صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کرامتیں (قسط16)۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

صحابہ کرام اور اولیاء اللہ کی کرامات

اولیاء اللہ کی تعریف

قرآن حکیم میں ارشاد ہے :

﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ‎0‏ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ ‎0‏ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴾

’’سن لو، جو اللہ کے دوست ہیں اُنہیں کسی قسم کا خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، جو ایمان لا کر تقویٰ پر جمے رہے،اُنہیں کے لئے اس دنیوی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخر ت میں بھی ، اللہ کی باتوں میں تبدیلی نہیں یہی تو بڑی بھاری کامیابی ہے ۔‘‘ (سورہ یونس: 62۔ 64)

یعنی اولیاء اللہ کے لئے ایمان وتقوی کی شرط ہے، تقوی والا مؤمن ہی اللہ کا ولی ہو سکتا ہے اور بے ایمان غیر پارسا ولی نہیں ہو سکتا، اگرچہ ولایت کا دعویٰ کرتا ہو، اولیا ءاللہ کو قیامت کی ہولنا کیوں اور وحشتوں کا کوئی ڈر نہیں، یہ بےفکر ونڈر ہو تے ہیں اور نہ انہیں دنیا کے اور دنیا کے سازو سامان کے چھوٹ جانے کا غم ہوتا ہے۔

ایک شخص نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اولیاء اللہ کون ہیں؟فرمایا: جن کے چہرے دیکھ کر اللہ یاد آ جائے۔ (مسند البزار)

بشارت سے سچا خواب مراد ہے، جسے مسلمان دیکھتا ہے یا ا سے دکھایا جاتا ہے۔ ( ابن جریر ) یادنیا میں بشارت سے سچاخواب اور آخرت میں جنت مراد ہے۔ ( ابن جریر )

سیدنا ابوذر نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا اگر کوئی نیکی کرے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کر یں تو اس کا کیا حکم ہے، فرمایا: یہی تو اس کے لئے دنیوی بشارت ہے۔ (صحیح مسلم، تفسیر السراج المنير تلخيص تفسير ابن كثير )

اولیاء اللہ کی شکل وصورت ؟

اولیاء اللہ اپنی کوئی خاص شکل وصورت نہیں بناتے جو عام مسلمانوں کا لباس ہوتا ہے ان کا بھی وہی ہوتا ہے۔ زرد رنگ، سبز رنگ، زعفرانی رنگ، یا گیر و کا رنگ ( جو عام طور ہندؤوں کے مذہبی لوگوں کا لباس ہوتا ہے)ویسا لباس زیب تن کرنا، یا سرکے پورے بال منڈانا ، یا بال بہت زیادہ لمبے رکھنا یا اپنی مخصوص ہیئت بنانا کہ جس سے معاشرہ میں جانے جائیں کہ یہ اللہ کے پہنچے ہوئے ہیں سب غلط ہے، حضرت صحابہ کرام اور سلف صالحین کا جو لباس تھا، ویسے ہی زیب تن کرنا چاہیئے، اسلام میں زندوں اور مُردوں کے لئے سفید لباس کو افضل قرار دیا گیا ہے ۔

اولیا ء کے القاب ؟

اولیاء اللہ کے کوئی مخصوص القاب نہیں ہوتے۔ جیسا کہ بعض لوگوں نے اولیاء کے لئے خود ساختہ القاب مقرر کئے ہیں، مثلاً غوث، اقطاب، ابدا ل، قطب الأقطاب و غیره ، یہ سب قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ہیں حتیٰ کہ ضعیف حدیث سے بھی ثابت نہیں ہیں، اور غوث کا مستحق صرف اللہ ہے، کوئی بندہ غوث نہیں ہو سکتا ، جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کو نعمتیں عطاکر نے والا اور بلاؤں کو ٹالنے والا سمجھے وہ گمراہ اور مشرک ہے، اولیاء نہ غیب جانتے ہیں اور نہ ہی اپنی کرامتوں کے بدلے وہ لوگوں سے نذرانے وصول کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی قبر کو بڑی اور پختہ بنانے کی وصیت کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے آبا ؤاجداد کی قبروں کو بڑی بنا کر خود سجادہ بن کر لوگوں کو قبروں پر سجدے کرواتے ہیں اور نہ اپنے لئے نذرانے وصول کرتے ہیں اور جو ایسا کرتے ہیں، وہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی مشرک بناتے ہیں، آج اولیاء اللہ کی قبروں پر سجدے کرنا، طواف کرنا ، نذریں اور منتیں مانگنا، صریح جہالت اور نرا شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو شرک سے بچا کر موجد بنائے۔ آمین یا رب العالمین

حضرت مریم علیہا السلام کی کرامت

﴿فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾

’’پھر اُنہیں ان کے رب نے اچھی طرح قبول فرمالیا اور انہیں بہترین طریقے سے بڑھانا شروع کیا اور ان کاسرپرست زکریا کو بنا دیا ، جب کبھی زکریا ان کے حجرے میں آتے تو ان کے پاس روزی دیکھ کر پوچھتے، مریم یہ کہاں سے آئی ، عرض کرتیں، اللہ کے پاس سے، اللہ جسے چاہے بے حساب روزی عطا فرمائے۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 37)

اللہ نے مریم کی نذریں قبول فرما لیا اور انہیں پر کشش چہرے اور خوبصورتی کے ساتھ ساتھ پروان چڑھایا، قبول صورت دی اور نیک بندوں کی محبت میں رکھا گیا تا کہ ان سے علم دین سیکھ کر خیر و برکات حاصل کرلیں، چنانچہ آپ کو سیدنا زکریا کے سپرد کر دیا گیا، کیونکہ بے چاری کم سنی ہی میں یتیم ہوگئی تھیں اور سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا تھا، قحط کی وجہ سے آپ کی پرورش کا بار سیدنا زکریا نے اٹھا لیا تھا۔

پھر فرمایا: کہ جب زکریا نے پوچھا کہ یہ پھل کہاں سےآئے، تو آپ نے جواب دیا کہ اللہ کے پاس سے، اللہ جسے چاہے بے حساب روزی عطا فرمادے ۔ ایک دفعہ رسول ﷺ کئی دن بھو کے رہے، جب بھوک سے بے حد نڈھال ہوگئے تو ازواج مطہرات کے گھروں میں تشریف لے گئے لیکن کسی کے گھر میں کچھ نہ ملا، پھر آپﷺ نے سیدنا فاطمہ کے گھر آکر ان سے پوچھا : تمہارے پاس کچھ ہے کہ کھا لوں، مجھے سخت بھوگ لگ رہی ہے۔ انہوں نے بھی قسم کھا کر کہا، افسوس یا رسول اللہ، اس وقت میرے پاس بھی کچھ نہیں ، پھر آپ چلے گئے ۔ اتنے میں ایک ہمسائی نے دو روٹیا ں اور کچھ گوشت سیدہ فاطمہ کو بھیجا ، آپ نے یہ کھانا ایک لگن میں محفوظ رکھا اور سوچا کہ اگرچہ اس وقت مجھے، میرے بچوں کو اور میرےشوہر کو بھی بھوک ہے مگر ہم فاقہ کر لیں گے اور یہ کھانا اللہ کے رسول ﷺ کو کھلا دیں گے، پھر آپ نے سیدنا حسن وحسین کو بھیج کر رحمت عالم ﷺ کو بلا لیا اور بولیں ،یا رسول اللہ(ﷺ)! میں آپ پر قربان، الله نے کچھ بھیجا ہے اور میں نے اسے آپ کے لئے رکھ چھوڑا ہے۔ فرمایا: لاؤ، یہ کھانے کا لگن اٹھا لائیں ، کھول کر دیکھا تو حیران رہ گئیں کہ لگن گوشت اور روٹیوں سے بھرا ہوا ہے، سمجھ گئیں کہ اللہ نے برکت عطا فرمائی ہے۔ اللہ کا شکر ادا کیا ۔ رحمت عالم ﷺ پر درود وسلام بھیجا اور کھانا آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ نے کھانا کھول کر الحمد للہ پڑھ کر پوچھا یہ کہاں سے آیا ہے ، بولیں: ’’ہو من عند الله‘‘ ’’یہ اللہ کے پاس سے ہے۔‘‘ فرمایا: اللہ نے تمہیں بھی یہودی عورتوں کی سردار عورت کی طرح کر دیا ، جب اللہ انہیں روزی دیتا اور پوچھا جاتا تو وہ بھی یہی جواب دیا کرتی تھیں کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے ، پھر آپﷺ نے سیدنا علی کو بھی بلوالیااور سب نے مل کر خوب سیر ہوکر کھانا کھایا اور کھانا بدستور باقی رہا، پھر اسے ہمسایوں میں بانٹ دیا گیا ، اللہ نے اس کھانے میں بڑی خیر وبرکت عطا فرمائی۔ (تفسیر السراج المنير تلخيص تفسير ابن كثير، مولانا ابو الاشبال احمد شاغف)

بی بی مریم علیہا السلام کی کرامت دیکھ کر سیدنا زکریا کو شرح صدر ہو گیا

یوں تو انبیائے کرام ﷩ کا اونچا درجہ ہے اور اولیاء اللہ کا مقام انبیاء ﷩سے کم ہے، مگر بی بی مریم علیہا السلام بیت المقدس میں ان کے خالو سیدنا زکریا کی زیر کفالت تھیں، سیدنا زکریا کی زیر کفالت تھیں، سیدنا زکریا کی زوجۂ محترمہ سیدہ مریم علیہا السلام کے حجرہ میں جائے تو وہاں بے موسم کے پھل دیکھتے تھے تو انہیں بہت ہی تعجب ہوتا کہ یہ زمانہ ان پھلوں کا نہیں ہے اور وہ بی بی مریم علیہا السلام کے پاس موجود ہیں، بڑے ہی حیرت واستعجاب میں وہ بی بی مریم علیہا السلام سے پوچھتے کہ

یہ پھل کہاں سے آئے ہیں؟ تو وہ کہتیں کہ

یہ اللہ کے پاس سے آئے ہیں، یہ جواب سن کر سیدنا زکریا کو شرح صدر ہوا اور انہوں نے اللہ سے ایک لڑکے کی دعا مانگی کہ

جب اللہ مریم علیہا السلام کو بے موسم کے پھل دے سکتا ہے تو مجھے بے موسم کے اولاد بھی دے سکتا ہے ، چنانچہ انہوں نے دنیا کی پرواہ نہیں، کئی لوگ اس عمر میں بیٹے کی خواش پر کیا سمجھیں گے اور کیا خیال کریں گے اور کیا کہیں گے۔ بلکہ کھل کر اللہ تعالیٰ نے اس کا اظہار کیا کہ

اے اللہ! میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے، پوری زندگی ہمیں کوئی اولاد نہیں ہوئی اور اس پیرانہ سال میں دل میں چھپی خواہش کا برملا اظہار کیا جبکہ اللہ پاک ان کی دل میں چھپی ہوئی آرزو اور تمنا سے واقف تھا، مگر اللہ کی ولیہ بی بی مریم علیہا السلام کی کرامت سے سیدنا زکریا نے اللہ کے سامنے برملا اولاد مانگی اور اللہ نے اس بچے کا نام بھی خود ہی رکھا کہ اس کا نام ’یحییٰ‘ ہے اور آج تک اس نام سے دنیا واقف نہ تھی، اللہ نے دنیا کو اس نام سے واقف کرایا۔

درج ذیل آیات میں اس کی صراحت موجود ہے:

﴿هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ ۖ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ﴾ (سورۃ آل عمران: 38)

’’سیدنا زکریا نے بھی اسی جگہ اپنے رب سے دعا مانگی کہ اے رب! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ بچہ دے، بلاشبہ تو دعائیں خوب سننے والا ہے۔‘‘

٭٭٭

نظر کی حفاظت کا نسخہ کیمیاء

علامہ ‏جنید بغدادی ﷫ سے پوچھا گیا:

نظر کی حفاظت پر کیسے مدد لی جائے؟

آپ نے فرمایا:

’’تمہارے اس یقین سے کہ الله کی نظر تم پر پہلے پڑجاتی ہے، تمھارے کسی بھی چیز (ممنوع، نا محرم) پر نظر ڈالنے سے پہلے۔‘‘

(جامع العلوم والحكم: 2؍ 479)

٭٭٭

تبصرہ کریں