
آسمان والوں نے سیدنا عمر بن خطاب کے اسلام قبول کرنے کی خوشخبری آپﷺ کو پہنچائی
سیدنا ابن عباس روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جب سیدنا عمر نے اسلام قبول فرمایا، تو سیدنا جبرائیل نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے محمد (ﷺ)! بے شک آسمان والے سیدنا عمر کے اسلام قبول کرنے کی خوشخبری دی ہے۔ (صحیح ابن حبان: 6844)
سیدنا براء بن مالک کی کرامت
سیدنا انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کتنے پراگندہ ، سرغبار آلود، دو پرانے کپڑے پہننے والا جس کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں ہے، اگر وہ اللہ کی قسم اٹھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو پوری کر دیتا ہے، ان میں سیدنا براء بن مالک بن نضر بن ضمضم بن زید بن حرام صحابی بھی شامل ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء: 2؍195، رقم: 26)
امام ترمذی نے مناقب الصحابہ 3854، 5؍692 میں ذکر کیا ہے، یہ حدیث صحیح اور حسن ہے۔
سیدہ ام شریک کی کرامت
سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ قبیلۂ دوس کی ایک عورت تھی، جسے ام شریک کہا جاتا تھا، اس نے رمضان کے مہینے میں اسلام قبول کیا، اور وہ آئی کہ اسے کوئی اللہ کے رسول ﷺ کے پاس لے جائے، چنانچہ ایک یہودی شخص سے ملی، اس نے کہا: اے ام شریک، تمہارا کیا حال ہے؟ ام شریک نے کہا کہ مجھے ایک آدمی چاہیے جو اللہ کے رسول ﷺ کے پاس لے جائے، اس نے کہا کہ تم میرے ساتھ آؤ، میں تمہیں ساتھ لے جاؤں گا، اس عورت نے کہا کہ تم میرا انتظار کرو، یہاں تک کہ میں اپنی مشک پانی سے بھر لوں، اس شخص نے کہا کہ میرے پاس پانی ہے، تجھے پانی کی ضرورت نہیں ہے، میں ان کے ساتھ چلی ، یہاں تک کہ رات ہو گئی، یہودی اترا اور اپنا دسترخوان بچھایا اور شام کا کھانا کھایا، اس یہودی نے کہا کہ اے ام شریک! کھانا کھاؤ، ام شریک نے کہا کہ مجھے پانی پلا، کیونکہ میں پیاسی ہوں اور میں پانی پینے تک کھانا کھا نہیں سکتی، تو اس نے کہا کہ میں تجھے ایک قطرہ پانی کا دے نہیں سکتا یہاں تک کہ تو یہودی ہو جا! اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں کبھی یہودی نہیں ہو سکتی جب کہ اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت عطا فرمائی ہے، وہ اپنے اونٹ کی طرف آئی، اور اسے باندھ دیا اور اپنا سر اپنے گھٹنے پر رکھا اور سو گئی۔ اس نے کہا کہ مجھے میری پیشانی پر ایک ڈول کی ٹھنڈک نے مجھے بیدار کیا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا تھا، میں نے پیا، یہاں تک کہ میں سیراب ہو گئی، پھر میں نے مشک پر چھڑکا یہاں تک کہ وہ تر ہو گیا، پھر میں نے اسے بھر دیا، پھر میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کیا اور میں اس ڈول کو دیکھ رہی تھی یہاں تک کہ وہ آسمان میں چھپ گیا، جب صبح ہوئی تویہودی آیا اور کہا: اے ام شریک (کیا حال ہے) ام شریک نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اللہ نے مجھے پانی پلایا ہے، اس نے کہا کہ پانی آسمان سے کیسے نازل ہوا؟ میں نے کہا کہ ہاں، اللہ کی قسم! بے شک اللہ نے مجھ پر آسمان سے پانی نازل کیا ہے، پھر میرے ہاتھوں کے درمیان سے وہ آسمان میں چھپ گیا، پھر وہ آئی، یہاں تک کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، پھر یہ قصہ بیان کیا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے لیے رشتہ مانگا، میں نے کہا کہ اللہ کے رسولﷺ! میں آپ کے لیے راضی نہیں ہوں، آپﷺ کسی اور سے میری شادی کر دیجیے، آپﷺ نے سیدنا زید سے میری شاد ی کر دی، سیدنا زید نے اس عورت سے شادی کی۔ اور اس عورت کو آپﷺ نے 30 صاع دینے کا حکم فرمایا، پھر آپﷺ نے فرمایا: کھاؤ اور ناپو نہیں۔ (دلائل النبوہ: 6؍124)
ابو قرصافہ کی آواز کو دور تک پہنچانا
سیدہ عنزہ بنت عاص بن ابو قرصافہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: روم والوں نےابو قرصافہ کے ایک بیٹے کو قید کر لیا:، ابو قرصافہ ہر نماز کے وقت عسقلان کی دیواروں پر چڑھ جاتے اور آواز دیتے، اے فلاں نماز! وہ بیٹا باپ کی اس آواز کو سن لیتا جبکہ وہ روم کے شہر میں تھا۔ (مجمع الزوائد: 9؍396)
شہداء احد میں زندگی کے آثار
سیدنا عبد الرحمٰن بن عبد اللہ روایت کرتے کہ ان تک یہ اطلاع پہنچی کہ سیدنا عمرو بن الجموح اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو دونوں انصاری پھر سلمی کو سیلاب نے ان کی قبروں کو گڑھا بنا دیا اور ان دونوں صحابیوں کے قبریں سیلاب کی زد میں تھیں، اور یہ دونوں صحابی ایک ہی قبر میں تھے اور ان دونوں صحابیوں کی شہادت جنگ احد میں ہوئی تھی، چنانچہ ان کی قبروں کو مزید کھود کر ان کی جگہ کو بدل دیا گیا، تو ان شہیدوں میں ذرا سی بھی تبدیلی نہیں آئی، گویا کہ وہ کل دنیا سے رخصت ہوئے ہیں، ان میں سے ایک زخمی تھے اور ان کا ہاتھ ان کے زخم پر تھا، انہیں اسی حالت میں دفن کر دیا گیا، ان کے ہاتھ کو ان کے زخم سے ہٹا دیا گیا، تو ان کے زخم سے خون جاری ہو گیا، پھر ان کے ہاتھ کو اسی جگہ پر لوٹا دیا گیا اور جنگ احد اور ان دونوں صحابہ کی قبر کشائی کے درمیان 46 سال کا فاصلہ تھا۔ (حیاۃ الصحابہ: 3؍592)
تبصرہ کریں