جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی فرشتوں کے ذریعے مدد فرمانا
سیدنا سہل بن سعد روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ سیدنا ابو اسید نے کہا، جب ان کی بصارت چلی گئی، اے میرے بھتیجے! اللہ کی قسم! اگر میں اور تم جنگ بدر کے دن ہوتے پھر اللہ میری بصارت لوٹا دیتا۔ تو میں تمہیں وہ گھاٹی دکھاتا جس سے ہم پر فرشتے ظاہر ہوئےبغیر کسی شک اور اختلاف کے۔ (البدایہ والنہایہ لابن کثیر: 3؍280)
سیدنا عروہ روایت کرتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن سیدنا جبرائیل نازل ہوئے، خاص طور پر سیدنا زبیر پر اور وہ اس وقت زرد رنگ کی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔ (مستدرک حاکم: 3؍361)
فرشتوں کا سیدنا سعد بن معاذ کا جنازہ اٹھانا
سیدنا انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا سعد بن معاذ نعمان بن امرئ القیس بن زید بن عبد الاشہل کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقوں نے کہا کہ ان کا جنازہ کتنا ہلکا ہے اور یہ اس لیے کہ انہوں نے بنی قریظہ کے تعلق سے جو فیصلہ کیا تھا، یہ بات نبی کو پہنچی تو آپﷺ نے فرمایا کہ ’’فرشتے ان کا جنازہ اٹھائے ہوئے تھے۔‘‘ (صحیح ابن حبان: 6993)
یہود بنو قریظہ نے جنگ کے دوران بدترین غداری کی اور انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کئے ہوئے حلیفانہ معاہدے کو توڑ ڈالا، جنگ خندق کے بعد رسول اکرمﷺ نے بنی قریضہ کے محلے کا محاصرہ کر لیا اور اس میں اتنا سخت رویہ اختیار کیا کہ چند دنوں کے بعد انہوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈال دئیے کہ ان کے معاملے میں رئیس الاوس سعد بن معاذ نے جو فیصلہ کیا، اسے فریقین نے مان لیا۔ ان غداروں نے سیدنا سعد کو اس امید پر حَکم بنایا تھا کہ وہ قبیلہ اوس کا خیال رکھیں گے۔ اس لیے کہ اوس اور بنو قریظہ میں مدتوں حلیفانہ تعلقات قائم تھے۔ سیدنا سعد آئے ور انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ قبیلہ اوس کے مر جانے والے تمام مرد قتل کر دیئے جائیں گے، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے اور ان کی جائیدادیں مسلمانوں میں تقسیم کر دی جائیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نےفرمایا:
’’سعد تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے، اس لیے منافقوں کو سیدنا سعد بن معاذ سے بغض تھا۔‘‘
سیدنا عرباض بن ساریہ کا دمشق کی مسجد میں فرشتہ کا دیکھنا
سیدنا عروہ بن رَویم روایت کرتے ہیں کہ
وہ سیدنا عرباض بن سلمہ سے اور وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں بڑی عمر کے تھے اور وہ پسند کرتے تھے کہ وہ وفات پا جائیں اور دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! میری عمر بڑھ گئی ہے اور میری ہڈیاں پتلی ہو گئی ہیں، لہٰذا تو مجھے وفات دے دے، انہوں نے کہا کہ ایک دن میں دمشق کی مسجد میں تھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت نوجوان آیا اور اس کے اوپر سبزرنگ کا سایہ تھا۔ اس نے کہا کہ کیا دعا کر رہے ہو؟ میں نے کہا کہ اے میرے بھتیجے میں کیسے دعا کروں؟ اس نے کہا کہ کہیئے : اے اللہ! اچھے عمل کی توفیق دے جو موت تک جاری رہے، میں نے کہا کہ تم کون ہو ، اللہ تم پر رحم فرمائے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں ریبائیل (فرشتہ) ہوں جو مؤمنوں کے دلوں سے حزن وملال کو دور کرتا ہوں۔ (طبرانی الکبیر : 18؍616)
سیدنا سعد بن معاذ کی موت پر اللہ کا عر ش ہل گیا
ابو الزبیر روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جب کہ سیدنا سعد بن معاذ کا جنازہ آپﷺ کے سامنے تھا کہ سیدنا معاذ کی موت سے عرش ہل گیا۔ ( جامع ترمذی: 3849)
یہ سیدنا سعد بن معاذ کی دوسری کرامت ہے، پہلی کرامت یہ تھی کہ ان کا جنازہ بہت ہلکا تھا، اس لیے کہ فرشتوں نے ان کے جنازہ کو اٹھایا ہوا تھا اور دوسری کرامت یہ کہ ان کی وفات سے اللہ کا عرش ہل گیا۔ اللہ اکبر کبیرا
فرشتوں کا سیدنا حنظلہ کو غسل دینا
یحییٰ بن عباد روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سناوہ فرما رہے تھے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے بچھڑ گئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض ایک پہاڑ پر پہنچ کئے جو مدینہ کے کنارے پر ہے، پھر وہ سب اللہ کے رسول ﷺ کی طرف واپس آئے اور حنظلہ ابو عامر اور ابو سفیان بن حرب ایک جگہ جمع ہوئے،جب حنظلہ ابو سفیان پر غلبہ پانے کی کوشش کر رہے تھے، تو ان کو شداد بن اسود نے دیکھ لیا اور اپنی تلوار سے سیدنا حنظلہ کو شہید کر دیا اور سیدنا حنظلہ ابو سفیان کو قتل کرنے کے قریب تھے، اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’تمہارے ساتھی سیدنا حنظلہ کو فرشتے غسل دے رہے ہیں، انہوں نے سیدنا حنظلہ کی بیوی سے پوچھا تو بیوی نے کہا کہ جب اعلان جنگ ہوا تو وہ اس حال میں جنگ کے لیے نکلے کہ وہ جنبی (ناپاک) تھے تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اسی لیے فرشتوں نے انہیں غسل دیا ہے۔‘‘ (صحیح ابن حبان: 6986)
غسل کرنے سے کہیں تاخیر نہ ہو جائے، اس لیے سیدنا حنظلہ اعلان جنگ سنتے ہی میدان میں کود پڑے اور یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اسی وقت اتنا پانی گھر میں موجود تھا کہ نہیں۔ اللہ اعلم بالصواب
شوق شہادت اتنا زیادہ کہ ذرا سی تاخیر بھی اس میں برداشت نہیں ہوئی۔ اللہ اکبر کبیرا
سیدنا مالک بن عبد اللہ خثعمی کی کرامت
سیدنا حسان جو مالک بن عبد اللہ الخثعمی کے مولیٰ تھے، وہ روایت کرتے ہیں اور سیدنا مالک نبی ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے مالک بن عبد اللہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، ان کی پنڈلی میں ایک رگ تھی، جس پر ’للہ‘ لکھا ہوا تھا، میں اس رگ کو دیکھ رہا تھا، مالک بن عبد اللہ نے کہا کہ تم کیا دیکھ رہے ہو، مگر یہ لفظ کسی کاتب نے نہیں لگا۔ (مجمع الزوائد: 9؍406)
٭٭٭
تنہانہ لڑیں گے
دل بند دِل زار کے ہمراہ جگر بند
لب بند ، زباں بند ، فغاں بند نظر بند
جاں بند ، نفس بند، قلم بند ، خبر بند
پابند روش بند ، ہر اک راہ گزر بند
تم دین کے خدام کو کر دو گے اگر بند
ہو جائے گی پھر یاد رکھو موجِ ظفر بند
ہاں جسم تو ممکن ہے کہ ہو جائے نظر بند
دیکھیں تو عزائم کو کرے کون مگر بند
کر لو گے بھی تم حق کے مسافر کو اگر بند
ہو جائے گا کیا اس سے کہیں ذوقِ سفر بند
وہ دین کیا جس نے در فتنہ و شر بند
اپنوں ہی کے ہاتھوں سے ہوا آج نظر بند
اک بندۂ حق کے لئے بندھن ہیں ہزاروں
یاں بند ہے ، واں بند ، ادھر بند، اُدھر بند
یوں بند کئے جاتے ہیں زندان بلا میں
جس طرح صدف میں کبھی ہو جائے گہر بند
کھلتے ہیں یہ اک چشم زدن غیب سے صد در
مؤمن پہ جو دنیا کبھی کر دے کوئی در بند
پوشیده اسیری میں ہے معراج محبت
ہے نالۂ شب گیر میں جس طرح اثر بند
بن جائے نہ کیوں شعلہ جوالہ بھڑک کر
ہو جائے کسی وقت جو بھولے سے شرر بند
ہے نافۂ آہوئے خُتن مُشک سے لبریز
جب اِذن الٰہی سے ہوا خونِ جگر بند
ہم عرصۂ پر کار میں تنہا نہ لڑیں گے
اللہ کے لشکر بھی ہوئے پھر سے کمر بند
یوں گوشتۂ زندان مصیبت میں رہیں گے
معدن میں رہیں جیسے کبھی لعل و گہر بند
تو پوں کے دہانوں سے بھی ٹکرائیں گے آخر
ہوگا نہ کبھی جذبۂ پُرشوق نظر بند
کافر ہے تو آزاد فضا اس کو میسر
مؤمن ہے تو پھر دشت و جبل، کوه و کمر بند
گھبرائیں گے کیوں بند عقیدت سے مجاہد
وہ خود ہی ہوئے جاتے ہیں بے خوف و خطر بند
آجائیں گے ایمان کے ہتھیار سے سج کر
ہو جائیں جو شمشیر و سناں تیغ و سپر بند
اس جادۂ پر شوق میں ہو جاتا ہے اکثر
خود اپنا ہی گھر بند ، پسر بند ، پدر بند
تاراج کیا گلشن ہستی کو خزاں نے
برگِ گل تربند ، نموبند ، ثمر بند
بیگانۂ ہر سود و زیاں ہے دل مومن
اندیشہ دل باختہ نفع و ضرر بند
پھیلے گا زمانے میں اُجالا ہی اُجالا
ظلمات میں ہوگا نہ کبھی نور قمر بند
(ابولبیان حماد عمری)
٭٭٭
راستہ روک کر چندہ مانگنا
نبى ﷺ کا نام لے کر لوگوں کا رستہ روک کر، یعنى رسے کے ساتھ گلى یا سڑک بند کر کے چندہ مانگاجاتا ہے ۔یہ سب کچھ جو ہوتا ہے، یہ نبى ﷺ کے نام پر ہوتا ہے ۔عیسائیوں نے بھى اپنے نبى کے نام پر عید منائى ہے۔ کرسمس ڈے وہ بھى مناتے ہیں، لیکن ان عیسائیوں نے کبھى کسى کا رستہ نہیں روکا، مگر یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود۔نبى ﷺ نے سارى عمر اپنى ذات کے لیے کسى سے چندہ نہیں مانگا، اپنے میلاد کے لیے چندہ مانگنا تو دور کى بات ہے۔ شریعت اسلامیہ میں رستہ روکنا ہى گنا ہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
«إِيَّاكُمْ وَالجُلُوسَ عَلَى الطُّرُقَاتِ»، فَقَالُوا: مَا لَنَا بُدٌّ، إِنَّمَا هِيَ مَجَالِسُنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا، قَالَ: «فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا المَجَالِسَ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهَا»، قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ؟ قَالَ: «غَضُّ البَصَرِ، وَكَفُّ الأَذَى، وَرَدُّ السَّلاَمِ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهْيٌ عَنِ المُنْكَر» (صحیح بخاری: 6229)
راستوں میں بیٹھنے سےبچو ۔صحابہ کرام نے کہا: اے کے رسول ﷺ !یہاں بیٹھنا ہمارى مجبورى ہے۔ہم آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ رسول ﷺ نے فرمایا :’’اگر تم نے ضرور ہى بیٹھناہےتو رستے کو اس کا حق دو ۔صحابہ کرام نے کہا: رستے کاحق کیا ہے ؟تو آپﷺ نے فرمایا: نگاہ نیچى رکھنا، تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا دور کرنا ،سلام کا جواب دینا ،نیکى کى تلقین کرنا اور برائى سے منع کرنا ۔‘‘
جبکہ جشن میلاد کے موقعہ پر راستہ روک کر چندہ مانگا جاتا ہے۔ اگر کوئى نہ دے تو اس پر آوازیں کسی جاتى ہیں ۔اور یہ کام کرنے والوں نے خود شاید بھول کر کبھى نماز بھى نہ پڑى ہو اور ان کے چہر ے پر داڑھى بھى نہیں ہوتى جو کہ فرض ہے۔
تبصرہ کریں