سفر مسجد اقصی اور ارض فلسطین کی روح افزا روئیداد۔حافظ عبد الاعلیٰ درانی

اسلام میں عورت کو مسجد جانے کی ترغیب

دورِ نبوی اور خیرالقرون میں کبھی بھی خواتین کو مساجد جانے سے روکنے کا مسئلہ نہیں اٹھا۔ چوتھی صدی ہجری میں جب براہِ راست قرآن و حدیث پر عمل کرنے کی بجائے مخصوص تقلیدی فرقوں نے جنم لیا اور قرآن و حدیث کی بجائے شخصی تقلیدرواج پاگئی تو تین مشہور تقلیدی مذاہب میں سے ایک فقہی مذہب کے بعض فقہاء نے فتنہ و فساد کے خوف کے پیش نظر بعض حالات میں احتیاط کا مشورہ دیاتھا جسے ان کے پیروکاروں نے مذہبی شعار ہی بنا لیا، لیکن جمہور فقہاء نے عورتوں کا مساجد میں داخلے سے روکنے کا فتویٰ قبول نہیں کیا۔ جیسے حرمین شریفین میں خواتین کا داخلہ کسی دور میں بھی ممنوع نہیں رہا، خاص طور پر عیدین میں عورتوں کا عید گاہوں میں جانا ایک مسنون عمل قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ حدیث میں ترغیب دی گئی ہے کہ

ہر حالت میں عورتیں عید گاہوں میں حاضر ہوں۔ حتی کہ حالت حیض میں بھی اور جن کے پاس ضروری حجاب نہ بھی ہو تو وہ اپنی سہیلی کے حجاب میں عیدگاہ جائیں۔ کیونکہ مساجد دین کے مراکز ہیں ، اگر عورتوں کو وہاں سے روک دیاجائے تو وہ دین کہاں سے حاصل کریں گی۔ یہ عام فتنے سے بڑا فتنہ ہے۔ اس لیے جن فقہی مذاہب میں عورتوں کومساجد سے دور رکھا گیاہے ان کی عورتیں دین کے بنیادی مسائل حتی کہ نماز ادا کرنے کے مسنون طریقے سے بھی واقف نہیں ہیں۔ اس لحاظ سے اہل الحدیث مکتبہ فکر کا یہ رویہ جدید و مرغوب اور مسنون ہے کہ مساجد کی تعمیر میں عورتوں کے لیے باپردہ جگہ بنائی جاتی ہے جہاں عورتیں خطبات و وعظ سنتی اور علم دین سے آگاہی حاصل کرتی ہیں۔ عورتوں کو مساجد میں جانے سے روکناجہاں صاف احادیث نبویہ کے خلاف ہے وہاں ایک اورفتنے کاباعث بھی بن رہا ہے یعنی اسے بہانہ بنا کر کچھ لبرل قسم کے لوگ عورتوں کے لیے علیحدہ مساجد بنانے کی آواز بھی اٹھاتے ہیں یا پھر مخلوط نمازیں بھی ادا کرنے کے حق میں ہیں۔ اسلام بہرحال دنیا کا جدیدترین دین ہے۔ جس میں چند خصوصیات کے ساتھ خواتین مردوں کے ساتھ برابر کی شریک ہیں لیکن عیسائیت میں ایسانہیں ہے۔

شہربیت اللحم میں کئی گرجاگھرواقع ہیں۔ جن میں سب سے بڑا کنیسۃ القدیس ہے۔ یہ اس جگہ بنا ہے جہاں سیدنا عیسیٰ کی ولادت ہوئی تھی۔ اہل اسلام کی دریا دلی اور دیگر مذاہب کے احترام کی دلیل یہ چرچ بھی ہے کہ اب بھی اس چرچ کی نگرانی مسلمان کررہے ہیں اور عیسائیوں کو اپنے مذہب کے مطابق رسومات ادا کرنے کی کھلی اجازت ہے ۔

یہودیوں نے اپنے دور میں ان پر پابندیاں لگارکھی تھیں جنہیں مسلمان حکمرانوں نے ختم کردیااب یہودی اورعیسائی تو اپنی اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کے لیے بالکل آزاد ہیں جبکہ یروشلم کے مسلمان مسجد اقصی میں آزادانہ آنے جانے کے بھی روادار نہیں ہیں۔ پھر بھی یہ کہتے ہیں اسلام جبرکادین ہے، اور مسلمان جابر لوگ !!!

بیت اللحم کی مساجد

شہر بیت اللحم میں کئی مساجد بھی ہیں جنہیں صدیوں سے اہل ایمان نے اللہ کے حضور سجدوں سے آباد رکھا ہوا ہے۔ مسجد بلال بھی بہت مشہور ہے اور 14 سو سال سے بنی ہوئی مسجد عمر بھی۔

مسجد عمرکی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ

سیدنا فاروق اعظم نے بیت اللحم کی فتح کے وقت اس عیسائیوں کی عبادتگاہ میں عمائدین شہر سے ملاقات رکھی تھی۔ اسی دوران میں نمازکاوقت ہوگیاآپ نے حسب معمول باہر جاکرنمازادا کرنے کا ارادہ کیاتو لاٹ پادری نے آپ کواسی چرچ میں نماز ادا کرنے کی پیشکش کی اور آپ نے وہاں نمازادا کرلی بعد میں اس عیسائی عبادتگاہ کے سامنے والی جگہ خیر سگالی کے طور پرمسلمانوں کو دے دی گئی جہاں نمازکے لیے مسجدبنائی گئی جسے مقامی مسلمان بعد میں استعمال کرتے رہے۔

دورعباسی اوردور فاطمی میں اس مسجدکی توسیع کی گئی ،سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور میں یہاں بڑی پختہ عمارت بنائی گئی ، عثمانیوں کے دور میں بھی اس کی تعمیر و مرمت کی جاتی رہی ہے۔ اب بھی یہ تین منزلہ خوبصورت مسجد ہے۔ جہاں ہمیں بھی الحمد للہ نمازاداکرنے کا شرف حاصل ہوا۔

اسی مذہبی رواداری اوردریادلی کی وجہ سے وہاں کے عیسائی بلکہ فلسطین کے اصل یہودی بھی بڑے سکون اور احترام کے ساتھ رہتے ہیں اور ان میں کوئی مذہبی تصادم نہیں ہوتا۔

یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے علاقے اور عبادت گاہیں مخصوص ہیں کوئی ایک دوسرے کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ اس مذہبی رواداری کا سب سے پہلے مظاہرہ امام المسلمین خلیفہ راشد سیدنا وامامنا فاروق اعظم نے کیا۔ ان کے بعد تمام مسلمان بادشاہوں نے اسے برقرار رکھا۔ پھر یورپی ممالک کی مداخلت سے گیارہوں صدی میں صلیبیوں کاقبضہ ہوا جنہوں نے ظلم و ستم کے دور کا پھر آغازکیا۔ اَسی نوے سال کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی نے طویل جنگوں کے بعد اس علاقے پر کنٹرول حاصل کیااورصلیبیوں کی خونخوارانہ روایات کے باجود انہوں نے اسلامی رواداری کادور پھر بحال کر دیا۔اس وقت سے لے کر آج تک یہ ماحول برقرار رکھا گیا۔ سارا فساد مغربی طاقتوں کی منافرانہ سوچ کے باعث دنیا بھر سے یہودیوں کو فلسطین میں کھینچ کر لانے اور زبردستی قابض ہونے نے پیدا کیا ہے یعنی جب بھی باہر سے مداخلت ہوئی تب ہی فتنہ و فساد پیدا ہوا۔ ورنہ یروشلم اور بیت اللحم میں اب بھی مذہبی رواداری پوری طرح موجود ہے۔

ولادت عیسیٰ معجزہ ربانی تھی…؟

بیت اللحم کا تذکرہ انجیل میں ہم نے بچپن میں پڑھا ہواتھا۔ کہ یہاں سیدنا عیسیٰ کی ولادت ہوئی تھی۔ قرآن کریم نے بتایاکہ اس وقت سیدہ مریم بیت المقدس سے نقل مکانی کرکے مشرقی جانب چلی گئی تھیں اور سب سے الگ ہوگئی تھیں ، کسی سے ملتی جلتی بھی نہیں تھیں۔ انجیل اور پرانی کتابوں میں اس علاقے کا نام’’ بیت اللحم ‘‘بتایاہے ، یہ نام سنتے ہی عجیب سا ماحول ذہن میں کوندتا تھا اور آج ہم اس جگہ بنفس نفیس موجود تھے ، کتنا حسین اتفاق ہے۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا۔

ولادت سیدنا عیسیٰ ایک معجزہ ربانی تھا جس کا تفصیلی ذکر قرآن کریم کی سورہ مریم میں آیا ہے:

’’اس کتاب(قرآن) میں مریم کا واقعہ بیان کر جبکہ وہ اپنے گھر کے لوگوں سے علیحدہ ہو کر ایک مشرقی مکان میں آئیں۔ اور ان لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا، پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو بھیجا پس وہ اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا۔ یہ کہنے لگیں میں تجھ سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو خدا ترس ہے۔ اس کہا میں تو تمہارے رب کا بھیجا ہواہوں، تجھے ایک پاکیزہ لڑکے (کی بشارت) دینے آیا ہوں۔ وہ بولیں! بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ مجھے تو کسی انسان نے چھوا نہیں اور نہ میں بدکار ہوں۔ فرشتے نے کہا بات تو یہی ہے،لیکن تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ

یہ مجھ پر بہت آسان ہے ہم تو اسے لوگوں کے لیے ایک نشان اور اپنی طرف سے ایک رحمت بنا دیں گے۔ یہ ہونی ہو کر رہے گی۔ پس مریم نے اسے پیٹ میں اٹھا لیا اور پھر اسے لیے ہوئے ایک دور جگہ چلی گئی۔ پھر اسے جننے کا درد ایک کھجور کی جڑ کے نیچے لے آیا، بولی کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور بھولی بسری ہوچکی ہوتی۔ اتنے میں اسے پائنتی سے فرشتے نے پکارا کہ غم نہ کر تمہارے رب نے نیچی جانب ایک چشمہ جاری کر دیا ہے اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، تمہارے سامنے تروتازہ پکی کھجوریں ٹپک پڑیں گی۔ توکھجوریں کھا اور چشمے کا پانی پی اور بچے سے آنکھیں ٹھنڈی کر، اگر تجھے کوئی آدمی نظر آ جائے تو کہہ د ینا میں نے رحمن کے لیے روزے کی نذر مان رکھی ہے۔ اس لیے آج کسی آدمی سے بات نہ کروں گی۔ پھر وہ بچے کو لیے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئی۔ لوگ کہنے لگے مریم تو نے بڑی بری حرکت کی۔ اے ہارون کی بہن! تیرا باپ برا آدمی تھا نہ تیری ماں بدکار تھی۔ مریم نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کیا توسب کہنے لگے کہ

لو بھلا ہم گود کے بچے سے باتیں کیسے کریں؟ بچہ بول اٹھا کہ

میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا نبی بنایاہے۔ اور اس نے مجھے بابرکت کیاہے جہاں بھی میں ہوں اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے جب تک بھی میں زندہ رہوں۔ اور اس نے مجھے اپنی ماں کا خدمت گزار بنایاہے اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں کیا۔ اور مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوبارہ زندہ اٹھایا جاؤں، سلام ہی سلام ہے۔ یہ ہے صحیح واقعہ عیسیٰ بن مریم کا، یہی ہے وہ حق بات جس میں لوگ شک و شبہ میں مبتلا ہیں۔ اللہ کے لیے اولاد کا ہونا اس کی شایان شان نہیں، وہ تو بالکل پاک ذات ہے، وہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے کہ ہو جا، وہ ہو جاتا ہے۔ میرا اور تم سب کا رب صرف اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔ پھر یہ فرقے آپس میں اختلاف کرنے لگ گئے، پس کافروں کے لیے تباہی ہوگی اس بڑے دن کی آمد پر۔ کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جب وہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں اور انہیں اس پچھتاوے کے دن کا ڈر سنا دو ، جب فیصلہ کردیا جائے گا، اب تو یہ لوگ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لارہے۔ آخرکار ہم ہی وارث ہیں اس زمین کے اور جو کچھ اس پر ہے اور وہ ہماری رف لوٹائے جائیں گے۔‘‘

گویا قرآن کریم نے ولادت سیدنا عیسیٰ کے ضمن میں واضح بھی کر دیا کہ وہ اس معجزہ کے باوجود انسان تھے ، عبد اللہ تھے ابن اللہ نہیں تھے۔ ان کو اللہ کا بیٹا کہنا سخت جہالت اورشرک قبیح ہے۔ ان کی دعوت وہی تھی جو محمد ﷺ کی ہے یعنی توحید خالص کی ، وہ نماز بھی پڑھتے تھے اور فریضہ زکوٰۃ کوبھی دین کاحصہ سمجھتے تھے، ماں کے خدمت گزار تھے ان کا راستہ صراط مستقیم کا تھا جوان کامتبع ہے اسے بھی چاہیے کہ وہ عقیدہ توحیدخالص پر ایمان رکھے۔

سیدنا عیسیٰ کانام اپنے نام نامی کے ساتھ قرآن مجید میں 25 دفعہ لقب مسیح کے ساتھ گیارہ دفعہ اور ابن مریم کی کنیت 23دفعہ مذکور ہیں۔ ان کی ولادت بیت اللحم میں ہوئی۔ معروف کھجور کا درخت بھی وہیں تھا۔ اور وہ چھوٹی سی نہر ، جس کا ذکر ولادت مسیح کے سلسلہ میں آتاہے۔ اصلاً ان کا تعلق فلسطین کے شمال میں ایک بستی ناصرہ سے تھا جو ایک جھیل (گلیل) کے قریب ہے۔

سیدنا عیسیٰ اپنی والدہ کے ساتھ ناصرہ ہی میں رہے۔ بائبل کے مطابق وہ ایک دفعہ اپنی والدہ اوریوسف نجارکے ساتھ مصرکے شہرعین الشمس بھی گئے تھے۔ وہاں ان کی رہائش ’’مطریہ‘‘ کے مضافات میں تھی۔ جسے کنواری مریم کادرخت (شجرمریم کہا جاتا ہے)پھر یہ خاندان ناصرہ واپس آگیا۔ اس کے بعد انجیل مسیح کی حیات طیبہ کے بارے میں بالکل خاموش ہے۔ اس وقت ان کی عمر 12سال تھی۔ پھران کاتذکرہ اس وقت ملتاہے جب ان کی عمر30سال ہوئی اور وہ سیدنا یحییٰ سے ملے۔

1975میں یونیسکو نے ایک انجیل شائع کی۔ جس کا انکشاف مصر کے ایک شہر ’’نجح حمادی‘‘ میں 1945ء میں ہواتھا۔ اس میں لکھا ہے:

’’نجات دہندہ کہتاہے : ’’جس شخص کو تونے خوش خوش ہنستے مسکراتے دیکھا تھا وہ زندہ یسوع تھا۔ لیکن جس شخص کے ہاتھوں اورپاؤں میں وہ لوگ کیل ٹھونک رہے تھے وہ کوئی اور تھا۔ درحقیقت وہ ایک مشابہہ شخص کو سولی دے رہے تھے۔ اسے دیکھا مجھے بھی دیکھو۔‘‘

’’وہ کوئی اورشخص تھا جس نے کڑوا مشروب اورسرکہ پیاتھا وہ میں نہیں تھا وہ کوئی اور شخص تھا جواپنے کندھے پرصلیب اٹھائے جارہاتھا۔ وہ کوئی اور تھا جس کے سرپرلوگوں نے کانٹوں کاتاج رکھاتھا۔ میں تو اوپربہت اوپران کی جہالت پر ہنس رہاتھا۔ بیت اللحم سے واپسی پرہم نے ال’’مخیم الدھشہ‘‘ نامی علاقے میں پرسوں مسجد اقصی میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے تینوں نوجوانوں کی تعزیت کے لیے بہت وسیع و عریض کیمپ لگا ہوا تھا جو پر ہجوم تھا۔

مقام سیدنا موسیٰ کی طرف روانگی

بیت اللحم کے تاریخی شہر سے الوداع ہوکر ہم مقام نبی موسیٰ کی طرف روانہ ہوئے جو بیت المقدس سے تقریباً 20، 30 کلومیٹر دور ہے۔ اسی روڈ پر دائیں طرف مقام موسیٰ اور بائیں طرف 6، 7 کلو میٹر دنیا کا سب سے قدیمی شہر اریحا ہے۔ اس کی بھی قارئین کو سیر کرائیں گے لیکن پہلے ہم مقام موسی کی طرف چلتے ہیں۔ چونکہ القدس بیت اللحم سے مقام موسیٰ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں پڑتا تھا اس لیے اسرائیلی فورسز نے وہاں چوکی بنا رکھی ہے۔ گزرنے والوں کی سخت تفتیش کی جاتی ہے۔ اچانک ہمارے سامنے ایک دیوار نظر آنا شروع ہوگئی یہ ویسٹ بینک دیوارہے جسے فلسطینی علاقوں اور یہودی قابضین کے درمیان جدائی کرنے والی دیوار کہاجاتاہے۔ اسے بھی قریب سے دیکھا بلکہ اس کے نیچے سے گزرکرہم مقبوضہ فلسطین میں داخل ہوگئے ، سامنے چیک پوسٹ تھی اور وہاں گاڑیوں کی لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ ہمیں سمجھا دیاگیاتھا کہ چیکنگ کے وقت اپنی توجہ باہمی گفت و شنید پرمرکوز رکھیں ، قابض فورسز کی طرف متوجہ ہوں اور نہ اس میں دلچسپی لیں ورنہ تفتیش لمبی ہوجاتی ہے۔ ہماری باری آنے پر دو کمانڈر ہماری گاڑی کی طرف بڑھے ،میں چونکہ رہنمائے سفر ہونے کے ناطے اگلی سیٹ پر تھا ،دروازہ کھولنے کاکہاگیا ، میں نے 8، 10 برطانوی پاسپورٹ پکڑ رکھے تھے۔ ایک فوجی اندر داخل ہوا۔ میں نے اسے کچھ پوچھنے کا موقع ہی نہ دیا اور بتایاکہ

ہم برطانیہ سے ہیں اور سیر وسیاحت کے لیے آئے ہیں ، اس نے پوچھا سبھی ؟ کہاگیا، ہاں، سبھی۔ اس نے پاسپورٹ الٹ پلٹ کر دیکھا۔ اس کارویہ عام فوجیوں سے ذرا مختلف نظر آیا میں نے بات بڑھانے کی خاطر ایک دو باتیں پوچھیں کہ یہاں سے ڈیڈ سی اور جریکو (بحر لوط اور اریحا) کتنی دور ہے اورکیاہم شام تک وہاں پہنچ جائیں گے۔ اس نے جواب دیا کوئی زیادہ دور نہیں 20 سے 30 کلو میٹر ہے، آگے نشیب میں احتیاط سے اترنا۔ بہت خطرناک راستہ ہے ، میں نے سوچا یہ راستہ اتنا خطرناک نہیں جتنا تم نے بنا رکھا ہےاور غاصب فوجی نے جانے کااشارہ کردیا۔ اس بات چیت کے باوجود اس کے چہرے پر کرختگی تھی ذراسی بھی رونق ہائے وائے کے باوجود نہیں تھی، اگرگورا ہوتا تو سب سے پہلے ہیلوکہتامسکراتا پھر کام کی بات کرتا، انگریزوں کی اسی نرم روئی نے انہیں آدھی دنیا کا نگران بنا رکھا ہے اور یہودیوں کی سخت مزاجی نے انہیں ساری دنیا سے دھتکار رکھاہے، اس فوجی کاچہرہ بالکل سپاٹ اور مسکراہٹ سے عاری تھا ،میری کوشش کے باوجود اس نے صرف مطلب کی بات کی۔ نہ آتے ہوئے ہیلو کہا، نہ جاتے ہوئے بائے بائے ، اورجوگن اس نے اٹھائی ہوئی تھی، شاید اس کے اپنے وجود سے بھی زیادہ بوجھل تھی ،شاید یہ وہ واحد نقطہ تفتیش تھا جس سے ہمیں اس سفرمیں واسطہ پڑا ورنہ پورے سفر میں بحمد اللہ خیریت ہی رہی۔

وادی سلوان سے جو راستہ بحرمیت کی طرف اترتاہے ، اتنا ڈھلوان زدہ ہے کہ گاڑی کا ڈرائیور ہی نہیں ہر مسافربھی بریکوں پر پاؤں بڑی سختی سے رکھ لیتا ہے حالانکہ بریک صرف ڈرائیور کے کنٹرول میں ہوتی ہے۔ سڑک بہت تنگ اور اس کے دونوں طرف گنجان آبادی ہے۔ خدانخواستہ کسی گاڑی کا بریک اڑ گیا تو خیر نہیں ، راستہ بلاک ہوجاتاہے، اورلمبی لائن لگ جاتی ہے۔ جن دنوں برفباری ہوتی ہے پتہ نہیں کیا حالت ہوتی ہوگی ان راستوں کی۔ ایک خاتون ڈرائیورکودیکھا جوبار باراس کیفیت سے گزررہی تھی نہایت ہی خوفزدہ ،لیکن خیریت گزری کہ ہماری گاڑی نے اسے بخیریت کراس کرلیا۔ بیت المقدس کودائیں طرف چھوڑتے ہوئے ہم یروشلم کو عبور کرآئے تو اچانک ہائی وے پرتھے ، کھلے کھلے ماحول کودیکھ کر جان میں جان پڑگئی۔

یروشلم اور اس کے اردگردکے پہاڑ اتنے خوبصورت تھے کہ زندگی میں پہلی مرتبہ اس قسم کے تروتازہ اور پر بہارپہاڑ دیکھے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ

قرآن کریم نے بارکنا حولہ فرما رکھاتھا۔ ہرطرف انگور، خوبانیاں آلوچے اوردیگرپھلوں کی بہار آئی ہوئی تھی۔ ایک جگہ گاڑی روک کر ہم نے رفقاء کی ضیافت کے لیے دوپیٹیاں فروٹ کی خریدلیں۔

کافی فاصلے تک گاڑی فراٹے بھرتی رہی ، کئی جگہ سبز رنگ کے سائن بورڈ نظر آرہے تھے جن پر عربی ، بعض جگہ انگریزی اور عبرانی میں مقامات کی نشاندھی کی گئی تھی۔ پھرپہاڑوں کارنگ بدلنا شروع ہوگیا ، مٹی اور قلعی کے ملغوبہ پہاڑ جہاں ہریالی نام کو نہیں تھی۔ اچانک فلسطینی ڈرائیور نے ایک ذیلی سڑک پر گاڑی موڑ لی جو سرخ پہاڑوں کے درمیان سے ہوتی ہوئی ایک قدیم مگر خوبصورت عمارت کے سامنے جاکھڑی ہوئی۔ یہ مقام موسیٰ ( ) تھا۔

مقام موسیٰ کی نقشہ گری

مقام موسیٰ ’’بریۃ القدس ‘‘ کے علاقے میں واقع ہے۔ اردگردکے پہاڑ سرخ ہیں۔یہ بھی کہا جاتاہے کہ قوم موسیٰ کی سفر جہاد پر جانے سے انکار کی وجہ سے اللہ نے اس قوم پر چالیس سال تک کیلئے پیش قدمی ممنوع قرارد ے دی تھی ۔ وہ اس علاقے سے باہر نکل ہی نہیں سکتے تھے ۔یہ قوم ارض المقدس اور بیت المقدس کے آس پاس تھی ۔ یہاں سے صرف بارہ تیرہ میل دور مسجد اقصی تھی ۔اور یہ قوم وہاں چالیس سال تک کے لیے بین کردی گئی لیکن سیدنا موسی کو اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس اور یہ علاقہ دکھایاوہ جس جگہ سے دیکھ سکتے تھے وہ یہی مقام تھا اس لیے اس کا نام مقام موسیٰ پڑگیا۔

سیدنا موسی کی وفات بھی یہیں کہیں ہوئی اللہ نے ان کی قبر مخفی کردی لیکن نبی آخر الزمان کو سیدنا موسیٰ کی قبر دکھا دی گئی تھی ۔ جیساکہ روایات میں آتا ہے ۔

اس مقام کامکمل تعارف کرانے پہلے ہم صاحب مقام سیدنا موسیٰ کی بابت کچھ عرض کردیں تاکہ اس مقام کا منظراور پس منظربا آسانی سمجھا جاسکے۔ سیدنا موسیٰ اولوا العزم رسولوں میں سے ہیں، ان کا لقب کلیم اللہ ہے۔ یہ سیدنا یعقوب کے پڑپوتے کے پوتے تھے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف نبی بنا کر بھیجا تھا۔

قرآن کریم میں ان کاذکر133دفعہ ہوا ہے۔ 30 سے زیادہ سورتوں میں ان کانام آیاہے۔ موسی ، فرعون اوربنی اسرائیل کے واقعہ کی طرف 100 مرتبہ سے زیادہ اشارہ ہوا ہے۔

زبور، داؤد میں 6دفعہ، انجیل لوقا میں7بار،اور تورات میں متعدد بار ذکر آیاہے۔ ان کا نسب نامہ کچھ اس طرح ہے:

’’موسیٰ بن عمران بن یصھربن قابث بن لاوی بن یعقوب بن اسحق بن ابراہیم ﷩۔ یعنی ان کا نسب چھ واسطوں سے سیدنا ابراہیم سے ملتا ہے۔ فرعون مصر کی بمعہ قوم غرقابی کے بعد سیدنا موسیٰ بنی اسرائیل کے ساتھ صحرائے سینا میں رہے، اسی دوران میں انہیں کوہ طور پر بلا کر تختیوں پہ لکھی ہوئی توریت عطا کی گئی۔

اللہ تعالیٰ نے قوم موسیٰ کو ارض مقدسہ بیت المقدس میں داخلے کاحکم دیا لیکن یہ جہاد سے جی چرانے والی قوم خوفزدہ ہوگئی جس سبب سے ان پر سرزمین ارض مقدس میں 40 سال تک کے لیے داخلہ حرام قرار دے دیا گیا۔ سیدنا موسیٰ اسی دوران میں علاقہ موآب میں21 رمضان کی شب 120 سال کی عمرمیں انتقال کرگئے۔ ان کی قبر کثیب احمر(سرخ ٹیلوں کی زمین پر) بڑی شاہراہ پربنی لیکن کسی کومعلوم نہ ہوسکی۔ تاکہ پوجاگاہ نہ بن سکے ۔

وهذا یدل علی أن قبر موسیٰ اخفاہ اللہ تعالیٰ عن الخلق ولم یجعله مشهورا عندهم و لعل ذالك لئلا یعبد. واللہ أعلم (عمدۃ القاری للعینی: 12/474)

شب معراج نبی ﷺ نے انہیں اپنی قبر میں نماز اداکرتے ہوئے دیکھا تھا۔

عن أنس ابن مالك عن النبي ﷺ قال أتیت وفی رواية مررت علی موسی لیلة أسری بی عند کثیب الاحمر وھو قائم یصلی فی قبرہ (صحیح مسلم:2375)

کثیب احمر ( سرخ ٹیلوں والی زمین) جبل نیبو والی زمین ہے جو بیت المقدس کے راستے میں آتا ہے:

هذا الحدیث یدل علی أنه فی طریق بیت المقدس عند الکثیب الاحمر. الکثیب هو الکوم من الرمل وهٰذا الکثیب هو بطریق بیت المقدس. ( المفہم:6؍192)

تورات بھی یہی بتاتی ہے:

’’ موسیٰ بندہ خند درآن جابہ سرزمین موآب موافق قول خداوند وفات کرد و او را در درہی زمین موآب برابربیت بعور دفن کرد و ہیچ کس از مقبرہ او تا بہ امروز واقف نیست وموسیٰ حین وفات120سالہ بود و بنی اسرائیل 30روز برائے موسیٰ دربیابان ھائی موآب گریہ نمودند‘‘ (تورات سفر تثنیہ: 5؍34، 9)

(ایک انتباہ) کہاجاتاہے کہ

توریت موسیٰ پرنازل کردہ ہے ، کوئی شک نہیں ضرور ہے لیکن موجودہ توریت تحریف شدہ ہے کیونکہ اس میں دفن موسیٰ والی عبارت موجود ہے۔ اور قبرموسیٰ کابھی بیان ہے۔

اور ان کی وفات پر تیس دن تک بنی اسرائیل کے گریہ زاری کرنے کا بیان بھی ہے۔

ظاہر ہے کہ یہ توریت بعدمیں مرتب کی گئی ورنہ قبر موسیٰ کے تذکرے کا کوئی تک نہیں بنتا اور ان پر گریہ زاری کی مدت کا ذکر کیے ہوا۔

اس تفصیل سے جو بات سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ

سیدنا موسیٰ ارض فلسطین میں داخل نہیں ہوئے، ان کی قبر جبل نیبو کے قریب سرخ ٹیلوں والے پہاڑی راستے پرجوبڑی گزرگاہ تھی اس پہ بنی ہے اور اسے کوئی نہیں جانتا۔ یہ مقام موسیٰ اسی سرزمین میں ہے، جبل نیبو یہاں سے نظر آتاہے اور اس علاقے میں سرخ ٹیلے بھی موجود ہیں۔ اوربیت المقدس بھی یہاں سے دور نہیں ہے۔ ان چند مناسبتوں کی وجہ سے اس جگہ کو مقام موسیٰ قرار دیا گیا۔

دراصل یہ ایک تفریحی مقام تھا کیونکہ شہر القدس کی گلیاں تنگ تھیں جو ابھی تک ویسی ہی ہیں یہاں کوئی ثقافتی میلہ یاتجارتی بازارنہیں سج سکتاتھا۔ مگر یہ علاقہ (مقام موسیٰ) دنیا کے سب سے بڑے قدیمی شہر کے اریحا کے قریب تھا۔ تجارتی قافلے جو یروشلم اور اس کے گردونواح سے آتے، اور جو لوگ یہاں سے گزر کر مکہ مکرمہ حج کرنے جاتے ، انہیں یہاں ٹھہرنے کی خاطر اور موسم بہار کی آمد پر یہاں رونق و میلہ لگا رہنے کی غرض سے اسے ہی مقام موسیٰ کانام دے دیا گیااور عقیدت کی چاشنی کی خاطربعد میں قبرموسیٰ کے طورپر مشہور کردیاگیا۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کے احترام میں یہاں آئیں اور رونق میلا لگا رہے۔ چونکہ توریت اور حدیث نبویہ کے مطابق قبر موسیٰ بے نشان کردی گئی تھی۔ سیدنا موسیٰ اس جگہ سے پیچھے سرزمین موآب میں کہیں دفن ہوئے تھے۔ چونکہ علاقہ یہی تھا اس لیے اس مقام کوان کی طرف منسوب کردیاگیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔

اسلام کی آمد کے صدیوں بعد جب سلطان صلاح الدین ایوبی یہاں سے گزرے تو انہیں اس مقام کی اہمیت بتائی گئی۔ اورانہوں نے اسے آباد رکھنے کی خاطر یہاں عمارت بنوا دی جسے چالیس پچاس سال بعد کے خاندان غلاماں کے بادشاہ مصر بیبرس نے مکمل کروایا۔

“وحسب الروایات ان صلاح الدین وجد فی المکان بعض الأعراب یقیمیون حول قبره فسألهم عن هوية صاحبه فقالوا له بأنه لکلیم اللہ موسیٰ فشرع ببناء المقام وأتم الظاھر بیبیرس القائد مملوکی بادشاہ ببناء المسجد والأروقة عام1265واوقف علیه الکثیر من العقارات والأراضی ولم تتوقف عملیات اعماره والإضافة إليه حتی العهد.”

پھر جیسے جیسے لوگ بڑھتے گئے اس عمارت کی توسیع ہوتی گئی۔ 1269ء میں یہاں زائرین کے لیے 164حجرے بنائے گئے تھے۔ 1475ء میں مزید حجرے بنے۔ اسی طرح1820ء عثمانیوں کے دور میں بھی اس میں توسیع کی گئی۔ یہ معلومات اسی قدیمی پتھر سے حاصل ہوئی ہیں جوعمارت کے ایک کونے میں لگایاگیاتھا۔ جس پر لکھاہواہے:

“تم بناء هٰذا المقام علی قبر النبی الذی تکلم مع اللہ سبحانه و تعالیٰ وهو موسیٰ عليه السلام بناءً علی أمر من جلالة السلطان طاهر أبوا الفتاح بیبیریس سنة 668هجری لقب أبو الفتاح یعنی الفاتح وقد لقب بهٰذا الإسم بعد تحریرہ لفلسطین من أیدی الصلیبین.”

کہ یہ مقام قبر نبی موسیٰ کلیم اللہ کی تکمیل 668 ہجری میں عزت مآب سلطان ابوالفتاح بیبیرس کے حکم سے ہوئی۔ (ابو الفتاح کا لقب فلسطین کو عیسائیوں کے ہاتھوں سے آزاد کرنے کی وجہ سے دیا کیا گیا)۔

تبصرہ کریں