامر ‘‘ اے بنو عامر ! چنانچہ مشہور شاعر نابغہ الجعدی عامر کے خاندان کے کچھ لوگوں کو لے کر آ پہنچے ۔ راوی کہتے ہیں:

“فَأَخَذَتْهُ شُرْطَ أَبِي مُوسَى فَضَرَبَهُ خَمْسِيْنَ سَوْطًا بِاجَابَةِ دَعْوى الجَاهِلِيَّةِ .”

’’ گورنر (بصرہ) حضرت ابو موسی کی پولیس نے گرفتار کر لیا اور ان کو جاہلیت کے نعرہ پر لبیک کہنے کے جرم میں پچاس کوڑے مارے گئے ۔‘‘ ( غریب الحدیث لابی عبید )

ایک اور واقعہ حدیث شریف میں ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ ضی اللہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک غزوے میں ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر تھپڑ مارا، انصاری نے کہا اے انصار یو! اور مہاجر نے کہا: اے مہاجر و ! (ایک دوسرے نے اپنی اپنی قوم کو مدد کے لئے پکارا ) رسول اللہ ﷺنے فرمایا: یہ جاہلیت کی پکار کیوں پکار رہے ہو؟ لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر تھپڑ ماری ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اسے (عصبیت کو ) چھوڑ دو، کیونکہ یہ بد بودار ہے ۔‘‘ (جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی ﷺ آئے تو انصاری زیادہ تھے اور پھر بعد میں مہاجر زیادہ ہو گئے ) عبد اللہ بن ابی ( منافقین کا سردار ) نے اس بات کو بڑھاوا دیا یا شہرت دی۔ اور کہا: ’’انہوں نے ایسا کام کیا ہے اگر ہم مدینے واپس پہنچے تو عزت دار ذلت والے کو نکال دے گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔‘‘(سلسلہ صححیہ: 1092؛ صحیح بخاری:4525، 4527)

متعصبین کی سزا:عصبیت اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ سخت ترین سزا دے گا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ” 6 آدمیوں کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے گناہوں کی وجہ سے عذاب دیں گے ، امراء کو ظلم کی وجہ سے، علماء کو حسد کی وجہ سے، عرب کو عصبیت کی وجہ سے ، اہل بازار کو خفانت کی وجہ سے، سوداگروں کو کبر کی وجہ سے اور اہل دیہات کو جہالت کی وجہ سے ۔‘‘ ( رواہ الدیلمی و ابو نعیم عن انس )

تعصب موجب ہلاکت : امت کی ہلاکت کے اسباب میں سے ایک سبب عصبیت بھی ہے، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”میری امت ہلاک نہ ہوگی یہاں تک کہ ان میں تمایز تمایل اور معامع ظاہر ہو جائیں۔ میں نے کہا کہ : یارسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ’تمایز‘ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ’عصبیت‘ جو لوگ میرے بعد اسلام میں پیدا کریں گے ، میں نے عرض کیا ’ تمایل‘ کیا ہے؟ فرمایا: ”ایک قبیلہ دوسرے قبیلے پر حملہ کرتا ہے اور ’ظلما‘ ان کی جان و مال کو نقصان پہنچاتا ہے میں نے کہا: ’معامع‘ کیا ہے؟ فرمایا: ’’ایک شہر والے دوسرے شہر والوں پر حملہ آور ہوں گے اور ان کی گردنیں لڑائی میں ایک دوسرے میں اس طرح مخلوط ہوں گی، آپﷺ نے انگلیوں کو آپس میں ڈال کر دکھایا، فرمایا یہ وقت ہوگا جب حکام مں فساد ہوگا اور خواص میں صلاح۔ خوشخبری ہے ایسے شخص کے لئے جس کے خواص کی اللہ تعالیٰ نے اصلاح فرمادی ہے ۔‘‘ ( کنز العمال)

متعصب کا ٹھکانا جہنم ہوگا :حضرت ابویرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

تكون فتنة يقتلون عليها على دعوى جاهلية قتلاها في النار

’’فتنہ ظاہر ہوگا اس میں لوگ لڑیں گے جاہلیت کے دعوی ( یعنی عصبیت) پر دونوں طرف مقتولین جہنم میں ہوں گے ۔‘‘ (مستدرک)

متعصب کے خلاف جنگ کی اجازت : ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ علاقائی مسلکی ، خاندانی وقبائلی عصبیت کو ترک کر کے حقیقی اسلام کی جانب آجائیں ۔ حضرت ابو البختری بیان فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کو لکھا: ”لوگوں کو اپنے سلطان سے ایک گونہ نفرت ہو جاتی ہے، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے اور تم کو ایسی نفرت کا سامنا کرنا پڑے جب دلوں میں کینے پلتے ہیں، دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے، خواہشات کے پیچھے دوڑا جاتا ہے اور قبائل پرستی کی جانب دعوت دی جاتی ہے جو کہ شیطانی غرور ہے، پس اگر یہ صورت پیدا ہو جائے تو تم پر تلوار لا زم ہے، تلوار لازم ہے، قتال لازم ہے، جب کہ وہ قوم پرستی سے ہٹ کر یا اہل الاسلام ! یا اہل الاسلام نہ کہنے لگیں ۔ یعنی قوم پرستی اور عصبیت چھوڑ کر اسلام پرستی کی طرف نہ آجائیں ۔( مصنف ابن ابی شیبہ: 38335)

جو انسان عصبیت کا نعرہ لگاتا ہے یا عصبیت کی گفتگو کرتا ہے یا عصبیت کا پرچار کرتا ہے تو ایسے آدمی کی شہادت نا قابل قبول ہوگی ، حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ جس سے عصبیت ظاہر ہو اور وہ اس کا داعی بھی ہو اس کی شہادت قبول نہیں ہے کیونکہ اس نے حرام کام کیا ہے۔‘‘ (السنن الکبری للبیہقی: 21080)

اخوت کا پیغام :ہمارا دین عصبیت کی نفی کرتا ہے اور اخوت و بھائی چارگی کا درس دیتا ہے، اللہ کے نزدیک معیار تو تقوی کا ہے اس لئے خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

« يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلا إِنَّ ربِّكُمْ وَاحِدٌ، أَلا إِنَّ آبَائِكُمْ وَاحِدٌ ، أَلا لا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٌّ، وَلَا لِعَجَمِيٌّ عَلَى عربي، وَلَا لَاسْوَدِ عَلَى أَحْمَرِ، وَلا لأحْمَر عَلَى أَسْوَدِ إِلَّا بِالتَّقْوَى اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُم. الاهَلْ بَلْغَت : قَالُوا: بَلَى يَارَسُوْلِ اللهِ: قَالَ : فَلْيُبَلِّغُ الشَّاهِدُ الغَائِب»

’’اے لوگو ! خبر دار یقینا تمہارا رب ایک ہے۔ خبر دار آگاہ پو جاؤ تمہارے والدین ایک ہیں، آگاہ ہو جاؤ کہ عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے اور نہ عجمی کوعربی پر کوئی فوقیت حاصل ہے، اور نہ کسی کالے کو گورے پر فوقیت حاصل ہے اور نہ کسی گورے کو کالے پر فوقیت حاصل ہے، مگر تقوی کے بل بوتے پر۔ یقینا اللہ کے نزدیک انتہائی مکرم و معزز تقوی والے ہیں۔ آگاہ ہو جاؤ! بتاؤ کہ کیا میں نے تم تک اپنا پیغام پہنچا دیا ہے؟ سب نے کہا: ہاں کیوں نہیں آپ نے تو پیغام پہنچا دیا ہے۔ فرمایا کہ تم میں سے جو یہاں موجود ہوں وہ یہ پیغام ان لوگوں تک پہنچادیں جو یہاں حاضر نہیں ہیں ۔‘‘ (بیہقی فی شعب الایمان :5137 ؛ ساسلہ صحیحہ: 2700، اسنادہ صحیح)

اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ جو آپ کے غلام تھے انھیں آزاد کیا اور اپنی پھوپی زاد بہن حضرت زینب جحش رضی اللہ عنہا سے ان کا نکاح کر دیا ، رسول اللہ ﷺ نے چند صحابہ کرام کو ماہر قرآن ہونے کی سند دی جن میں ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سالم بھی تھے ، جو قبا میں امامت کرتے تھے اور حضرت عمر اور ابوبکر رضی اللہ عنہما ان کی اقتداء میں نماز ادا کرتے اور جن کی قرآت کی خوبصورتی کوسن کر رسول اللہﷺ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور دعا فرمائی تھی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار بن یاسر کو جو غلام بن غلام تھے کوفے کا گورنر مقرر کر دیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے قاتلانہ حملے کے بعد حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کو امام بنایا جو قبیلہ جدعان کے آزاد کردہ غلام تھے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ’سیدنا‘ کے لقب سے ملقب کیا تھا جو مؤذن رسول کا شرف حاصل کئے ہوئے تھے، جن کے قدموں کی آہٹ کو رسول اللہﷺ نے جنت میں محسوس کیا تھا۔ کمزوروں کے ساتھ یہ حسن سلوک اسی لئے تھا کہ اسلام تعصب کا مخالف ہے۔ یہاں تو عزت افزائی تقوی کی بنیاد پر ہے۔

آج کے ترقی یافتہ ممالک نے ترقی کی منزلیں تب طے کیں جب ہر قسم کی عصبیت سے جان چھڑائی ، آج یورپ، امریکہ، کینڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ جیسے ممالک آپ کو بلا رنگ نسل، جنس و مذہب کے برابری کے حقوق دیتے ہیں ان کے نزدیک معیار صرف قابلیت ہے، برطانیہ جیسے ملک میں ایک مسلم خاتون حکمران جماعت کی چیئر پرسن منتخب کی جاتی ہے وہ یہ نہیں سوچ رہے ہیں کہ بر صغیر کے لوگ کل تک تو ہمارے غلام تھے وہ یہ نہیں سوچ رہے ہیں کہ آج کوئی کیسے ہماری پارٹی کا سربراہ یا لندن کا میئر بن سکتا ہے؟؟ وہ یہ نہیں سوچ رہے ہیں کہ ایک اسلام پسند کو ہم کیسے اپنے قومی وملکی معاملات تفویض کر سکتے ہیں؟ انہوں نے ملکی و قومی ترقی کی خاطر اپنی سوچ اور فکر میں تبدیلی لائی اور دنیا کے خوشحال اور طاقتور بن گئے ، افسوس ہے مسلمانوں پر جو رسول اللہﷺ کا پیغام بھلا کر ، مسلک ، فرقہ ، قبائل کی عصبیت میں گرفتار ہو گئے اور تنزلی و پسماندگی ہمارا مقدر بن گئی۔

لہٰذا ہم مسلمانوں کو چاہئے کہ خطبہ حجتہ الوداع پر نظر ڈالیں جہاں رسول اللہ ﷺ نے عصبیت کی جڑوں کو کاٹ دیا اور رنگ ونسل، خاندان و قبائل ، عربی و عجمی ، تہذیب و تمدن کی تفریق سے جان چھڑائی ، ہم رسول اللہ ﷺ کے اس پیغام کو بھول گئے اور عصبیت ہمارا شعار بن گیا اور ہم زوال پذیر ہو چکے ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں سے تعصب و تنگ نظری کی جہالت کو دور فرمائے۔ آمین

تبصرہ کریں