رسول اللہ ﷺ کا پیغام گستاخ رسول کے نام۔ محمدعبد الرحیم خرم عمری جامعی

رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کا آغاز اعلان نبوت کے پہلے لمحے سے ہی ہو چکا تھا ، وہ اہل مکہ جو رسول اللہ ﷺکو صادق امین کے لقب سے پکارا کرتے تھے اور آپ کے ہر حکم د مشورہ کو قبول کیا کرتے تھے جب انہیں کوہ صفا کے دامن میں ایک اللہ کی دعوت دی گئی تو وہ گستاخی پر اتر آئے اور اس گستاخی کا مرتکب کوئی اور نہیں بلکہ آپ کا چچا ابولہب ہوا جو گالی گلوچ اور ہلاکت کی دہائی دینے لگا، یہ تاریخ کی سب سے پہلی گستاخی تھی، اس واقعہ کے بعد گستاخی کا سلسلہ مشرکین کی جانب سے جاری رہا، جب حرم مکہ کے صحن میں آپ نماز پڑھ رہے تھے تو ایک بدقماش نے آپ کی گردن میں پھندا ڈال کر مروڑ نا شروع کیا جس سے آپ کا دم گھٹے جارہا تھا، اسی طرح آپ حرم مکہ کے صحن میں حالت سجدہ میں تھے تو آپ کا چچا ابو جہل اونٹنی کی گندی اوجھڑی آپ کی پیٹھ پر ڈال دیا جسے حضرت فاطمۃ الزھراء نے صاف کیا اور لوگوں کو نصیحت کی، ایک دفعہ ایک ظالم نے آپﷺ کی گردن میں چادر ڈال کر گردن دبانا شروع کیا، ظالم نے اس قدر نبی ﷺ پر تشدد کیا کہ کسی دیکھنے والے کو رحم آگیا وہ بھاگتا ہوا گیا اور ابو بکر صدیق کو خبر کی ، ابو بکر صدیق دوڑے دوڑے چلے آئے اور یہ کہتے ہوئے رسول اللہﷺ کو تحفظ فراہم کیا کہ

﴿ تَقْتُلُوْنَ رَجُلًا أَنْ يَقُوْلَ رَبِّيَ اللهِ … ﴾

ایک شخص کو تم اس لئے قتل کرنا چاہتے ہو کیونکہ وہ کہتا ہے کہ ’’ اللہ ایک ہے۔‘‘ لوگوں نے رسول اللہﷺ کو چھوڑ دیا اور ابوبکر صدیق پر ٹوٹ پڑے اور آپ کو اتنا مارا کہ آپ کے سر کے بال اکھڑ گئے۔ ( صحیح بخاری: 3678,3856,4815 )

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی گستاخی پر آمادہ کفار قریش نے ایک مرتبہ آپ پر یلغار کردی جب یہ خبر حضرت حارث بن ابی ھالہ کو ہوئی تو وہ آپ کے تحفظ کے لئے دوڑے، لوگوں نے رسول اللہﷺ کو چھوڑ دیا اور حارث پر ٹوٹ پڑے اور انہیں قتل کر دیا، مکہ میں مردوں میں اسلام کی راہ میں بہنے والا یہ پہلا خون تھا۔

الغرض یہ سلسلہ آغا ز نبوت ہی سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا ۔ اس ضمن میں شریعت اسلامیہ نے جو ر ہنمائی کی ہے اس کا جاننا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ دین اسلام میں قتل کی سزا صرف چار بنیادوں پر عائد ہوتی ہے:

1۔ قتل ناحق کے قصاص میں قتل کیا جائیگا۔

2۔ اسلام لاکر مرتد ہونے والے کی سزا قتل ہے۔

3۔ شان رسالت میں گستاخی کی سزا قتل ہے۔

4۔ زانی کو سنگسار، ان سزاؤں کا اطلاق اسلامی حکومت وخلافت کا متقاضی ہے۔

دور نبوت میں گستاخ رسالت کے مرتکبین تین طرح کے لوگ تھے:

1۔ وہ لوگ جو بظاہر اسلام لا چکے تھے لیکن ان کے دل مسلمان نہیں ہوئے تھے انھوں نے ارتداد کیا اور شان رسالت میں گستاخی کے مرتکب ہوئے۔

2۔ وہ کفار جو رسول اللہﷺ اور صحابہ کے متعلق سخت دل ہو چکے تھے وہ گستاخی کے مرتکب ہوئے۔

3۔ وہ ذمی واہل کتاب جو رسول اللہ ﷺ کے معاہد تھے۔ وہ گستاخی کے مرتکب ہوئے۔

ان تینوں قسم کے گستاخوں میں بعض ایسے تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے معافی دے دی اور وہ اسلام لے کر آئے اور بعض ایسے تھے جنہوں نے توبہ کیا اور دوبارہ اسلام میں لوٹ آئے اور بعض ایسے تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے معاف نہیں کیا بلکہ ان پر قتل کا حکم صادر فرمایا اور وہ انجام کو پہنچا دئے گئے۔

گستاخ رسول کی اسلامی سزا:

گستاخ رسول اور گستاخ دین کی سخت ترین سزا مقرر کی گئی ہے جس کو سنتے ہوئے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾

’’جو اللہ تعالىٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں، ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دئیے جائیں یا سولی چڑھا دئیے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں۔ یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے یہ تو ہوئی ان کی دنیاوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے ۔‘‘ (سورۃ المائدہ:33)

رسول الله ﷺ کی گستاخی کرنے والا کافر ہے

رسول اللہﷺ کی شان میں کسی بھی طرح کی گستاخی کرنے والا کافر ہے، اس پر امت کا اجماع ہے، چنانچہ چند اقوال پیش خدمت ہیں:

1۔حضرت علی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نبی کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے آپ کے صحابہ کوگالی دی اسے کوڑے مارے جائیں ۔‘‘ (الصارم المسلول )

2۔ حضرت حصین کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے کہا: ” جو شخص رسول اللہ ﷺکوگالی دے اسے قتل کیا جائے۔‘‘ (الصارم المسلول)

3۔ اصحاب امام شافعی میں سے ابو بکر فارسی نے اس امر پر مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کوگالی دے اس کی حد شرعی قتل ہے۔‘‘ (الصارم المسلول )

4۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”اس بات پر امت کا اجماع منعقد ہوا کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کی توہین کرے یا آپ کو گالی دے تو اسے قتل کیا جائے۔‘‘ (الصارم المسلول)

5۔ امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

’’ اس بات پر مسلمانوں کا اجماع منعقد ہوا کہ جو شخص اللہ یا اس کے رسول کو گالی دے، یا خدا کے نازل کردہ کسی حکم کو رد کر دے یا کسی نبی کو قتل کرے تو وہ اس کی بنا پر کافر ہو جاتا ہے، اگر چہ وہ خدا کے نازل کردہ تمام احکام کو مانتا ہو ۔‘‘ (الصارم المسلول)

6۔ محمد بن شحنون رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”اس بات پر علماء کا اجماع منعقد ہوا کہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والا اور آپ ﷺ کی توہین کرنے والا کا فر ہے، اس کے بارے میں عذاب خداوندی کی وعید آئی ہے، امت کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے ، جو شخص اس کے کفر اور اس سزا میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔‘‘

7۔ اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ ’’جو کسی نبی کو قتل کرے اسے قتل کردو اور جو میرے صحابہ کو گالی دے اسے کوڑے مارو۔ ‘‘ (الصارم المسلول)

8۔ خلیفہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اسے قتل کیا جائے ۔ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والا مرتد ہو جاتا ہے، مسلمان رسول اللہ ﷺ کوگالی نہیں دے سکتا ۔ ( الصارم المسلول)

9۔ عبد اللہ بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتا ہے کہ آیا اس سے تو بہ کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے؟ فرمایا:

” وہ واجب القتل ہے، اس سے تو بہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا، اس لئے کہ حضرت خالد بن الولید نے ایسے شخص کوقتل کر دیا تھا اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا۔ ‘‘ (المعجم الصغير للطبرانی ؛ الصارم المسلول ؛ المطالب العالیہ؛ الشفاء للقاضی عیاض؛ فتح البارى ؛ الطبقات الكبرى )

گستاخ رسول کے قتل کے بعض واقعات :

عہد نبوی اور عہد خلافت میں شان رسالت میں گستاخی کے مرتکبین کو ان کے انجام تک پہنچا دیا گیا، اس ضمن میں بہت سے واقعات وارد ہوئے ہیں چند واقعات کا تذکرہ مناسب ہوگا۔

1۔ایک نابینا مسلمان ایک یہودی عورت کے یہاں قیام پذیر تھاوہ عورت اسے کھلاتی پلاتی اور نیک سلوک کیا کرتی تھی مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتی اور ایذاء رسانی کرتی تھی ، ایک رات نابینا شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا، جب صبح ہوئی تو رسول کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا ، آپﷺ نے لوگوں کو اس ضمن میں حلف دی، دریں اثنا اس اندھے شخص نے کھڑے ہوکر ماجرا بیان کیا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے خون کو ھدر ( رائیگاں) قرار دیا۔ (السنن الكبر البیہقی: 13785)

2۔اسماعیل بن جعفر نے بطریق اسرائیل از عثمان شحام از عکرمہ از ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ

”ایک اندھے شخص کی ایک ام ولد لونڈی تھی جو سول کریم ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی، وہ اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی ، وہ ڈانٹتا مگر وہ رکتی نہ تھی ، ایک رات اس نے رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینے کا آغاز کیا، اس نے بھالا لے کر اس کے شکم میں پیوست کر دیا اور اسے زور سے دبا دیا جس سے وہ ہلاک ہو گئی ،صبح کو اس کا تذکرہ رسول کریم ﷺ سے کیا گیا تو لوگوں کوجمع کر کے آپ ﷺنے فرمایا:

”میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے کیا، جو کچھ کیا ، اور میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے۔‘‘

یہ سن کر اندھا کھڑا ہوا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آپ ﷺ کے پاس آیا اور بیٹھ گیا، وہ کانپ رہا تھا ، اس نے کہا: یارسول اللہ ! اسے میں نے قتل کیا ہے، وہ آپ کو گالیاں دیا کرتی تھی، میں اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی تھی ، میں اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا مگر وہ پرواہ نہ کرتی ۔ میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں گاڑھ دیا اور اسے زور سے دبا دیا، اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں، وہ میری رفیقہ حیات تھی ، گزشتہ شب جب وہ آپ کو گالیاں بکنے لگی تو میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں گاڑھ دیا اور اسے زور سے دبا دیاحتی کہ وہ مرگئی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

” تم گواہ رہو کہ اس کا خون ھد ر (رائیگاں) ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد:4361 ؛ سنن نسائی: 5.107 ؛ المستدرک :4۔354 ؛ بلوغ المرام : 1230)

3۔ کعب بن اشراف یہود کے سرداروں میں سے تھا، اس نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی ایذا رسانی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ، یہ شخص مشرکین و کفار کو نبی کے خلاف ابھارتا تھا، نام گرامی شعراء کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کی ہجو گوئی کیا کرتا تھا اور مسلمان عورتوں کی برائی میں شعراء سے کلام پڑھاتا ، جب بھی کوئی مسلمان اس سے قرض لینے کے لئے جاتے تو ان سے کہتا کہ اپنی عورتوں کو گروی رکھو یا اپنے بچوں کو گروی رکھو، اس کی ایذا رسانیوں سے رسول اللہﷺ تنگ آچکے تھے، اس کی شرارتیں سر سے اونچی ہو چکی تھیں ۔ چنانچہ حضرت جابر بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کعب بن اشرف کو کون ٹھکانے لگائے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذاپہنچائی ہے۔‘‘

محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا:

’’یا رسول اللہ میں اس کے لئے تیار ہوں ۔‘‘

اور انہوں نے حسب منصوبہ اس کو قتل کر دیا۔ اس واقعہ سے یہودی گھبرائے ہوئے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ”گزشتہ رات ہمارے ساتھی کو قتل کیا گیا ہے، وہ ہمارے سرداروں میں سے ایک سردار تھا اور اسے بلا جرم و گناہ، جس کا ہمیں علم ہو قتل کیا گیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :

”اگر وہ بھی اسی طرح امن و سکون سے رہتا جس طرح اس کے دوسرے ہم خیال رہتے تھے تو اسے اچانک قتل نہ کیا جاتا مگر اس نے ہمیں اذیت دی اور ہماری ہجو میں اشعار کہے تو جو بھی اس طرح کرے گا، قتل کر دیا جائیگا ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے یہود کو دعوت دی کہ میں انہیں ایک عہد نامہ لکھ دیتا ہوں وہ اس پر عمل پیرا ہوں ، اس طرح رسول اللہ ﷺ نے یہود اور مسلمانوں کے درمیان ایک عہد نامہ کھجور کے درخت کے نیچے بیٹھ کر رملہ بن حارث کے مکان میں لکھ دیا، یہو داب ایسی حرکتوں سے باز آگئے ، جب سے کعب بن اشرف کا قتل ہو گیا ، وہ ڈر گئے اور رسوا ہو گئے۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم کتاب المغازی الواقدی)

4۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خطمہ قبیلے کی ایک عورت رسول اللہﷺکی ہجو کہی ، آپﷺ نے فرمایا: ”اس عورت سے کون نمٹے گا ؟ اس کی قوم سے ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ کام میں انجام دوں گا، چنانچہ اس نے جا کر اسے قتل کر دیا، آپﷺ نے فرمایا: ”دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہیں ٹکراتیں۔‘‘ (الکامل لابن عدی)

یہ عورت قبیلہ خطمیہ کے خاندان بنوامیہ بن مروان سے تھی جس کا نام عصمہ بنت مروان تھا، یہ رسول اللہ ﷺ کی برائی بیان کرتی ، اسلام میں عیب نکالتی ، اور آپﷺکے خلاف لوگوں کو بھڑکا یا کرتی تھی ۔ عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس کا قتل کیا اور فجر کی نماز میں شامل ہو گئے ، نماز سے فارغ ہو کر رسول اللہﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: کیا تو نے بنت مروان کو قتل کر دیا ہے؟ عرض کیا : ہاں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! اس ضمن میں مجھ پر کوئی چیز واجب ہے؟ فرمایا:

نہیں، دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہیں ٹکرا تیں یہ فقرہ پہلی مرتبہ رسول اللہ ﷺ سے سنا کیا۔ عمیر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارد گرد دیکھا اور فرمایا:

” اگر تم ایسا شخص دیکھنا چا ہو، جس نے اللہ اور اس کے رواں لی غیبی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو ۔‘‘ (المغازی الواقدی)

5۔ بنو عمر و بن عوف میں ایک شخص تھا، جس کو ابو عفک کہتے ہیں، وہ نہایت ہی بوڑھا تھا اور اس کی عمر 120 سال کی تھی، یہ شخص مدینہ آ کر لوگوں کو رسول کریمﷺ کی عداوت پر بھڑکایا کرتا تھا ، اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، جب رسول اللہ ﷺ بدر تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح وکامرانی سے نوازا تو وہ حسد کرنے لگا اور بغاوت پر اتر آیا، اس نے رسول اللہﷺ کی شان میں ایک توہین آمیز قصیدہ کہا۔

سالم بن عمیر نے نذر مانی کہ میں ابو عفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے مارا جاؤں گا ، سالم موقع کی تلاش میں تھا، موسم گرما کی ایک رات تھی، ابو عفک موسم گرما میں قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے صحن میں سورہا تھا ، دریں اثنا سالم بن عمیر آیا اور تلوار اس کے جگر پر رکھ دی ، دشمن خدا بستر پر چیخنے لگا، اس کے ہم خیال بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے ، پہلے اس کے گھر میں لے گئے اور پھر قبر میں دفن کر دیا ۔ کہنے لگے اسے کس نے قتل کیا ؟ بخدا اگر ہمیں قاتل کا پتہ چل جائے تو ہم اسے قتل کر دیں گئے ۔ (المغازی الواقدی؛الطبقات الکبری)

6۔ تین ایسی گلوکارائیں تھیں جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کی ہجو کیا کرتی تھیں:

1۔ سارہ بنی عبد المطلب میں ابولہب کی آزاد کردہ لونڈی تھی جو مکہ میں رسول اللہ ﷺ کو ایذا دیا کرتی تھی ۔

2۔ فرتنی : جو عبد اللہ ابن خطل کی لونڈی تھی جسے قتل کر دیا گیا ۔

3۔ ارنب تھی اس میں سے ایک ماری گئی اور ایک کو امان دے دی گئی چونکہ وہ اسلام لا چکی تھی۔

7۔ انس بن زنیم الدیلی قبیلہ کنانہ کا ایک آدمی تھا، اس نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو بیان کی ، قبیلہ خزاعہ کے ایک لڑکے نے سن لیا، اس نے اُس پر حملہ کر دیا اور اس کے سر پر چوٹ ماری ، اور وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور ان کو اپنا زخم دکھایا۔ بعد میں اس نے رسول اللہ ﷺ کی تعریف میں قصیدہ کہا جس کے متعلق امام واقدی کہتے ہیں :

’حرام‘ نامی شخص نے مجھے یہ قصیدہ سنایا، رسول اللہ ﷺ کے پاس وہ قصیدہ بھی پہنچا، اس نے جو معذرت چاہی تھی وہ بھی پہنچی اور نوفل بن معاویہ الدیلمی آپ ﷺ سے ہم کلام ہوا ، اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ سب لوگوں سے زیادہ معاف کرنے کے اہل ہیں ، ہم میں سے کون ہے ،جس نے آپ سے عداوت نہ رکھی ہواور آپ کو ستایا نہ ہو! دور جاہلیت میں ہمیں کچھ معلوم نہ تھا کیا چیز لیں اور کیا نہ لیں حتی کہ آپ کے ذریعہ اللہ نے ہمیں ہدایت سے نوازا اور آپ کی وجہ سے ہمیں ہلاکت سے چھڑایا۔ قافلے والوں نے اس پر جھوٹ باندھا اور آپ کے پاس مبالغہ آمیزی سے کام لیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

”قافلے کا ذکر چھوڑئیے ، ہم نے سرزمین تہامہ میں کسی دور و نزدیک کے رشتے دار کو نہیں دیکھا جو خزاعہ سے زیادہ اطاعت شعار ہو۔‘‘

آپ ﷺ نے نوفل بن معاویہ کو خاموش کرا دیا۔ جب وہ خاموش ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”میں نے اسے معاف کیا، نوفل نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔‘‘ (واقدی)

8۔ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن صحابہ کرام کو اس بات کا حکم دیا کہ چار افراد کو کسی بھی صورت قتل کر دیا جائے اور فرمایا کہ ”اگر وہ کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکے ہوئے کیوں نہ ہوں۔‘‘ ان کے نام یہ ہیں : 1۔ عکرمہ بن ابی جہل 2۔ عبد اللہ بن خطل 3۔ مقیس بن صبابہ 4۔ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح ۔ ان چار آدمیوں کے علاوہ باقی تمام کو امن دے دیا گیا۔ (سنن نسائی)

ان میں سے دو قتل کر دئے گئے اور دو معاف کر دئے گئے ۔ جولوگ قتل کر دئے گئے، وہ یہ تھے:

1۔ عبد الله بن خطل : یہ شخص کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا تھا اسے پکڑ لیا گیا، سعید بن حارث اور عمار بن یا سر اس کی طرف دوڑے، سعید زیادہ جوان تھے انھوں نے عمار بن یاسر سے آگے بڑھ کر اسے قتل کر دیا۔

2۔ مقیس بن صبابہ: اس شخص کو لوگوں نے بازار میں پکڑ کر قتل کر دیا۔

جن دو افراد کو معافی دے دی گئی وہ یہ تھے:

1۔ عبد الله بن سعد بن ابی سرح: شخص رسول اللہﷺ کا یہ کا تب تھا ، حضرت عثمان کے پاس چھپ گیا، آپ نے اسے پناہ دی ، کیونکہ یہ آپ کا رضاعی بھائی بھی تھا ۔

2۔ عکرمہ بن ابو جہل: یہ شخص بحری جہاز میں سوار ہو گیا اور جہاز آندھی کی زد میں آگیا، جہاز والوں نے کہا: توحید کے قائل ہو جاؤ ، اس لئے کہ تمہارے بت تمہارے کچھ کام نہیں آتے ۔ عکرمہ نے کہا :

’’بخدا اگر سمندر میں ایک خدا نجات دیتا ہے تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا ۔

”اے اللہ میں تیرے حضور دعا کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے اس مصیبت سے نجات دے دی تو میں محمد ﷺ کے پاس جا کر اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور میں انہیں معاف کرنے والا اور سنی پاؤں گا۔ چنانچہ عکرمہ نے اسلام قبول کیا۔

عہد صدیقی میں گستاخوں کا انجام:

ایک خاتون جس نے رسول اللہ ﷺ کی برائی میں گیت گایا تھا اور راہ فرار اختیار کی اس کے متعلق آپ نے مہاجر بن ربیعہ کولکھا: ’’ اگر میں پہلے فیصلہ کر چکا ہوتا تو تجھے اس عورت کو قتل کرنے کا حکم دیتا، اس لئے کہ انبیاء کی حد دیگر حدود کے مشابہ نہیں ہوتی جس مسلم یا معاهد نے اس کا ارتکاب کیا تو وہ مرتد ، محارب اور عہد شکنی کرنے والا ہے۔‘‘ (تاریخ الطبری)

عہد فاروقی میں گستاخوں کا انجام:

حضرت مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیاجو رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا، پھر فرمایا:

” جو اللہ اور اس کے رسول کو گالی دے اسے قتل کر دیا کرو۔‘‘

شاتم رسول كافر ہے: غیر اسلامی بے دین ، اور جمہوری و مارکسی وسوشلسٹ ممالک میں کوئی بھی شاتم رسول اسلامی سزاء سے بچ سکتا ہے لیکن وہ الٰہی سزا و عتاب سے ہر گز نہیں بچ پائے گا، اپنے جیتے جی وہ ذلت و رسوائی کو پہنچ جائے گا اور اپنی ذلت کا بذات خود مشاہدہ کرے گا اس کی مثال سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کی زندگی ہے، آخرت میں ایسے لوگوں کا انجام بدترین ہوگا، اس ضمن میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ ۚ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ ۚ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

”ان میں سے وہ بھی ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کان کا کچا ہے، آپ کہہ دیجئے کہ وہ کان تمہارے بھلے کے لئے ہیں وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمانوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور تم میں سے جو اہل ایمان ہیں یہ ان کے لئے رحمت ہے، رسول اللہ ﷺ کو جو لوگ ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دکھ کی مار ہے۔ ‘‘ (سورۃ التوبہ: 61)

اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿ إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَٰئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ﴾

’’بے شک اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی جو لوگ مخالفت کرتے ہیں وہی لوگ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں ۔‘‘ (سورۃ المجادلہ : 20)

ایسے ہی ایک شخص کا واقعہ صحیح بخاری میں مذکور ہے ایک شخص عیسائی تھا، پھر وہ اسلام میں داخل ہو گیا تھا، اس نے سورۃ البقرۃ اور آل عمران پڑھ لی تھی اور وہ نبی ﷺ کا منشی بن گیا تھا لیکن پھر وہ شخص مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا اور کہنے لگا کہ محمد کے لئے جو کچھ میں نے لکھ دیا ہے اس کے سوا انہیں اور کچھ بھی معلوم نہیں ، پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی موت واقع ہوگئی اور اس کے آدمیوں نے اسے دفن کر دیا، جب صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر سے نکل کر زمین کے اوپر پڑی ہے، عیسائی لوگوں نے کہا کہ یہ محمد اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے، چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا، اس لئے انہوں نے اس کی قبر کھود دی ہے، اور لاش کو قبر نے باہر نکال کر پھینک دیا، چنانچہ دوسری قبر انہوں نے کھودی جو بہت زیادہ گہری تھی لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی ، اس مرتبہ انہوں نے یہی کہا کہ یہ محمد اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا ، اس لئے اس کی قبر کھود کر انہوں نے لاش باہر پھینک دی ، پھر انہوں نے ( تیسری مرتبہ) قبر اتنی گہری گھودی جتنی گہری ان کے بس میں تھی ، اور اسے دفن کر دیا لیکن صبح ہوئی تو پھر لاش با ہرتھی، اب انھیں یقین آیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں بلکہ یہ میت اللہ کے عذاب میں گرفتار ہے ) چنانچہ انہوں نے اسے یونہی (زمین پر) چھوڑ دیا۔ ( صحیح بخاری:3617)

گستاخ رسول سے کوئی دوستی نہیں:

اہل ایمان کو اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ وہ گستاخ رسول اور گستاخ دین کے مرتکب سے ہر گز دوستی نہ رکھیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ ۖ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ أُولَٰئِكَ حِزْبُ اللَّهِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾

’’ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہر گز نہ پائیں گے گووہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ ( قبیلے ) کے عزیز ہی کیوں نہ ہوں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے کی ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے ، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں ، یہ خدائی لشکر ہے آگاہ رہو، بے شک اللہ کے گروہ والے ہی کامیاب لوگ ہیں۔‘‘ (سورۃ المجادلہ: 22)

اللہ تعالیٰ تمام اہل ایمان کو ناموس رسالت کے تحفظ کا پاسدار بنائے اور رسول اکرمﷺ کی سیرت مبارکہ کو تمام انسانیت تک پھیلانے اور پہنچانے اور تمام مسلمانوں کو احیائے سنت کی توفیق و سعادت عطا فرمائے۔ آمین

٭٭٭

مؤمن اور منافق کی مثال

نبیﷺ نے فرمایا:

“مومن کی مثال پودے کی سب سے پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے؛ کہ ہوا اُسے کبھی جھکا دیتی ہے، اور کبھی برابر کر دیتی ہے۔

اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے؛ کہ وہ سیدھا ہی کھڑا رہتا ہے، اور آخر ایک جھوکے میں کبھی اُکھڑ ہی جاتا ہے!۔‘‘ (صحيح بخاری : 5643)

٭٭٭

ایک غلطی جس کی اصلاح ضروری ہے

شيخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’یہ ایک واضح بات ہے کہ اگر ہم کسی مسلمان کو پاتے ہیں کہ وہ شراب پیتا ہے، سگریٹ پیتا ہے یا اپنا کپڑا ٹخنے سے نیچے بطور تکبر لٹکاتا ہے تو ہم اس سے اس طرح نفرت نہیں کریں گے جس طریقے سے ہمیں کافر سے نفرت ہوتی ہے۔

چنانچہ اگر کوئی شخص اس سے کافر جیسی نفرت کرتا ہے تو اس کا یہ عمل حقیقت اور فطرت کے برخلاف ہے۔

ایک کافر اور ایک نافرمان مومن دونوں کو آپ کیسے برابر قرار دے سکتے ہیں؟ درحقیقت یہ بہت بڑی غلطی ہے۔

بسا اوقات کچھ لوگ ایسے شخص سے کافر سے زیادہ نفرت کرتے ہیں۔

نعوذ باللہ یہ حقیقت و فطرت سے انحراف ہے۔ مومن خواہ کیسا بھی ہو وہ کافر سے بہرحال بہتر ہوتا ہے۔(شرح رياض الصالحين )

٭٭٭

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’جب تم دیکھو کہ کوئی شخص کسی صحابی کی برائی کر رہا ہے تو سمجھ لو اس کا اسلام مشکوک ہے۔‘‘

(البدایہ والنہایہ)

تبصرہ کریں