صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کرامتیں (قسط14)۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

مدائن فتح کرنے کے لیے مسلمانوں کے لیے دریائے دجلہ کو قابو میں کر دینا

ابن رُفیل سے روایت ہے ، انہوں نے خبر دی کہ جب سیدنا سعد نے بہر سیر نامی مشرق سے قریبی شہر میں پڑاؤ ڈالا، تو کشتیاں طلب کیں تا کہ لوگ خسرو کے محل کی جانب واقع دور دراز شہر تک پہنچ سکیں، لیکن یہ کام انجام نہیں پاسکا ، کیوں کہ سیدنا سعد نے دیکھا کہ انہوں نے کشتیوں کے ذریعے ناکہ بندی کر رکھی ہے، لہٰذ اور یا پار کرنے کی غرض سے ماہ صفر کے کچھ دن بہر سیر ہی میں گزار دیئے، کیونکہ سیدنا سعد کو مسلمانوں کی جانی فکر لاحق تھی۔ اسی اثنا میں کچھ انتہائی طاقت ور عجمی لوگ سیدنا سعد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک ایسے آبی راستے کی خبر دی جو سید ھے وادی کے بیچوں بیچ پہنچاتا تھا، لیکن سیدنا سعد نے یہ تجویز قبول نہیں کی بلکہ تردد کے شکار ہوگئے۔ اسی دوران پانی جب اچانک دریائی کنارے پر زیادہ جمع ہو گیا تو سیدنا سعد نے خواب دیکھا کہ مسلمان گھوڑ سوار دریا میں کود پڑے ہیں، بلکہ اسے پار کر چکے ہیں، سیدنا سعد نے در پیش دریائی مرد کی کیفیت سے ایک بڑا نتیجہ اخذ کیا اور خواب کی تعبیر عبور دریا سے کی، پھر لوگوں میں منادی کی حمد وثنا کے بعد کہا کہ تمہارے دشمن نے اس دریا کو اس طرح ڈھال بنا رکھا ہے کہ تم ان پر حملہ آور نہیں ہو سکتے ہو لیکن وہ جب چاہے تم پرحملہ آور ہو سکتے ہیں اور اپنی کشتیوں ہی میں رہ کر تمہارے ساتھ اپنی قوت آزما سکتے ہیں جب کہ تمہارے ساتھ کوئی ایسا مال و متاع ہی نہیں جس کے چھن جانے کا تمہیں خدشہ ہو۔

فی الحال میں نے عبور دریا کا قطعی فیصلہ کر لیا ہے، سب نے ایک آواز ہو کر کہا کہ اللہ نے ہماری اور آپ کی رہنمائی کی، لہٰذا آپ آگے بڑھیں، سیدنا سعد نے آواز لگائی کہ لشکر دریا پار کرے اور پوچھا کہ کون آگے بڑھے گا اور ہمارے لیے دریائی گڑھے پر قبضہ کرے گا تا کہ لشکر وہاں جمع ہو جائے اور دشمن کو وہاں سے نکلنے نہ دیں، اس مہم کے لیے عاصم بن عمر و تیار ہوئے اور ان کے بعد کمک سے چھے سو جنگ جو بھی تیار ہو گئے، جن کا ذمہ دار سیدنا سعد نے عاصم بن عمرو کو بنایا۔ بلآ خر عاصم ان کے ہمراہ چل پڑے جب دجلہ کے ساحل پر پہنچے تو کہا کہ کون میراساتھ دے گا تا کہ میں اس دریائی گڑھے کو تمہارے دشمن سے محفوظ رکھوں؟ اس پکار پر ساٹھ جنگ جوؤں نے لبیک کہا، عاصم نے انہیں نر اور مادہ گھوڑوں پر دو حصوں میں تقسیم کیا، تا کہ گھوڑوں کی تیرا کی میں سہولت ہو سکے۔ پھر یہ ساٹھ جنگ جو دجلہ میں کود پڑے اور سیدنا سعد نے عاصم کو دریائی گڑھے پر قابض دیکھا تو بقیہ فوج کو دریا میں اترنے کی اجازت دی اور تاکید کی کہ تم کہو کہ ہم اللہ سے مدد کے طلب گار ہیں، اور اس پر تو کل کرنے والے ہیں اور اللہ ہمارے لیے کافی اور بہتر کارساز ہے، حالات کی بہتری اور قوت اسی اللہ کے ذریعے ممکن ہے جو بے انتہا بلند وعظمت کا مالک ہے۔ جب لشکر کا اکثر حصہ آپس میں مل گیا، اور وہ انتہائی جھاگ والے سیاہ موجزن در پاپر سوار ہو گئے، تو آپس میں تیرا کی کے دوران ویسے ہی بات چیت کرنے لگے جیسے خشکی کے راستے میں باہمی گفتگو کیا کرتے تھے یہ غیر متوقع نظارہ دیکھ کر اہل فارس سکتے میں آگئے، فوراً ہتھیار ڈال دیئے اور تیزی سے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے اپنا مال بٹورنے لگے۔ مسلمان مدائن میں ماہ صفر سنہ 6 ہجری میں داخل ہوئے اور شیر ودیہ اور اس کے بعد والے حکم رانوں کے جمع کردہ اور خسرو کے محلوں میں ذخیرہ کردہ تقریباً تین بلین مال پر قابض ہو گئے۔علامہ ڈاکٹر محمداقبال نے حسب ذیل شعر میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے:

دشت تو دشت ہیں، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے

بحرِ ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے

سیدنا براء بن مالک اگر اللہ کی قسم کھاتے تو اللہ ان کی لاج رکھ لیتا تھا

سیدنا انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نےفرمایا: کتنے ہی پراگندہ بالوں والے اور سیدھے سادھے کپڑے پہننے والے کہ (ان کی معمولی لباس کو دیکھ کر) انہیں کوئی ٹھہرنے کے لیے جگہ بھی نہیں دیتا، اگر وہ اللہ کی قسم، کھا لیں تو اللہ ان کی قسم کی لاج رکھ لیتا ہے اور ان کی دعا کو قبول فرما لیتا ہے، ان ہی لوگوں میں سیدنا براء بن مالک بھی شامل ہیں۔ (جامع ترمذی، مناقب الصحابۃ: 3854)

سیدہ عدیسہ بنت وہبان بن صیفی کو ان کے والد کی وصیت

سیدہ عدیسہ بنت وہبان بن صیفی کے والد کی وفات کا وقت آ گیا، تو انہوں نے وصیت کی کہ مجھے دو چادروں میں کفن دو۔ عدیسہ نے بیان کیا کہ انہیں دو چادروں اور قمیص میں کفن دیا گیا، جب ہم تدفین کے دوسرے دن صبح کیے تو کیا دیکھتے ہیں کہ جس قمیص میں انہیں کفنا یا گیا تھا وہ چارپائی پر تھی۔ ان کے والد کی وصیت کے خلاف کفن میں ایک قمیص کا اضافہ کر دیا گیا تھا تو وہ قمیص اللہ نے فرشتہ کے ذریعے ان کے گھر لوٹا دی۔ (الاصابہ: 1؍91)

تبصرہ کریں