
سیدنا علاء بن حضرمی کے لیے سمندر کا مسخر ہونا
سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا علاء بن حضرمی کو نبی کریمﷺ نے بحرین کو بھیجا تو میں بھی ان کے پیچھے ہو گیا، میں نے ان میں تین چیزیں دیکھیں ، مجھے نہیں معلوم کہ ان میں سے کون سی چیز سب سے زیادہ تعجب خیز ہے، ہم سمندر کے کنارے پہنچے تو سیدنا علاء نے کہا کہ اللہ کا نام لو اور سمندر میں داخل ہو جاؤ، ہم نے اللہ کا نام لیا اورسمندر میں داخل ہو گئےاور ہم سمندر پار کر گئے اور پانی ہمارے اونٹوں کی ایڑھیوں کو تر نہیں کیا، جب ہم واپس ہوئے تو اسی زمین کے ایک ٹکڑے کو لے گئے اور ہمارے ساتھ پانی نہیں تھا، ہم نے اس کی شکایت سیدنا علاء سے کی تو انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی ، پھر اللہ سے دعا کی تو اچانک بادل ڈھال کی طرح چھا گئے، پھر خوب بارش ہوئی، ہم نے پانی پیا اور پلایا اور سیدنا علاء وفات پا گئے۔ ہم نے انہیں ریت میں دفن کر دیا۔ پھر ہم تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ ہم کو خبر ملی کہ درندہ آ کر اس نعش کو کھا رہا ہے، ہم فوراً وہاں پہنچے تو ہم نے اس نعش کو قبر میں نہیں دیکھا۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی: 3؍50)
سیدنا ابو عبس کی لاٹھی کا روشن ہونا
عبد الحمید بن ابو عبس انصاری روایت کرتے ہیں کہ میمون بن زید بن ابو عبس نے مجھے بتایا، میرے والد نے مجھے بتایا کہ سیدنا ابو عبس رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے، پھر بنو حارثہ کو واپس جاتے تھے، چنانچہ ایک تاریک اور بارش کی رات وہ نکلے تو ان کی لاٹھی روشن کر دی گئی، یہاں تک کہ وہ بنو حارثہ میں داخل ہو گئے۔ امام بیہقی نے کہا کہ ابو عبس بدری صحابی ہیں۔ (سیراعلام النبلاء: 1؍188، رقم 21)
جس نے سیدنا حسین بن علی کو ایذا پہنچایا
سیدنا وائل یا وائل بن علقمہ سے مروی ہے کہ جو وہاں کا حال انہوں نے دیکھا، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا کہ کیا تم میں حسین بھی ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، اس نے کہا کہ رب رحیم اور شفیع جن کی اطاعت کرنا لازمی ہے، ان کی قسم کھا کر خوشخبری دے رہا ہوں، لوگوں نے کہا کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ میں ابن جویرہ یا ابن جویزہ ہوں، سیدنا حسین نے کہا: اے اللہ! اسے جہنم میں رسید فرما۔ چنانچہ اس کی سواری اسے لے کر دوڑی، یہاں تک کہ اس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا، انہوں نے بتایا کہ اللہ کی قسم! اس کی سواری پر اس کے پاؤں کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہا، یعنی وہ کہیں گر کر ہلاک ہو گیا اور واصل جہنم ہا۔ (طبرانی اسے الکبیر میں بیان کیا ہے: 3؍2841)
سیدنا خالد بن الولید کا زہر پینے سے نقصان نہ ہونا
سیدنا ابو السفر روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ جب سیدنا خالد بن الولید حیرہ میں امیر بنو مراز بہ کے پاس پہنچے تو لوگوں نے کہا کہ آپ زہر سے بچیے، کہیں عجمی لوگ آپ کو پلا نہ دیں، آپ نے کہا کہ زہر مجھے دین، چنانچہ آپ نے اسے اپنے ہاتھ میں لیا اور بسم اللہ کہہ کر پی گئے۔ آپ کو کچھ بھی تکلیف نہیں ہوئی۔ (مجمع الزوائد: 9؍350)
حسنین کریمین کے لیے بجلی کا روشن ہونا
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے تھے، جب آپﷺ سجدہ میں جاتے تو سیدنا حسن اور سیدنا حسین آپﷺ کی پیٹ پر اچھل کر بیٹھ جاتے تھے۔ جب آپﷺ اپنا سر سجدہ سے اٹھاتے تو ان کو پیٹ سے نرمی کے ساتھ پیچھے کی طرف اتار دیتے تھے، پھر جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو یہ دونوں آپﷺ کی پیٹھ پر سوار ہو جاتے، یہاں تک کہ جب آپ نماز مکمل کرتے تو ان دونوں کو اپنی رانوں پر بٹھا لیتے، سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں آپﷺ کے قریب کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! کیا ان کو گھر چھوڑ کر آؤں، اچانک بجلی چمکی، آپﷺ نے ان دونوں سے فرمایا کہ تم اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ۔ سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ وہ روشنی تھوڑی دیر کے لیے باقی رہی یہاں تک کہ وہ دونوں اپنی ماں کے پاس چلے گئے۔ (امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے: 6؍76)
وہ مہاجرہ جس کی دعا سے اللہ نے اس کے بیٹے کو زندہ کر دیا
سیدنا انس بیان کرتے ہیں کہ انصار کا ایک نوجوان ہمارے پاس آیا اور اس نوجوان کے ساتھ اس کی بوڑھی ماں تھی جو نابینا تھی، سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ وہ انصاری نوجوان مر گیا اور ہم نے اس کے چہرے پر کپڑا ڈال دیا اور اس کی ماں سے کہا کہ اللہ سے اپنی مصیبت کا بدلہ حاصل کر لو، اس بڑھیا نے کہا، کیا میرا بیٹا فوت گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اس بڑھیاں نے کہا کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے تیری طرف اور تیرے نبیﷺ کی طرف ہجرت کی ہے ، اس امید پر کہ تو میری ہر مصیبت پر میری مدد کرے گا، اس لیے آج مجھ پر یہ مصیبت مت ڈال۔ سیدنا انس بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم! تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ اس لڑکے نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کھانا کھایا اور ہم نے بھی اس کے ساتھ کھانا کھایا۔
(البدایۃ والنہایہ: 6؍156، 292)
تبصرہ کریں