رسول اللہ ﷺ کا پیغام بیویوں کے نام۔ محمدعبد الرحیم خرم عمری جامعی

صالح معاشرہ کی تشکیل کے لئے صالح خاتون کا انتخاب:

صالح معاشرہ کی تشکیل میں عورت کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے، عورت کے کئی کردار ہیں لیکن سب سے اہم کردار نیک وصالح بیوی کی شکل میں ہے کیونکہ اسی سے معاشرہ بنتا ہے اور نسلیں پروان چڑھتی ہیں، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے نکاح کے لئے لڑکی کے انتخاب میں دین کو معیار بنایا اور اسی معیار کو اختیار کرنے کی تلقین بھی کی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:

«تُنكَحُ المَرْءَ ةُ لأَرْبَع : لِمَالِهَا ، وَلِحَسَبِهَا، وَجَمَالِهَا ، وَلِدِيْنِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّيْنِ ، تَرِبَتْ يَدَاكَ»

’’عورت سے نکاح چار اسباب کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ، اس کے مال کی وجہ سے ( کہ وہ کتنی مالدار ہے ) ، اس کے خاندان کی وجہ سے ( کہ کتنا معیاری حسب و نسب ہے )، اس کے حسن و جمال و خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے ، پس تم دین دار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کرو ، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ( یعنی تو نادم و پشیمان ہو ) ( صحیح بخاری : 5090 ؛ صحیح مسلم : 1466)

اس حدیث کی تشریح میں فقیہ زمانہ سید سابق رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

” بیوی خاوند کا سکون ہے ، اس کی کھیتی ہے، اس کی شریک حیات ہے، اس کے گھر کی مالکہ اور اس کے بچوں کی ماں ہے، اس کے دل کی محبت اور راز و نیاز کی جگہ ہے، یہ خاندان کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے، یہ اولاد کو اچھا بنانے والی ہے، بچے اس سے بہت سی خوبیاں اور صفات حاصل کرتے ہیں، اس کی گود میں بچپن کے جذبات بنتے ہیں، اس کے احساسات پرورش پاتے ہیں ماں سے وہ اپنی زبان اور تہذیب وعادات سیکھتے ہیں، اسی سے وہ اپنے دین سے متعارف ہوتے ہیں اور معاشرے کے میل جول کے عادی بنتے ہیں، اس لئے اسلام نے نیک بیوی کے انتخاب کا اہتمام کیا ہے اور اسے بہترین فائدہ قرار دیا ہے کہ جس کا شوق و حرص رکھنا بھی مناسب ہے اور اچھی بات یہی ہے کہ وہ دین کی حفاظت کرتی ہو ، اچھی عادات پر کا ربند ہو، خاوند کے حق کا بھی خیال رکھے اور بچوں کی تربیت بھی کرے، جب ہم لڑکی کے انتخاب میں دینی امور کا خیال کریں تو بہت ممکن ہے ہم اپنے گھروں کو ایسا باغ بنا پائیں گے جس میں دل خوش رہے، خاوند سعادت مند ہو نیک اولاد تیار ہو، جس سے امتیں پاکیزہ اور باعزت زندگی گزاریں گے۔‘‘ (فقہ السنہ)

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے دیندار لڑکی کی یہ خوبی بیان کی ہے کہ«الدُّنْيَا كُلُّهَا مَتَاعٌ وَ خَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ» ’’دنیا ساری کی ساری فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور دنیا کا بہترین سامان صالح (نیک و دیندار ) بیوی ہے ۔‘‘ (صحیح مسلم: 1467)

اسی طرح صالح و دیندارلڑکی کی خوبی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مِنْ سَعَادَةِ ابنِ آدَمَ ثَلَاثَةٌ: وَمِنْ شَفَاوَةِ ابنِ آدَمَ ثَلَاثَةٌ مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ : المَرأَةُ الصَّالِحَةُ، وَالمَسْكَنُ الصّالِحُ ، وَالمَرْكَبُ الصَّالِحُ ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابنِ آدَمَ : المَرْأَةُ السُّوءُ وَالمَسْكَنُ السُّوءُ وَالمَرْكَبُ السُّوْء» ’’تین چیزوں میں اولاد آدم کی خوش بختی ہے اور تین چیزیں بدبختی کی ہیں۔ خوش بختی کی چیزیں یہ ہیں ،صالح بیوی، صالح مسکن ، صالح سواری بدبختی کی چیزیں یہ ہیں ، بری ،بیوی، بری رہائش، بری سواری (مسند احمد ) نیک وصالح اور دیندار عورت کی اہمیت کا انداز اس حدیث شریفہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب سونے چاندے کے خزانے جمع کرنے کی برائی بیان کی گئی تو صحابہ اکرام نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ سونا، چاندے جمع کرنے کی ممانعت بیان کی گئی ہے تو ہم اپنے پاس کونسا خزانہ جمع فرما ئیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لِيَتَّخِذَ أَحَدُكُمْ قَلْباشَاكِراً، وَلِسَاناً ذَاكِراً، وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةٌ تُعِيْنُ أَحَدَكُمْ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ »

’’تم میں سے ہر ایک کو شکر گزار دل ، ذکر کرنے والی زبان ، اور امور آخرت میں مدد گار مومنہ بیوی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ :1505)

ان تمام احادیث کے ذریعہ مسلم خواتین کو اس بات کی تربیت دی جارہی ہے کہ وہ اپنا معیار زندگی دین کو بنا ئیں ، یہی کامیاب خاتون کا معیار ہے، دین کو چھوڑ کر وہ زندگی کی خوشیاں اور کامیابیاں حاصل نہیں کر سکتیں ۔ یہاں والدین کو بھی اس بات کا پیغام ملتا ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کے معیار کو دین کے ذریعہ سے اونچا کریں کیونکہ ہر معیار کو زوال ہے لیکن دین لازوال ہے، خوبصورتی کسی بھی حادثے کے سبب بدصورتی میں بدل سکتی ہے، خاندانی حسب و نسب و معیار کی نیک نامی زندگی کے کسی بھی موڑ پر بدنامگی میں بدل سکتی ہے، مالداری و خوشحالی کسی بھی لمحہ تنگ دستی و کنگالی میں بدل سکتی ہے، لیکن دین کا معیار ہمیشہ باقی رہنے والا ہوتا ہے جس کے ذریعہ استقامت وصبر حاصل ہوتا ہے۔اسی لئے از خود لڑکیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو دین کی تعلیم و تربیت اور شریعت کے مسائل سے آگاہ رکھیں جو ان کی کامیاب زندگی کا سنگ میل ہیں۔ جس کے ذریعہ وہ کامیاب زندگی کا آغاز کر سکتی ہیں۔ خلع وطلاق کے سینکڑوں واقعات ہمارے معاشرے میں پیش آتے ہیں اس کے اسباب پر روشنی ڈالی جائے تو %80 فیصد ایسے واقعات ہوتے ہیں جس کا سبب دینی تعلیم اور احکام و مسائل سے ناواقفیت ہوتی ہے۔ والدین جہاں اپنی لڑکیوں کو معیاری تعلیم دلانے کے لئے جدو جہد کرتے ہیں وہیں ان کی دین کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی جد و جہد کروائیں ، باقاعدہ اسلامی تعلیم و تربیت کے کورس کروائیں۔ صرف نماز، روزے کے ذریعہ سے ہی ساری دیندار حاصل نہیں ہوتی بلکہ عقائد وعبادات کا علم حاصل کرنا ، مسائل سے واقفیت اختیار کرنا، حلال و حرام کے احکام کو جاننا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ان تمام باتوں کا علم نہ ہو تو صالح معاشرہ کی تشکیل ممکن نہیں ہوگی جس کے سبب اولاد کا تابناک مستقبل بر باد ہو جائیگا۔ بیوی پر شوہر کے حقوق شوہر کی بھی معیار کا کیوں نہ ہو، بیوی کو چاہئے کہ وہ اپنے شوہر کی اطاعت گزار بن کر رہے، شوہر کی رضامندی اور اس کی خوشنودی ہی اس کی کامیابی ہے۔

حضرت ابو ہریر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ

قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ: أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ قَالَ: الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَانَظَرَ وَتُطِيْعُهُ اذَا أَمَرَ وَلَا تُخَالِفُهُ فَى نَفْسِهَا وَمَالِهَا بِمَا يَكْرَهُ

’’ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کون سی عورت سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایسی عورت کہ جب اس کا شوہر اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے، جب وہ اسے کسی کام کا حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے، اس کی جان و مال کے حوالے سے اس کا شوہر جس چیز کو بھی پسند کرتا ہو اس میں اس کی مخالفت نہ کرے ۔‘‘ (سنن نسائی : 3231 ؛ صحیح الجامع الصغير :3298)

شوہر کی اطاعت وفرمانبرداری، خوشنودی و رضامندی ہی عورت کے لئے جنت کی ضمانت ہے رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:

«إِذَا صَلَّتِ المَرْأَةُ خَمْسَهَا وَصَامَتْ شَهْرَهَا وَحَصَّنَتْ فَرْجَهَا وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا قِبْلَ لَهَا ادْخِلِى مِنْ أَى أَبْوَابِ الجَنَّةِ شِئت»

’’جو عورت پانچوں وقت کی نمازیں ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے ، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے، اسے قیامت کے روز کہا جائیگا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔‘‘ (صحیح ابن حبان :4163)

ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے بہترین عورت کی صفت یہ بیان کی کہ

« وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ »

’’جب اس کا شوہر اسے کوئی حکم دے تو وہ اس کی فرمانبرداری کرے۔‘‘ (ارواء الغلیل : 1786)

جب بھی شوہر کسی کام کا حکم دے تو اسے بجالائے اور کسی چیز سے منع کرے تو رک جائے ، بیوی کے لئے شوہر کے حکم سے بڑا کسی کا حکم نہیں ہو سکتا اس کے حکم کی بجا آوری ہو تو زندگی خوش رہے گی کیونکہ شوہر کا درجہ بیوی کے لئے سب سے اونچا اور بڑا ہے، ایجاب و قبول کے بعد والد کا مقام دوسرا ہو جاتا ہے اور شوہر کا مقام اول ہو جاتا ہے جو اس کی موت تک جاری رہتا ہے، اسی بات کو خواتین سمجھ جائیں تو زندگی پرسکون گزر جائیگی۔

بیوی شوہر کو خیر و بھلائی کی ترغیب دے:

اسی طرح اطاعت گزار عورت کی خوبی بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

« لَيَتَّخِذُ أَحَدُكُمْ قَلْباً شَاكِراً وَلِسَاناً ذَاكِراً وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةٌ تُعِيْنُ أَحَدَكُمْ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ »

’’تم میں سے ہر ایک کو شکر گزار دل ذکر کرنے والی زبان ، آخرت کے کاموں میں مدد کرنے والی مؤمنہ بیوی حاصل کرنے کی کوشش کرنے چاہیئے۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ :1505)

بیوی کی خوبی یہی ہے کہ وہ اپنے شوہر کو آخرت کے کاموں کی نہ صرف تلقین کرے بلکہ اس راہ میں مددگار بن جائے، اسی سے زندگی کا توازن برقرار رہے گا اور معاشرہ و خاندان و قبیلہ مستحکم ہوگا اور ایک دوسرے کا احترام بڑھے گا جیسے اسے صدقات و خیرات کی رہنمائی کرے، انسانیت کی مدد کے لئے ابھارے، نمازوں کے لئے رہنمائی کرے، گھروں میں تلاوت قرآن کے لئے رہنمائی کرے، غرباء و فقراء و مساکین کو کھانا کھلانے کی تلقین کرے، خاندنی افراد سے حسن تعلقات کی رہنمائی کرے۔ اس کے برخلاف عورت دنیا داری کو ترجیح دے تو سماج تباہ و تاراج ہو جائیگا۔

مثالی خواتین:

اپنے آپ کو مثالی بیوی بنانے کے لئے عورت کو چاہئے کہ وہ دیندار اور سابقہ مثالی خواتین کو نمونہ بنائیں،حضرت انس بن مالک رضی اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«خَيْرُ نِسَاءِ العَالَمِيْنَ أَرْبَعَ مَرْيَمُ بِنْتِ عِمْرَانَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ وَ فَاطِمَةُ بِنْتِ مُحَمَّدٍ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ »

’’ کائنات کی بہترین خواتین چار ہیں: (1) حضرت مریم بنت عمران (2) حضرت خدیجہ بنت خویلد (3) حضرت فاطمہ بنت محمد ﷺ (4) فرعون کی بیوی آسیہ رضی اللہ عنہن ۔‘‘ ( مسند احمد صحیح جامع الصغير )

اکثر خواتین اپنے آپ کو غیر اسلامی خواتین کا نمونہ بنانے کی کوششیں کرتی ہیں ، TV سیریلس ، یا فلمی نظارے دیکھ کر انہی کی تقلید کرنا چاہتی ہیں حالانکہ یہ بات حقیقت کے خلاف ہے، اسی طرح وہ فلمسٹارز کو نمونہ بنانے کی کوشش کرتی ہیں ، پہناوا اسی طرح کرتی ہیں، جس کے سبب وہ زندگی کی حقیقی روح کھو دیتی ہیں اس کے برخلاف مسلم خواتین کو چاہئے کہ وہ نیک اور صالحہ خواتین کو نمونہ بنائیں جن کی مثال او پر حدیث میں دی گئی ہیں، ان کی راہوں پر چلیں گی تو ان کے لئے جنت کی راہیں بھی آسان ہوں گی اور زندگی بھی خوش گوار گزرے گی۔

شوہر کی اہمیت :

بیوی کے لئے سب سے اہمیت کی حامل بات ہے کہ وہ شوہر کے حقوق کی ادائیگی کا پاس ولحاظ رکھے، شوہر انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،شوہر کی اہمیت اور اس کا مقام اس حدیث میں یوں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ أَنْ لَوْ كَانَتْ بِهِ قَرْحَةٌ فَلَحَسَتْهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ »

’’شوہر کا بیوی پر حق اس قدر ہے کہ اگر شوہر کو زخم آجائے اور بیوی اس کو چاٹ لے تب بھی شوہر کا حق ادا نہیں کر سکتی ۔‘‘ (حاكم المستدرك على الصحيحين :2805 ؛ صحيح ابن حبان :4164 ؛ سنن بيہقى: 15104 ؛ صحيح الجامع : 3148؛ نسائى فى السنن الكبرى : 5386)

شوہر کے حقوق کی ادائیگی کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الحُوْر العِيْنَ لا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللهُ فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدِي دَخِيْلٌ أَوْشَكَ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا»

’’جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تکلیف پہنچاتی ہے تو موٹی آنکھوں والی حوروں میں سے اس نیک شوہر کی بیوی کہتی ہے اللہ تجھے ہلاک کرے اسے تکلیف نہ دے یہ چند روز کے لئے تمہارے پاس ہے عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آنے والا ہے ۔‘‘ ( صحیح سنن ابن ماجہ: 1637)

شوہر کی فرمانبرداری:

شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کے لئے کوئی پیمانہ مقرر نہیں کیا گیا بلکہ بیوی اطاعت و فرمانبرداری کے لئے ہمہ وقت تیار رہے اور یہی معاملہ شوہر کے لئے بھی ہے حدیث شریف میں ہے حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

« إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَنُّورِ»

’’جب شوہر اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لئے بلائے تو وہ فوراً آجائے خواہ وہ تنور پر ہی ہو ۔‘‘ (جامع ترمذی :1160)

اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا دَعَا الرَّجُلُ إِمْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ أَنْ تَجِيْيَّ لَعَنَتْهَا المَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ »

’’جب شوہر اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لئے بلائے اور وہ آنے سے انکار کر دے تو صبح تک فرشتے اس بیوی پر لعنت کرتے رہتے ہیں ۔‘‘ (صحیح بخاری :5193)

اسی طرح ایک دوسری حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِذَابَانَتِ المَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا ، لَعَنَتْهَا المَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِح»

’’اس ذات کی ،قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لئے بلائے اور وہ آنے سے انکار کر دے تو جو آسمان میں ہے (یعنی اللہ تعالیٰ) اس پر اس وقت تک ناراض رہتا ہے جب تک وہ شوہر ) اس سے راضی نہ ہو جائے۔‘‘ (صحیح مسلم:3538)

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے حضرت حصین بن محصن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

’’ان کی پھوپھی نبی ﷺکے پاس آئی تو آپ ﷺ نے اس سے دریافت کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے دریافت کیا کہ تم اپنے شوہر سے کیسا رویہ برتی ہو؟ اس نے کہا: ”میں نے کبھی اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں کمی نہیں کی الا کہ جو طاقت سے باہر ہو۔‘‘ آپ ﷺ نے پھر دریافت کیا کہ ’’تم اس کی نظر میں کیسی ہو؟

«فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكُ»

’’خبر دار وہ تمہاری جنت ہے اور وہی تمہاری جہنم ہے۔‘‘ (صحیح الترغیب : 1933)

یہ انتہائی سبق آموز احادیث ہیں اس سے لاعلمی کے سبب شوہروں سے معمولی سی ناچاقی کے بعد بیویاں اپنے والدین کے گھر جا کر رہ جاتی ہیں۔ مہینوں تک میاں اور بیوی کے درمیان کوئی تعلقات نہیں رہتے ،ضد اور ہٹ دھرمی انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور شیطان اپنا کردار ادا کر دیتا ہے۔ ایسی بیویوں کو سبق لینا چاہئے کہ شوہر کا مقام و مرتبہ کتنا اونچا اور بلند ہے۔

شوہر اور بیوی کا آپسی رشتہ: شوہر اور بیوی کے مابین رشتوں کے استحکام کا اندازہ اس حدیث شریف سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ آخرت میں بھی ایک دوسرے کے شریک حیات رہیں گے ،ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :

«أَمَاتَـرْضِيْنَ أَنْ تَكُوْنِيْ زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ»

’’کیا تجھے پسند نہیں کہ تو دنیا اور آخرت میں میری بیوی رہے؟ میں نے عرض کیا، کیوں نہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:

« فَأَنْتِ زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةَ »

’’تم دنیا و آخرت میں میری بیوی ہو ۔‘‘ (سلسلہ صحیحہ : 22553011،3394 ؛ صحيح ابن حبان : 7095 ؛ الحاكم المستدرك على الصحيحين :6898 )

شوہركا مقام مجازی خدا:

بیوی کو چاہئے کہ وہ اپنے شوہر کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کرے، وہ کوئی خادم، نوکر، یا غلام نہیں ہے بلکہ وہ حاکم ہے، اسے یہ حق دین اسلام نے عطا کیا ہے، بیوی کے لئے وہ مجازی خدا کا درجہ رکھتا ہے۔ اگر غیر اللہ کو سجدہ جائز ہوتا تو سب سے پہلا حقدار شوہر ہی ہو سکتا تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لو كُنتُ أَمِرَا أَحَدَا أَنْ يَسْجُدَ لَّاحَدٍ لَّا مَرْتُ المَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا»

’’اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ ‘‘ (جامع ترمذی: 1159 ؛ سنن ابن ماجہ :1852)

بیوی کو چاہئے کسی بھی صورت ، کسی بھی معاملے میں اپنے حاکم کو ناراض نہ کرے، اسکو ذلیل و رسوا نہ کرے، اس کے ساتھ لڑائی جھگڑا اور جنگ و جدال والا معاملہ نہ کرے لیکن ہمارے معاشرے میں شوہروں کی تذلیل کی جاتی ہے، بیوی اپنے بھائیوں اور رشتے داروں کے ذریعہ اس کی پٹائی کروائی جاتی ہے، اس کے خلاف پولیس میں مقدمات درج کروائے جاتے ہیں ، گالی گلوچ کی جاتی ہے، گویا شوہر کے ساتھ غلام و ملازم کی طرح سلوک کیا جانے لگا ہے۔ اس سے احتراز کرنے کی ضرورت ہے۔

بیوی شوہر کی ہمراز و معاون:

بیوی کے لئے ضروری ہے کہ وہ زندگی کے ہر قدم پر شوہر کی معاون و مددگار بن کر رہے، کیونکہ شوہر کی اصلی ہمت وطاقت بیوی ہی ہے اس کی مثال ہم رسول اللہ ﷺ کی زندگی سے لے سکتے ہیں، آغاز نبوت کے دنوں میں جب آپ ﷺ انتہائی پریشان ہو چکے تھے، تب اپنی ساری پریشانیاں کسی اور کے سامنے بیان نہیں کیا بلکہ اپنی بیوی خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کے سامنے عرض کیا۔ حضرت خدیجہ الکبری نے آپ کی حوصلہ و ہمت افزائی کی، آپ کی خدمات کو سراہا ار فرمایا:

«كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيْكَ اللهُ أبدا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَحْمِلُ الكَلَّ ، وَتَكْسِبُ المَعْدُوْمَ ، وَتَقْرِئُ الضَّيْفَ ، وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ »

’’اللہ کی قسم ! آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ تو کنبہ پر ور ہیں ، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں اور کنگالوں، بھوک مروں کے لئے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بے مثال ہیں، اور مشکل وقت میں آپ حق بات کا ساتھ دیتے ہیں ۔‘‘ (صحیح بخاری : 3 )

مزید کہتی ہیں کہ اب آپ آرام کریں ، وہ آپ پر کمبل اڑھا دیتیں اور آپ آرام سے سو جاتے۔ سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کی اس حوصلہ افزائی سے رسول اللہ ﷺ کو ہمت و طاقت حاصل ہوئی ساری دنیا مخالف ہو تو کیا ہوا ،شریک حیات تو میرے ساتھ ہے۔ ہر بیوی کو اپنے شوہر کے ساتھ یہی کردار ادا کرنا ہوگا، تب ہی زندگی کی راحتیں اور محبتیں حاصل ہوں گی۔

بہترین بیوی سب سے قیمتی خزانہ:

سب سے بہترین بیوی کی صفات بیان کرتے ہوئے، رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:

« خَيْرُ النِّسَاءِ الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَانَظَرَ ، وَتُطِيْعُهُ إِذَا أَمَرَ ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا وَلَا مَالِهَا»

’’عورتوں میں سے سب بہترین عورت وہ ہے کہ جب تو اس کی طرف دیکھے تو تجھے خوش کر دے، جب تو اسے کسی کام کا حکم دے تو تیری اطاعت کرے اور جب تو اس سے غائب ہو تو وہ اپنی عزت و آبرو اور تیرے مال کی حفاظت کرے ۔‘‘ (سنن نسائی: 3231 ؛ تخریج المسند :9658؛ سلسلہ صحیحہ : 1838 ؛مستدرک حاکم :2682)

اسی طرح کی ایک اور حدیث دوسرے جامع ترین الفاظ کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ جب قرآن مجید میں سورہ توبہ کی آیت 34 نازل کی گئی جس میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سونے اور چاندی کے خزانے جمع کرنے کی برائی یوں بیان فرمایا کہ

﴿الَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالفِضَّةَ… ﴾

تو اس سے مسلمان بہت ہی حیران و پریشان ہوئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہاری مشکل دور کرتا ہوں ، چنانچہ وہ سب آئے اور انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ آپ کے اصحاب کو یہ آیت بہت بھاری محسوس ہورہی ہے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے زکوۃ اسی لئے فرض کیا ہے کہ اس سے تمہارا بقیہ مال پاک ہو جائے ، اور وراثت اس لئے فرض فرمائی ہے کہ تمہارے بعد والوں کو ملے اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ”اللہ اکبر“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أَلا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ المَرْةُ : المَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ ، وَإِذَا أَمَرَ بِهَا أَطَاعَتْهُ ، وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ »

’’ کیا میں تمہیں سب سے بہترین خزانے کی خبر نہ دوں، جسے انسان حاصل کرتا ہے ، نیک بیوی کہ جب تو اس کی طرف دیکھے تو اسے خوش کر دے، جب اسے کسی کام کا حکم دے تو اس کی اطاعت کرے اور جب وہ اس سے غائب ہو تو اس اس (کے مال اور اپنی عزت ) حفاظت کرے ۔‘‘ (سنن ابوداؤد:1664)

بیوی شوہر کی مرضی و خوشی کا خیال رکھے :

بیوی کے لئے ضروری ہے کہ وہ شوہر کی خوشی و ناخوشی والے امور کو اپنے پیش نظر رکھے ہر وہ کام جس سے شوہر خوش ہوا سے کرے اور جس سے شوہر نا خوش ہو اس سے رک جائے ، جیسے اگر شوہر کہے کہ فلاں فلاں رشتے دار میری غیر موجودگی میں گھر نہ آئیں جیسے خالہ کی اولاد، چچا کی اولاد، پھوپھی کی اولاد، ماموں کی اولاد، جیٹھ، دیور اسی طرح غیر محرم دیگر رشتے دار جن سے پردہ کرنا لازم ہے، تو اس کا خیال کرے اسی میں بھلائی ہے، یہ نہ کہے کہ ہم بچپن سے ساتھ رہے، پلے پھولے اس میں کیا ہوگا ؟ اس طرح کی بحث زندگی میں اختلاف پیدا کرتی ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أنْ تَصُوْمَ وَزَوْجُهَا شَاهِدًالَّا بِإِذْنِهِ وَلَا تَأْذَنْ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ نَفَقَةٍ عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّهُ يُؤَدَّى إِلَيْهِ شَطْرُہ»

’’عورت کے لئے جائز نہیں کہ اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفل) روزے رکھے اور عورت کسی کو اس کے گھر میں اس کی مرضی کے بغیر آنے کی اجازت نہ دے اور عورت جو کچھ بھی اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی صریح اجازت کے بغیر خرچ کر دے تو اسے بھی اس کا آدھا ثواب ملے گا۔‘‘ (صحیح بخاری :5195)

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” تمہارا عورتوں پر حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں (اور گھروں) میں کسی ایسے شخص کو داخل نہ کریں جسے تم نا پسند کرتے ہو ۔‘‘ (صحیح مسلم)

بیوی شوہر کی احسان مند رہے :

بیوی کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ شوہر کی احسان مند اور شکر گزار بن کر رہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحیٰ یا عید الفطر میں عید گاہ تشریف لے گئے وہاں آپ عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے ان عورتوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ایسا کیوں؟ آپ ﷺنے فرمایا:

«تُكْثِرُونَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ العَشِيْرَ »

’’تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو ۔‘‘ (صحیح بخاری : 304 ؛ صحیح مسلم :79 ؛ سنن ابو داؤد: 4679)

اسی طرح ایک اور حدیث میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :

« لَا يَنظُرُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى إِمْرَأَةٍ لَا تَشْكُرُ لِزَوْجِهَا »

’’ اللہ تعالیٰ ایسی عورت کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائیں گے جو اپنے شوہر کی شکر گزار نہ ہو ۔‘‘ (صحیح الترغیب : 1944)

بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے :

بیوی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کو لازم پکڑ کر رہے اس کی اجازت کے بغیر گھر کے باہر یا کسی رشتے دار کے پاس، یا بازار وغیرہ کو ہرگز نہ نکلے کیونکہ یہی بات دونوں کے درمیان افتراق و اختلاف کا سبب بن جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ﴾

’’عورتیں اپنے گھروں میں ٹھہری رہیں ۔‘‘ (سورۃ الاحزاب :33)

حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر سنا، رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں سے فرمارہے تھے کہ

« هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الحُصر »

’’یہ ( حج تم پر فرض ہے ) پھر ( گھر میں بچھی) چٹائیوں سے چمٹ جانا ۔‘‘ (سنن ابوداؤد: 1722 )

یعنی چٹائیوں کو لازم پکڑنا، یعنی کوئی سیر و سیاحت و وقت گزاری نہیں۔ اس حدیث مبارکہ سے بہت سے تعلیمات سیکھی جاسکتی ہیں۔

اس حدیث کی روشنی میں امام ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ اشارہ موجود ہے کہ عورت کے لئے اپنے گھر میں ٹکی رہنا اور اس سے نہ نکلنا ہی لازم ہے الا یہ کہ کوئی ضرورت پیش آ جائے۔‘‘

اسی طرح شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

’’عورت کے لئے ہرگز جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلے، اور اگر وہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلے گی تو شریعت کی نظر میں باغی اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمان اور سزا کی مستحق ٹھہرے گی ۔‘‘ (تفسیر احکام القرآن لابن العربی مجموع الفتاوی ابن تیمیہ )

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

”عورت پر مرد کا یہ حق ہے کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے گھر سے نہ نکلے، اگر وہ ایسا کرے گی تو آسمان کے فرشتے ، رحمت کے فرشتے اور عذاب والے فرشتے اس پر لعنت کریں گے حتی کہ وہ واپس لوٹ جائے۔‘‘ (ضعیف الترغیب: 1217)

یہ چندا رشادات ہیں جس کو اختیار کرنا ہر مسلم عورت پر لازم ہے۔ جس سے گھر اور سماج سدھر کر رہے گا اور شوہر و بیوی میں محبت والفت باقی رہے گی اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)

٭٭٭

اسلام کے تقاضے

پھیلائیں گے اگر ہم اسلام کے اُجالے

دنیا سے ختم ہوں گے پھر کفر کے اندھیرے

یوں جی رہے ہیں اب تو اللہ کے یہ بندے

پروردگار ان کا جیسے کوئی نہیں ہے

منزل سے دور ہو کر اِنساں بھٹک رہا ہے

جو راستہ ہے سیدھا کوئی اسے بتا دے

لاریب پھر مسلماں دل کا سکون پائے

اللہ سے جو پہلے وہ اپنا دل لگا لے

دینِ مبیں جہاں میں پھر کیوں نہ جگمگائے

ہمت سے ہر مسلماں پھر سب کو وہ جگائے

عقلِ سلیم دی ہے اِنساں کو جو خدا نے

پھر کیوں نہ حق کو سمجھے پھر کیوں نہ حق کو مانے

برقِ بلا سے کوئی جا کر یہ بات کہہ دے

ہم نے بھی چن کے لائے کچھ آشیاں کے تنکے

پورے کہاں کیے وہ ہم ٹالتے رہے ہیں

احکام اپنے رب کے ’اسلام کے تقاضے‘

بخشی گئی تھی جن کو اقوام کی امامت

وہ پھر رہے ہیں اپنی غفلت سے مارے مارے

حماد ہم جو سینچیں خون جگر سے ہر دم

گلزار دین حق میں فصل بہار آئے

ابو البیان حماد

تبصرہ کریں