رسول اللہ ﷺکا پیغام مسلمانوں کے نام۔ محمد عبد الرحیم خرم عمری جامعی

رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور آپ کی تعلیمات انسانی سماج کے تمام طبقات کے لئے عام ہیں جو چاہے ان تعلیمات سے استفادہ کرلے اور اپنے آپ کو کامیاب بنائے ، رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر چلنے والا ہر طبقہ و سماج ترقی پذیر رہے گا، چاہے وہ ایمان لے آئیں یانہ لائیں ، ایمان کا قبول کرنا یا نہ کرنا آزادی فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ اسلام نے کسی پر کوئی جبروز بر دستی نہیں کی ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہی اتنی پُر اثر ہیں کہ اللہ کی توفیق ہو تو وہ ہدایت یافتہ ہو سکتا ہے، اگر توفیق الٰہی نہ ہو تو وہ مخالف اسلام تو نہ رہے گا۔

رسول اللہ ﷺ نے ایک صالح سماج کی تشکیل دی ہے جس کے لئے 23 سال تک عملی جدو جہد کی اور ایک مثالی معاشرہ تشکیل دیا ہے جسے ” مسلم سماج‘‘ اور ’’امت مسلمہ‘‘کہا جاتا ہے اور اس کے متوالے ’’مسلمان‘‘کہلاتے ہیں جس کا معنی ’’اللہ اور اس کے رسول کے مطیع وفرمانبردار‘‘ کے ہیں۔

مسلمان گزشتہ ساڑھے چودہ سوسال سے ثلث عالم پر کامیاب حکمرانی کرتے آئے ہیں۔ شرق و غرب کا کوئی بھی بر اعظم ان کی حکمرانی سے خالی نہ رہا جورسول اللہ ﷺ کی جانب سے کی جانے والی اخلاقی ، معاشرتی تمدنی اور ثقافتی تربیت کا نتیجہ رہا، جب تک سلاطین اسلامیہ اپنے رسول کے بنائے ہوئے اصول و ضوابط پر رو بہ عمل رہے ،کامیاب وکامران رہے، اس وقت بھی وہ اقلیت ہی میں تھے، اور جب انہوں نے نظام مصطفوی کو ترک کیا اور اسلامی تعلیمات کو فراموش کر دیا، اسوہ صحابہ سے اپنے دامن کو دور کرلیا تو اللہ نے انہیں داستان عبرت بنادیا اور یہ سنت الٰہی ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں یوں کیا گیا ہے کہ :

﴿فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ﴾

’’پھر ان کے بعد ایسے اطاعت نہ کرنے والے پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کر دی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے ،سوان کا نقصان ان کے آگے آئے گا۔‘‘ (سورہ مریم: 59)

اسی لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام امور و معاملات جیسے سیاست ،معیشت، معاشرت ،تجارت تعلیم و تربیت، عدل و انصاف و مساوات کو نظام مصطفیٰ ہی سے وابستہ رکھیں، اس میں فلاح و کامیابی اور آخرت کی نجات ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے امت مسلمہ کی بہترین تعلیم و تربیت کے ذریعہ انہیں ایک مثالی امت بنایا، چند تعلیمات کا تذکرہ ضروری ہے۔

1۔ مسلمان کے باہمی حقوق :

مسلمان کی فلاح و کامرانی اسی میں ہے کہ وہ باہمی حقوق کی پاسداری کریں جب تک باہمی حقوق ادا نہیں کئے جائیں گے آپس میں افتراق و انتشار اور کدورتیں برقرار رہیں گی اور وہ سماج ترقی پذیر نہیں ہو سکتا، اسلام سے قبل جاہلی سماج میں باہمی حقوق کا استحصال کیا جاتا رہا، اور اسی سماج سے اسلام مخاطب ہوا، جو بھی نوراسلام سے منور ہوئے وہ یہی تھے اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے انہیں حقوق کی اہمیت سمجھائی اور ملت اسلامیہ کو اس بات کی تعلیم دی کہ

«حَقُّ المُسْلِمِ عَلَى المُسْلِمِ سِتٌ : إِذَا لَقِيْتَهُ فَسَلَّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَاعَطَسَ حَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ ، وَإِذَا مَاتَ فَأَتْبَعَهُ »

’’ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر 6 قسم کے حقوق ہیں: جب تو اس سے ملاقات کرے تو اسے سلام کرے، جب وہ دعوت پر مدعو کرے تو دعوت قبول کرے، جب وہ کوئی نصیحت طلب کرے تو اسے نصیحت کرے، جب وہ چھینک مارکر (الحمدللہ) کہے تو تو اسے ( یرحمک اللہ ) کہہ کر جواب دے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے

اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ شریک ہو ۔‘‘ ( صحیح مسلم :5651)

ان حقوق کی پاسداری کا لحاظ صحابہ کرام بڑے ہی جذبات و احساسات کے ساتھ رکھا کرتے تھے ایک وقت کی بات ہے کہ حضرت ابوایوب انصاری اور آپ کے ساتھیوں کو کھانے پر مدعو کیا گیا۔ حضرت ابوایوب نے دعوت قبول کی اور دستر خوان تک اپنے ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے اور میزبان سے فرمایا:

’’ تم نے مجھے دعوت دی اور میں نے اس دعوت کو قبول کیا حالانکہ میں حالت روزہ میں ہوں لیکن میں اسی لئے حاضر ہوا کہ رسول اللہ ﷺکو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ

« حَقٌّ المُسلِم عَلَى المُسْلِمِ مِن خِصَالٍ وَاجِبَةٍ ، فَمَنْ تَرَكَ خَصْلَةٍ مِّنْهَا فَقَدْ تَرَكَ حقاً وَاجِبَةً لا خِيْهِ عَلَيْهِ »

’’ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے کے 6 حقوق ہیں جس کا ادا کرنا واجب و لازم ہے جس نے بھی ان چھ حقوق میں سے کسی بھی ایک حق کو تلف کیا تو اس نے واجب ولازم حق کو چھوڑ دیا جو اس کے بھائی کا تھا۔‘‘ (اتحاف الخیرۃ المہرۃ: 5؍513 ؛ صحیح الترغيب : 2157)

رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس پیغام کے ذریعہ ملت اسلامیہ کو متحد کیا ، ایک دوسرے کی اہمیت بتائی ، ان کے دلوں میں محبت پیدا کیا، سینوں میں پائی جانے والی کدورتوں کو ختم کیا ، باہمی عداوتوں کا قلع قمع کیا ۔ ان ہی تعلیمات کے ذریعہ ملت با ہمی شیر و شکر ہوئی۔ لیکن موجودہ مسلم سماج نے ان تعلیمات کو فراموش کر دیا۔ محبت کی جگہ نفرت نے لے لی، باہمی شیر وشکر کی جگہ زہر ہلاہل نے لے لی، جس کے سبب ملت اسلامیہ کے انفرادی و اجتماعی حالات دھما کہ خیز ہوتے جارہے ہیں۔

2۔ مسلمان کا باہمی وقار

جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا تھا، وہ ایک ایسا معاشرہ چھوڑ کر آئے تھے، جہاں سماجی وتہذیبی منکرات کے سوا کچھ نہ تھا، باہمی نفرتوں کو چھوڑ کر وہ ایک ایسی تہذیب وتمدنی تعلیم کی طرف آئے تھے، جو اللہ بزرگ وبرتر کی جانب سے تھی اور اس تعلیم کی اشاعت صادق امین، معلم انسانیت محمد ﷺ کر رہے تھے، اسی لیے آپﷺ انہیں باہمی اقدار کی تعلیم دی اور عزت مسلم کی اہمیت سے انہیں اجاگر کیا، انہیں بھائی چارگی کا پیغام ان الفاظ میں دیا:

« الْمُسْلِمُ أَخو المُسلِم لا يَخُوْنَهُ وَلَا يَكْذِبُهُ ، وَلَا يَخْذُلُهُ ، كُلَّ المُسْلِمِ عَلَى المُسْلِمِ حَرَامٌ عِرْضُهُ وَمَالُهُ وَدَمُهُ التَّقْوَى ههنا بِحَسْبِ اِمْرَى مِّنَ الشَّرِّأَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ المُسْلِمِ »

’’ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، اس کے ساتھ خیانت نہ کرے، اس سے جھوٹ نہ بولے، اور اس کو بے یار و مددگار نہ چھوڑے، ہر مسلمان کی عزت ، دولت ، اور خون دوسرے مسلمان کے لئے حرام ہے، تقوی یہاں (دل میں) ہے، ایک شخص کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر اور کمتر سمجھے۔‘‘ (جامع ترمذی: 1927 ؛ صحیح مسلم :2564/6541)

اس پیغام کو ایک اور حدیث میں کچھ الفاظ کی زیادتی کے ساتھ ذکر کیا گیا کہ

« لا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُ وَلَا يَحْقِرُهُ »

کسی مسلمان پر نہ ظلم کرے، نہ ا سے ذلیل ورسوا کرے اور نہ اسے حقارت بھری نگاہوں سے دیکھے۔ (تخریج المسند : 8130 ؛ صحیح مسلم :2564/6541)

ایک اور حدیث میں یہ پیغام ان الفاظ کے ساتھ دیا گیا ہے کہ

«﴿وَلَا تَنَاجَشُوْا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوْاوَلَا تَحَاسَدُوْا وَلَا تَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُوْنُوْا عَبَادَ اللَّهِ إِخْوَانَا »

’’تم میں سے کوئی مسلمان کسی مسلمان کی لگائی گئی قیمت پر قیمت نہ بڑھائے، تم میں سے ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر غصہ نہ ہو، تم میں سے ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے (منہ نہ موڑے) پیٹھ نہ دکھائے، تم میں سے ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے حسد نہ کرے، تم میں سے ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی تجارت کی بولی پر بولی نہ لگائے ، تم سارے کے سارے مسلمان بھائی بھائی بن جاؤ ۔‘‘ (صحیح الجامع 7242 ؛ مسند بزار : 15-283)

یہی پیغام ایک لفظ کی زیادتی کے ساتھ یوں دیا گیا ہے :

«المُسْلِمُ أَخُوْا المُسْلِمُ لَا يَظْلِمَهُ وَلَا يُسْلِمُهُ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةٍ أَخِيْهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِّنْ كُرْبَاتِ يَوْمَ القِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِما سَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ القِيَامَة »

’’ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے، جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ اس کی ضرورت پوری کرے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا۔‘‘ (صحیح بخاری :2442)

اسی طرح ایک اور روایت میں یہ الفاظ بیان کئے گئے ہیں:

« وَلَا تَقَاطَعُوا » ’’تم میں سے ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے قطع تعلق نہ کرے ۔‘‘ ( مجموع الفتاوی: 28۔ 208)

اس حدیث کا یہی مفہوم ہے کہ مسلمان کا بائیکاٹ نہ کیا جائے ، اس کو سماج سے الگ نہ کیا جائے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں یہی پیغام دیا تھا ، کیا ہی حکیمانہ اور انقلابی خطبہ ہے لیکن امت مسلمہ نے اپنے نبی کے پیغام کو فراموش کر دیا ، رسول اللہﷺ کی نصیحت کو نظر انداز کر دیا ، آپس کی بھائی چارگی کو ختم کر دیا، مسلکی تنافر میں مگن ہوگئے ، ایک دوسرے کے مال واسباب میں خیانتیں عام ہو گئیں ، جھوٹ زندگی کا حصہ بن چکا، ایک دوسرے کو مالداری وسرمائے داری ، حسب ونسب ، مقام و مرتبہ، قوت و طاقت، شان و شوکت کی بنیاد پر انسانی اقدار کو منقسم کر دیا گیا، کسی کو بھی حقارت بھری نگاہوں سے دیکھنا باعث افتخار سمجھا جانے لگا، ایک دوسرے کو ذلیل و رسوا کر کے لوگ فخر محسوس کر رہے ہیں، آبروریزی، خونریزی ، آپس میں ظلم و زیادتی ، باہمی حسد اور غصے کا اظہار ایک دوسرے کی تجارت پر غصب عام عادت اور وطیرہ بن چکی ۔ رسول اللہ ﷺ نے جس روشن و درخشاں تابندہ، مثالی معاشرہ کی تشکیل دی تھی، موجودہ دور کے مسلمان نے اس معاشرہ کو پاش پاش کر دیا اور اس کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔

3۔ مسلمان کو ہتھیار دکھانا

عزت مسلم کی اہمیت کا اندازہ رسول اللہ ﷺ کی اس نصیحت و تنبیہ سے لگایا جاسکتا کہ

كَانَ يَنْهَى أَنْ يُسَلَّ المُسْلِمُ عَلَى المُسْلِمِ السَّلَاحَ

’’رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع کر دیا تھا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر شمشیر بے نیام کرے۔ ‘‘ (مجمع الزوئد:7۔294)

اسی طرح ایک حدیث مبارکہ میں ہے ، سیدنا ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

« مَنْ أَشَارَ إِلَى أَخِيْهِ بِحَدِيْدَةٍ فَإِنَّ المَلائِكَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّى يَدَعَهُ وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لَّا بَيْهِ وامه »

’’جس نے اپنے بھائی کی طرف لوہے کے کسی ہتھیار سے اشارہ کیا تو اس پر فرشتے لعنت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کام کو ترک کر دے، چاہے وہ اس کے ماں باپ یا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ ( صحیح مسلم:2616 /6666)

اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«إِذَا أَشَارَ المُسْلِم سلاحاً لَا تَزَالُ المَلائِكَةُ تُلْعِنَهُ حَتَّى ( يُشِيْمَهُ) عَنْهُ »

’’ ” جب کوئی مسلمان کسی مسلمان پر ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے ( یعنی قتل کی دھمکی دیتا ہے ) تو فرشتے مسلسل اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ اپنی اس حرکت سے باز نہ آجائے ۔‘‘ (ضعیف الجامع :547 ؛ ذخيرة الحفاظ :280-1)

یہی مضمون ایک اور حدیث مبارکہ میں یوں ذکر کیا گیا ہے:

« إِذَا أَشَارَ المُسْلِمُ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ بِالسَّلَاحِ فَهُمَا عَلَى جُرُف جَهَنَّمَ ، فَإِذَاقَتَلَهُ خَرَّاجِمِيعاً فِيْهَا »( صحیح نسائی: 4127)

’’جب ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی پر ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے تو وہ جہنم کے کھڈے کے قریب کھڑا رہتا ہے جب وہ اسے قتل کر دیتا ہے تو دونوں جہنم میں جھونک دئے جاتے ہیں ۔‘‘

ان تعلیمات و احکام اور تنبیہات کے ذریعہ رسول اللہ ﷺنے مسلمان کی جان اور اس کے خون کی اہمیت کو واضح کیا لیکن آج کیا ہو گیا، امت مسلمہ کو کہ وہ آپس میں خونریزی میں مگن ہیں۔ قتل و غارتگری کو ہمت و حوصلہ اور بہادری سمجھنے لگے ہیں ۔معمولی باتوں پر ہتھیار کا استعمال عام بات بن چکی ، آپسی قتل و غارت گری کے ذریعہ نسلوں کا اور قبیلوں کو تباہ کیا جا رہا ہے، آئینہ تصویر ایام ہمارے سامنے ہیں ، طاقت و دولت کے غرور ، قوت و طاقت کی بالا دستی ، تجارت وصنعت کی مقابلہ آرائی ، دنیا کی بڑھتی ہوئی بے راہ روی نے مسلم معاشرے میں کشت و خون کا ماحول بپا کر رکھا ہے، نہ بوڑھوں اور بزرگوں کا خیال رہا ، نہ والدین اور رشتے داروں کی عظمتوں کا لحاظ رہا ، نہ خواتین و معصوم بچوں کا احترام رہا۔ کیا اس صورت حال کے ساتھ ہم کامیاب رہیں گے؟

4۔ مثالی مسلمان کی پہچان

ماحول کے بگاڑ اور آپسی انتشار میں سب سے بڑاعمل دخل زبان اور ہاتھوں کا ہوتا ہے، زبان سے گالی گلوچ ، بحث و مباحثہ ، طعنہ و تشنیع کا آغاز ہوتا ہےاور نوبت جنگ و جدال ، ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے اور اس لڑائی میں ہاتھ ، پیر شامل ہو جاتے ہیں۔ انسان ہونے کے ناطے ہر انسان میں فطرتا یہی عادت ہوتی ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس سے سماج کو پاک کیا کیونکہ ایک معیاری سماج کے لئے یہ معیوب بات ہے ، ان عادات واطور سے شخصیتیں متاثر ہو جاتی ہیں اسی لئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ

«المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ »

’’ مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان بچے رہیں ۔‘‘ ( صحیح بخاری: 10)

اسی طرح ایک اور سوال کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

« يَارَسُوْلَ اللهِ ! أَيُّ الإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ »

’’ کون سا اسلام ( یعنی اسلام کی وہ کونسی تعلیم ) افضل ہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”وہ جس کے ماننے والے مسلمان کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامتی میں رہیں۔‘‘ ( صحیح بخاری: 11)

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: «المُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ الناس»’’ مؤمن وہ ہے جن سے انسانیت امن و امان میں رہے ۔‘‘ (مسند احمد: 12562)

اسی طرح کی ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«سِبَابُ المُؤْمِن فُسُوقَ وَقِتَالُهُ کُفر »

’’مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے۔‘‘ ( صحیح بخاری :6044)

اس ضمن میں تاریخ اسلام کا ایک عظیم واقعہ ذکر کرنا مناسب ہوگا تا کہ مسلمان کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے ایک مرتبہ ایک صحابی رسول نے ایک صحابی کے ساتھ زبانی لغزش کر دی اور انہیں ان کی ماں کے حوالے سے طعنہ دیا کہ ’’تو کالی عورت کا بیٹا ہے‘‘ اس پر وہ مسکین صحابی کبیدہ خاطر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے اس صحابی رسول کی سرزنش کرتے ہوئے فرمایا کہ«إِنَّكَ امْرَوْ فِيْكَ الجَاهِلِيَّة »

” ابھی تک تمہارے اندر جاہلیت کی عادتیں موجود ہیں ۔‘‘ (صحیح بخاری: 30 ،6050 ؛ صحیح مسلم : 1661)

اسی طرح کا ایک واقعہ حضرت عمر بن خطاب کے دور خلافت کا ہے کہ حج کے ایام میں شاہ غسان نے کسی مسلمان کو طعنہ دیتے ہوئے پیر سے مار دیا جس کو ہم کہتے ہیں کہ ’’ لات مار دیا ‘‘ وہ شکایت لے کر حضرت عمر کے دربار میں حاضر ہوا ۔ حضرت عمر نے اس شاہ غسان کی سرزنش کی اور معافی چاہنے پر مجبور کیا ، بالآخر اس نے معافی چاہی۔ (سیرۃ امیرالمؤمنین عمر بن الخطاب للصلابی )

اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ امت مسلمہ کو دوسری تمام امتوں کے بالمقابل تہذیب و تمدن ، ثقافت و عادات و اطور ، انتظام و انصرام ، عقائد و تعلیمات و عبادات میں مثالی نمونہ بنایا گیا ہے اسی لئے ہر اعتبار سے ان کی تربیت کی گئی ہے لیکن افسوس کہ آج گالی گلوچ کے بغیر ہماری زندگی نہیں ، ایک دوسرے کی ماں بہن سے متعلق گندی گالیاں معمولات زندگی بن چکی ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اگر عزت و سرفرازی کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے نبی کی ان تعلیمات پر عمل کریں چونکہ مسلمانوں کا اتحاد و اتفاق اس کے بغیر ناممکن ہے ۔

5۔ مسلمان کی عزت و آبرو

مسلمان کی عزت و آبرو کی سب سے زیادہ اہمیت ہے اسی لئے احترام مسلم کا سبق سکھایا گیا اور عظمت مسلم کے لئے بڑی بڑی تعلیمات دی گئیں۔ صحابی رسول حضرت اسامہ بن شریک بیان فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ حج کے لئے نکلا ، لوگ آپ کے پاس آتے تھے جب کوئی کہتا:

« يَارَسُوْلَ اللهِ ، سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ، أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا، فَكَانَ يَقُوْلُ : لَا خرَجَ لَا حَرَج، إِلَّا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ ، فِدَالِكَ الَّذِي حَرجَ وَ هلك»

’’اللہ کے رسول ! میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی، میں نے ایک چیز کو مقدم کر دیا یا مؤخر کر دیا تو آپ ﷺ، کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں، حرج صرف اس پر ہے کہ جس نے مسلمان کی جان یا عزت و آبرو پامال کیا اور وہ ظالم ہے ، وہ ایسا ہی شخص ہے جو حرج میں پڑ گیا اور ہلاک ہوا ۔ ‘‘(سنن ابوداؤد: 2015)

اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ حَمَى مُؤْمِنَا مِنْ مُنَافِقِ أُرَاهُ. قَالَ : بَعَثَ اللَّهُ مَلِكاً يَحْمِلْ لَحْمَهُ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَمَنْ رَمَى مُسْلِمَا بِشَيْ يُرِيدُ شَيْئًا بهِ حَبَسَهُ اللهُ عَلَى جَسْرِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَخْرُجُ مِمَّا قَالَ »

’’ جوکسی مؤمن کی عزت و آبرو کی کسی منافق سے حفاظت کرے گا تو اللہ ایک فرشتہ بھیجے گا جو قیامت کے دن اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا اور جو شخص کسی مسلمان پر تہمت لگائے گا اس سے اس کا مقصد اسے مطعون کرنا ہو تو اللہ اسے جہنم کے پل پر روکے رکھے گا یہاں تک کہ جو اس نے کچھ کہا ہے، اس سے نکل جائے۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 4883)

اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَا مِنْ أَمْرِي يَحلل امْرَأَمُسْلِم فِي مَوْضع تنتهك فِيْهِ حُرْمَتَهُ وَيُنتَقَصُ فِيْهِ مِنْ عِرْضِهِ الْأَخَذَلَهُ اللهُ فِي مَوْطِن يُحِبُّ في نُصْرَتَهُ. وَمَا مِنْ اِمْرِى يَنْصُرُ مُسْلِمًا فِى مَوْضِع يُنتَقَصُ فِيْهِ مِنْ عِرْضِهِ وَيُنتَهَكَ فِيْهِ مِنْ حُرْمَتِهِ الْأَنصَرَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ نُصْرَتَهُ »

’’ جو کسی مسلمان کو کسی ایسی جگہ میں ذلیل کرے گا، جہاں اس کی بے عزتی کی جائے اس کی عزت میں کمی آئے تو اللہ اسے ایسی جگہ ذلیل کرے گا ، جہاں وہ اس کی مدد چاہے گا ، اور جو کسی مسلمان کی ایک جگہ میں مدد کرے گا جہاں اس کی عزت میں کمی آرہی ہو اور جہاں اس کی آبرو جا رہی ہو تو اللہ اس کی ایسی جگہ پر مدد کرے گا،جہاں پر اس کو اللہ کی مدد محبوب ہوگی۔‘‘ (سنن ابوداؤد:4884)

جب تک مسلمان با ہمی ایک دوسرے کی عزت و وقار کا پاس ولحاظ نہیں رکھے گا، معاشرہ ترقی نہیں کر پائے گا ، اس بات کا خیال رکھنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے، مشکل تو یہ ہے کہ ہم مسلمانوں نے باہمی رشتے ناتوں کی اہمیت کو جانا اور پہچانا ہی نہیں۔ ہمارے علماء ، زعماء، مشائخین ، فضلاء، خطباء ومقررین ، قائدین، مفکرین و مد برین کو چاہئے کہ بہت سی فرقہ وارنہ اور مسلکی تنافر وعقائد کے اختلافات و مخالفتوں کی باتیں چیخ چیخ کر بیان کرنے سے بہتر ہے کہ ملت اسلامیہ کو اخوت اسلامی کا پیغام دیں، سیرت النبی ﷺ کے اجتماعات کے ذریعہ قوم کا شعور بیدار کریں اسی طرح ضروری ہے کہ جمعہ کے خطبات میں اس طرح کے عناوین پر بیانات ہوں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسی اخوت کو پسند فرمایا ہے اور اس کو اہمیت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق عطا فرمائے ۔ آمین یارب العالمین

تبصرہ کریں