رسول اللہ ﷺکا پیغام نوجوانوں کے نام۔ محمدعبد الرحیم خرم عمری جامعی

عوام الناس میں یہ جملہ بہت ہی مشہور ہو گیا ہے کہ ”جوانی دیوانی ہوتی ہے ‘‘ ہر کس و ناکس نو جوانوں کی غلطیوں پر یہی جملہ کہتا نظر آتا ہے ، اسی لئے ہماری نوجوان نسل غلطیوں کا ارتکاب کرتی نظر آتی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ”جوانی دیوانی ‘‘ہوتی ہے، کسی کا فر ومشرک کے لئے یہ جملہ درست ہوسکتا ہے لیکن کسی بھی مسلمان کے لئے یہ جملہ انتہائی غلط اور باطل ہے ۔ دین اسلام نے جوانی کو خوبصورت اور اہمیت کی حامل بنایا ہے۔ کسی بھی مسلمان نوجوان کو بے راہ روی اختیار کرنے کا موقع اسلام نے فراہم نہیں کیا ہے ۔ بلکہ جوانی کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ چونکہ نو جوان کسی بھی سماج و معاشرہ ، ملک و وطن خاندان و قبیلہ ونسل اور والدین واعزاء اقرباء کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اگر وہ سدھر کر ر ہیں تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہے گا اگر وہ بگڑ جائیں گے تو سب کچھ بگڑ جائےگا ، نوجوانوں کی اہمیت کو علامہ اقبال ﷫ نے یوں بیان کیا ہے کہ

اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی

ہو جس کے جوانوں میں خودی سیرت فولاد

اور ایک شاعر نے کہا تھا:

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پر جو ڈالتے ہیں کمند

رسول اللهﷺ کا عہد شباب

مناسب ہے کہ نوجوانوں کو پہلے رسول اللہ ﷺ کی جوانی و عہد شباب کے وہ واقعات بتائے جائیں جو ان کے لئے مشعل راہ ثابت ہو سکتے ہیں ، نوجوانو! تم بھی ایک نوجوان ہو اور ہمارے نبی ﷺبھی ایک نو جوان رہے، اپنی زندگیوں کو نبی ﷺ کے طرز پر گزارو تو دنیا میں بھی عزت ملے گی اور آخرت میں بھی فلاح ملے گی۔ رسول اللہ ﷺ کا عہد شباب ہمارے لئے مثالی نمونہ ہے، بعض واقعات کا تذکرہ مناسب ہوگا۔ اصحاب سیر نے آپ کے اوصاف حمیدہ کو یوں بیان فرمایا:

” فكان لا يشرب الخمر، ولا يأكل مماذبح على النصب، ولا يحضر للأوثان عيدا ولا احتفالا، بل كان من أول نشأته نافرامن هذه المعبودات الباطلة، حتى لم يكن شئ أبغض إليه منها، وحتى كان لا يصبر على سماع الحلف باللات والعزى .”

اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی زندگی میں کبھی بھی شراب کومنہ نہ لگایا، آستانوں کا ذبیحہ نہ کھایا، اور بتوں کے لئے منائے جانے والے تہوار اور میلوں ٹھیلوں میں کبھی شرکت نہ کی آپ کو شروع ( بچپن ) سے ان باطل معبودوں سے اتنی نفرت تھی کہ ان سے بڑھ کر آپ کی نظروں میں کوئی چیزمبغوض نہ تھی، حتی کہ لات و عزیٰ کی قسم سننا بھی آپ کو گوارہ نہ تھا۔ (ابن ہشام ، الرحیق المختوم : ص 114)

لیکن آج کا مسلم نوجوان جو منشیات ، شراب، چرس ، گانجہ، گھٹکے، زردے کا عادی ہو چکا ہے، غیر اللہ اور غیر اقوام کی عیدوں اور تہواروں کا دلدادہ بن چکا ہے، اس کے نزدیک حلال و حرام کی کوئی تمیز نہ رہی۔ نو جوانوں کو چاہئے کہ بری عادتوں سے باز آ کر اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے حقیقی امتی ہیں ۔

عہد شباب میں رسول اللہ ﷺشہر مکہ کے عظیم خدمت گزاروں میں شمار کئے جاتے تھے، ہمیشہ اہل مکہ کے غرباء وفقراء، مساکین ، ضرور ت مندوں ، حاجت مندوں، مسافروں کی فکر کیا کرتے تھے اور لوگ آپ ﷺ کے پاس اپنے مسائل لے کر حاضر ہوتے اور آپ ان کے ہمہ قسم کے مسائل حل فرماتے، جس کی صداقت ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری کی اس شہادت سے ہوتا ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کو دلاسہ دیتے ہوئے فرماتی ہیں کہ

انكَ لَتَصِلُ الرَّحْمَ وَتَصْدُقُ الحَدِيث وَتَحْمِلُ الكَلَّ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ

’’آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، آپ در مندوں کا بوجھ اٹھاتے تھے، مہمان کی میزبانی کرتے تھے ، اور مصائب حق میں اعانت فرماتے تھے۔ ‘‘

ایک اور روایت میں ہے:

” وَتَكْسِبُ المَعْدُوم .”

’’کنگالوں کے لئے کماتے ہیں۔‘‘ (مسند احمد 10488؛ مسلم :403 ؛الرحیق المختوم : ص 97)

رسول اللهﷺ کا جذبہ خدمت خلق

عنفوان شباب میں رسول اللہ ﷺ کے جذبہ خدمت خلق کا اظہار اس جدو جہد سے ہوتا ہے کہ اہل مکہ نے ایک انجمن بنائی جس کا نام ”حلف الفضول‘‘ تھا، جو ماہ ذی القعدہ میں زبیر بن عبد المطلب کی جدو جہد اور تحریک پر قائم کی گئی ، مکہ کے عظیم قبائل سے تعلق رکھنے والے سرداران عبد اللہ بن جدعان تیمی کے گھر پر جمع ہوئے جو کہ امن و شرف میں ممتاز تھے اور آپس میں عہد و پیمان کئے، اس معاہدے کی بڑی دفعات مندرجہ ذیل ہیں :

(1) ہم ملک ے بدامنی کا قلع قمع کریں گے۔

(2) ہم مسافروں کی حفاظت کریں گے۔

(3) ہم غریبوں کی امداد کریں گے۔

(4) ہم طاقتوروں کو کمزوروں کا استحصال کرنے سے روکیں گے ۔

رسول اللہ ﷺ نے ”حلف الفضول“ میں شمولیت فرمائی اس وقت آپ کی عمر 20 سال کی تھی۔ اس معاہدہ کی اہمیت کے متعلق خود آپﷺ نے فرمایا:

« ما أحب أن لى به حمر النعم »

”اس معاہدہ کے مقابلے میں اگر مجھے سرخ اونٹ بھی دئیے جاتے تو میں نہ بدلتا ۔‘‘ اس انجمن کے قیام کا سبب قبیلہ زبیدہ سے تعلق رکھنے والے ایک مظلوم شخص کا حادثہ ہے، جو جبل ابی قیس پر چڑھ کر فریاد رسی کر رہا تھا، جس کی فریا درسی سننے والا کوئی نہ تھا، اس کی مظلومیت کو دیکھ کر زبیر بن عبد المطلب نے تحریک چلائی۔ (نقوش سیرت : ص: 25؛ مؤلف : اسلم شاد عمری،الرحيق المختوم :68)

رسول اللهﷺ كا مثالى عہد شباب

انسانوں کو متاثر کرنے والی چیز اخلاق و عادات ، وصداقت ہوتی ہے، اس لئے رسول اللہ ﷺ صادق امین کے نام سے ملقب کئے گئے، اہل مکہ اسی نام و لقب سے آپ کو پکارا کرتے اور اپنی امانتیں لا کر آپ کے پاس محفوظ کیا کرتے ، اپنے مقدمات میں آپ کو فیصل بنایا کرتے تھے ، ایک وقت کی بات ہے کہ کہ قریش نے کسی سبب سے خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر کا عزم کیا تو اعلان کیا کہ تعمیر کعبہ میں صرف حلال رقم ہی استعمال کی جائے، تعمیر کا آغاز ہوا ہر قبیلے نے اپنی اپنی ذمہ داری بخوشی نبھائی کعبۃ اللہ کی تعمیر اختتام کو پہنچی اور حجر اسود کی تنصیب کی باری آئی تو ہر قبیلہ یہی چاہتا تھا کہ یہ شرف اسے حاصل ہو یہ جھگڑا چار پانچ دن تک چلتا رہا، یہاں تک کہ خون خرابے کی نوبت آئی لیکن ابو امیہ مخزومی نامی ایک شخص نے اس اختلاف وجھگڑے کے حل کی یہ تدبیر نکالی کہ ’’مسجد حرام کے دروازے پر جو شخص پہلے داخل ہوگا اسے اپنے جھگڑے کا حکم مان لیا جائے‘‘ لوگوں نے یہ تجویز منظور کر لی ، اللہ کی مشیت کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سب سے پہلے تشریف لائے لوگوں نے آپ کو دیکھا تو چیخ اٹھے کہ

“هَذَا الْاَمِيْنُ رَضَيْنَاهُ ، هَذَا مُحَمَّدٌ .”

’’یہ امین ہیں ، ہم ان سے راضی ہیں یہ محمد ہیں۔‘‘ پھر جب آپ ان کے قریب پہنچے لوگوں نے سارا واقعہ سنایا تو آپ نے ایک چادر منگوائی اور اسے بچھانے کا حکم دیا اور اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر حجر اسود چادر میں رکھا اور تمام قبائل کے سرداران سے کہا کہ اس کے کنارے پکڑیں، مقام تنصیب تک لے جائیں، جب یہ پتھر اپنے مقام تک لے جایا گیا تو آپ نے حجر اسود کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر اس مقام پر نصب کر دیا اور سارا اختلاف ، جنگ و جدال ختم ہو گیا ۔ اس وقت آپ کی 35 برس کی تھی۔ (الرحیق المختوم (نسخہ عربی ) : 71)

اسی طرح کا ایک اور واقعہ اصحاب سیر نے یوں ذکر کیا ہے کہ ’’ کسی شخص سے ابو جہل جو قوم کا سردار تھا، اونٹ کا سودا کیا اور اس کی رقم لوٹانے میں ٹال مٹول کر رہا تھا ، کافی عرصہ بیت چکا اور ابو جہل رقم ادا کرنے سے گریز کرتارہا، وہ بیچارہ تنگ آ گیا اور عاجز ہو گیا، ایک دن تمام سردار حرم مکہ میں جمع تھے یہ مجبور آدمی اپنے سردار کی شکایت لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا،سرداروں نے اس مجبور کو ڈانٹا اور اس کا استحصال کیا کہ سردار کے متعلق اتنی بری بات کہہ رہا ہے۔ آدمی مجبور ہوا، کبیدہ خاطر ہوا۔ اسی وقت اس کی نظر مسجد حرام کے ایک کونے پر پڑی جہاں آفتاب عالم رسول اللہ ﷺ جلوہ افروز تھے وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا مدعا عرض کیا ، رسول اللہﷺ نے اس کی بات مکمل طور پر سنی اور اسے تسلی دی اور اپنے ساتھ لے کر ابو جہل کے گھر پہنچے، دروازہ پر دستک دی ، ابو جہل نے دروازہ کھولا ، کیا دیکھتا ہے کہ محمد ﷺ اس کے دروازے پر کھڑے ہیں، بے ساختہ اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ ’’محمد تم !!! اندر آ جاؤ ۔‘‘

رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ”باتیں سب بعد میں ، پہلے اس آدمی کا مسئلہ حل کرو۔ فورا ابو جہل رقم لے آیا اور اس آدمی کے حوالے کر دیا ۔‘‘ ( رحمت عالم )

یہ چند مثالیں رسول اکرم ﷺ کے عہد شباب کی ہیں۔ امت مسلمہ کے نو جوانوں کو اس کا آئینہ دار ہونا چاہئے چونکہ آپ ﷺ کو انسانیت کے لئے اسوہ حسنہ بنایا گیا ہے۔ جب ہمارے نوجوان اپنےآپ کو اپنے نبی کے طریقے پر ڈھال لیں گے تو وہ دنیا والوں کے لئے مثال بن جائیں گے۔

نوجوانوں کی نبوی تربیت

رسول اللہ ﷺ نے جس طرح نوجوانوں کی تربیت کی ہے، اس کی چند مثالیں اور واقعات احادیث میں بیان کئے گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے نو جوانوں کو اس بات کی تعلیم وتربیت کی وہ رات مساجد میں گزاریں ، جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر بیان فرماتے ہیں کہ

«كان ينام وهو شاب أعزب لا أهل له فى مسجد النبي ﷺ»

’’وہ اپنی جوانی کے دنوں میں جبکہ ان کی بیوی بچے نہیں تھے نبی کریم ﷺ کی مسجدمیں سویا کرتے تھے۔‘‘ (صحیح بخاری:440)

اس واقعہ سے نو جوانوں کو اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ وہ مساجد سے وابستہ رہیں ، اگر نو جوان مساجد میں سوجائیں گے تو مساجد کا تحفظ ہوگا، نو جوانوں میں تقویٰ پیدا ہوگا، تہجد کا اہتمام ہوگا ، دین سیکھنے کا شوق پیدا ہوگا ، ہر قسم کی فروعات فحش و منکرات سے دور رہیں گے۔ اس بات کو عملی طور پر حضرت ابو بکر صدیق نے اپنے دور خلافت میں اختیار کیا تھا، کیونکہ مدینہ کو ہر طرف سے خطرات لاحق ہو چکے تھے، آبادی کے تحفظ کے لئے آپ نے قانون مدون کیا کہ نو جوان مساجد میں آرام کریں ۔ نوجوان صحابہ کرام اس حکم کے بعد مساجد میں آرام کرنے لگے لیکن ہمارے نوجوان مسجد سے دور بھاگ رہے ہیں ، اسی لئے ان میں تقویٰ اور علم کا فقدان ہے اور وہ ہوٹل، چائے خانے اور پارکوں کو آباد کئے ہوئے ہیں۔ اس لئے ہماری بعض آبادیوں میں مساجد کے حادثات رونما ہوتے ہیں، کہیں مساجد کی جائے نمازوں اور کتابوں کو اور کہیں مساجد کے باب الداخلہ کو آگ لگادی جاتی ہے، اور کہیں مساجد میں گندگی اور خنزیر کاٹ کر پھینکنے اور کہیں مساجد کے امام و مؤذن پر قاتلانہ حملے جیسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ اسی لئے ہمارے نو جوانوں کو مساجد میں قیام کرنے اور صحابہ کی طرح مساجد کے تحفظ کی فکر کرنی چاہئے ۔ مساجد کی ویرانی کا سبب نوجوان نسل کی مساجد سے غفلت بھی ہے۔ ہم اپنی اولادکو مساجد سے وابستہ کریں۔ تاکہ ان میں غیرت و شعور بیدار ہو۔

نوجوانی کی اہمیت

نو جوانوں کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ اللہ کی نظر میں ان کی بہت بڑی فضیلت و اہمیت ہے جس کا انداز اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«سَبْعَةٌ يُضِلُّهُمُ اللهُ يَوْمَ القِيَامَةِ فِي ظِلِّه، يَوْمَ لَأَظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ وَشَابٌ نَشَأ فِي عِبَادَةِ اللهِ»

’’سات طرح کے آدمی ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے (عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ( یعنی قیامت والے دن ) ( ان خوش نصیبوں میں ۔۔۔ ۔ ایک وہ نوجوان بھی ہوگا جو رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا۔‘‘ ( صحیح بخاری: 660، 1423، 6806)

یہاں ہم نے حدیث کا اتنا ہی فقرہ بیان کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت والے دن کے خوش نصیبوں میں ایسا نو جوان بھی ہوگا جس پر اللہ کا رحم و کرم نازل ہوگا ۔ لیکن افسوس امت کے نوجوانوں پر جنہوں نے اللہ کی عبادتوں سے انحراف و روگردانی کر کے سڑکوں ، ہوٹلوں اور مجلسوں ، میکدوں کو سجائے رکھا ہے۔

جوانی کی عبادت

نوجوانوں کی عبادات اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور ایسے ہی نوجوانوں کی تعریف رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے، نوجوانوں کی اصلاح کے لئے یہ واقعہ مفید ثابت ہو گا، حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی میں جب کوئی خواب دیکھتا اور آپ سے بیان کرتا ( آپ اس کی تعبیر دیتے ) میرے بھی دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی، ابھی میں نوجوان تھا اور آپ کے زمانے میں مسجد میں سوتا تھا، چنانچہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے، میں نے دیکھا کہ دوزخ پر کنویں کی طرح بندش ہے ( یعنی اس پر کنویں کی سی مینڈ دونوں جانب بنی ہوئی ہے ) دوزخ میں میں نے ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھا جنہیں میں پہچانتا تھا، میں کہنے لگا : ’’دوزخ سے اللہ کی پناہ ۔‘‘ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم کو ایک فرشتہ ملا اور اس نے مجھ سے کہا: ’’ڈرو نہیں ! ‘‘ یہ خواب میں نے اپنی بہن ( ام المؤمنین حضرت) حفصہ کوسنایا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سنایا، تعبیر میں آپﷺ نے فرمایا:

«نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ الله لَوْ كَانَ يُصَلِّى مِنَ اللَّيْلِ فَكَانَ بَعْدُ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ »

’’عبد اللہ بہت خوب لڑکا ہے ، کاش رات میں نماز پڑھتا۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ اس فرمان کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عمر رات کو بہت کم سوتے۔‘‘ (صحیح بخاری: 7030،1121)

اس حدیث میں نو جوانوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ رات کو عبادت کریں ، رات کی عبادت انہیں جہنم سے بچائے گی ، رسول اللہ ﷺکی تلقین کے بعد حضرت عبد اللہ بن ع رضائے الٰہی اور جہنم سے بچنے کے لیے رات کا سونا کم کر دیا اور عبادات میں مصروف ہوئے۔ یہی وہ عمل ہے جو نوجوانوں کو باہمت وباحوصلہ اور پاکدامن بناتا ہے۔ اے کاش کہ مسلم نوجوان اس بات کو جان لیتے۔

نوجوانوں کی ذمہ داری

اسی طرح گھروں اور معاشرے کی اصلاح اور اقامت دین اور اقامۃ الصلوٰۃ کی ذمہ داری نوجوانوں کے کندھوں پر ڈالی گئی، جیسا کہ حدیث شریف میں ایک واقعہ مذکور ہے ۔ حضرت مالک بن حویرث بیان فرماتے ہیں کہ ہم سب ہم عمر اور نوجوان ہی تھے، آپﷺ کی خدمت مبارکہ میں بیس دن و رات قیام رہا، آپ بڑے ہی رحمدل اور ملنسار تھے، جب آپ نے دیکھا کہ ہمیں اپنے وطن جانے کا شوق ہے تو آپﷺ نے پوچھا کہ ’’ تم لوگ اپنے گہر کسے چھوڑ کے آئے ہو؟ ہم نے بتایا۔ پھر آپﷺ نے فرمایا:

«ارْجِعُوْا إِلَى أَهْلِيْكُمْ ، فَأَقِيمُوْا فِيْهِمْ، وَعَلَمُوهُمْ وَمُرُوْهُمْ »

’’اچھا اب تم اپنے گھر جاؤ اور گھر والوں کے ساتھ رہو ، اور انہیں بھی دین سکھاؤ اور دین کی باتوں پر عمل کرنے کا حکم دو۔ ‘‘ پھر فرمایا :

«وَصَلُّوْا كَمَارَأَيْتُمُونِي مُصَلَّى ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلوةُ فَلْيُؤَذِّنُ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَتُمُكُمْ أكبركم»

’’اسی طرح تم نماز پڑھنا جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور جب نماز کا وقت آ جائے تو کوئی ایک شخص اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔‘‘ ( صحیح بخاری: 631، 685، 6008)

نو جوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اس حدیث کا مصداق بنائیں انہیں چاہئے کہ وہ مساجد میں رہیں ، علم سیکھیں ، امامت سیکھیں ، اذان دینا سیکھیں اور اپنی بیوی بچوں کو دین کی تعلیم و تربیت دیں تو گھر سدھرے گا ، مکانوں میں دینداری باقی رہے گی، محلوں میں امن و امان باقی رہے گا۔ یہ تعلیم و تربیت دی رسول اللہ ﷺ نے امت کے نو جوانوں کو ، لیکن افسوس صد افسوس آج کا مسلم نوجوان ان تعلیمات سے نابلد ہو چکا ہے اس لئے جہالت اس کا مقدر بنی ہوئی ہے۔

یوں تو نو جوانوں کی تعلیم و تربیت سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی بہت سی احادیث موجود ہیں، جس کا پڑھنا نو جوانوں کے لئے ضروری ہے اور جس سے واقف کروانا اہل علم ، اہل قلم ، علماء، خطباء، مدرسین ومشائخین کی ذمہ داری ہے۔

تاريخ اسلام کے انقلابی نوجوان

ملت اسلامیہ کے عروج میں نو جوانوں نے سب سے عظیم کردار ادا کیا ہے اس کا سرسری جائزہ ضروری ہے۔ رسول اللہﷺ کا آخری لشکر جہاد جسے بذات خود آپ ﷺ نے ترتیب دیا تھا جس میں کبار صحابہ شامل تھے، ابوبکر و عمر ، عثمان و علی کے علاوہ بقیہ عشرہ مبشرہ اور دیگر جلیل القدر صحابہ شامل تھے لیکن اس کی کمان ایک سترہ سالہ نواجوان حضرت اسامہ بن زید کے ہاتھ میں دی تھی، حیات النبی ﷺ میں کسی کو اس پر تردد نہ ہوا بلکہ تمام صحابہ حضرت اسامہ بن زید کی قیامت میں نکلنے کو مستعد رہے۔

اسی طرح جنگ بدر میں ابو جہل جیسے عظیم دشمن اسلام کا خاتمہ دو نو خیز جوانوں معاذ ومعوذ نے انجام دیا، اسی طرح بدر میں شامل ہونے کے لئے نوجوانوں نے اپنی اپنی مقابلہ آرائی کی انگوٹھوں کے بل کھڑے ہو کر اور اپنی صلاحیت کے جواہر دکھاتے ہوئے نو خیز نو جوان صحابہ لشکر کا حصہ بنے جن میں ایک عمیر بن ابی وقاص بھی تھے۔

اسی طرح ایک مسلمان خاتون ہند کی صدائے آبروسن کر اٹھارہ سالہ نوجوان محمد بن قاسم سندھ پر حملہ آور ہوئے ، سلطنت رومانیہ میں ایک مسلم خاتون کی آبرورریزی کے خلاف ایک نوجوان معتصم باللہ نے سلطنت رومانیہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ یہ تاریخ ساز کارنامے ہیں جسے نو جوانوں نے انجام دیا۔لیکن کیا ہوا ہمارے نو جوان کو جس کی زندگی چبوترے سجانے میں نکل رہی ہے، شب کی تاریکیوں کی بیداری ، راتوں کی میکشی ، سگار نوشی، حقہ بازی ، گاڑیوں کی ریس اور فضول کاموں میں بیت رہی ہے اسے اس بات کا احساس تک نہیں کہ امت مسلمہ ہند کیا کھو رہی ہے؟ اور کیا پا رہی ہے؟ اور وہ کس درجے خطرے میں ہیں؟ اسے مستقبل کے تاریک حالات کی نہ فکر ہے ،نہ شعور نہ پر واہ ، اسی لئے تو ملت اسلامیہ ہند رو بہ زوال ہے۔ ہمارے نو جوان چند سیاسی بازیگروں اور جذباتی پیشواؤں کے ہاتھوں بازیچہ اطفال بنے ہوئے ہیں۔

روز قیامت جوانی سے متعلق سوال

نوجوانوں کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جن چار باتوں کے متعلق سوالات کرے گا ان میں سے ایک سوال جوانی کے متعلق بھی ہو گا ، حضرت عبد اللہ بن مسعود بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ

’’نہ ہٹیں گے ابن آدم کے دونوں قدم قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے یہاں تک کہ چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کئے جائیں:

وَعَنْ عُمرِهِ فِيمَ أَفْنَاهُ، وَعَنْ شَبَابِهِ فِيْمَا أَبْلَاهُ ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيْمَ نَفَقَهُ ، وَعَنْ عَمَلِهِ مَاذَا عَمِلَ فِيْهِ

’’ عمر کے بارے میں کہ عمر کہاں صرف کی ، جوانی کے متعلق سوال ہوگا کہ کیسے گزاری، مال و دولت کے بارے میں کہ کیسے کمایا اور کہاں خرچ کیا، علم کے بارے میں کہ سیکھا تھا کتنا عمل کیا۔‘‘ (جامع ترمذی:2417)

اسی طرح نو جوانوں کو تعلیم و تربیت دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«اِغْتَيم خَمْساً قَبْلَ خَمْسٍ شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ ، وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقرِكَ ،وفراغك قبل شغلك وحياتك قبل موتك»

’’ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانوں، جوانی کو پڑھاپے سے پہلے ، صحت و تندرستی کو بیماری سے پہلے، تو نگری و بے نیازی کو فقر وفاقہ کشی سے پہلے، فرصت کو مصروفیت سے پہلے، زندگی کو موت سے پہلے ۔‘‘ (مستدرک حاکم : 7846)

قوم کی تباہی نوجوانوں کے ہاتھوں

ملت اسلامیہ کی ترقی و عروج سے میں جہاں نوجوانوں کا کردار سب سے اہم ہے، قوم وملت کی تباہی و تاراجی میں بھی نو جوانوں ہی کا عمل داخل رہا ہے، حضرت ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکو میں نے فرماتے ہوئے سنا کر

« هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ»

’’ میری امت کی بر بادی قریش کے چند نو جوانوں کے ہاتھوں پر ہوگی، مردان نے پوچھا: نوجوان لڑکوں کے ہاتھوں پر ؟ اس پر ابو ہریرہ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں نہیں ان کے نام بھی بتا دوں کہ بنی فلاں اور بنی فلاں رہیں گے۔‘‘ (صحیح بخاری :3605)

اسی طرح حضرت علی بن ابی طالب بیان فرماتے ہیں کہ میں نے سول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

«يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

’’ آخری زمانے میں نو جوانوں اورکم عقلوں کی ایک قوم پیدا ہوگی ، یہ لوگ ایسا بہترین کلام پڑھیں گے جو بہتر خلق (پیغمبر) کا ہے، ایسا کلام پڑھیں گے جو سمارے خلق کے کلاموں سے افضل ہے لیکن وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کر کے نکل جاتا ہے ، ان کا ایمان ان کے حلق سےنہیں اترے گا تم انہیں جہاں بھی پا قتل کردو، کیونکہ ان کاقتل قیامت میں اس شخص کےلئے باعث اجر ہوگا جو انہیں قتل کر دے۔“ (صحیح بخاری:5057)

ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کوشعور میں آنا ہوگا اوراپنے نبی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر صالح سماج کی تشکیل دینا ہو گا۔ جب تک نو جوان بیدار نہیں ہوں گے ملت اسلامیہ کی کشتی ترقی و عروج کا کنارہ نہیں پکڑ سکتی۔ اللہ تعالی ہماری نو جوان نسل کی اصلاح فرمائے ، انہیں شعور عطا فرمائے ، نبی ﷺ کی تعلیمات کی جانب لوٹنے کی تو فیق عطافرمائے ۔(آمین)

٭٭٭

شبِ قدر

شاد وخرم نہ ہوں کیوں اہل زمیں آج کی رات

ہے جو مائل بہ کرم عرشِ نشیں آج کی رات

حاملِ دین بنے سرورِ دیں آج کی رات

جن پہ نازل ہوا قرآنِ مبیں آج کی رات

آج کی رات پہ قربان ہزاروں راتیں

صرف اک رات بس اک رات نہیں آج کی رات

بزمِ دنیا میں فرشتوں کی جماعت لے کر

رونق افروز ہیں جبریلؑ امیں آج کی رات

لیلۃ القدر ملی ہے تو غنیمت سمجھو

کیا ہر انسان کو ملتی ہے کہیں آج کی رات

مری شبہہ رگ سے ہے نزدیک مگر اے مولا

آمرے اور قریں اور قریں آج کی رات

پوچھتے کیا ہو شب قدر کی قدر وقیمت

آسماں بن گئی یہ سطح زمیں آج کی رات

خیر وبرکت بھی ہے انوار کی بارش بھی ہے

کتنی پُرکیف ہے اور کتنی حسیں آج کی رات

آج کی رات شب قدر جو کہلاتی ہے

ہر خذف ریزہ ہے ایک درّثمیں آج کی رات

روح کو ملتی ہے بالیدگئ فکر ونظر

تازہ ہو جاتا ہے ایمان ویقیں آج کی رات

بھر گیا گوہرِ مقصود سے دامانِ طلب

شادماں ہو گیا ہر قلب حزیں آج کی رات

آج کی رات ہر اک ذرّہ ہے جو سر بہ سجود

خود بخود جھک گئی میری بھی جبیں آج کی رات

چاند سورج کو ضیاء بخشی ہے جس نے حماد

خانۂ دل میں مکیں ہے وہ حسیں آج کی رات

مولانا ابو البیان حماد عمری

٭٭٭

ڈڈلی کے ظفر اقبال جنجوعہ کے جوان بیٹے کا اچانک انتقال

گھر میں قیامتِ صغریٰ بپا، ڈڈلی میں ایک کہرام مچ گیا۔

ڈڈلی کے مخلص اور نمازی شخصیت حاجی ظفر اقبال جنجوعہ کے جواں فرزند شہزاد ظفر بعمر 43 سال اچانک حرکت قلب رکنے کی وجہ سے وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

مرحوم نوجوان نے شادی نہیں کی مگر اپنی ساری زندگی قوم وملت کی ترقی اور بہبود کے لیے صرف کر دی۔ مختلف غریب ممالک میں جا کر وہاں مدرسے بنائے، مساجد کے انتظام وانصرام کو مضبوط کرنا، غریبوں کی مدد کرنا، ان کا وطیرہ بن گیا تھا۔ وہ اسی کام اور دھن میں مگن رہے۔ یہاں تک کہ ان کا وقت موعود آ گیا۔ جنازے میں شریک ہر پیر وجواں اور مردو خواتین کی زبان پر اسی نوجوان کی تعریف تھی۔ ہمیشہ ہنسنا اور مسکرانا ان کا شیوہ تھا۔ کوئی کتنا بھی غصہ کرے مگر یہ اللہ کا بندہ ان کے جواب میں مسکراتا تھا۔ بہت ہی نیک صالح نوجوان تھے، انتقال کے بعد بھی چہرہ پر مسکراہٹ تھی۔ بقول علامہ اقبال:

نشان مرد مؤمن با تو گویم

چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست

اس فارسی شعر کا ڈاکٹر ثاقب نے اس طرح ترجمہ کیا ہے:

سکرات کے عالم میں مؤمن کا ہے یہ عالم

دل میں بھی مسرت ہے، رخ پر بھی بحالی ہے

مرحوم نے پسماندگان میں والد، ایک بڑے بھائی، چار بہنیں اور بہت بڑی برادری غمگسار چھوڑی ہے۔

نماز جنازہ جامع مسجد ڈڈلی میں ادا کی گئی، جس میں پورے برطانیہ سے اقرباء و احباب اور دوست و علماء ومشائخ شریک ہوئے تھے۔ جنازہ سے قبل مولانا محمد عبد الہادی العمری اور ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے ’موت‘ پر خطاب کیا۔ الشیخ محمد عارف المکاوی نے نماز جمعہ پڑھائی اور اور مرحوم کے بڑے بھائی حافظ محمد اکرام جنجوعہ نے چھوٹے بھائی کی نماز جنازہ پڑھائی۔ جناب ایاز احمد جنجوعہ اور دیگر برادرز نے کہا کہ ڈڈلی مسجد میں اتنا بڑا جنازہ اب تک نہیں ہوا ہے۔ اللہ نے اتنے لوگوں کو بھیج دیا کہ جس پر بعت تعجب ہے۔ راجا محمد ندیم، حاجی محمد اکرم جنجوعہ، ڈاکٹر راجا منیر، حاجی اللہ دتہ جنجوعہ، حاجی محمد یوسف، حاجی محمد یونس (شاپ والے) جناب محم افراہیم راجا، جناب محمد عمر، ڈاکٹر احسان عمر، جناب اعجاز عمر، محمد سعید، مولانا حبیب اللہ اثری، حاجی غلام ربانی، حاجی بدر الدین جنجوعہ، جناب عابد محمود جنجوعہ، جناب آصف زرگر جنجوعہ، جناب ساجد جنجوعہ، جناب نصیر الاسلام جنجوعہ، جناب یوسف اسلام، جناب محمد یونس جنجوعہ، حاجی جہانگیر، حاجی عبد الحمید، حاجی ذوالفقار قریشی، جناب عبد الرحمٰن قریشی، جناب عبد السلام حیدرآبادی، شیخ الفتاح آفریقیق، حافظ محمد عبد الرافع، برادر عبد الفتاح عبد الہادی، جناب راشد محمود جنجوعہ، برادر ہارون رشید جنجوعہ اور بہت بڑی خلقت موجود تھی۔ قبر پر شیخ عارف المکاوی اور ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے دعائے مغفرت کی اور اشکبار آنکھوں سے پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

صد سالہ بزرگ کی وفات پر اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا کہ کہیں ایک نوجوان وفات پا گیا۔

تبصرہ کریں