
تعمیر معاشرہ وگھر یلوسدھار میں جہاں خواتین کا کردار سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے وہیں آدمی کا کردار بھی سب سے زیادہ اہم ہے، ہمارے سماج میں گھر یلو بگاڑ کے لئے صرف خواتین کو موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے یہ سراسر ظلم و زیادتی ہے ، معاشرتی اور گھریلو زندگی میں آدمی کا سب سے بڑا کردار ہے اسی لئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آدمی کو عورتوں کا حاکم بنایا ہے:
﴿اَلرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ اَمْوَالِهِمْ﴾
’’ مرد عورت پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے مال خرچ کئے ہیں ۔‘‘ (سورۃ النساء: 34)
اس آیت کے معنی کو مردوں نے محدود کر لیا ہے اور عورتوں پر ظلم و زیادتی کرنے اور اپنی مرضی چلانے لگے، عورت کو اس طرح خوف زدہ کر دیا کہ وہ بجائے شوہر سے خوش رہنے کے ناراض رہنے لگی ، گھریلو زندگی میں محبت کی فضاء کے بجائے خوف و دہشت کی فضاء چھانے لگی، مردوں کو چاہئے کہ اپنے حاکم ہونے کے مفہوم کو صیح انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ مفہوم نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام ہی کی زندگی سے سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہمارے لئے نمونہ ہے اور صحابہ کی زندگی ہمارے لئے مثالی ہے کیونکہ آپ ﷺ کی زندگی میں 11 بیویاں تھیں کس طرح رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ حسن سلوک کیا ہوگا ؟ ، کس طرح رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ زندگی گزاری ہوگی؟ چند ارشادات بیان کئے جاتے ہیں جس کو اختیار کرنے سے ہمارے گھروں میں سکون وسلامتی باقی رہے گی اور اللہ کی برکت کا نزول بھی ہوگا۔
شوہر بیوی کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئے :
آدمی با خلاق و با کردار ضرور ہوتا ہے لیکن اس کے اچھے اخلاق کا مظاہرہ دوست و احباب اور رشتے داروں میں ہوتا ہے لیکن اپنی بیوی کے ساتھ اچھے اخلاق کا مظاہرہ نہیں کرتا، بلکہ گالی گلوچ ظلم و زیادتی سے پیش آتا ہے، وہ عورت کو نیچ اور لونڈی سمجھتا ہے، آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ نرمی اور اخلاق سے پیش آئے کیونکہ وہی آدمی سب سے اچھا ہو گا جس کے اخلاق و کردار کی گواہی بیوی دے ، کیونکہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا :
خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِاهْلِي
’’تم میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ سب سے بہتر ہو اور میں تم میں سب سے بہترین اسی لئے ہوں کہ اپنی بیویوں کے ساتھ میں سب سے بہتر رہتا ہوں۔‘‘ (جامع ترمذی : 3895)
اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
أَكْمَلُ المُؤْمِنِيْنَ إِيْمَانَا أَحْسَنُهُمْ خُلُقَا وَ خِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ خُلُقًا
’’مؤمنین میں سب سے زیادہ کامل ایمان والا وہ شخص ہے جو ان میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے اچھا ہے اور تم میں بہترین شخص وہ ہے جو تم میں سے اپنی بیویوں کے لئے سب سے بہتر (اخلاق وکردار و معاملہ والا) ہے۔ ‘‘ (سنن ابوداؤد 4682 ، جامع ترمذی :1162)
اسی طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے، اللہ تعالی ارشاد فرمایا :
(وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ )
’’ان عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے رہن سہن اختیار کرو۔‘‘ (سورۃ النساء: 19)
لیکن ہمارے مرد حضرات کا حال یہ ہے کہ وہ ماں، بہن، بیٹی، خالہ، پھوپی ، بھائی اور دوسرے رشتے داروں کے ساتھ تو بہت اچھے رہتے ہیں لیکن اپنی بیوی کے ساتھ اچھے نہیں رہتے ، انہیں مارنا توڑ نا حقیر سمجھنا ایسی بری عادتوں کا شکار رہتے ہیں، یہ سوچ اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ وہ بیوی کو یا تو الگ مخلوق سمجھتے ہیں یا اجنبی سمجھتے ہیں، اس بری عادت سے بچیں۔
شوہر اور بیوی کے درمیان جب کسی قسم کی ناچاقی و اختلاف ہو جاتا ہے تو عموماً شوہر غصے میں بیوی کولعن طعن کرتا ہے، کبھی کبھی گالی گلوچ کرتا ہے کبھی کبھی بیوی کے والدین اور ان کے حسب ونسب کو برا بھلا کہ دیتا ہے، کبھی کبھی اپنی بیوی کی برائیاں اور خامیاں بیان کرتا پھرتا ہے، حالانکہ شوہر اور بیوی کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کی نوعیت بڑی نہیں رہتی بلکہ یہ سب باتیں ایک ، دو دن میں ختم ہو جاتی ہیں، عورت کے عادات و اطور سارے کے سارے برے نہیں ہوتے بلکہ ان میں کوئی ایسی ایک عادت تو ہوگی جو قابل تعریف ہوگی اسی لئے شوہر کو نصیحت کی گئی ہے۔
حدیث شریف میں ہے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لا يَفْرُكَ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُق رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ أَوْ قَالَ غَيْرَهُ
’’ کوئی مؤمن آدمی کسی مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے اگر وہ اس کے کوئی ایک وصف وعادت کو نا پسند کرتا ہے تو یقیناً اس کا کوئی دوسرا وصف وعادت پسند کرتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 1469)
شوہر پر بیوی کے حقوق
عموماً عورتوں کو سختی کے ساتھ اس بات کی تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ شوہر کے حقوق ادا کرتی رہیں، لیکن شوہر اپنے آپ کو ان حقوق سے بری سمجھتا ہے ، جب شوہر اور بیوی کے درمیان اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور ان میں صلح صفائی کروائی جاتی ہے، اس وقت بھی عورت ہی کو نصیحت کی جاتی ہے اور شوہر کو زیادہ کچھ نہیں کہا جاتا، اس کے سبب مرد برادری کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سارا قصور عورت ہی کا ہے، مرد کا نہیں! حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہﷺنے مرد کی بھی کچھ ذمہ داریاں بتائی ہیں، اگر شوہر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے گا تو باہمی رشتوں میں محبت و الفت اور مٹھاس باقی رہے گی اس ضمن میں کچھ تعلیمات نقل کی جاتی ہیں، مرد حضرات اس پر عمل کریں تو زندگی خوشگوار ہوگی۔
تعليم : 1
بعض دیندار شوہر دین کے فرائض میں اتنا مشغول ہو جاتے ہیں کہ وہ عورت کے حقوق کو پامال کر جاتے ہیں ، تبلیغ دین ، عبادات، قومی قیادت و سیادت کی مشغولیت میں بیوی کو وقت نہیں دیتے ۔ حدیث شریف میں دو صحابہ کرام حضرت ابوالدرداء اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہما کے درمیان کا مکالمہ منقول ہے، حضرت ابو الدرداء دنیا سے بے رغبت ہو جاتے ہیں تو سلمان رضی اللہ عنہ انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
(إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَق وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقاً ” وَلْأهْلِكَ عَلَيْكَ حَقاً ، فَأَعْطِ ذِى حَقٌّ حَقَّهُ )
’’تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اسی لئے ہر حق والے کا حق ادا کرو ۔‘‘ ( صحیح بخاری : 1967)
تعلیم 2:
اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کثرت سے روزے رکھنے والے اور رات رات بھر نمازیں پڑھنے کے عادی تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: روزہ بھی رکھو، اور روزہ چھوڑو بھی، نماز بھی پڑھو اور آرام بھی کرو کیونکہ
فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ” وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا
’’ کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے ۔‘‘ (صحیح بخاری:1975 )
تعلیم : 3
حضرت اسو درحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ نبی ﷺ جب گھر میں ہوتے تو کیا کام انجام دیا کرتے ہیں؟ وہ کہنے لگیں کہ
كَانَ يَكُوْنُ فِيْ مِهْنَةِ أَهْلِهِ – تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهِ – فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ
’’ آپ ﷺ اپنی بیوی کے کام کاج یعنی خدمت میں مصروف رہتے اور جب نماز کا وقت ہو جاتا تو نماز کے لئے نکل جاتے۔‘‘ (صحیح بخاری: 676)
تعليم : 4
شوہر کو چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کو کسی بھی وقت نہ مارے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ
مَا ضَرَبَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ خَادِ مَا وَلَا اِمْرَأَةً قَطُّ
رسول الله ﷺ نے کسی خادم یا عورت کو کبھی نہیں مارا ۔ ( سنن ابوداؤد: 4003)
شریعت میں عورت کو مارنے کی جو اجازت دی گئی ہے وہ صرف نصیحت کے لئے ہے، ہلکی مارجس سے زخم نہ آئے ، ایسی زدو کوب و تشد د جس سے چہرہ زخمی ہو جائے ، ہاتھ پیر ٹوٹ جائے ، جسم پر ماروں کے نشان جم جائیں لکڑی ڈنڈے کا استعمال ہو اس سے روکا گیا ہے۔ بعض ناہنجار قسم کے لوگ عورت کو تشدد کا نشانہ بنا کر دین کی آڑ لیتے ہیں کہ شریعت نے ان کو ایسی اجازت دی ہے دراصل یہ مکار و عیار لوگ ہیں۔
تعلیم : 5
بیوی کے معاملے میں شوہر کو چاہئے کہ وہ درگزری سے کام لے اور بیوی کے معاملے میں حق و بھلائی کی بات قبول فرمائے ، ہمارے سماج میں چونکہ مشترکہ خاندانی نظام رائج ہے اسی لئے اکثر ہوتا یہ ہے کہ والدین ، بھائی بہن اور دوسرے لوگ بیوی کے معاملے میں شوہر کو اکسا دیتے ہیں اور بدگمان کر دیتے ہیں جس کے سبب شوہر بیوی پرسختی کرتا ہے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَإِذَا شَهِدَ أَمْراً فَلْيَتَكَلَّمْ بِخَيْرٍ أَوْ لَيَسْكُتْ، وَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَاءِ، فَإِنَّ المَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَع ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيٍّ فِى الضَّلَع أعْلاهُ إِنْ ذَهَبَتْ تُقِيْمُهُ كَسَرْتَهُ ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ وَاسْتَوصُوْا بِالنِّسَاء خَيْراً
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے جب (اپنی بیوی میں ) کوئی ( نا پسند آنے والا) معاملہ دیکھے تو اچھی طرح سے بات کہے یا خاموش رہے، اور عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک کی نصیحت قبول کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور پسلیوں میں سب سے زیادہ ٹیڑھی پسلی اس کے اوپر والے حصے میں ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے لگ جاؤ گے تو اسے توڑ دو گے اور اگر چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی رہے گی ، عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک کی نصیحت قبول کرو ۔‘‘ (صحیح مسلم :3644)
تعلیم :6
بہت سے شوہر ایسے ہوتے ہیں کہ وہ باہر کی دنیا میں دوستوں اور احباب پر دولت لٹاتے پھرتے ہیں لیکن گھر کا خیال نہیں رکھتے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ رسول اللہ ﷺسے بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
نَفْقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ
’’آدمی کا اپنے اہل وعیال پر خرچہ کرنا صدقہ ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 4006 ، جامع ترمذی:1965)
اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے ابو مسعود رضی اللہ عنہ مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ
إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً يَحْتَسِبُهَا فَهِيَ لَهُ صَدَقَةٌ
’’جب کوئی شخص اپنے گھر والوں پر کوئی چیز خرچ کرے اور ثواب کی نیت رکھے تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے۔‘‘ (سلسلہ صحیحہ: 1803)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اَفضَلُ دِيْنَارِ يُنفِقُهُ الرَّجُلُ دِيْنَارُ يُنْفِقُهُ عَلَى عَيَالِهِ، وَدِيْنَارُ عَلَى يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَدِيْنَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ. قَالَ أَبُوْ قَلَابَةَ :
وَبَدَأَ بِالْعَيَالِ، ثُمَّ قَالَ اَبُوْ قَلَابَةَ . وَأَى رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْراً مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عَيَالٍ صِغَارِيَعْفُهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمُ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمْ
’’بہترین دینار جسے انسان خرچ کرتا ہے وہ دینار ہے جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینا ر ہے جسے انسان اللہ کی راہ میں اپنے جانور پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینا ر ہے جسے وہ اللہ کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔ ابوقلابہ نے کہا
: آپ نے اہل وعیال سے ابتدا فرمائی۔ پھر ابو قلابہ نے کہا:
اجر میں اس آدمی سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے جو چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور وہ ان کو ذلت سے بچاتا ہے یا اللہ اس کے ذریعہ سے انہیں فائدہ پہنچاتا اور بے نیاز (غنی) کرتا ہے ۔‘‘ (صحیح مسلم : 2310 ، سنن ابن ماجہ: 2760 ، مسند احمد:7273)
اللہ تعالیٰ ہمارے بھائیوں کو مثالی شوہر بنائے اور ہماری بہنوں کو مثالی بیوی بنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمارے گھروں سے اختلافات و شر کو ختم فرمائے ، میاں بیوی کے رشتوں میں محبت والفت پیدا فرمائے ، شیطان کے شر سے بچائے اور ہمارے گھرانوں کو مثالی گھرانہ بنائے ۔ (آمین)
٭٭٭
چودھری محمد یعقوب بھی چل بسے
برمنگھم کی معزز شخصیت چوھری محمد یعقوب 80 سال کی عمر میں داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے۔
مرکزی جمعیت اہلحدیث برمنگھم کے وہ تاسیسی ممبر تھے اور توحید وسنت کے کاموں میں ان کا بڑا تعاون رہا، مولانا محمد عبد الہادی العمری نے جامع مسجد محمدی ہارٹپ روڈ میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی، جس میں پورے برطانیہ سے اعزہ واقارب نے شرکت کی، مرحوم کے تین صاحبزادے پسماندگان میں شامل ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ کریم ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ آمین
٭٭٭
حاجی عبد الرحمٰن جنجوعہ کی بڑی صاحبزادی وفات پا گئیں
ڈڈلی میں جمعیت اہلحدیث اور مسجد کے بانی حاجی عبد الرحمٰن جنجوعہ کی بڑی صاحبزادی 81 سال کی عمر میں قضائے الٰہی سے وفات پا گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
انہوں نے صابرانہ اور شاکرانہ زندگی بسر کیں، اور کتاب وسنت پر عمل کرنے والی تھیں۔
جامع مسجد ڈڈلی میں ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ واضح ہو کہ ڈڈلی مسجد کے ذمہ جناب محمد عمر اور جناب عبد اللہ خالد کی بڑی ہمشیرہ تھیں۔ جناب عابد جنجوعہ اور آصف جنجوعہ کی خالہ تھیں، پسماندگان میں ایک صاحبزادی شامل ہیں۔ اللہ کریم مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے۔ آمین
٭٭٭
تبصرہ کریں