رسول اللہ ﷺکا پیغام نوجوانوں کے نام۔محمدعبد الرحیم خرم عمری جامعی

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خواتین کے بنا اسلام کی سربلندی ، ترقی و عروج ناممکن ہے، اسلام کی ترقی میں خواتین کا اہم کردار رہا ہے، اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے تاریخ کے اس پہلو پر غور فرما ئیں کہ جب نبی کریمﷺ کو تاج نبوت سے سرفراز کیا گیا ، تو اول المسلمین ایک خاتون ہی رہی ہیں جنہیں خدیجۃ الکبری کہا جاتا ہے، قبول اسلام کے صلے میں جب ابتلاء و آزمائش کا دور شروع ہوا تو شہادت کی پہلی منزل طئے کرنے والی بھی خاتون ہی تھیں ، جنہیں سیدہ سمیہ کہا جاتا ہے اس کے یکے بعد دیگر خواتین نے جام شہادت نوش فرمایا ،جن میں حضرت زنیرہ کا نام بھی شامل ہے۔ اسلام کی ترقی کا آغاز خواتین کی قربانیوں سے ہوتا ہے۔

خواتین اور اقوام کا زوال

اسی طرح کسی بھی سماج کی تباہی و تاراجی اور اقوام وملل کا زوال بھی ان ہی خواتین کے سر جاتا ہے، فتنوں کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے جہاں سماج آزمائش سے دوچار ہوتا ہے ، حضرت اسامہ بن زید رسول اکرم ﷺسے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«ما تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةٌ أَضَرُّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ » (صحیح بخاری :5096؛صحیح مسلم، 6945)

’’ میں نے اپنے بعد مردوں پر سب سے زیادہ نقصان دہ فتنوں میں خواتین کے فتنوں کو چھوڑا ہے ۔‘‘

بنی اسرائیل نبی زادوں کی قوم تھی،اس قوم میں بہت ہی جلیل القدر انبیاء مبعوث کئے گئے ، اس قوم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام نعمتوں سے نوازا، اس قوم کے لئے رحمت کے خزانوں کو کھول دیا گیا ،ان کے کھانے کے لئے جنت کی غذا ’’من و سلویٰ‘‘ نازل فرمایا، انہوں نے اللہ سے جو بھی مانگا عطا کئے گئے، لیکن جب اس قوم نے اللہ کی ناشکری کی اور حق سے اعراض کیا تو اللہ نے اس قوم کو مختلف عذابوں کے ذریعہ سے تباہ و تاراج کر دیا، اس قوم کی تباہی کے بہت سے اسباب کا تذکرہ کیا گیا ، ان میں سے ایک بنیادی سبب رسول اللہ ﷺنے یہ بیان فرمایا کہ

« أَوَّلُ فِتْنَةٌ بَنِي إِسْرَائِيْل كَانَتْ فِی النِّسَاءِ »

’’بنی اسرائیل کے فتنوں میں سب سے پہلا فتنہ ان کی عورتوں میں آ گیا تھا۔ ‘‘ (صحیح مسلم:2742)

اسلام میں خواتین کا مقام

اسلام کے نزدیک عورت کی سب سے زیادہ اہمیت ہے ، اسی لئے اسلام نے ان کی تعلیم و تربیت کی جانب بہترین رہنمائی کی ہے اور ان کے لئے واضح احکام نازل فرمائے ہیں کیونکہ اسی صنف کے ذریعہ سے نسلوں کی بقا ہے وہ مجاہدین اسلام جنہوں نے سرفروشی کی ، وہ مفسرین و محدثین وفقہا کی جماعت جنہوں نے دین کے اثاثوں کو محفوظ کیا، چاہے وہ خالد بن ولید، اسامہ بن زید، عمرو بن العاص ہوں یا امام المحدثین امام بخاری ، امام اہل السنۃ احمد بن حنبل ، طارق بن زیاد، صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم و غیر هم تمام شخصیات کی تربیت اسی صنف نازک کا کارنامہ ہے، جن کی آغوش تربیت کے سبب ملت کو یہ سرمایہ میسر آیا۔

قرآن مجید میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خواتین کو بنیادی طور پر اس بات کا پیغام دیا کہ

﴿ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ (سورۃ الاحزاب : 33)

’’اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو، اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوۃ دیتی رہو، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرتی رہو، اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اپنے نبی کی گھر والیو! تم سے وہ ( ہر قسم کی ) گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“

اس آیت کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے خواتین کی عزت و عصمت کا تحفظ کیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو لازم پکڑیں، کیونکہ یہی گھر ان کی سلطنت ہے اور وہ اس کی نگہبان و مہارانی ہیں، وہ گھروں کو چھوڑ کر بازاروں کی زینت نہ بنیں ،شمع محفل نہ بنیں، دنیا کی نمائش نہ بنیں جہاں ان کی قدریں پامال کی جاتی ہوں ،عزت و ناموس کے چیتھڑے اڑا دئیے جاتے ہوں ۔ خواتین کا سب سے محفوظ مقام گھر ہی ہے۔ جب وہ گھر سنبھال کر بیٹھیں گی تو نسلیں پنپیں گی ، نسلوں کی بہترین تربیت ہوگی ، خاندانی نظام مضبوط ومستحکم ہوگا، گھر کے اثاثے محفوظ رہیں گے ۔ جب عورت گھر چھوڑ دے گی تو عزتیں پامال ہو جائیں گی نسلیں ذلیل و خوار ہو جائیں گی ، تربیت کا نظام درھم برھم ہو جائےگا ، اولا د غیر تربیت یافتہ و جاہل بن جائے گی ، رشتے ناطے کمزور پڑ جائیں گے۔ موجودہ دور میں مسلم سماج کی تباہی و تاراجی کا ایک سبب یہی ہے کہ ملازمت کے نام پر، تعلیم کے نام پر، ضروریات زندگی کی خریدی کے نام پر، تجارت کے نام پر، کھیل کود کے ذوق وشوق کے نام پر ، دنیا کی مسابقت اور اس کی رنگینیوں کے حصول کے نام پر، سیاسی بازیگری کے نام پر ، ہماری خواتین نے گھروں کو چھوڑ دیا، بازار اور آفس آباد ہو گئے محفلیں رنگ برنگی بن گئیں ۔ اس ماحول کی عکاسی اکبر الہ آبادی نے یوں کیا ہے :

حامدہ چپکی نہ تھی انگلش سے جب بیگا نہ تھی

اب ہے شمع انجمن پہلے چراغ خانہ تھی

کیا ملت اسلامیہ کے مرد نہیں جانتے کہ دفتروں اور آفسوں میں خواتین کے ساتھ کس کس طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں، کیا ملت اسلامیہ کے مرد نہیں جانتے کہ شاپنگ مالوں اور بازاروں میں خواتین کے ساتھ کس طرح کے سلوک روا رکھے جاتے ہیں ، کیا ملت اسلامیہ کے مرد یہ نہیں جانتے کہ موجودہ دور کے اسکول ، کالجز اور یونیورسٹیوں میں دختران ملت کے ساتھ کس کس طرح کے معاملات پیش آرہے ہیں؟ یہ حالات و واقعات ہر روز ذرائع ابلاغ میڈیا واخبارات کی زینت بنتے ہیں جس کو ہم پڑھتے ہیں اور مشاہدہ بھی کرتے ہیں اس کے باوجود اس زہر ہلاہل کو پی رہے ہیں۔ جب کوئی مسلم عورت گھر چھوڑ کر نکل جاتی ہے تو وہ اکیلی نہیں نکلتی بلکہ خاندان و قبائل اور قوم کی غیرت کو لے کر نکل رہی ہوتی ہے جب وہ کسی حادثے کا شکار ہو جاتی ہے تو ساری قوم اس سے متاثر ہو جاتی ہے۔

خواتین کا محفوظ قلعہ اس کا مکان ہے :

قرآن مجید نے خواتین کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھروں میں رہ کر اللہ کے کلام کو پڑھتی رہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ وَاذْكُرُنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُو تِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللهِ وَالْحِكْمَةَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفَا خَبِيرًا﴾

’’اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی جو احادیث پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو، یقینا اللہ تعالیٰ لطف کرنے والا خبر دار ہے۔‘‘ (سورۃ الاحزاب : 34)

سابقہ آیت اور اس آیت میں خواتین کو جو تعلیمات دی گئی ہیں وہ یہ ہیں:

(1) وہ گھروں کو لازم پکڑیں۔ (2) جاہلیت کی عادتوں سے احتراز کریں۔ (3) نمازوں کو قائم رکھیں ۔

(4) زکوۃ ادا کرتے رہیں۔ (5) اللہ کی فرمانبرداری کریں۔ (6) رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کریں۔

(7) قرآن مجید کی تلاوت کرتی رہیں۔

(8) حکمت یعنی احادیث رسول کا مطالعہ کرتی رہیں۔ ان تعلیمات کا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ تم کو ہرقسم کی گندگی سے دور رکھنا چاہتا ہے اور تمہیں پاک وصاف رکھنا چاہتا ہے۔ اس کا معنی یہی ہے کہ اگر ان تعلیمات سے روگردانی کرو گے تو دنیا کی ساری گندگیوں سے متاثر ہو جاؤ گے۔ فی زمانہ یہی ہورہا ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں مشہور مفسر حضرت ابو بکر جصاص ﷫ فرماتے ہیں

” وفيه الدلالة على أن النساء مامورات بلزوم البيوت منهيات عن الخروج .”

اس آیت سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ عورتوں کے لئے ان کے گھروں ہی میں رہنا لازم ہے اور انہیں گھروں کے باہر جانے سے روک دیا گیا۔ ‘‘

اسی طرح حضرت عائشہ رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث روایت کرتی ہیں کہ سول اللہ ﷺ نے فرمایا :«عَلَيْكُنَّ بالبيتِ فَإِنَّهُ جِهَادُ كُنَّ»

’’ تمہارے لئے لازم اور ضروری ہے کہ تم اپنے گھروں میں رہو، پس یہی تمہارا جہاد ہے۔‘‘ ( مسند احمد)

اس حدیث میں خواتین کے گھروں میں استقامت کے ساتھ سکونت پذیر رہنے کو جہاد جیسی افضل اعمال والی عظیم عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے، جہاد کوئی معمولی حکم نہیں ہے، بلکہ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب اعمال میں سے ایک ہے۔

امام منذری نے ’’الترغیب و الترهيب‘‘میں ایک حدیث بیان کی ہے کہ ایک صحابیہ نبی کریم ﷺ سے عرض کرتی ہیں :

“كتب الله الجهاد على الرجال، فإن أصابوا أثروا، وإن استشهدو كانوا أحياء عند ربهم يرزقون، فما يعدل ذلك من أعمالهم من الطاعة أزواجهن والمعرفة بحقوقهم وقليل منكن من يفعله.”

’’ اس صحابیہ نے عرض کیا: اے رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے مردوں کے لئے جہاد کو فرض کیا اور مرد جہاد میں شریک ہوتے ہیں اور مال غنیمت پاتے ہیں اور اگر وہ شہید ہو جائیں تو اپنے رب کے پاس انہیں روزی دی جاتی ہے، جہاں وہ زندہ ہیں، پھر ان کے مساوی ہمارے لئے کونسا عمل ہے؟ ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے شوہر کی اطاعت وفرمانبرداری کریں اور ان کے حقوق کو پہچانیں اور ایسا کرنے والی بہت کم خواتین ہوتی ہیں۔‘‘ ( یہ جہاد کے برابر ہے ) (المتبحر الرابع :314 سندہ سقیم)

روز قیامت خواتین سے سوال

روز قیامت اللہ تعالیٰ خواتین سے جن ذمہ داریوں کے متعلق سوال کرے گا وہ یہ ہیں:

« والمرأة راعية على بيت زوجها وولده وهى مسئولة عنهم » (صحیح بخاری 7138)

’’اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اولاد کی ذمہ دار ہے ، وہ ان کے بارے میں پوچھی جائیگی۔‘‘

اس حدیث کی روشنی میں ہر مسلمان خاتون کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور قیامت والے دن رب کریم کو جواب دینے کی تیاری کرے کہ اللہ کس چیز کے بارے میں ان سے سوال کرے گا؟ اللہ یہ سوال نہیں کرے گا کہ ملازمت کیوں اختیار نہیں کی ، اللہ تعالیٰ یہ سوال نہیں کرے گا کہ حکومت وسیاست کیوں نہیں کی ؟ اللہ یہ سوال نہیں کرے گا کہ دنیا کی ترقی میں حصہ کیوں نہیں لیا؟ اللہ یہ سوال کرے گا کہ اپنا گھر کتنا محفوظ کیا ! کیوں محفوظ نہیں کیا؟ گھر کا اضافہ کیوں ضائع کیا؟ اولا د کیوں بگڑی؟ اگر کوئی مسلم لڑکی غیر مسلم کے ساتھ راہ فرار اختیار کی تو اس کا سوال ماں سے کیا جائیگا، کیوں کہ وہ اولاد کی محافظ تھی اور ہے۔

خواتین اور اولاد کی تربیت

اولاد کے لئے ماں کی تربیت ہی حقیقی تربیت ہے کیونکہ ماں نے نو ماہ پیٹ میں رکھا، اور دو سال تک اپنے سینے سے لگا کر دودھ پلایا، اور چلنے پھرنے کے قابل بنایا۔ اسی لئے اولا د باپ کے بالمقابل ماں سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ باپ کی دس باتیں سمجھ نہیں آتیں لیکن ماں کی ایک بات اور اشارہ وہ سمجھ جاتے ہیں۔ اسی لئے کہ ماں نے اسے دودھ نہیں بلکہ فطرت پلایا ہے۔ اس بات کو مسلم خواتین سمجھنے کی کوشش کریں۔

اس فطرت کا یہ اثر ہوا کہ حضرت ام سلیم اپنے شوہر مالک سے جب علیحدہ ہوئیں تو ان کے ہاں ایک معصوم لڑکا تھا جس کا نام اُنس بن مالک تھا جنہیں رسول اللہﷺ کے خادم خاص ہونے کا شرف حاصل ہوا، ماں کی تربیت و آغوش میں ان کی تربیت ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کی ایسی دعاؤں کے مستحق ہوئے کہ رحمت الٰہی ہمیشہ دامن گیر رہی۔

اسی طرح امام بخاری ﷫ یتیم تھے، بچپن میں دو مرتبہ بیماری کی وجہ سے آنکھیں چلی گئیں لیکن اسی ماں کی جدو جہد اور تربیت کا نتیجہ ہے کہ امت مسلمہ کو کتاب اللہ کے بعد احادیث کا سب سے عظیم مجموعہ ’ الجامع المسند الصحيح المختصر من امور رسول الله وسننه و ایامه ‘‘ملا جسے عرف عام میں بخاری شریف کہا جاتا ہے جس سے انسانیت استفادہ کرتی رہے گی۔ ( تاریخ بخارا ، شرح السنۃ، لا سکائی باب کرامات الاولیاء ، طبقات کبری، تاج الدین سبکی ، شرح بخاری، داؤ دراز : 1/26)

حضرت امام احمد بن حنبل ﷫جنہیں امام اہل السنۃ کہا جاتا ہے وہ بھی یتیم تھے، ماں کی دعاؤں اور تربیت کا نتیجہ ہے کہ ملت اسلامیہ کو انہوں نے سینتیس ہزار (37000) احادیث کا ایسا مجموعہ عنایت فرمایا جسے ”مسنداحمد ” کہا جاتا ہے، اور وہ باطل کے خلاف آوازہ بلند کرنے والے بنے ۔ اس طرح کے اور بھی واقعات ہیں، جو ماں کی تربیت پر دلالت کرتے ہیں، ہماری ماؤں کو اس کا آئینہ دار بننے کی ضرورت ہے۔

صالح خاتون کی فضیلت

اسلام نے عورت کو نیک وصالح بنانے کی ترغیب دی ہے، ناچنے گانے ، اور بازاروں میں گھومنے محفلوں کی زینت بننے کی ترغیب نہیں دی ہے، کیونکہ اسلام کو صالح معاشرہ مطلوب ہے اوروہ اس وقت ہوگا جب سماج کی خواتین صالح بن جائیں ، حضرت عبداللہ بن عمر بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: « الدُّنْيَا كُلُّهَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا المَرْأَةُ الصَّالِحَةُ»

’’پوری دنیا اور دنیا کی ہر ہر چیز فائدہ اٹھانے کا ساز و سامان ہے، اور سب سے زیادہ بہترین چیز نیک عورت ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 3640)

اسی مقصد کے حصول کے لئے صالح خواتین سے نکاح کرنے کا حکم دیا گیا ہے تا کہ صالح سماج کی بنیادیں مضبوط ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

« تُنْكَحُ المَرْأَةُ لأَرْبع: لِمَالِهَا ، وَلِحَسَبِهَا ، وَجَمَالِهَا ، وَلِدِيْنِهَا ، فَاظْفَرُ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ»

’’ عورت چار بنیادوں کے سبب نکاح کی جاتی ہے، مال و دولت کی بنیاد پر ، خاندان وقبائل کی شرافت کی بنیاد پر ، خوبصورتی کی بنیاد پر ، دین کی بنیاد پر ، ( میری امت کے لوگو ) تم دین کی بنیاد پر نکاح کرو ورنہ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں۔‘‘ ( صحیح بخاری: 5090)

خواتین اور مذہبی تعلیم

خواتین میں صالحیت کی تربیت قرآن مجید اور سنت مطہرہ کے مطالعہ اور فہم سے آتی ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

« عَلَّمُوا رجالكم سورة المائدة وعلموا لنسائكم سورة النور » (مسند البیہقی ، حاکم)

’’اپنے مردوں کوسورۃ المائدہ کی تعلیم و تر بیت دو اور اپنی خواتین کو سورۃ النور کی تعلیم دو۔‘‘

اسی طرح حضرت حارثہ بن مضرب ﷫ بیان کرتے ہیں کہ

” كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَر بن الخطاب ، أَنْ تَعَلَّمُوا سُوْرَةُ النِّسَاءِ وَالنُّورِ .” ’’حضرت عمر نے ہم کو خط لکھ کر نصیحت کی کہ ہم سورۃ النساء اور نور کی تعلیم حاصل کریں ۔‘‘ ( أخرج ابو عبید فی فضائله)

اسی طرح حضرت عمر نے اہل کوفہ کو خطاب کرتے ہوئے اس بات کا حکم دیا تھا کہ:

” عَلَمُوا لنسانَكُمْ سُوْرَةُ النُّورِ .”

’’اپنی عورتوں کو سورۃ النور کی تعلیم و تربیت دو ۔‘‘ (سيرة عمر بن الخطاب للصلابی)

ان روایات سے بہت سی باتوں کا علم ہوتا ہے کہ خواتین کے لئے سب سے بہترین تعلیم قرآن وسنت یعنی شرعی تعلیم اور دینی تعلیم ہے، دوسرا یہ کہ خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے کا اسلام نے حکم دیا ہے، تیسرا یہ کہ وہ صرف گھروں میں رہ کر اپنے اوقات کو ضائع نہ کریں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کا بھی مطالعہ کرتی رہیں ، تب ہی وہ اپنی اولا داور گھر کو سنوار سکتی ہیں اور اس سے معاشرہ کی اصلاح ممکن ہے۔ فی زمانہ عوام الناس میں خواتین کو تعلیم دینے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، ان کے لئے اسکول، کالجز اور یونیورسیٹیاں بنائی گئی ہیں ، جن میں تعلیم حاصل کر کے وہ بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کر رہی ہیں اس کے باوجود زندگیاں ناکام نظر آرہی ہیں، معاشرہ مضطرب نظر آتا ہے۔ کیونکہ دینی تعلیم و تربیت کارجحان نہیں رہا، مذہبی تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ ہم نے مذہبی تعلیم کو جزوی حصہ بنا دیا ہے، اس لئے اب ایسی اولاد ہمارے خانوادوں سے نہیں نکل رہی ہے جو ملت کا مستقبل سنوار سکے، ضرورت ایسی اولاد کی ہے جو امت کا ستارہ اقبال عروج تک پہنچا سکیں۔ اقبال ﷫نے کہا تھا:

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت

خواتین اور شوہروں کی فرمانبرداری

خواتین کو تعلیم دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے شوہر کی فرمانبردار بن کر رہیں، اسی سے نظام زندگی درست ہوگا اور اصلاح سماج کی ذمہ داریاں ادا ہوں گی ، اگر عورت شوہر کی فرمانبردار بن کر نہ رہے تو معاشرہ نسلیں تباہ ہو جائیں گی، اس لئے خواتین کو اس ضمن میں جامع تعلیمات دی گئی ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

« أُرِيتُ النار فاذا اكثر أَهْلِهَا النِّسَاءَ يَكْفُرْنَ، قِبْلَ: أَيَكْفُرْنَ بِاللهِ: قَالَ: يَكْفُرْنَ العَشِيْرَ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنكَ شَيْئاً ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنكَ خَيْراً قط » (صحیح بخاری:29)

’’ مجھے دوزخ دکھلائی گئی، تو اس میں سب سے زیادہ تر عورتیں تھیں جو کفر کرتی ہیں۔ کہا گیا: یارسول اللہ کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں، اور احسان کو بھلا دیتی ہیں اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی کے ساتھ احسان کرتے رہو، پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے تو فوراً کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔‘‘

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے بہترین عورت کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

« الَّتِي تَسُرُّهُ إذا نظر، وتطيعه إذا أمر، ولا تخالف في نفسها ومالها بما يكره »

’’ جو عورت شوہر کو خوش کر دے جب وہ اس کو دیکھتا ہےاور اس کی بات مانے (اطاعت و فرمانبرداری کرے) جب وہ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتا ہے اور اپنے نفس اور مال میں کسی ایسی حرکت سے اس کی مخالفت نہ کرے جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔ ‘‘ (سنن نسائی 3233 ، مستدرک حاکم)

ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

«لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تأذن في بيت زوجها وهو كارة ولا تطيع فيه احداً ولا تخش بصدره ولاتضربه»

’’ جوعورت اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں کسی ایسے شخص کو آنے کی اجازت دے جسے وہ نا پسند کرتا ہو، اور وہ گھر سے نکلے ایسی صورت میں جبکہ اس کا نکلنا شوہر کونا گوار ہو، اسے چاہئے کہ شوہر کے معاملے میں کسی کی اطاعت نہ کرے اور اس کے آنے پر اپنے اندر خوف محسوس نہ کرے اور نہ اس سے جھگڑا کرے۔ ‘‘ (مستدرک حاکم :2824 صحیح الاسناد )

خوشبو استعمال کرنے والی خواتین

خواتین اپنے گھروں سے نکل کر بازاروں کو اس انداز میں جاتی ہیں کہ وہ خوشبو کا استعمال کرتی ہیں ، میک اپ کرتی ہیں، تزئین و آرائش اختیار کرتی ہیں اس ضمن میں رسول اللہ ﷺ نے انھیں سخت تنبیہ کی ہے، حضرت ابو موسی اشعری رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ، وَالمَرْأَةُ إِذَ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَتْ بِالْمَجْلِسِ فَهِيَ كَذَا وَكَذَا ، يَعْنِي زَانِيَةً»’’ ہر آنکھ زنا کار ہے اور عورت جب خوشبولگا کر مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ بھی ایسی ایسی ہے یعنی وہ بھی زانیہ ہے۔‘‘ ( جامع ترمذی 2786)

اسی ضمن میں ایک اور حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

« أيما امرأة اِسْتَعْطَرَتْ ، فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا مِنْ رِيْحِهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ »

’’ حضرت ابو موسی اشعری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ’’ جو بھی عورت خوشبو لگا کر لوگوں کے پاس سے گزرتی ہے تا کہ وہ اس کی خوشبو محسوس کریں (اور اس کی طرف متوجہ ہوں ) تو وہ بدکار یعنی زانیہ ہے۔‘‘ (سنن نسائی 5129 ، دارمی 2688، مسند احمد : 19711)

اسی طرح ایک اور حدیث میں حضرت ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُوْراً فَلَا تَشْهَدْ مَعْنَا العِشَاءَ الآخِرَةَ » (سنن نسائی: 1531)

’’جس عورت نے خوشبولگائی ہو ، وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز پڑھنے مسجد میں نہ آئے ۔‘‘

دور جدید کے فیشن اور خواتین

فیشن کی اس دنیا میں ایک براعمل یہ ہے کہ خواتین نقلی بالوں کا استعمال کرتی ہیں جسے ’وگ‘ کہا جاتا ہے اور یہ بآسانی بازاوں میں مہیا ہے ، ہمارے بازاروں میں بعض مسلمان تاجر بھی اسے فروخت کرتے ہیں ، اس کا استعمال یہود و نصاری ،مشرکین و کفار کرتے ہیں، اس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے، ایسی حرکات سے خواتین کو باز آجانا چاہئے ، حضرت معاویہ بن ابوسفیان منبر پر بیٹھے تھے اور ان کے ہاتھ میں جعلی بالوں کا ایک گچھا تھا، انہوں نے فرمایا:

” مَابَالُ المُسْلِمَاتِ يَصْنَعْنَ مِثْلَ هَذَا .”

کیا بات ہے کہ مسلمان عورتیں یہ کام کرتی ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

«أيُّما اِمْرَأَةٍ زَادَتْ فِيْ رَأْسِهَا شِعْراً لَيْسَ مِنْهُ فَإِنَّهُ زُوْرٌ تَزِيْدُ فِيْهِ » (سنن نسائی : 5096)

’’ جو عورت اپنے سر کے بالوں میں اضافہ کرے تو یہ جعلسازی ہے جس سے وہ اضافہ کر رہی ہے۔‘‘

خواتین آہستہ آہستہ دکھاوے کی جانب جارہی ہیں جس کی وجہ سے ان کے اخرجات میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، اس دکھاوے کے لئے وہ لباس اور زیور کا استعمال کرتی ہیں تاکہ لوگ دیکھیں، اہل محفل دیکھ کر حیران ہو جائیں اور واہ واہ کریں، اگر ان کے پاس چیز میسر نہ ہوتب بھی وہ عاریۃً دوسروں کا لباس، وزیور استعمال کر لیتے ہیں، یہ عادت کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے کیونکہ اگر وہ چیز کھو جائے یا ضائع ہو جائے تو اس کا بھگتان کون بھرے گا ؟ لا محالہ اس بوجھ کو بھائی ، والد یا شوہرہی کو اٹھانا ہوگا۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے خواتین کو ایسی حرکتوں سے باز رہنے کی تلقین کی اور انہیں سخت تنبیہ بھی کی ہے، جیسا کہ حضرت اسماء بنت یزید بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

« أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَحَلَّتْ يَعْنِي بِقَلادَةِ مِنْ ذَهَبٍ جَعَلَ فِي عُنُقِهَا مِثْلَهَا مِنَ النَّارِ، وأيما امرأةٍ جَعَلَتْ فِي اذْنِهَا عُرْصاً مِنْ ذَهَبٍ جَعَلَ اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي أَدْنِهَا مِثْلَهُ عُرْصَ مِنَ النَّارِيَوْمَ القيامة »

’’ جوعورت ( نمائش یعنی دکھاوے کے لئے) سونے کا ہار پہنے گی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ) اس کی گردن میں آگ کا ہار ڈالے گا اور جو عورت ( نمائش یعنی دکھاوے کے لئے ) اپنے کانوں میں سونے کی بالیاں ڈالے گی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے کان میں آگ کی بالیاں ڈالے گا۔‘‘ (سنن نسائی: 5142)

خلج وطلاق کا بڑھتا ہوا رجحان

آئے دن طلاق و خلع کا رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے ، نا مناسب اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو بنیاد بنا کر طلاق وخلع کے واقعات پیش آرہے ہیں، والدین بھی بآسانی اس کا مطالبہ کرتے ہیں اس کے نقصانات کا جائزہ نہیں لیا جاتا ، بچے برباد ہو جاتے ہیں اور ان کا تابناک مستقبل تاریک بن جاتا ہے، گھرانے اجڑ جاتے ہیں، نفرتیں بڑھ جاتی ہیں، قبائل برباد ہو جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خلع وطلاق کی اجازت اسلام نے دی ہے اور علیحدگی کا بہترین ذریعہ بھی ہے لیکن اس کے لئے اصول وضوابط اور مناسب اسباب بھی ہیں، بنا کسی سبب کے اس کا مطالبہ حرام ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا:

« أَيُّهَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلاقاً فِي غَيْرِ مَابَاسٍ ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَارَائِحَةُ الجَنَّةِ »

’’ جس عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو اسے طلاق لینے پر مجبور کرے ،طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔‘‘ (سنن ابوداؤد : 2226)

اس طرح رسول اللہ ﷺ نے خواتین کے تابناک مستقبل کے لئے نمایاں تعلیمات دی ہیں، جس کا پڑھنا اور سمجھنا اور جاننا ہر مسلم خاتون کے لئے لازم اور ضروری ہے ۔

اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)

٭٭٭

سلو کی ایک شریف طینت شخصیت بھی عقبیٰ کی طرف چل بسی! بہت نیک صفت کے حامل تھے، سلو میں پوجس لین کی مسجد میں بڑا جنازہ۔

ڈڈلی کے ڈاکٹر راجا منیر کے بڑے بھائی جناب عباد محمد ایڈووکیٹ نمونیہ کے مرض میں سلو ہسپتال میں 65 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

مرحوم انتہائی شریف الطبع اور اچھے اخلاق سے متصف تھے، جنازہ میں آئے ہوئے بہت سارے اقارب واحباب و رفقاء کی زبان پر ان کے اخلاق حمیدہ ذکر خیر تھا، پسماندگان میں دو بیٹے وقاص محمد اور وہاب محمد اور اہلیہ سوگوار ہیں۔ سلو مسجد میں پوجس میں بہت بڑا جنازہ تھا اور سلو میں ان کی تدفین عمل میں آئی، سلو کے خان فاروق خان مرحوم کے ہم زلف تھے، جنازہ میں عبد اللہ خالد جنجوعہ، جناب محمد نصیر بھی شریک جنازہ تھے۔ ڈڈلی سے تقریباً سارے ہی رشتہ دار شریک جنازہ تھے، راجا ندیم، حاجی ظفر جنجوعہ، جناب عابد محمود جنجوعہ، جناب آصف محمود زرگر، حاجی ثاقب شبیر، جناب نبیل شبیر، جناب محمد عمر بھی شامل تھے۔

تعزت کرنے والوں میں مولانا شعیب احمد میرپوری، قاری ذکاء اللہ سلیم، مولانا محمد عبد الہادی العمری، حاجی ذوالفقار قریشی، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور دیگر علمائے کرام اور قائدین جمعیہ نے ڈاکٹر راجا منیر سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ کریم مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لغزشوں سےدرگزر فرمائے۔ آمین

زندگی موم ہے جل جل کے پگھل جاتی ہے

اس طرح موت کے سانچے میں وہ ڈھل جاتی ہے

٭٭٭

تبصرہ کریں