رسول اللہ ﷺ کا پیغام مخالفت کرنے والوں کے نام۔ محمد عبد الرحیم خرم عمری جامعی

’مخالفت‘ کے معنی اہل لغت نے یوں بیان فرمائے ہیں:

دشمنی،عداوت، روگردانی، ضد، ہٹ دھرمی، مغائرت، وہ مخالفت جوبلاوجہ یا محض ضد کی بنا پر کی جائے، اسی کو مخالفت برائے مخالفت کہتے ہیں ۔ اس کی جمع مخالفتیں، مخالفتوں آتی ہے اسی سے بعض محاورے معروف ہیں جیسے مخالفت کرنا، یعنی دشمنی کرنا ، بیر رکھنا ، تضاد برتنا ، اختلاف کرنا ، اعتراض کرنا وغیرہ اسی طرح ایک اور محاورہ یوں مستعمل ہے: مخالفت ہونا، یعنی اندھا پن ہونا ، باہم کشید گی ہونا، دشمنی یا عداوت ہونا وغیرہ مخالفت کو عربی زبان میں “مَعَارَضَةٌ، مُخَالَفَةٌ،مُخَاصَمَةٌ” کہتے ہیں۔ اسی طرح انگریزی میں اسے’’ Opposition‘‘کہتے ہیں۔

ایک شاعر ثناء اللہ ظہیرنے کہا:

میں دے رہا ہوں تجھے خود سے اختلاف کا حق

یہ اختلاف کا حق ہے مخالفت کا نہیں

اسی طرح ایک شاعر بشیر بدر نے کہا تھا :

مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے

میں دشمنوں کا بڑا احترام کرتا ہوں

غیر اقوام کے عادات و اطوار کی مخالفت

دین اسلام نے غیر اقوام کے عقائد و اعمال،عادات واطوار ،اوقات و طریقہ عبادات وضع قطع،رسوم ورواج الغرض قدم قدم پرمشرکین و کفار ، یہود ونصاریٰ و مجوس اور اس زمانے میں پائی جانے والی سارے مشرکانہ تہذیب و تمدن اور تشبہات کی عملی مخالفت کی ہے اور امت مسلمہ کو باخبر دار کیا ہے کہ وہ اس پر سختی سے کار بند رہیں۔ مخالفت کے کئی اسلوب ہیں ایک تو یہ کہ مخالفت آوازوں کے ذریعہ سے کی جاتی ہے جیسے احتجاج کرنا ، جلوس نکالنا ، تشدد کرنا وغیرہ جیسا کہ جمہوری ملکون میں ہوتا ہے۔ مخالفت کا دوسرا اسلوب تہذیب و تمدن کے ذریعہ سے ہے اور اسلام نے اسی اسلوب کو ترجیح دیا ہے اس ضمن میں بعض احادیث کا تذکرہ مناسب ہوگا تاکہ مسلمان اس مخالفت کو سمجھ سکیں اور مسلم تہذیب و تمدن کو اس کی اصلی حالت پر برقرار رکھ سکیں یہ انداز و اسلوب دعات الی اللہ کا بھی ذریعہ ہے ۔

1۔اوقات عبادات میں رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی مخالفت کی ہے جیسا کہ قریش کی عادت تھی کہ وہ حج کے ایام میں مزدلفہ سے اپنے اس وقت نکلتے تھے جب سورج طلوع ہو جاتا اور ثبیرپہاڑی پر نہ آجاتا، نبی کریمﷺ نے ان کے اوقات کی مخالفت کی اور سورج طلوع ہونے سے قبل مزدلفہ سے کوچ کیا۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا عمر بیان فرماتے ہیں کہ

«اِنَّ المُشْرِکِیْنَ کَانُوْا لایَفِیْضُوْنَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّی تَشْرُقُ الشَّمْسُ عَلَی ثَبِیْرٍ فَخَالَفَهُمُ النَّبِیَّ ﷺ، فَأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْس»

’’ جب تک دھوپ ثبیر پہاڑی پر نہیں جاتی قریش( حج میں) مزدلفہ سے نہیں نکلا کرتے تھے، نبی کریم ﷺ نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے آپ نے وہاں سے کوچ کیا۔‘‘ (صحیح بخاری:3838 )

اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں ہے سیدنا عمرو بن میمون بیان فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر نے مزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھی تو میں بھی موجود تھا ، نماز کے بعد آپ ٹھرے اور فرمایا:

«إِنَّ المُشْرِکِیْنَ کَانُوْا لایَفِیْضُوْنَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّی تَشْرُقُ الشَّمْسُ عَلَی ثَبِیْرٍ فَخَالَفَهُمُ النَّبِیَّ ﷺ، فَأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْس»

’’ مشرکین ( جاہلیت میں یہاں) سورج نکلنے سے پہلے نہیں جاتے تھے کہتے تھے: اے ثبیر! تو چمک جا ۔ نبی کریم ﷺ نے مشرکوں کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے وہاں سے روانہ ہو گئے۔‘‘ (صحیح بخاری: 1684؛ جامع ترمذی:896 ؛ سنن ابوداؤد:1938؛ سنن نسائی:3050 )

اس مخالفت سے اس بات کی تعلیم ملتی ہے کہ عبادت ، مراسم، معاملات میں مشرکین کے اوقات کی مخالفت کرنی چاہئے لیکن افسوس ہے امت مسلمہ پر کہ وہ عبادات و معاملات اور عیدین کی ادائیگی میں اب مشرکین کی موافقت کرنے لگے ہیں جیسے عصر کی نماز کو انتہائی تاخیر سے ادا کرنا ، افطار کو تأخیر سے ادا کرنا ، نکاحوں میں تاخیر کرنا وغیرہ۔

2۔عادات و اطوار، وضع و قطع میں رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی مخالفت کا حکم دیا ہے مشرکین داڑھیاں منڈایا کرتے تھے اور مونچھیں چھوڑ دیا کرتے تھے اس وضع قطع کی رسول اللہ ﷺنے نہ صرف مخالفت کی بلکہ مخالفت کا حکم دیا جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«خَالِفُوْا لمُشْرِکِیْنَ أَخْفُوْا الشَّوَارِبَ، أَوْفُوْا اللِّحَی»

’’مشرکوں کی مخالفت کرو، مونچھیں اچھی طرح ترشواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔‘‘ (صحیح مسلم:602 )

اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے، سیدنا ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«جُزُّوْا الشَّوَارِبَ، وَ أَرْخُوْا اللِّحَی خَالِفُوْا المَجُوْسَ»

’’ مونچھیں اچھی طرح کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ ،مجوس کی مخالفت کرو ۔‘‘ (صحیح مسلم :603 )

اس حدیث کی روشنی میں کوئی بھی مسلمان اپنی مونچھوں کو مشرکین کے وضع قطع کی طرح نہیں بڑھا سکتا اور نہ داڑھی مونڈ سکتا ہے، اسے داڑھی کو اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے اور مونچھوں کو پست کروانا چاہئے کیونکہ یہ حکم نبویﷺ ہے اور اس عمل کا مقصود مشرکین کی مخالفت ہے۔ بہت سے مسلمان ہیں جو داڑھی بھی مونڈتے ہیں اور مونچھیں یا تو مونڈتے ہیں یا تو تاؤ دے کر رکھتے ہیں۔ مشرکین کی تہذیبی و ثقافتی مخالفت ہونی چاہئے ، اگر تہذیبی و تمدنی و ثقافتی مخالفت نہ ہو تو ہر قسم کی مخالفت بے وزن وبےفیض ہوجاتی ہے۔

اس حدیث سے ایک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سماجی مخالفت اختیار کرنے کی تعلیم دین اسلام دیتا ہے۔ ہم مشرکین کی کتنی ہی بڑی جماعت میں جلوہ افروز ہوں ہمارا حلیہ و بشریٰ اسلامی ہونا چاہئے۔ اس سے فطرتاً ان کی مخالفت ہوگی۔ اس وقت بھی بعض مسلمان ہیں جو ایوانوں میں مشرکین کے روبرواسلامی حلیہ و بشریٰ اور اسلامی کلمات کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کی ہمت و بہادری کو سلام ۔

3۔ روزہ عبادت کی ایک قسم ہے جس سے روح کی تربیت ہوتی ہے مسلمانوں کے نزدیک بعض روزے فرض ہیں ، بعض سنت ہیں اور بعض نفل ہیں۔ انہی روزوں میں سے ایک عاشورہ کا روزہ بھی ہے، جسے یہود بھی رکھا کرتے تھے۔ یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے میں یہود کی مخالفت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ شریف لے گئے تو10محرم کو یہود حالت روزہ میں تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا : یہود کیوں روزہ رکھے ہوئے ہیں ؟ تو آپ کو اس بات سے واقف کروایا گیا۔۔۔۔ یہ سن کرآپﷺ نے فرمایا : ’’ یہود سے زیادہ مسلمان اس روزے کے حقدار ہیں کیونکہ سیدنا موسیٰ ہمارے بھی نبی ہیں، تو آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ آئندہ محرم میں دو روزے رکھیں اور یہود کی مخالفت کریں۔‘‘

جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں:

«أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِصَوْمِ عَاشُوْرَاءَ یَوْمَ العَاشِرِ»

’’ رسول اللہ ﷺ نے (محرم کی)دسویں تاریخ کو روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے ۔‘‘ (جامع ترمذی: 755)

اہل علم نے عاشوراء سے متعلق اختلاف کیا ہے بعض نے کہا کہ عاشوراء نویں دن ہے اور بعض نے کہا کہ دسویں دن ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں:

«صُوْمُوْا التَّاسِعَ وَالعَاشِرَ وَخَالِفُوْا الیَهُوْدَ»

’’نویں اور دسویں دن کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو ۔‘‘ (جامع ترمذی: 755 )

4۔ جب انسان وفات پاجاتا ہے تو ہم تجہیز وتکفین کے بعد نماز جنازہ ادا کرتے ہیں اور اسے دفن کر نے کے لیے قبرستان لے جاتے ہیں اور جب تک میت کو قبر میں اتار نے کا عمل مکمل نہیں ہوتا، اس وقت تک ہم سب قبر کے اطراف کھڑے رہتے ہیں اور تدفین کے عمل کا نظارہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ عمل یہودیوں کی موافقت والا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس عمل میں بھی یہود کی مخالفت کی ہے اور امت کو حکم دیا کہ تدفین کے عمل کے دوران یہودی کھڑے رہتے ہیں لہٰذا تم بیٹھ جاؤ اور بیٹھ کر یہودیوں کے عمل کی مخالفت کرو۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا عبادہ بن صامت بیان فرماتے ہیں :

«إِذَاِتَّبَعَ الجَنَازَةَ لَمْ یَقْعُدْ حَتَّی تُوْضَعَ فِیْ اللَّحْدِ، فَعَرَضَ لَهُ حَبْرٌ، فَقَالَ هٰکَذَا نَصْنَعُ یَا مُحَمَّدُ! قَاَل:فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَقَالَ خَالِفُوْهُمْ»

’’ جب رسول اللہ ﷺ کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو جب تک جنازہ لحدمیں رکھ نہ دیا جاتا نہیں بیٹھتے ۔ ایک یہودی عالم نے آپ کے پاس آ کر کہا : محمد! ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ بیٹھنے لگے اور فرمایا: ’’ تم ان کی مخالفت کرو۔‘‘ (جامع ترمذی:1020)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہود و نصاری ، مجوس ومشرکین الغرض تمام تہذیبوں کی عادات و اطوار، مراسم و رواج ، وضع قطع میں مخالفت کرنی چاہئے- اس مخالفت کا معنی یہ نہیں کہ تفریق بین الادیان والمذاهب ہے، بلکہ اسلام کے عادات و اطوار ، رسوم و رواج کو سب پر فوقیت دینا ہے کیونکہ سب سے جدید مذہب اسلام ہے، وہ ادیان و ملل کی تاریخ میں سب سے آخری ہے، لیکن افسوس کہ آج مسلمان تہذیب و تمدن وثقافت میں یہود ونصاری اور مشرکین کے نقش قدم پر چل رہے ہیں جس کو ’’ زمانے کے تقاضے‘‘ کا نام دے رکھاہے۔ اسی لئے سال گرہ کی تقاریب ، کیک کاٹنا، غیروں کی عیدوں جیسے پٹاخے پھوڑنا، چراغاں لگانا، راکھی باندھنا، پتنگیں اڑانا، ڈانڈیا کھیلنا، مشرکانہ عیدوں پر ان کی موافقت، مخلوط تعلیم و بے پردگی وغیرہ اب ہماری عادتیں بن چکی ہیں ۔

5۔ وہ مسلمان جو دین اسلام کی تعلیمات میں تقدیم وتأخیر کرتے ہیں یا سنتوں و فرائض کو آگے پیچھے کر دیتے ہیں ان کی بھی مخالفت ہونی چاہئے مثلا اگر کوئی آدمی نماز جنازہ میں پہلے تدفین کا عمل اختیار کرے گا اور نماز بعد میں پڑھے گا تو اس کا یہ عمل سنت کے خلاف ہوگا اس کی مخالفت کی جائیگی ،کیونکہ میت کو پہلے غسل دیا جائیگا ،پھر کفن پہنایا جائیگا پھر نماز جنازہ ادا کی جائیگی اور پھر تدفین کا عمل اختیار کیا جائیگا، اسی طرح جمعہ کے دن پہلے خطبہ دینا سنت ہے پھر دو رکعت نماز پڑھنا چاہیے، اگر خطیب یہ کہے کہ مجھے بہت مصروفیت ہے، لہٰذا پہلے نماز ادا کر لیں گے، پھر خطبہ دیا جائیگا ، یا یہ کہے کہ میں جمعہ کی چار رکعت نماز پڑھاؤں گا یا پڑھوں گا تو اس کی مخالفت کی جائیگی کیونکہ وہ سنت کے خلاف کر رہا ہے، اسی طرح اگر کوئی خطیب عیدین کی نماز میں یہ کہے کہ میں پہلے خطبہ دوں گا پھر نماز پڑھاؤں گا تو اس کی مخالفت کی جائیگی کیونکہ وہ سنت رسول کے خلاف کر رہا ہے عیدین میں سنت یہ ہے کہ پہلے عید کی دو رکعت نماز ادا کی جائیگی پھر خطبہ دیا جائیگا پھر دعا کی جائیگی اسی طرح اگر کوئی آدمی نماز فرض چل رہی ہو اور وہ سنت پڑھنے کے لئے کھڑا ہو جائے تو اس کی مخالفت کی جائیگی کیونکہ وہ سنت کے خلاف کر رہا ہے اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کے خلاف کرتے ہیں۔ ان کی مخالفت کی جائیگی جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ایک واقعہ منقول ہے:

سیدنا طارق بن شہاب بیان فرماتے ہیں کہ

’’سب سے پہلے عید کے دن خطبے کو نماز پر مقدم کرنے والے مروان بن حکم تھے ایک آدمی نے کھڑے ہوکر مروان بن حکم سے کہا ، آپ نے سنت کی مخالفت کی ہے ۔ مروان نے کہا :

“یَا فُلَانٌ! تُرِكَ مَاهُنَالِكَ.”

’’ اے فلاں ! چھوڑ دی گئی وہ سنت جسے تم ڈھونڈتے ہو۔‘‘

یہ سن کر سیدنا ابو سعید خدری نے فرمایا:

“أَٔمَّا هٰذَا فَقَدْ قَضَی مَاعَلَیْهِ”

’’ اس شخص نے اپنا فرض پورا کردیا۔‘‘

میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :

«مَنْ رَأَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُنْکِرْہُ بِیَدِہِ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلَسَانِهِ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَالِكَ أَضْعَفُ الإِیْمَانِ»

’’ جو شخص کوئی برائی دیکھے تو چاہئے کہ اس برائی کو اپنے ہاتھ سے بدل دے ، جسے اتنی طاقت نہ ہو وہ اپنی زبان سے اسے بدل دے اور جسے اس کی طاقت بھی نہ ہو وہ اپنے دل میں اسے برا جانےاور یہ ایمان کا سب سے کمتر درجہ ہے۔‘‘ (جامع ترمذی: 2171؛ سنن ابوداؤد:1140 ؛ سنن ابن ماجہ:4013 )

5۔غیر اقوام اپنی عبادات کے موقع پر جوتے اور موزے اتار دیتے ہیں بلکہ جوتے دور چھوڑ کر آتے ہیں اور جوتے میں مقدس مقام پر آنے کو توہین سمجھتے ہیں جیسا کہ یہ عقیدہ ہمارے برادران وطن میں پایا جاتا ہے، یہ قدیم عقیدہ ہے جسے یہودی اختیار کئے ہوئے تھے، ان یہودیوں کی مخالفت میں رسول اللہﷺ نے جوتوں اور موزوں میں نماز پڑھنے کا حکم دیا یہ مشرکین کے عادات و اطوار اور عقیدہ کی مخالفت ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ

سیدنا شداد بن اوس بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«خَالِفُوْا الیَهُوْدَ فَإِنَّهُمْ لا یُصَلُّوْنَ فِیْ نِعَالِهِمْ وَلاخِفَافِهِمْ»

’’یہودیوں کی مخالفت کرو یہ لوگ اپنے جوتوں یا موزوں میں نماز نہیں پڑھتے ہیں۔‘‘ (سنن ابو داؤد:625 )

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جوتے اور موزے میں نماز پڑھنا جائز ہے، یہ عمل قیامت تک جاری رہے گا اور جاری رکھنا چاہئے۔ آج کل مساجد میں قیمتی فرش اور قیمتی جائے نمازیں بچھائی جاتی ہیں، ایسے میں ہم جوتوں میں نماز پڑھیں گے تو لوگوں کو اعتراض ہوگا؟ کہ کہیں جائے نمازیں گندی نہ ہوجائیں ! ویسے جوتے میں گندگی لگ جاتی ہے وغیرہ ۔

یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ جوتوں کا حکم نہیں بدلے گا، بلکہ انداز عمل بدلے گا جیسا کہ اہل عرب کرتے ہیں۔ اپنے روز مرہ استعمال کئے جانے والے جوتوں کے علاوہ وہ اپنے جیب میں اپنے ساتھ چمڑے کے جوتے رکھ کر لاتے ہیں ، جیسے ہی مسجد میں داخل ہوتے ہیں اپنے پہنے ہوئے جوتے چھوڑ دیتے ہیں اور جیب سے دوسرے جوتے نکال کر پہن لیتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اس سے کراہت ختم ہوجائے گی ۔ اگر آپ کسی میدان میں ہوں، جنگل میں ہوں تو اپنے جوتے مٹی میں گھس کر صاف کر لیں گے اور نماز پڑھیں گے۔ نماز کے لئے جوتوں کو اتارنے کی ضرورت نہیں ۔ اس عمل کا مقصد یہودیوں کی مخالفت ہے۔

افسوس کہ دینی معلومات کی کمی کے سبب بعض نادان مسلمان اس کی مخالفت کرتے ہیں ،ان کی یہ مخالفت رسول اللہ ﷺ کی مخالفت متصور ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ایسی مخالفت سے ہماری حفاظت فرمائے ۔

7۔سر کے بال انسان کی خوبصورتی کو قائم رکھتے ہیں بالخصوص کالے بال انسان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں جب کسی کے بال سفید ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی سفیدی کو چھپانے کے لئے دوسرے ہمہ قسم کے رنگ لگاتے ہیں۔ جس کی رسول اللہ ﷺ نے اجازت دی ہے سوائے کالے خضاب کے ، کالا خضاب لگانا حرام ہے، دوسرے رنگوں کا خضاب استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بعض صحابہ کرام بھی لگایا کرتے تھے۔ بالوں کو یہود و نصاری خضاب نہیں لگایا کرتے تھے، اس کی مخالفت میں رسول اللہ ﷺ نے مختلف رنگوں کے خضاب لگانے کا حکم دیا ہے کہ یہود ونصاری کی سماجی و تہذیبی مخالفت کی جائے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«اِنَّ الیَهُوْدَ وَالنَّصَارَیٰ لایَصْبَغُوْنَ فَخَالِفُوْهُمْ»

’’ یہود اور عیسائی اپنے بالوں کو نہیں رنگتے ہیں تم ان کی مخالفت کیا کرو ۔ ( یعنی اپے بالوں کو رنگو)۔‘‘

(سنن ابو داؤد:4203 ؛ سنن نسائی:5074،5072 ،5075 ،5243 ؛ سنن ابن ماجہ: 3621 )

8۔ عہد نبوی میں نماز کے لئے مسلمانوں کو اوقات نماز سے آگاہ کرنے کے لئے کوئی نظام نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے مشورہ طلب کیا کہ کس طرح لوگوں کو پنج وقت نمازوں کے لئے جمع کیا جائے؟

مختلف آرائیں آئیں رسول اللہ ﷺ نے ہر اس مشورہ کو رد کردیا جو کسی نہ کسی قوم و مذھب کے تشبہ میں تھا، جس کا تذکرہ اس حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان فرماتے ہیں:

’’ جب مسلمان ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کرکے نماز کے لئے آتے تھے، اس کے لئے اذان نہیں دی جاتی تھی، ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا، کسی نے کہا کہ

“اِتَّخِذُوْا نَاقُوْساً مِثْلَ نَاقُوْسِ النَّصَارَیٰ.”

’’نصاری کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے ۔‘‘

اورکسی نے کہا کہ

“بَلْ بُوْقاً مِثْلَ قَرْنِ الیَهُوْدِ.”

’’یہودیوں کی طرح’’ بوقا‘‘ یعنی نرسنگا پھونکا کرو۔‘‘

اور سیدنا عمر نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

“أَوَلا تَبْعَثُوْنَ رَجُلاً یُنَادِیْ بِالصَّلاَةِ.”

’’کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لئے آواز لگادیا کرے ، اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«یَابِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ»

’’بلال اٹھو! اور نماز کے لئے اذان دو۔‘‘ (صحیح بخاری:604،606 )

ہر مشورہ کو رسول اللہ ﷺ نے رد کیا۔ بالآخر اذان کے مبارک کلمات نافذ ہوئے، جو قیامت تک جاری رہیں گے ۔

لیکن افسوس ہے آج کے مسلمانوں پر جوافطار و سحر کے اوقات کے لئے اذا ن کے کلمات کو معیوب سمجھتے ہیں اور سائرن کو نصب کر لیا جو سراسر خلاف شرع ہے، رسول اللہ ﷺ سحری کے لئے اذان دیا کرتے تھے۔

مخالفت کے اسباب

پہلا سبب: مخالفت کا مزاج پیدا ہونے کے مختلف اسباب ہیں، ان میں سے ایک سبب نمازوں میں اپنی صفوں کو درست نہیں کرنا ہے، نماز کے لئے جب صف بندی کی جاتی ہے، تو امام کو چاہئے کہ مقتدیوں کی اچھی طرح صف بندی کروائیں ، ان کے قدم سے قدم ملائیں اور کندھے سے کندھا ملاکر اس طرح ٹھرائیں کہ صف کے درمیان جگہ خالی نہ رہے ، لیکن افسو س کہ اکثر مسلمان نمازوں میں صف بندی درست نہیں کرتے، قدموں کے درمیان جگہ چھوڑتے ہیں اور بعض لوگ چار انگل کا فاصلہ چھوڑنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ان کا یہ عمل سنت رسول ﷺ کے خلاف ہے کیونکہ صف بندی اس طرح کرنی چاہئے جیسے سیسہ پگھلائی ہوئی دیوار ہو۔ نمازوں کا یہ خلل ہمارے دلوں میں مخالفت کا مزاج پیدا کرتا ہے کیونکہ اس عمل کے سبب اللہ تعالیٰ دلوں میں ایسی کیفیت ڈال دیتا ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ

سیدنا نعمان بن بشیر بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی طرف اپنا رخ کیا اور فرمایا:

«أَقِیْمُوْا صُفُوْفَکُمْ ثَلاثًا، وَاللّٰہِ لَتُقِیْمُنَّ صُفُوْفَکُمْ أَوْلَیُخَالِفَنَّ اللّٰہُ بَیْنَ قُلْوبَکُمْ»

’’ اپنی صفیں برابر کرلو۔‘‘

آپﷺ نے یہ تین بار فرمایا: ’’ قسم ہے اللہ کی یا تو تم اپنی صفوں کو برابر رکھوگے یا اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں مخالفت پیدا کردے گا ۔‘‘

سیدنا نعمان کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ ایک آد می اپنے کندھے کو اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ ، اپنے گھٹنے کو اپنے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنے ٹخنے کو اپنے ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ ملا کر اور جوڑ کر کھڑا ہوتا ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد:662 )

اسی طرح ایک دوسری حدیث شریف میں یہ الفاظ بیان کئے گئے ہیں کہ سیدنا نعمان بن بشیر بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہمیں صفوں میں ایسے برابر اور سیدھا کیا کرتے تھے جیسے کہ تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ جب آپ کو یقین ہوگیا کہ ہم نے آپ سے یہ درس لیا ہے اور اسے خوب سمجھ لیا ہے تو ایک دن آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی اپنا سینہ صف سے آگے نکالے ہوئے ہے آپ نے فرمایا :

«لَتَسُوَّنَّ صُفُوْفَکُمْ أَوْ لَیُخَالِفَنَّ اللّٰہُ بَیْنَ وُجُوْهِکُمْ»

’’ قسم اللہ کی ! تم لوگ یاتو صفوں کو برابرکرو گے یااللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے مابین مخالفت پیدا کر دے گا۔‘‘ ( سنن ابو داؤد:663 ؛ سنن نسائی:811 )

صف بندی میں استقامت نہ ہوتو دلوں میں موافقت کیسی رہ سکتی ہے؟ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مخالفت اللہ کی جانب سے باعث آزمائش ہے، شائد اسی وجہ سے ہمارے دلوں میں ٹیڑھا پن اور مخالفت پائی جاتی ہے۔ سنت رسول اور احکام رسول پر عمل ہی دلوں کو سیدھا کرتا ہے۔

دوسرا سبب:مخالفتوں کا ایک سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض گروہ، جماعتیں، فرقے، یا شخصیات آپس میں عہد و پیمان کرتے ہیں، وہ عہد و پیمان قومی سلامتی اور امن عامہ کی خاطر ہوتے ہیں، وہ عہد و پیمان باہمی تجارت و لین دین کے لئے ہوتے ہیں ، جب عہد وپیمان و معاہدات کئے جائیں تو اس کا پاس و لحاظ رکھنا چاہئے چاہے وہ معاہدات مسلمان سے کئے جائیں یا غیر مسلموں سے ۔ جب عہد و پیمان کے باوجود چوری سے عہد کو توڑا جاتا ہے، تو آپس میں مخالفتیں بڑھ جاتی ہیں اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے اس حدیث مبارکہ کو اچھی طرح سمجھنے کو کش کریں۔ سیدنا مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے منقول ہے کہ

“إنهم اِصْطَلَحُوْا علی وضع الحرب عشر سنین، یأمن فیهن الناس وعلی أن بیننا عیبة مکفوفة وأنه لااسلال ولا اغلال.”

’’قریش نے اس بات پر صلح کی کہ 10 سال تک کوئی جنگ نہیں ہوگی لوگ اس مدت میں پُر امن رہیں گے ، ہم دونوں فریقوں کے دل صاف رہیں گے، چوری چھپے یا خیانت سے اس کی مخالفت نہ ہوگی۔‘‘ (سنن ابو داؤد:2766 )

داڑھی ، اذان میں مخالفت،عاشرہ میں مخالفت، سحری میں یہود کی مخالفت

حق پرست گروہ کی مخالفت:

مخالفت یہ نہیں سوچتی کہ کیا حق ہے ؟اورکیا باطل ہے؟ کون حق پر ہے ؟اورکون باطل پر؟ مخالفت تو اندھی ہوتی ہے اسی اندھے پن میں انسان حق کی، اللہ کے احکام کی، کتاب وسنت کی، اللہ کے دین کی مخالفت کر بیٹھتا ہے، کیونکہ مخالفت کرنا اس کے دل و دماغ میں بسا رہتا ہے، کسی کو کسی کے نام سے ہی مخالفت رہتی ہے، کسی کو کسی انسان سے ہی مخالفت رہتی ہے، غیر اقوام کو مسلمان پسند نہیں آتے۔ اسی لئے وہ لفظ مسلم ہی سے نفرت کرتے ہیں اور مخالفت پر کاربند رہتے ہیں یہ ان کا وطیرہ ہے ہر نبی نے اسی مخالفت کا سامنا کیا اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اسی طرح مسلمان ہوتے ہوئے ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے مسلکی تعصب کے سبب مخالفت میں اندھا ہوچکا ، اسی اندھے پن میں وہ کسی بھی چیز کو خاطر میں نہیں لاتا، کبھی اللہ کی مسجدوں ہی کو منہدم کر بیٹھتا ہے، مدارس کو خاکستر کر دیتا ہے، حکام کے آگے چغلیاں کھاتا ہے، گالی گلوچ کرتا رہتا ہے۔

ہر دور میں حق گو گروہ کے ساتھ ایسی مخالفتیں اختیار کی جاتی رہیں گی اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا لیکن باطل کی یہ مخالفت حق گو گروہ کو کمزور و سرنگوں نہیں کر پائیگی جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

سیدنا معاویہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، آپ فرمارہے تھے کہ

«لاَیَزَالُ مِنْ أُمَّتِیْ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللّٰہِ لَایَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، وَلامَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّی یَأْتِیَهُمْ أَمْرُ اللّٰہِ وَهُمْ عَلَی ذٰالِكَ»

’’میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت پر قائم رہے گا، انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والے اور اسی طرح ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے گی اور وہ اسی حالت پر رہیں گے۔ عمیر نے بیان کیا کہ اس پر مالک بن یخامر نے کہا کہ سیدنا معاذ بن جبل نے کہا تھا کہ ’’ہمارے زمانے میں یہ لوگ (ملک) شام میں ہیں۔‘‘ سیدنا امیر معاویہ نے کہا کہ دیکھو یہ مالک بن یخامر موجود ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے معاذ بن جبل سے سنا کہ یہ لوگ شام کے ملک میں ہیں۔‘‘ ( صحیح بخاری:3641؛ سنن ابن ماجہ:7 ،10)

اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ

سیدنا حمید بن عبد الرحمن بیان فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ

«مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِهِ خَیْرًا یُفَقِّهُ فِیْ الدِّیْنِ، وَاِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہُ یُعْطِیْ، وَلَنْ تَزَالَ هذِہِ الأمَّةُ قَائِمَةٌ عَلَی أَمْرِ اللّٰہِ لایَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّی یَأْتِیَ أَمْرُ اللّٰہِ.»

’’ جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا تو اللہ ہی ہے اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا ، انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم ( قیامت) آجائے۔‘‘ ( صحیح بخاری: 71 )

غیر اسلامی قیادت کی مخالفت

غیر اسلامی طرز پر قائم ہونے والی امارت کی مخالفت کرنا جائز ہے یعنی مسلمانوں کا امیر مجلس شوری کے مشورے سے مقرر ہو، خود ساختہ امیر، خود ساختہ امارت کی مخالفت کی جا سکتی ہے کیونکہ قیادت اللہ کی امانت ہے جو لوگ مشورہ سے امیر بنائے جاتے ہیں اللہ ان کی نصرت و مدد کرتا ہے جو لوگ اسلامی تعلیمات کو فراموش کر کے بحیثیت امیر مسلط ہو جاتے ہیں اللہ ان سے ناراض ہوجاتا ہے۔

اس ضمن میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔

جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ

سیدنا عمر دوران خطبہ فرمایا تھا :

“وَ إِنَّا: وَاللّٰہِ مَا وَجَدْنَا فِیْمَا حَضَرْنَا مِنْ أَمْرٍ أَقْوَی مِنْ مُبَایَعَةِ أَبِیْ بَکْرٍ، خَشِیْنَا إِنْ فَارَقْنَا القَوْمَ وَلَمْ تَکُنْ بَیْعَةٌ، أَنْ یُبَایِعُوْا رَجُلاً مِنْهُمْ بَعْدَنَا، فَأَمَّا بَایَعْنَاهُمْ عَلَی مَا لَانَرْضَی، وَ إِمَّا نُخَالِفُهُمْ فَیَکُوْنُ فَسَادٌ، فَمَنْ بَایَعَ رَجُلاً عَلَی غَیْرِ مَشْوَرَةٍ مِنَ المُسْلِمِیْنَ، فَلایُتَابَعُ هُوَ وَلَا الَّذِیْ بَایَعَهُ تَغِرَّةً أَنْ یُقْتَلاَ.”

’’سیدنا ابو بکر صدیق کی خلافت سے زیادہ کوئی چیز ضروری معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ہم کو ڈر پیدا ہوا کہیں ایسا نہ ہو ہم لوگوں سے جدا رہیں اور ابھی انہوں نے کسی سے بیعت نہ کی ہو وہ کسی اور شخص سے بیعت کر بیٹھیں جب دو صورتوں سے خالی نہیں ہوتا یا تو ہم بھی جبراً و قہراً اس سے بیعت لیتے یا لوگوں کی مخالفت کرتے تو آپس میں فساد پیدا ہوتا، دیکھو پھر یہی کہتا ہوں جس کسی شخص سے بن سوچے سمجھے ،بن صلاح ومشورے بیعت کر لے تو دوسرے لوگ بیعت کرنے والے کی پیروی نہ کرے، نہ اس کی جس سے بیعت کی گئی ہے کیونکہ وہ دونوں ابھی جان گنوائیں گے۔‘‘ ( صحیح بخاری:6830 )

مخالفت کرنے والوں کی مثال

مخالفت برائے مخالفت ہی ہوتی ہے جس میں اصلاح کا پہلو نہیں ہوتا، کیونکہ مخالفت اندھی ہوتی ہے جس میں ظلم،تشدد ساری چیزیں پنہاں رہتی ہیں۔ اسی لئے مخالفت کرنے والا نہ صرف اپنی ذات میں برا اور نقصان دہ ہوتا ہے بلکہ وہ قوم و ملت کا بیڑہ بھی غرق کر دیتا ہے، اسے قوم و ملت کی کوئی فکر نہیں رہتی وہ تو صرف اپنے ذاتی مفادات کے لئے جیتا ہے، وہ حکمتوں اورمصلحتوں اور دانشمندی سے مبراہوتا ہے۔

حدیث شریف میں اس کی ایک مثال دی گئی ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مَثَلُ القَائِمِ حُدُوْدِ اللّٰہِ وَالمُدْهِنِ فِیْهَا، کَمَثَلِ قَوْمٍ اِسْتَهَمُّوْا عَلَی سَفِیْنَةٍ فِیْ البَحْرِ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلاهَا، وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا، فَکَانَ الَّذِیْنَ فِیْ أَسْفَلِهَا یَصْعَدُوْنَ فَیَسْتَقُوْنَ المَاءَ فَیَصُبُّوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ فِیْ أَعْلَاهَا، فَقَالَ الَّذِیْنَ فِیْ أَعْلاهَا: لَانَدْعُکُمْ تَصْعَدُوْنَ فَتُؤْذُوْنَنَا، فَقَالَ الَّذِیْنَ فِیْ أَسْفَلِهَا: فَإنَّا نَنْقُبهَا مِنْ أَسْفَلِهَا فَنَسْتَقِیْ فَإِنْ أَخَذُوْا عَلَی أَیْدِیْهِمْ فَمَنَعُوْهُمْ نَجَوْا جَمِیْعًا، وَاِنْ تَرَکُوْاهُمْ غَرَقُوْاجَمِیْعًا.»

’’اللہ کے حدود پر قائم رہنے والے( یعنی اس کے احکام کی پابندی کرنے والے) اور اس کی مخالفت کرنے والوں کی مثال اس قوم کی طرح ہے جو قرعہ اندازی کے ذریعہ ایک کشتی میں سوار ہوئی بعض لوگوں کو کشتی کے بالائی حصے میں جگہ ملی اور بعض لوگوں کو نچلے حصے میں، نچلے طبقے والے اوپر چڑھ کر پانی لیتے تھے تو بالائی طبقے والوں پر پانی گر جاتا تھا ، لہٰذا بالائی حصے والوں نے کہا ، ہم تمہیں اوپر نہیں چڑھنے دیں گے تاکہ ہمیں تکلیف پہنچاؤ ، (یہ سن کر) نچلے حصے والوں نے کہا : ہم کشتی کے نیچے سوراخ کر کے پانی لیں گے، اب اگر بالائی طبقے والے ان کا ہاتھ پکڑ کر روکیں گے تو تمام نجات پاجائیں گے اور اگر انہیں ایسا کرنے سے منع نہیں کریں گے، تو تمام کے تمام ڈوب جائیں گے ۔‘‘ (جامع ترمذی:2173 )

مخالفت کا ایک انداز

مخالفت کا ایک انداز یہ بھی ہے آدمی آزمائش کے لئے سوالات کرتا رہتا ہے وہ کوئی مسئلہ کسی عالم سے پوچھتا ہے اور مطمئن نہیں ہوتا پھر وہی سوال دوسرے عالم سے پوچھتا ہے اور اپنی زبان سے یہ کہتا بھی ہے کہ میں نے آپ سے قبل فلاں عالم سے یہ سوال کیا ہے ۔ یہ انداز ایک دوسرے کی مخالفت کا جذبہ پیدا کرتا ہے صحابہ کرام کے اس انداز کو مخالفت پر محمول کیا ہے، جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا حارث بن عبد اللہ بن اویس کہتے ہیں :

’’ میں سیدنا عمر بن الخطاب کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا کہ جو عورت قربانی والے دن طواف کر چکی ہو ، تو پھر اسے حیض آجائے تو کیا؟

سیدنا عمر نے کہا :

’’چاہئے کہ اس کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہو ۔‘‘

یہ سن کر سیدنا حارث نے کہا رسول اللہ ﷺ نے بھی مجھ سے ایسے ہی فرمایا تھا ۔ ( ان کایہ جواب سن کر) سیدنا عمر نے فرمایا:

“أَرِبْتَ عَنْ یَدَیْكَ، سَأَلْتَنِیْ عَنْ شَیٍٔ سَأَٔلْتَ عَنْهُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لَکَیْ مَا أَخَالِفَ.»

’’ تیرے ہاتھ گر جائیں ، مجھ سے وہ بات پوچھتا ہے جو پہلے رسول اللہ ﷺ سے پوچھ چکا ہے تاکہ میں ان کی مخالفت کروں۔‘‘ ( سنن ابو داؤد:2004 )

شاید ایسے ہی افراد کی وجہ سے ملت اسلامیہ کے علماء میں باہمی اختلاف و انتشار بپا ہے ایک عالم دوسرے عالم سے مطمئن نہیں ، شہہ نشین پر تمام علماء تو بیٹھتے ہیں لیکن ان کے قلوب منتشر ہوتے ہیں عوام میں وہ ایک دوسرے کی مخالفت اور چغلی کھاتے رہتے ہیں یہ فساد ایسے افراد کی دین ہے جو آزمائشی سوالات کرکے علماء میں باہمی تناؤ پیدا کرتے ہیں کہ آپ تو ایسے کہتے ہیں انہوں نے ایسے کہا ۔ یہ مخالفتوں کا نرالا انداز ہے صحابہ کرام نے اسے پسند نہیں کیا۔

٭٭٭

تبصرہ کریں