
سیدنا اسید بن حضیر اور سیدنا عباد بن بشر کی لاٹھیوں کا روشن ہونا ان کی کرامتوں کی دلیل ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر: 5944)
سیدنا انس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اسید بن حضیر اور سیدنا عباد بن بشر نبی کریمﷺ کی خدمت میں کسی ضرورت پر گئے۔ یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا، سخت اندھیری رات تھی، پھر وہ دونوں صحابہ آپﷺ کی خدمت سے اپنے گھروں کو واپس ہوئے اور دونوں کے ہاتھوں میں ایک ایک چھوٹی چھڑی تھی، ان دونوں میں سے ایک چھڑی روشن ہو گئی جب ان دونوں کا راستہ بدل گیا تو دوسرے صحابی کی چھڑی بھی روشن ہو گئی اور ہر دو صحابی انہیں چھڑیوں کی روشنی میں اپنے اپنے گھر پہنچ گئے۔ (صحیح بخاری، فتح الباری: 7؍124۔125؛ مشکوٰۃ المصابیح : ج2، حدیث نمبر 3805)
سیدنا جابر کے والد کو جنگ احد میں پہلے شہید ہونے کا یقین ہو گیا تھا، یہ ان کی کرامت تھی۔
سیدنا جابر سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب احد کی لڑائی کا موقع آیا تو میرے والد نے رات میں مجھے بلایا اور کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میں پہلے قتل کیے جانے والے صحابہ کرام میں سے ہوں گا اور میں سمجھتا ہوں کہ رسول اکرمﷺ کے بعد تم سے زیادہ عزیز کوئی نہیں ہے اور مجھ پر قرض ہے وہ ادا کر دو اور اپنی بہنوں سے اچھا سلوک کرو، چنانچہ ہم نے حج کیے اور میرے والد پہلے شہید تھے اور میرے والد کے ساتھ ایک اور شہید کو ایک قبر میں دفن کر دیا، اللہ کے نبیﷺ کے حکم پر کبھی دو شہیدوں کو ایک قبر میں دفن کیا جاتا تھا، چنانچہ میرے والد کے ساتھ بھی ایک اور شہید کو ایک قبر میں دفن کیا گیا۔ (صحیح بخاری، فتح الباری: 3؍214؛ مشکوٰۃ المصابیح: حدیث نمبر 1351)
سیدنا ابو بکر صدیق کی کرامت جب بھی آپ لقمہ لیتے اس کے نیچے سے اور کھانا بڑھ جاتا۔
سیدنا عبد الرحمٰن بن ابی بکر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ صفہ والے محتاج لوگ تھے، اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تیسرا آدمی اپنے گھر لے جائے اور جس کے پاس چار آدمیوں کا کھانا ہووہ پانچویں شخص کو یا چھٹے شخص کو لے جائے اور سیدنا ابو بکر تین آدمیوں کو لے گئے اور نبی کریمﷺ 10 آدمیوں کو لے گئے اور سیدنا ابو بکر نبی کریمﷺ کے پاس شام کا کھانا تناول فرمائے اور رات کا ایک حصہ جتنا اللہ نے چاہا گزرنے کے بعد گھر لوٹے، ان کی بیوی نے کہا کہ تمہارے مہمانوں سے کس چیز سے تمہیں روکے رکھا؟ تو سیدنا ابوبکر نے کہا کہ کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا؟ تو بیوی نے کہا کہ مہمانوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ آپ آ جائیں۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکرصدیق غصہ میں آ گئے اور کہا کہ اللہ کی قسم! میں کبھی کھانا نہیں کھاؤں گا۔ بیوی نے بھی قسم کھائی کہ میں کھانا نہیں کھاؤں گی اور مہمانوں نے بھی قسم کھا لی کہ وہ بھی کھانا نہیں کھائیں گے۔ تب سیدنا ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ یہ شیطان کی طرف سے ہوا ہے۔
آپ نے کھانا منگوایا ، آپ نے بھی کھایا ، مہمانوں نے بھی کھایا، وہ سب جب بھی لقمہ اٹھاتے اس کے نیچے سے اور زیادہ کھانا بڑھ جاتا، انہوں نے اپنی بیوی سے کہا، اے بنو فراس کی بہن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ تو اب پہلے سے تین گنا زیادہ ہے، چنانچہ سب نے کھایا اور اللہ کے نبیﷺکے پاس بھی بھیجا اور آپﷺ نے بھی تناول فرمایا۔ (متفق علیہ)
اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود کی حدیث ذکر کی گئی کہ آپﷺ کے کھانے سے ہم تسبیح سنتے تھے، یہ آپﷺ کے معجزات میں سے ہے۔ (صحیح بخاری: 3581؛ صحیح مسلم: 2057؛ مشکوٰۃ المصابیح: حدیث نمبر: 5946)
نجاشی کی کرامات کہ ان کی قبر پر نور پایا جاتا تھا
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نجاشی کا انتقال ہوا تو ہم کو بیان کیا جاتا تھا کہ ہمیشہ ان کی قبر پر نور دیکھا جاتا تھا، حبشہ کے بادشاہ کا لقب نجاشی تھا، وہ نصرانی مذہب کے تھے لیکن اس نے صحابہ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا تھا۔ ان کے انتقال پر اللہ کے رسولﷺ نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی اور ان کی قبر پر نورکا پایا جانا نجاشی بادشاہ کی کرامت تھی۔ (سنن ابو داؤد: 2523؛ مشکوٰۃ المصابیح: حدیث نمبر5676)
نبی کریمﷺ کو غسل دینے والے صحابہ کرام کی کرامت
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی کریمﷺ کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ نبی کریمﷺ کے کپڑے اتار دیں، جیسا کہ دیگر لوگوں کے کپڑے اتار دیتے ہیں یا نہ اتاریں۔ اور آپﷺ کو کپڑوں کے ساتھ غسل دیں؟ اتنے میں ان صحابہ کرام پر نیند کا غلبہ ہوا اور ان کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں سے لگ گئیں اور ایک آواز دینے والے نے گھر کے کونے سے آواز دی ، لوگ نہیں جانتے تھے کہ وہ کون ہے؟ کہ نبی کریمﷺ کو ان کے کپڑوں کے ساتھ غسل دیں۔ چنانچہ صحابہ کرام نے آپﷺ کو کپڑوں کے ساتھ غسل دیا۔ صحابہ کرام آپﷺ کی قمیص پر پانی بہاتے اور آپﷺ کے بدن کو ملتے تھے۔ امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح: حدیث نمبر 5948)
تبصرہ کریں