
بسم الله الرحمن الرحیم
تقریظ
الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيد المرسلين محمد وعلى آله وصحبه أجمعين أما بعد.
اہل ذوق نے سیرت رسول ﷺ کے حوالہ سے متنوع کوششیں کیں اور مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی، ہر لکھاری کا اپنا انداز اور اپنا اسلوب ہے، اسلامی کتب خانہ میں اس عنوان پر متعدد زبانوں میں وافر ذخیرہ موجود ہے، لیکن اس کے باوجود تشنگی ہنوز باقی رہتی ہے کہ یہ عنوان ہی اتنا محبوب ہے، طبیعت سیر نہیں ہوتی اور معلومات ختم نہیں ہوتیں۔
رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہماری کامیابی کی بنیاد ہے ، آپﷺ کی فرمانبرداری کے بغیر آخرت میں نجات کا تصور نہیں ، بلکہ کسی بھی شخص کے لئے حب الٰہی کا بھی یہی مظہر ہے :
﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ (سورۃ آل عمران: 31)
’’کہہ دیجئے اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔‘‘
فرمان رسالت ﷺ ہے:
«لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.» (صحیح بخاری: 15)
’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایمان دار نہیں ہو سکتا جب تک کہ مجھے اپنے والدین ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ رکھے ۔‘‘
سچے مؤمن کی پہچان ہی یہ ہے کہ ہ فرمان نبوی ﷺ کے آگے سمع و طاعت کا پیکر بنار ہے ۔
﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا﴾ (سورۃ الاحزاب: 36)
’’کسی مؤمن مرد اور عورت کو کسی امر کا اختیار نہیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد ، جو بھی رسول اللہ ﷺکی نافرمانی کرے گا وہ کھلی گمراہی میں ہو گا۔‘‘
آپ ﷺکا حکم عدولی باعث خسران ہے :
﴿وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴾ (سورة النساء: 115)
’’ جو شخص بھی راہ ہدایت کے واضح ہو جانے کے باوجو د رسول اللہ ﷺ کے خلاف کرے اور مومنوں کی راہ چھوڑے ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے جدھر وہ متوجہ ہوا۔‘‘
اللہ تعالیٰ اپنے آخری نبی ﷺکی حیات طیبہ کے شب و روز کو ایسے محفوظ کیا، آپ کے سوا دنیا میں کوئی شخص چاہے سیاسی، سماجی ، کاروباری، یا مذہبی کسی بھی شعبہ حیات سے تعلق رکھتا ہو، کوئی رہنما ایسا نہیں جس کی زندگی کا ریکار ڈ ایسے محفوظ ہو، آپ ﷺ سے پہلے اور نہ ہی آپ کے بعد کسی کے لیے یہ ممکن ہے، یہ انفرادی شان کی ایک وجہ یہ ہے کہ خود خالق ارض و سموات نے آپ کو بطور اسوہ خود ہی پیش فرمایا:
﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ (سورۃ الاحزاب: 21)
”یقینا تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور قیامت پر یقین رکھتا ہے۔‘‘
عموماً سیرت کے موضوع کو تاریخ کے ذخیرہ سے مرتب کیا گیا ، جہاں رطب و یابس کی بھر مار ہے اور دوسری طرف عوام کی سیرت کے ساتھ عقیدت کچھ ایسی ہے کہ اس عنوان سے جو کچھ واعظ یا مقالہ نگار نے پیش کیا، لوگوں نے اسے محبت سے قبول کر لیا۔ اس کی تحقیق اور جانچ کے بغیر ۔
اور بعض لوگوں نے سیرت اور فضائل کے باب میں اتنی وسعت پیدا کر دی کہ تحقیق و تنقیح کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی، اسی لیے سیرت اور تاریخ اسلام کو اصول حدیث کے معیار پر مرتب کرنے کا بڑا منصو بہ شہرہ آفاق یونیورسٹی الجامعۃ الاسلامیہ مدینہ منورہ میں شروع کیا گیا تھا ، اس کے روح رواں مشہور عراقی عالم شیخ ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری سربراہ شعبہ دراسیات علیا تھے۔
اس سلسلے میں کچھ کتا بیں بھی تیار ہوئیں، پھر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی العمری ڈین کلیۃ الحدیث نے کتاب مرتب کی۔’
سیرۃ المصطفی الصحیحہ علی منہج المحدثین‘ جو کہ گزشتہ نو سو سال میں پہلی اعلیٰ سطحی علمی کوشش تھی، اس کے علاوہ اور بھی مجموعے جیسے ’صحیح السیرۃ النبویہ‘ ڈاکٹر ابراہیم العلی وغیرہ شائع ہو کر قبول عام حاصل کر چکے ہیں۔
مدینہ یونیوسٹی میں سیرت کا ایک مستقل شعبہ قائم کیا گیا اور اس کے لیے مشاہیر اہل علم کی خدمات حاصل کی گئیں ۔ ہندوستان سے مشہور مصنف مولانا صفی الرحمن مبارکپوری مصنف الرحیق المختوم بھی ایک عرصے تک اس سے وابستہ رہے۔
احادیث کو جمع کرتے ہوئے محدثین نے قبول ورد کے جو اصول وضوابط اپنائے (جرح و تعدیل) تاریخ اسلام کو مرتب کرتے ہوئے مؤرخین نے اس پر عمل نہیں کیا، اس کی علمی تنقیح کی ضرورت ہے۔ دور حاضر میں سیرت وسنت کی طرف توجہ دینے کی شدید ضرورت ہے ۔
اس وقت مختلف قسم کے افکاروں، نظریات کو ترجیح دینے کا رواج ہوتا جا رہا ہے اور دین کے نام پر بھی اساسیات دین سے دوری اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں، بلکہ سنت اور سیرت سے اعراض اور تغافل برتا جا رہا ہے۔
عزیزم مولانا محمد عبد الرحیم خرم عمری جامعی سلمہ اللہ تعالیٰ کے سیرت نبوی ﷺ کے مضامین کا مجموعہ کتابی شکل میں زیور طباعت سے آراستہ ہو رہا ہے، یہ دراصل وہ مضامین ہیں جو مشہور اردو ’’روزنامہ منصف، حیدر آباد‘‘ کی زینت بنتے رہے اور ان کا اکثر حصہ برطانیہ سے نکلنے والے اردو ماہنامہ ”صراط مستقیم ، برمنگھم‘‘ میں شائع ہوکر حلقہ قارئین میں ان کی قابل قدر پذیرائی رہی ۔ ان مضامین میں معلومات کی صحت کا خیال رکھا گیا ہے، ورنہ سیرت وسوانح کے مضامین میں درست معلومات کا اہتمام کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔
دعا ہے کہ سیرت پر مشتمل مضامین کا یہ حسین گلدستہ افادۂ عام کا ذریعہ ثابت ہو اور مرتب و جملہ معاونین کے لئے باعث نجات۔
طالب دعا:محمد عبدالہادی العمری (رئیس مجلس القضاء الاسلامی، برمنگھم، انگلینڈ)
18؍ذ والحجہ، 1445ھ، 24 جون 2024ء، برمنگھم، انگلینڈ
٭٭٭
محبت ایک دائمی تعلق ہے
شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی فرماتے ہیں :
”محبت کا معیار نعرہ بازی نہیں اور نہ عشق کا تقاضا ریاکاری اور دکھلاوا ہے، محبت زمانی اور مکانی نہیں ہوتی، الفت دائمی تعلق کا نام ہے جو عاشق کے دل پر اور اس کی زندگی پر ہمیشہ غالب رہے۔
محبت رسول ﷺ کا نعرہ لگانا آسان ہے لیکن محبّ بننا مشکل، اگر محبّ بننا ہو تو صحابہ کرام، مہاجرین عظام، انصارِ مدینہ، شہدائے احد، مجاہدینِ بدر اور خصوصاً مکی زندگی میں اسلام قبول کرنے والے فرشتہ صفت لوگوں کی شیفتگی اور والہانہ عقیدت اور سراپا جانثاری سے سبق لینا ہو گا۔ محبت موسمی چیز نہیں کہ ربیع الاول میں تو سیلاب بن کر آئے اور باقی سارا سال آپ کو احساس تک نہ ہو کہ آپ کا کوئی رسول بھی ہے۔“(فتاویٰ سلفیہ : 21)
٭٭٭
شیخ صالح العصيمی﷾ فرماتے ہیں:
’’مسلمان سبھی دین دار ہوتے ہیں، علماء کی خصوصیت ان کا انبیاء کا وارث ہونا ہے۔ منافقین کی چالوں میں سے ہی کہ انہوں نے دین دار کا لفظ علماء کے ساتھ خاص کر دیا ہے تاکہ وہ عیسائیت سے سائنس اور مذہب کی جنگ اسلام میں درآمد کر سکیں اور لوگوں کو مولویت کے نام پر مذہب سے بدظن کریں۔ سو یہ دین دار اور دنیا دار کی تقسیم کرنے والے آپ کے دشمن ہیں، ان سے آگاہ رہیں۔“
اہل توحید کا مقام و مرتبہ
شيخ الإسلام محمد بن عبد الوهاب التميمی فرماتے ہیں :
“إذا أقبلت على الله ، فلا تخف و لاتحزن، إن كيد الشيطان كان ضعيفاً، والعامي من الموحدين يغلب ألفاً من علماء المشركين، كما قال تعالى وإن جندنا لهم الغالبون.”
“جب آپ اﷲ کی طرف متوجہ ہوں تو خوف نہ کھائیں اور نہ غمگین ہوں، یقیناً شیطان کی چال ہمیشہ سے ہی کمزور ہے، ایک عام موحد بندہ ہزاروں مشرک علماء پہ حاوی ہے، جیسا کہ ﷲ تعالیٰ نے فرمایا:
’’ ہمارا لشکر ہی غلبہ پانے والا ہے۔‘‘
(الدرر السنیۃ فی الأجوبۃ النجدیۃ: 1؍72)
٭٭٭
بانبری کے حاجی محمد افسر خان کا سانحۂ ارتحال
بانبری کی بزرگ شخصیت حاجی محمد افسر پاکستان سے سعودی ایرلائن کے ذریعے جدہ ائیرپورٹ پہنچے ، پھر وہاں سے برمنگھم کے لیے جہاز میں بیٹھے، جدہ سے دو گھنٹے کا سفر طے کیے تھے کہ اچانک جہاز میں ان کی طبیعت بگڑ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے حاجی افسر چوہدری اللہ کو پیارے ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
برمنگھم سے ان کی میت کو بانبری لایا گیا اور ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ سارے اقارب و احباب نے مرحوم کی نماز جنازہ ادا کی اور بچوں سے اظہار تعزیت کیا۔
واضح ہو کہ بانبری کے حاجی محمد حبیب چوہدری کے یہ ہم زلف تھے اور 70 سال کی عمر پائی تھی۔
کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
آدمی بلبلا ہے پانی کا
٭٭٭
تبصرہ کریں