سفر مسجد اقصی اور ارض فلسطین کی روح افزا روئیداد- حافظ عبد الاعلیٰ درانی

الشیخ امجد الہاشمی سے ملاقات

اگلی صبح سوموار، 17جولائی، 2017ء (23شوال، 1438ھ) کوہم نماز تہجد کے لیے حسب معمول مسجد اقصیٰ چلے گئے۔ اشراق پڑھ کر واپسی پر طریق الآلام میں ایک بہت خوبصورت اور جدید سہولیات سے آراستہ ہوٹل میں آگئے۔ اس ہوٹل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کے بالکل متصل ہے۔سچ پوچھیں تو اتنا زبردست ہوٹل اور وہ بھی طریق الآلام (پُردردگزرگاہ) پر جس راستے سے بقول عیسائی روایت کے سیدنا عیسی ٰ کوسزائے موت دینے کے لیے چلایاگیاتھا اور بھاری بھرکم صلیب ان کی پیٹھ پر لادی گئی تھی جس کاوزن وہ برداشت نہیں کرسکتے تھے اور چند ہزار میٹر کے راستے میں کم ازکم 16 دفعہ آپ زمین پر گرگئے تھے اسے طریق الآلام way of sarowکہا جاتاہے۔ اسی راستے سے مسلمان مسجد عمر جاتے ہیں اور مسجد اقصی بھی ، اسی راستے سے عیسائی کنیسۃ القیامہ جاتے آتے ہیں اور اسی راستے سے یہودی دیوار گریہ یا دیوار براق آتے جاتے ہیں گویایہ بڑی مصروف مگر تنگ سی گلی ہے۔ یہاں سے گزرتے ہوئے یہ تکلیف دہ تاریخ ذہن میں کلبلانے لگ جاتی ہے۔ الشیخ امجد کاہوٹل الہاشمی بھی اسی ایریے میں ہے۔ الشیخ امجد نے معروف بزرگ بشر الحافی کا یہ قول سنایا کہ ’’ما بقی عندی لذات الدنیا الا ان استلقی علی جنبی تحت السماء بجامع بیت المقدس ‘‘ کہ زندگی کی بس ایک ہی آرزو رہ گئی ہے کہ میں مسجد اقصی کے پڑوس کی زمین پر لیٹ کرکھلے آسمان کا نظارہ کرسکوں۔ الشیخ امجد نے مسجد اقصی کی جو تصویر اپنے وال پیپر پر لگارکھی ہے اس میں مسجد اقصی پررات طاری ہے یعنی مسلمانوں کے قبلہ اول پر تاریکی چھائی ہوئی ہے جو لگتی تو مسجد اقصیٰ کی عمارت پر ہے لیکن دراصل یہ مسلمانوں کی قسمت پر ہے۔

ناشتہ کے وقت الشیخ امجدکے ہوٹل میں کافی رش تھا ، ہندوستان اورجنوبی افریقہ سے آئے ہوئے کافی لوگ موجود تھے۔ اگرچہ کوئی بہت بڑا ہوٹل نہیں ہے لیکن اس تاریخی علاقے میں اتنی مہنگی جگہ جس کی قیمت کئی ملین کے حساب سے ہے اتنا خوبصورت ہوٹل بنانا اور پھر اسے چلانا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ چونکہ یہ مسجد اقصی کے بالکل پڑوس اور پردرد راستے (طریق الآلام )میں واقع ہے اس لیے جب بھی مسجد اقصیٰ میں کوئی گڑبڑ ہوتی ہے ، القدس الشریف کے یہ پڑوسی اس آزمائش کا سب سے پہلے نشانہ بنتے ہیں ، شہر کے تمام دروازے بند ہوجاتے اور یہاں کے باسی محصور ہوجاتے ہیں ، گزشتہ تین دن سے اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ فائرنگ سے جوتین فلسطینی نوجوان شہید ہوچکے تھے ، اس افسوسناک سانحے کا براہ راست اثر اس علاقے پر بھی پڑا تھا،اگرچہ آج کچھ حالات ٹھیک تھے۔ لیکن قابضین کی ظالمانہ کارروائیوں سے خوف وہراس کی کیفیت موجود تھی ، ہوٹل الہاشمی کا نیچے والاپورشن بہت قدیمی سٹائل سے مرصع کیا گیا ہے ، پرانی کرسیاں ، آبشاروں اور پرانی غاروں کا خوابناک ماحول بنایا گیا ہے ، تاکہ مہمان کسی اور دنیا میں اپنے آپ کو محسوس کریں۔ اوپر والی منزل تک جانے کے لیے لفٹ بھی موجود ہے۔ چھت والا حصہ تو بہت ہی خوبصورت ہے بے شمار درخت اور ننھے ننھے پودے بہار پیدا کررہے ہیں ، ان پودوں کے درمیان آدمی خود کو بہت ریلیکس محسوس کرتا ہے ، چھت پر کھڑے ہوجائیں تودنیا کا ایک گنجان آباد، قدیمی اور تاریخی شہرکی حیثیت سے پورا یروشلم آپ کو نظر آتا ہے۔

اس ہوٹل کانام الہاشمی ہوٹل ہے جسے الشیخ ابو عثمان سلہب المعروف شیخ امجد اپنے بھائی کے ساتھ چلا رہے ہیں۔ انہوں نے ہم سے گزشتہ رات صبح کے لیے وعدہ لیاتھا آٹھ بجے ہم وہاں پہنچ گئے۔ شیخ موصوف نے ہمارا گرمجوشی کے ساتھ استقبال کیا۔ وہ یروشلم کے مکینوں میں سے ہیں۔ فلسطینیوں کی طرح خوبصورت چوڑے چکلے ، فراخ سینہ اور کشادہ دل و دماغ کے مالک ہیں ، دینی تعلیم انہوں نے سعودیہ یونیورسٹیوں سے حاصل کی۔ اوردونوں بھائیوں نے امریکی یونیورسٹی سے ہوٹل مینجمنٹ کی ڈگری بھی لی ہوئی ہے۔ ان کی مادری زبان عربی ہے جبکہ تعلیمی اداروں میں انگریزی پڑھائی جاتی ہے۔ اور ہماری طرح انہیں بھی محدث زمان فضیلۃ الشیخ علامہ ناصر الدین الالبانی﷫ سے ایک واسطہ سے شرف تلمذ حاصل ہے۔ علم و عمل کا نور ان کے چہرے مہرے سے ٹپک رہا ہے۔ شیخ امجد کوشش کرتے ہیں کہ پانچوں نمازیں باجماعت مسجد اقصیٰ میں ادا کریں۔ مسجد اقصی پر یہودیوں کے تسلط کی وجہ سے جب بھی کوئی بدمزگی پیدا ہوتی ہے۔تو اس کے فوری اثرات اس گلی کے مکینوں پر پڑتے ہیں ۔ ، مسجدبند ہو جائے یا کوئی امام مسجد اقصیٰ پہنچے نہ پہنچے شیخ امجد وہاں ضرور پہنچتے ہیں۔ دودن کے تعطل کے بعد مسجد اقصی کے چبوترے پر کھڑے ہوکر اذان دینے والے یہی مرد مجاہد تھے۔ تلاوت قرآن کریم بڑی خوبصورت کرتے ہیں ، فلاحی کاموں میں بڑھ چرھ کر حصہ لیتے ہیں فلسطینیوں کے مظلوموں کی مدد کرنے کے لیے انہوں نے ایک فاؤنڈیشن بنا رکھی ہے۔ کئی قسم کی تصنیفات چھپواتے رہتے ہیں۔ ان کے ہوٹل کاؤنٹر پر حساب و کتاب کے رجسٹر نہیں فضیلۃ الشیخ امام ابن باز، محدث العصر علامہ البانی ،الشیخ ابن عثیمین اور دیگر علماء وقت کی تصانیف ترتیب سے رکھی ہوتی ہیں جو آنے جانے والوں کو ہدیہ کے طور پر دی جاتی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے مسجد اقصی کی تاریخ ایک A3 پیپر پر مختلف رنگوں میں طبع کروائی ہے۔ اپنے ہوٹل میں بھی طبعی رنگ انہوں نے بھررکھے ہیں اسی دوران امام مسجد اقصی الشیخ علی العباسی بھی تشریف لے آئے۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے برطانوی زائرین کی بڑی تعداد ناشتے میں موجود تھی۔ ہر قسم کی چیزیں بوفے میں حاضر تھیں ، ہم نے کھانے سے زیادہ وہاں کے متاثرکن ماحول سے لطف اٹھایا۔ اسی طرح مسجد اقصیٰ اوقاف کے سینئر رکن الشیخ عثمان ابوالعالی سے تعارف اور ملاقات ہو گئی۔ ان کی اسی بازار میں تاریخی اشیاء کی دوکان ہے۔ جہاں سے بعد میں ہم نے کچھ نوادرات کی شاپنگ کی۔ موبائل کی بیٹری کا مسئلہ ہر جگہ رہتاہے ان کی دوکان جو باب حطہ کے بالکل قریب تھی وہاں پہنچتے ہی فون چارج پہ لگادیا۔ کافی دیر وہاں رکنا تھا جب واپس جانے لگے تو فون چارجر میں ہی لگارہا لیکن جلد ہی احساس ہوگیا اور مجھے واپس آنا۔ موبائل کا مطلب ہی ہوتاہے وائرلیس لیکن جب اس طرح کا وقوعہ ہوجاتاہے تو آدمی سوچتا ہے کہ اس کے ساتھ وائر ہونی چاہیے اس طرح انسان کی فطری کمزوری یعنی جلد بازی سامنے آجاتی ہے کہ وہ کسی ایک کیفیت پر راضی نہیں رہ سکتا۔اور ہر آن بدلنا چاہتاہے ۔ اس بہانے خوب سے خوب تر کی تلاش کا سفر سدا جاری رہتاہے۔ ناشتہ کے بعد ہمیں لفٹ کے ذریعے ہوٹل کی چوتھی منزل یعنی چھت پر لیجایا گیا۔جہاں سے پورے یروشلم کا نظارہ کیا جاسکتاتھا۔ الشیخ امجدنے اس گنجان آباد شہر کے سارے محلوں کا تعارف کروایا۔

عیسائیوں کا خط وکتابت سکول

القدس (یروشلم) میں عیسائیوں کے محلہ کے مرکزی گیٹ پر بنی بلڈنگ کاانداز تعمیردیکھ کر ابتدائی عمر میں عیسائیوں کے خط و کتابت سکول کورس میں ولادت عیسی کے ضمن میں بعض عمارات کا نقشہ یاد آگیا۔ بچپن کی بعض باتیں ذہن پر نقش ایسی ہوجاتی ہیں کہ زندگی بھریاد رہتی ہیں ۔ ہمارے شہر فیصل آباد کے مرکزی ایریا سرکلر روڈپر مسیحی اداروں کا تسلط ہے ، یہیں ان کا بڑاچرچ، کانونٹ سکول، یونائیٹڈ کرسچین ہسپتال اور دیگر تبلیغی ادارے کام کررہے ہیں۔ ایک اسلامی ملک کے مسلمانوں کو عیسائیت کی تبلیغ ایسے درانہ طریقے سے کی جارہی ہے کہ ہردردمند دل اس پر کڑھتاہے ۔ کیونکہ کسی اسلامی مملکت میں اسلام سے برگشتہ کرنے کی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں ہے۔اسے فتنہ ارتداد کہا جاتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی بے علمی اورجہالت کے باعث ارتداد کافتنہ کافی رسوخ حاصل کرچکا ہے ، توریت ، انجیل مقدس اور صحائف انبیاء کے نام سے بائیبل کی تبلیغ پر کروڑوں روپیہ خرچ کرکے اہل اسلام کو اسلام سے برگشتہ کرنے کا کام بڑی مستعدی اور غیر محسوس طریقے سے جاری ہے۔ اب جدید ذرائع اختیارکیے جارہے ہیں۔جس دور کی میں بات کررہا ہوں اس زمانے میں ابلاغ کا ذریعہ صرف اخبارات ہوا کرتے تھے ،ان میں اشتہارات چھپا کرتے تھے کہ انبیاء کے صحائف کا مطالعہ کیجئے اور ایک پوسٹ کارڈ لکھ کرگھر بیٹھے مفت حاصل کیجئے۔ ایک ایسا ہی اشتہار دیکھ کر میں نے بھی ایک خط لکھ دیا تھا کارسپانڈس سکول کو اورپھر خط و کتابت جاری ہوگئی ،بذریعہ پوسٹ بکس نمبر17۔ پوسٹ مین نے باقی خطوط تو ہاتھ میں دیے اور یہ لفافہ اس نے غصے کے ساتھ پھینک دیا کیونکہ ان کو تو پتہ ہوتاہے کہ ان میں کیا ہوتاہے۔ اس میں پوچھے گئے سوالات پڑھتا اور ان کا جواب ڈھونڈ کر لکھ کر بھیجتا اورسو فیصد نمبر حاصل کرتاتھا اس کافائدہ یہ ہوا کہ میں نے سارے کورس مکمل کرلیے اور اناجیل کا مطالعہ بھی اوائل عمری میں ہی کرلیا۔ ایک دن میں ان کے آفس کا پتہ پوچھنے کی مہم پر نکلا۔ فیصل آباد شہر عبداللہ پور سے متصل ہی ہے ۔ ایڈریس خفیہ تھا اور خط وکتابت کیلئے صرف پوسٹ بکس کا نمبر تھا۔ میں نے جنرل پوسٹ آفس سے اس سکول کا ایڈریس پوچھا پہلے تو وہ صاحب بڑے غصے میں آئے پھر میں نے مقصد بتایا تو انہوں نے اشارتاً بتادیالیکن وہاں کوئی ایسی نشانی موجود نہ تھی میں نے ایک مسیحی دوکاندار سے پوچھا تو اس نے بتادیا۔ جہاں آج کل ستیانہ روڈ والا پل ہے اس زمانے میں۔ یہاں اس خط وکتابت سکول کا دفتر تھا۔اس اجاڑ کوٹھی میں ڈرتا ڈرتا داخل ہوا وہاں موجود دفتر کی سیڑھیاں چڑھ گیا۔ ا ن لوگوں کو بڑا تعجب ہوکہ یہ اجنبی یہاں کیوں اور کیسے پہنچ گیا ہے؟ میں نے بتایا کہ میں آپ کے سکول کا سٹوڈنٹ ہوں اور میرا نام یہ ہے انہوں نے چیک کرکے مزید تعارف پوچھا وہ مجھے اپنے جنرل مینجر کے پاس لے گئے۔ وہ یہ سن کر بڑے حیران ہوئے کہ مجھے پورا قرآن مجید حفظ ہے، انہیں پہلے تو یقین نہ آیا کہ اتنی بڑی کتاب کسی بچے کے سینے میں کیسے محفوظ ہوسکتی ہے؟ تو انہوں نے وہاں سے قرآن مجید اٹھایا اور میرے سامنے کھول کر رکھ دیا کیونکہ وہ خود تو ایک لفظ بھی نہیں پڑھ سکتے تھے۔ مجھے بولے کہ یہاں سے پڑھو میں نے مصحف شریف بند کرکے وہاں سے سنا دیا۔ یوں پہلی ملاقات خوشگوار رہی۔ اس کے بعد بھی کئی دفعہ وہاں جانا ہو،ہمارے درمیان کافی بے تکلفی ہوگئی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ ان لوگوں کو عیسائیت کا بھی کوئی علم نہ تھا۔ وہ دلائل تو نہیں رکھتے تھے لیکن میری باتوں سے لطف اندوز ضرور ہوتے۔

عیسائیوں کی سرگرمیاں ایک منظم و مربوط طریقے سے جارہی ہیں ان کی مشنری پوری دنیا میں کام کررہی ہے، پورا یورپ امریکہ کینڈا وغیرہ اور دنیا کے بڑے بڑے بینک ، کاروباری اور رفاہی ادارے ان کی پشت پناہی کررہے ہیں جبکہ اسلام کی تبلیغ کا کوئی منظم کام نہیں ہے، اور نہ ہی اس کی پشت پر کوئی ملک یا کاروباری ادارے ہیں، بلکہ اسلام کے مخالف اور دشمن فرقے قادیانیت وغیرہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾۔ مسیحیوں کی منظم تبلیغی سرگرمیوں کے جواب میں لاہورسے اکیلے ایک آدمی نے جن کا نام حافظ نذر احمد صاحب تھا انہوں نے خط وکتابت سکول کے نام سے بیڑہ اٹھایا، اس کی خبر اخبار میں شائع ہوئی تو میں نے حافظ صاحب کو بڑا حوصلہ افزا خط لکھا۔ جواب میں انہوں نے شکریہ ادا کیا (معلوم نہیں حافظ صاحب بقید حیات ہیں یا نہیں اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے، ان کی خدمات کو قبول و منطور فرمائے) ان کو میں نے کچھ مسلمان لوگوں کے پتے نوٹ کرکے بھیجے جو عیسائیوں کے خط و کتابت سکول سے وابستہ تھے۔ اور یہ پتے میں نے صرف رجسٹرکی ورق گردانی کرنے کے دوران یاد کرلیے تھے۔ پوسٹ مین لوگوں کا رد عمل بھی جراتمندانہ تھا وہ اس سکول کے خطوط ڈلیور کرنے پر مجبور تھے وگرنہ وہ سخت ناپسند کرتے تھے۔ لیکن ہمارے حکمران اس اسلامی غیرت سے خالی ہیں ورنہ عیسائی اور قادیانی تنظیمیں اتنے منظم انداز میں مسلمان ملک کے لوگوں کو مرتد نہیں کرسکتیں۔ ان اسباق کے سر ورق پرجس بلڈنگ کی تصویر ہوتی تھیں وہ بڑی عجیب اور دلچسپ لگتی تھیں۔ آج میں الہاشمی ہوٹل کی چھت پر کھڑا جب عیسائی محلے کی ان بلڈنگوں کو دیکھ رہاتھا تو یادوں کے دریچے وا ہوچکے تھے میں ان عمارات کی تصاویر میں اپنے ماضی کی یادوں میں کھویا ہوا تھا ، شیخ امجد کافی دیرتک میرا انہماک دیکھتے رہے ، پھر انہوں نے مجھ سے اس دلچسپی کی وجہ پوچھی تو میں نے بتایا کہ مجھے کس چیز نے مشغول کر رکھاتھا وہ بھی بڑے متعجب ہوئے کہ ایک اسلامی ملک میں غیراسلامی تبلیغ کیونکر ممکن ہے؟۔

بہر حال ہم نے شہر یروشلم کے اس نظارے کی وڈیو بنائی۔ باتوں باتوں میں الشیخ امجد نے غزہ والے عالم کاذکر کیا کہ انہوں نے جو نمبر دیا تھا وہ تو آپ کا نکلا۔ بہرحال بڑی خوشی ہوئی آج کی ملاقات سے۔ کافی دیر ہم الہاشمی ہوٹل کی ضیافت سے ظاہری و روحانی لطف اٹھاتے رہے اور پھر گیارہ بجے کے قریب ہم اپنے ہوٹل واپس پہنچ گئے۔ کل چونکہ واپسی ہے اس لیے کافی مصروف رہے۔ یروشلم کی گلیاں احتجاجی نعروں سے گونج رہی تھیں کیونکہ ازرائیلی فورسز نے مسجد اقصی کے اکثر دروازے بند کیے ہوئے تھے۔ اور وہ دروازوں کے باہر ڈیٹیکٹر نصب کررہے تھے جس کا انہیں کوئی حق نہ تھا۔ اس کے خلاف پورے القدس الشریف میں نوجوان اشتعال میں تھے۔ اہل ایمان نوجوانوں کے مسلسل احتجاج کا یہ نتیجہ نکلا کہ دو ہی دن بعد اسرائیلیوں کو نصب شدہ ڈی ٹیکٹر ٹرالیوں پر لاد کر بے آبرو ہوکر بھاگنا پڑا جسے دیکھ کر نہایت خوشی ہوئی کہ ابھی تک فلسطینی نوجوان کے سامنے اسرائیلی فورس دم نہیں مار سکتی حالانکہ ان کے پاس اسلحہ ہے اور وہ نہتے لیکن جذبہ ایمانی ان حدود سے ماوراء ہے۔ یہ مصیبت جو اہل قدس اور اہل فلسطین پر آئی ہوئی ہے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پچھلی صدی کے ابتدائی سالوں میں حالات دگر گوں ہونا شروع ہوگئے تھے۔ فلسطین کے علاقے پر اسرائیلی ریاست کے قیام کا فیصلہ بھی برطانیہ نے ہی کیا تھا جس کے بعد سے مقبوضہ کشمیر کی طرح مقبوضہ فلسطین بھی مسلسل تباہی وبربادی میں مبتلاہے۔ یہاںآئے دن نوجوانوں کو قتل کیا جارہاہے اور ان کے گھروں کو مسمار کردیا جاتاہے۔ باپردہ خواتین کے ساتھ زیادتیاں کی جاتی ہیں۔

٭٭٭

ڈڈلی کی ایک بزرگ شخصیت کی وفات

ڈڈلی کی ایک بزرگ شخصیت اور ہماری مسجد کےنمازی حاجی حبیب الرحمٰن بھونیا بنگالی 86 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔إنا لله وإنا إليه راجعون

نماز جنازہ جامع مسجد کوئیمس کراس ڈڈلی میں ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے پڑھائی جس میں کثیر تعداد میں لوگ شریک تھے، خواتین بھی کثیر تعداد میں شریک نماز تھیں۔ کونسلر ظفر اسلام، کونسلر شوکت علی، قاری عبد السلام عابد، فرزند محمد نور بھونیا اور مرحوم کے نواسے اور اقارب شریک تھے۔ ہر ایک زبان پر مرحوم کا ذکر خیر تھا، دعا ہے کہ اللہ کریم انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے۔ آمین

کر عمل ایسے جہاں میں گر تجھے کچھ ہے شعور

موت جب آئے جہاں جس حال میں کچھ ڈر نہ ہو

٭٭٭

تبصرہ کریں