
مہمان نوازی کی اہمیت:
دین اسلام میں مہمان نوازی کی بہت بڑی اہمیت ہے، اس ضمن میں رسول اللہ ﷺ نے امت مسلمہ کو جامع ترین تعلیمات دی ہیں اور مہمان کو اپنا حق حاصل کرنے کی بھی ترغیب دی ہے، بذات خود نبی ﷺ عظیم میزبان تھے اور آپ کے صحابہ بھی مثالی میز بان تھے، صحابہ کرام کی یہ عادت تھی کہ میزبانی کا شرف حاصل کرنے کے وہ منتظر رہا کرتے تھے اور کسی بھی مہمان کو میز بانی سے محروم نہیں رکھا کرتے تھے۔ مہمان اپنا رزق اور اللہ کی برکت ساتھ لے کر آتا ہے۔ مہمان نوازی سے روزی میں اضافہ ہوتا ہے اور اللہ کی برکت اور اس کی رحمت دامن گیر رہتی ہے۔ کسی شاعر نے کہا تھا:
اللہ میرے رزق کی برکت نہ چلی جائے
دو روز سے گھر میں کوئی مہماں نہیں آئے
ایک اور شاعر نے عرض کیا:
سمیٹ لے گئے سب رحمتیں کہاں مہمان
مکان کا ٹتا پھرتا ہے میز بانوں کو
یوں تو مہمان نوازی انبیاء کا وصف رہا ہے، قرآن مجید نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ بیان فرمایا کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس اللہ کے فرشتے خوشخبری کے ساتھ تشریف لائے تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام فوراً ان کی مہمان نوازی کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ وَلَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ ۖ فَمَا لَبِثَ أَن جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ ﴾
’’اور ہمارے بھیجے ہوئے پیغمبر ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوش خبری لے کر پہنچے اور سلام کہا انہوں نے بھی سلام کا جواب دیا اور بغیر کسی تاخیر کے بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے۔‘‘ (سورہ ہود:69)
مہمان نوازی کی تلقین:
رسول اللہ ﷺ نے بار بار اپنی امت کو مہمان نوازی کی تلقین کی، بلکہ مہمان نوازی کو عقیدہ سے منسلک کر دیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: « وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ» ’’ جوکوئی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔‘‘ (صحیح بخاری: 6018؛ صحیح مسلم:173 ؛ سنن ابوداؤد:3748)
مہمان کے لئے تعلیمات:
یہی نہیں بلکہ مہمان کو اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ وہ اپنی مہمان نوازی کا حق وصول کرے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ بیان فرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ ہمیں (جہاد یا کسی دوسرے کام کے لئے ) بھیجتے ہیں تو ( بسا اوقات ) ہم کسی قوم میں اترتے ہیں وہ لوگ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے تو اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا:
«إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوْالَكُمْ بِمَا يَنبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوْاء اللہ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوْا، فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِی لَهُمْ»’’اگر تم کسی قوم میں جاؤ اور وہ لوگ تمہارے لئے ان چیزوں کا انتظام کر دیں جو مہمان کے لئے چاہئے تو اسے تم قبول کرو اور اگر وہ نہ کریں تو ان سے مہمانی کا حق جوان کے لئے ہے، حسب حال ہو لے لو۔‘‘ (سنن ابوداؤد : 3752)
اسی طرح حضرت مقداد بن معدیکرب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَلا لا يَحِلُّ ذُوْنَابِ مِنَ السِّبَاعِ ، وَلا الحِمَارُ الْأهْلِيِّ، وَلَا اللَّقَطَةُ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا ، وَأَيْمَارَجُلٍ ضَافَ قَوْماً فَلَمْ يَقْرُوْهُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ »’’ سنو! دانت والا درنده حلال نہیں ، اور نہ گھریلو گدھا، اور نہ کا فرذمی کا پڑا ہوا مال حلال ہے، سوائے اس مال کے جس سے وہ مستغنی اور بے نیاز ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بن کر جائے اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو اسے یہ حق ہے کہ اس کے عوض وہ اپنی مہمانی کے بقدر ان سے وصول کرے ۔‘‘ (سنن ابوداؤد: 3804)
میزبان کے لئے تعلیمات :
میزبان کے لئے رسول اللہ ﷺنے تعلیم دی کہ وہ اپنے مہمان کی خاطر خواہ عزت افزائی کرے۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ نے گفتگو کی، تو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میری دونوں آنکھوں نے دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتِهِ قَالُوْا: وَمَا جَائِزَتُهُ يَارَسُوْلَ اللهِ ؟ قَالَ : يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ»
’’جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کو جو پیش کرتا ہے، اس کو لائق عزت بنائے، صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! اس کو جو پیش کیا جائے وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’اس کے ایک دن اور ایک رات کا اہتمام ، اور مہمان نوازی تین دن ہے، جو اس سے زائد ہے وہ اس پر صدقہ ہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم : 4513)
مہمان نوازی کے لئے رسول اللہ ﷺ نے میزبان کو یہ تعلیم دی ہے کہ مہمان نوازی زیادہ سے زیادہ تین دن کی ہے ، مہمان کو بھی چاہئے کہ وہ کسی کے پاس تین دن سے زیادہ قیام نہ کرے اس سے میزبان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا یا پھر کسی مسلمان کی استطاعت سے زیادہ بوجھ پڑ جائے گا ، وہ قرض دار ہو جائیگا۔
جیسا کہ حد یث میں ہے کہ حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «الضِّيَافَةُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ، وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ ، وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ قَالُوا: يَارَسُوْلَ اللهِ ، وَكَيْفَ يُؤْثِمَهُ ؟ قَالَ : ” يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلاشَى لَهُ يَقْرِيْهِ بِهِ» ’’مہمان نواری تین دن ہے اور خصوصی اہتمام ایک دن اور ایک رات کا ہے اور کسی مسلمان آدمی کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاں ٹھہر ا ر ہے، حتی کہ اسے گناہ میں مبتلا کر دے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ اسے گناہ میں کیسے مبتلا کر دے گا ؟ آپﷺ نے فرمایا : ” وہ اس کے یہاں ٹھہر ار ہے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو جس سے وہ اس کی میز بانی کر سکے ( تو وہ غلط کام کے ذریعہ سے اس کی میزبانی کا انتظام کرے )۔‘‘ ( صحیح مسلم :4514)
مسلمان کا حق :
مسلمان پر حق ہے کہ وہ مہمان کی مہمان نوازی کرے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، تو وہ آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”عثمان ! کیا تم نے میرے طریقے سے بے رغبتی کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم! ایسی بات نہیں، میں تو آپ ہی کی سنت کا طالب رہتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا:
«فَإِنِّي أَنَامُ ، وَأَصَلَّى وَأَصُوْمُ ، وَأَفْطِرُ، وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ ، فَاتَّقِ اللهَ يَاعُثمَانُ فَإِنَّ لاهْلِكَ عَلَيْكَ حَقَّاوَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصُمْ وَأَقْطِرْ ، وَصَل وَ نَمْ »’’میں تو سوتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں، اور نہیں بھی رکھتا ہوں، عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ، عثمان ! تم اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تمہارے مہمان کا بھی حق ہے تمہاری جان کا بھی حق ہے، لہٰذا کبھی روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو، اسی طرح نماز پڑھو اور سویا بھی کرو ۔‘‘ (سنن ابوداؤد: 1369)
رسول الله مہمان نوازی کے پابند تھے:
امت مسلمہ کو یہ جاننا ضروری ہے کہ رسول اللہ ﷺ بڑے مہمان نواز تھے، نبوت سے پہلے قبل از اسلام، دور جاہلیت میں بھی آپ مہمان نواز تھے۔ دور نبوت میں بھی آپ بڑے ہی مہمان نواز تھے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ’’ آغاز نبوت کے حالات سے جب رسول اللہ ﷺ پر یشان ہو گئے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اس کا تذکرہ کیا کہ « لَقَدْ خَشِيْتُ عَلَى نَفْسِی » ’’اب اپنی جان کا خوف ہو چکا ہے ۔‘‘ تو سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا انہیں ان الفاظ میں ڈھارس باندھیں:
“كَلَّا وَاللَّهِ مَايُخْزِيْكَ الله أَبَداً ، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحْمَ وَتَحْمِلُ الكَلَّ ، وَتَكْسِبُ المَعْدُوْمَ وَتَقْرَئُ الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الحق.”
’’ آپ کا خیال صحیح نہیں ہے، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ تو کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لئے آپ کماتے ہیں ، مہمان نوازی میں بھی آپ بے مثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں، ایسے اوصاف حسنہ والا انسان یوں بے وقت ذلت وخواری کی موت نہیں پاسکتا ۔ ‘‘ (صحیح بخاری:3)
رسول اللهﷺ کی میزبانی:
رسول اللہ ﷺ کی مہمان نوازی کا ایک واقعہ حدیث شریف میں مذکور ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ
’’میں ایک رات نبی کریم ﷺکا مہمان ہوا تو آپ ﷺ نے بکری کی ران بھوننے کا حکم دیا، وہ بھونی گئی ، آپ ﷺ نے چھری لی اور میرے لئے اس میں سے گوشت کاٹنے لگے اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ ﷺ کو نماز کی خبر دی تو آپ ﷺ نے چھری رکھ دی اور فرمایا: اسے کیا ہو گیا ؟ اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ؟ اور اٹھ کر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے ۔‘‘ (سنن ابوداؤد: 118)
اسی طرح آپ کی میزبانی کا ایک واقعہ یوں مذکور ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی بھوکا حاضر ہوا، آپ نے انہیں ازواج مطہرات کے یہاں بھیج دیا ( تا کہ ان کو کھانا کھلا دیں ) ازواج مطہرات نے کہلا بھیجا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی کون مہمانی کرے گا؟ ایک انصاری بولے میں کروں گا ۔‘‘ (صحیح بخاری : 3798)
غیر مسلموں کی میزبانی:
رسول اللہ ﷺ نے کفار ومشرکین کی بھی میزبانی کی جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ مشرف بااسلام ہوئے، گویا مسلمان کی میزبانی بھی گمراہ لوگوں کے لئے راہ ہدایت بن جاتی ہے ۔
حدیث میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مہمان رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، وہ شخص کا فر تھا، آپ ﷺنے اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، اس نے دودھ پی لیا، پھر ایک اور (بکری کا دودھ دوہنے ) کا حکم دیا، اس نے وہ بھی نوش فرما لیا، حتی کہ اس نے اسی طرح سات بکریوں کا دودھ پی لیا، پھر اس نے صبح کی تو اسلام لے آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا اس نے وہ بھی پی لیا، پھر دوسری بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا ، وہ اس کا سارا دودھ پی نہ سکا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان ایک آنت میں پیتا ہے ، جبکہ کافرسات آنتوں میں پیتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم:5379)
صحابہ کرام کو میزبانی کی تعلیمات :
رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو اس بات کا حکم دیا کہ وہ آنے والوں کی مہمان نوازی کا شرف حاصل کریں اس حکم کے بعد ہر صحابی میز بانی کا شرف حاصل کرنے کا منتظر رہتا تھا، اس ضمن میں کئی واقعات ہیں یہاں دو ایک واقعات نصیحت کے لئے ذکر کرنا مناسب ہوگا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک آدمی کے پاس ایک مہمان نے رات گزاری، ان کے پاس صرف اپنا اور بچوں کا کھانا تھا، اس نے اپنی بیوی سے کہا ، بچوں کو سلا دو، اور چراغ بجھا دو اور جو کھانا تمہارے پاس ہے وہ مہمان کے قریب کر دو تب یہ آیت :﴿وَيُؤْثِرُوْنَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ ’’وہ دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے ہیں چاہے انہیں سخت احتیاج لاحق ہو۔‘‘ (صحیح مسلم :5360)
اسی طرح کا ایک واقعہ مذکور ہے کہ اصحاب صفہ نادار و مسکین لوگ تھے اور نبی ﷺ نے فرمایا:
جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تیسرے (اصحاب صفہ میں سے کسی ) کو ساتھ لیتا جائے اور جس کے ہاں چار آدمیوں کا کھانا ہے تو وہ پانچویں یا چھٹے آدمی کو سائبان والوں میں سے اپنے ساتھ لے جائے۔ ( یہ سن کر ) ابوبکر اپنے ساتھ تین آدمیوں کو لے آئے اور رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھ دس آدمیوں کو لے گئے۔‘‘ سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر بیان فرماتے ہیں کہ ’’ گھر کے افراد میں اس وقت والد ، ماں اور میں تھا۔ ابو عثمان راوی کا بیان ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ عبدالرحمن بن ابوبکر نے یہ کہا یا نہیں کہ میری بیوی اور خادم جو میرے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کے گھر کے لئے تھا ،یہ بھی تھے۔ خیر ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے یہاں ٹھہر گئے اور غالباً کھانا بھی وہیں کھایا۔ صورت یہ ہوئی کہ نماز عشاء تک وہیں رہے، پھر مسجد سے نبی کریم ﷺ کے حجرہ مبارکہ میں آئے اور وہیں ٹھہرے رہے تا آنکہ نبی ﷺنے بھی کھانا کھالیا اور رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ گھر تشریف لائے تو ان کی بیوی (ام رومان) نے کہا کہ کیا بات پیش آئی کہ مہمانوں کی خبر بھی آپ نے لی ؟ آپ نے پوچھا: کیا تم نے ابھی انہیں رات کا کھانا نہیں کھلایا ؟ ام رومان نے کہا: میں کیا کروں؟! آپ کے آنے تک انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا، کھانے کے لئے ان سے کہا گیا تھا لیکن وہ نہ مانے۔
عبدالرحمن بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں ڈر کر چھپ گیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پکارا: ’’اے غنثر (او پاچی ) آپ نے انہیں برا بھلا کہا: اور کو سنے لگے فرمایا: کھاؤ تمہارے لئے تمہیں مبارک نہ ہو! اللہ کی قسم ! میں اس کھانے کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔( آخر مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا عبدالرحمن بن ابی بکر کہتے ہیں) اللہ گواہ ہے کہ ہم ادھر ایک لقمہ لیتے تھے اور نیچے سے پہلے سے بھی زیادہ کھانا ہو جاتا تھا، بیان کیا کہ سب لوگ شکم سیر ہو گئے اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ گیا۔ ابوبکر صدیق نے دیکھا تو کھانا پہلے سے بھی زیادہ تھا۔ اپنی بیوی سے بولے: بنو فاس کی بہن! یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم! یہ تو پہلے سے تین گنا زیادہ ہے۔ پھر ابوبکر صدیق نے بھی وہ کھانا کھایا اور کہا کہ میرا قسم کھانا ایک شیطانی وسوسہ تھا پھر ایک لقمہ اس میں سے کھایا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بقیہ کھانا لے گئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ صبح تک آپ کے پاس رکھا رہا۔ عبدالرحمن نے کہا: ہم مسلمانوں کا ایک دوسرے قبیلے سے معاہدہ تھا، اور معاہدے کی مدت پوری ہو چکی تھی، اس قبیلے کا وفد معاہدہ سے متعلق بات چیت کرنے مدینہ آیا ہوا تھا) ہم نے ان میں سے بارہ آدمی جدا کئے اور ہر ایک کے ساتھ کتنے آدمی تھے، اللہ ہی کو معلوم ہے ان سب نے اس میں سے کھایا ۔ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کچھ ایسا ہی کہا۔ ( صحیح بخاری : 602؛ سنن ابوداؤد: 3270)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مہمان نوازی :
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑے مہمان نواز تھے اور ان کی مہمان نوازی کا اقرار کفار ومشرکین کو بھی تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین اسلام کا پیرو پایا، کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا، جب رسول اللہ ﷺ ہمارے یہاں صبح و شام دونوں وقت تشریف نہ لاتے ہوں، پھر جب مسلمانوں کو بہت زیادہ تکلیف ہونے لگی تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی حبشہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا ، جب آپ برک غماد پہنچے تو وہاں آپ کی ملاقات قارہ کے سردار مالک ابن الدغنہ سے ہوئی۔اس نے پوچھا: ”ابو بکر کہاں کا ارادہ ہے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب یہ دیا کہ”أَخْرِجْنِي قَوْمِي، فَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسِيْحَ فِي الْأَرْضِ فَأَعْبُدَ رَبِّی.” ’’ میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے اور اب تو یہی ارادہ ہے کہ اللہ کی زمین میں سیر کروں اور اپنے رب کی عبادت کرتا رہوں۔ ‘‘ اس پر مالک بن الدغنہ نے کہا کہ
“إِنَّ مِثْلَكَ لا يَخْرُجُ وَلَا يُخْرَجُ ، فَإِنَّكَ تَكْسِبُ المَعْدُوْمَ ، وَتَصِلُ الرَّحْمَ وَتَحْمِلُ الكَلَّ ، وَتَقْرِئ الضَّيْفَ ، وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ ، وَأَنَا لَكَ جَارٌ فَارْجِعْ فَاعْبُدْ رَبَّكَ بِلادِک .” ’’آپ جیسا انسان (اپنے وطن سے ) نہیں نکل سکتا، اور نہ اسے نکالا جاسکتا ہے کیونکہ آپ تو محتاجوں کے لئے کماتے ہیں ،صلہ رحمی کرتے ہیں، مجبوروں کا بوجھ اپنے سرلیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، اور حادثوں میں حق بات کی مدد کرتے ہیں، آپ کو میں امان دیتا ہوں۔‘‘ آپ چلئے اور اپنے ہی شہر میں اپنے رب کی عبادت کیجئے۔ ‘‘
چنانچہ ابن الدغنہ اپنے ساتھ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی لے آیا اور مکہ پہنچ کر کفار قریش کے تمام اشراف کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ
“إن أبا بكر لا يَخْرُجُ مِثْلُهُ وَلَا يُخْرَجُ ، أَتَخْرُجُوْنَ رَجُلاً يَكْسِبُ المَعْدُوْمَ ، وَيَصِلُ الرَّحْمَ وَيَحْمِلُ الكَلَّ ، وَيَقْرِئُ الضَّيْفَ ، وَيُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الحق.”
’’ابوبکر جیسا نیک آدمی اپنے وطن سے نہیں نکل سکتا اور نہ اسے نکالا جاسکتا ہے، کیا تم ایسے شخص کو بھی نکال دو گے جو محتاجوں کے لئے کماتا ہے اور جو صلہ رحمی کرتا ہے اور جو مجبوروں اور کمزوروں کا بوجھ اپنے سر پر لیتا ہے اور جو مہمان نوازی کرتا ہے، اور جو حادثوں میں حق بات کی مدد کرتا ہے۔‘‘ ( صحیح بخاری: 2297)
رسول اللهﷺ کی میزبانی کا شرف :
بہت سے صحابہ ایسے ہیں کہ جنہیں رسول اللہ ﷺ کی مہمان نوازی کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دفعہ رات یا دن کو باہر نکلے اور آپ ﷺ نے حضرت ابو بکر وعمر ( رضی اللہ عنہما) کو دیکھا تو پوچھا کہ وہ تمہیں اس وقت کونسی چیز گھر سے نکال لائی ہے انہوں نے کہا کہ ’’یا رسول اللہ (ﷺ)! بھوک کے مارے ( ہم بھی نکل گئے ) آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں بھی اسی وجہ سے نکلا ہوں ،چلو کسی کے مہمان بنیں۔ پھر وہ آپ ﷺ کے ساتھ چلے ، آپ ﷺ ایک انصاری کے دروازے پر آئے لیکن وہ اپنے گھر میں نہیں تھے، ان انصاری صحابی کی بیوی نے آپ ﷺ کو دیکھا تو اس نے خوش آمدید کہا ( استقبال کیا )، آپ ﷺ نے اس کے خاوند کے متعلق پوچھا: وہ کہاں گئے ہیں؟
وہ کہنے لگیں کہ ”ہمارے لئے میٹھا پانی لینے کے لئے گئے ہیں، اتنے میں وہ انصاری (میزبان) آگئے ، جب اس نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں ( ابوبکر وعمر ) کو دیکھا تو کہا:
’’اللہ کا شکر ہے کہ آج کے دن کسی کے پاس ایسے مہمان نہیں ہیں، جیسے میرے پاس ہیں۔‘‘
پھر وہ (انصاری) گئے اور کھجور کا ایک خوشہ لے کر آئے جس میں گدرے ، سوکھے اور تازہ کھجوریں تھیں اور کہنے لگے اس میں سے نوش فرما ئیں ، پھر ایک چھری لی تو آپ ﷺ نے فرمایا :
’’ دودھ والی بکری مت ذبح کرنا ۔‘‘ انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور سب نے اس کا گوشت کھایا اور کھجوریں بھی نوش فرمایا اور پانی پیا ، جب کھانے پینے سے سیر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا:
«لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هذَا النَّعِيمِ يَوْمَ القِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الجُوْعَ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوْا حَتَّى أَصَابَكُمْ هذَا النَّعِيمِ »
’’قیامت کے دن تم سے اس نعمت کے بارے میں سوال ہوگا کہ تم اپنے گھروں سے بھوک کے مارے نکلے اور نہیں لوٹے یہاں تک کہ تمہیں یہ نعمتیں ملیں۔‘‘ (صحیح مسلم: 5313)
اسی طرح کا ایک اور واقعہ مذکور ہے کہ حضرت عبد الله بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ میرے والد کے ہاں مہمان ہوئے، ہم نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کیا ہوا حلوہ پیش کیا ، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا، پھر آپ کے سامنے کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ کھجوریں کھا رہے تھے اور گٹھلیاں اپنی دوانگلیوں کے درمیان ڈالے جا رہے تھے ، آپ ﷺ نے شہادت کی اور درمیانی انگلی اکٹھی کی ہوئی تھیں۔ پھر آپﷺ کے سامنے مشروب پیش کیا گیا، آپﷺ نے اسے پیا، پھر اپنے دائیں جانب والے کو دے دیا، (عبد الله بن بسر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : جب میرے والد نے رسول اللہ ﷺ کی سواری کی لگام پکڑی ہوئی تھی تو عرض کیا: ”ہمارے لئے اللہ سے دعا فرمائیے ، تو رسول اللہ ﷺ نے ( دعا کرتے ہوئے فرمایا:
«اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِى مَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْلَهُمْ وَارْحَمْهُمْ »’’اے اللہ ! تو نے انہیں جو رزق دیا ہے، اس میں ان کے لئے برکت ڈال دے اور ان کے گناہ بخش دے اور ان پر رحم فرما ۔‘‘ (صحیح مسلم 5328)
اس طرح کا ایک اور واقعہ مذکور ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام اللہ نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ’’نبی کریم ﷺ ان کے ہاں مہمان ٹھہرے تو آپ ﷺ نیچے کے مکان میں رہےاور حضرت ابوایوب انصاری اوپر کے درجے میں تھے، ایک دفعہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ رات کو جاگے اور کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے سر کے اوپر چلا کرتے ہیں، پھر ہٹ کر رات کو ایک کونے میں ہو گئے، پھر اس کے بعد حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺسے اوپر جانے کے لئے کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ’’نیچے کا مکان آرام کا ہے ۔ ‘‘
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ’’میں اس چھت پر نہیں رہ سکتا، جس کے نیچے آپ ﷺ ہوں۔“ یہ سن کر آپ ﷺ اوپر کے درجے میں تشریف لے گئے اور ابو ایوب رضی اللہ عنہ نیچے کے درجے میں آگئے۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺکے لئے کھانا تیار کرتے تھے، پھر آپ ﷺ کے پاس سے کھانا آتا تو حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ پوچھتے کہ آپ ﷺ کی انگلیاں کھانے کی کس جگہ پرلگی ہیں اور وہ وہیں سے کھاتے ۔ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کھانا پکایا، جس میں لہسن تھا ، جب کھانا واپس گیا تو حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ ﷺ کی انگلیاں کہاں لگی تھیں ؟ انہیں بتایا گیا کہ آپ ﷺنے کھانا نہیں کھایا ! یہ سن کر ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور او پر گئے اور پوچھا کہ کیا لہسن حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں لیکن میں اسے نا پسند کرتا ہوں۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چیز آپ کے لئے نا پسند ہے، مجھے بھی نا پسند ہے، حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺکے پاس فرشتے آتے جاتے تھے۔ (صحیح مسلم 5358)
ان تمام روایات اور واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہی ہے کہ مسلمان مہمان نوازی کو ترجیح دیں، یہ ملت کے فضائل میں سے ہے یہ نہ سمجھیں کہ مہمان آئے گا تو تنگدستی ہو جائیگی ، رزق میں مشکل ہو جائیگی ، دراصل شیطان اہل ایمان کو فاقہ کشی اور تنگدستی کا خوف دلاتا ہے، آہستہ آہستہ ملت میں میز بانی سے بیزارگی پائی جانے لگی ہے اور وہ مہمانوں سے کترانے لگے ہیں، میں میرے بچے بس اچھے رہیں یہی نظریہ عام ہورہا ہے اسی لئے انسان تو نگری و بے نیازی کے باوجود بھی ناخوش نظر آرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)
تبصرہ کریں