صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اولیاء اللہ کی کرامتیں (قسط17)-ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

حضرت ابراہیم کی بیوی سارہ علیہا السلام کی کرامت

﴿وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ0 قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَٰذَا بَعْلِي شَيْخًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ ‎0‏ قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۖ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ۚ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ﴾ (سورة ہود: 71۔73)

حضرت ابراہیم کی بیوی جو کھڑی ہوئی تھی، ہنس پڑی اور ہم نے انہیں اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی بشارت دی، کہنے لگیں، ہائے میرے کس طرح اولاد ہو سکتی ہے، میں تو بوڑھی ہوں اور یہ میرے شوہر بھی کافی عمر کے ہیں۔

واقعی یہ بات انتہائی تعجب خیز ہے، فرشتوں نے کہا کہ کیا تم کو اللہ کی قدرت پر تعجب ہے اے ابراہیم کے گھرنے والو، تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں اترتی ہیں، واقعی اللہ لائق تعریف ہے اور بڑا بزرگ ہے۔ (سورہ ہود: 71۔73)

حضرت سارہ کو بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دی گئی، بشارت سن کر حضرت سارہ علیہا السلام کو بڑا تعجب ہوا کہ دونوں میاں بیوی انتہائی بوڑھے بھلا اولاد کیسے ہو سکتی ہے، فرشتوں نے حضرت سارہ کو جواب دیا کہ اللہ کے حکم میں اور اس کی قدرت میں تعجب کی کوئی گنجائش نہیں، اللہ کا فیصلہ ہے وہ اس عمر میں تمہیں اولاد دے گا، اگرچیکہ تم دونوں کی جوانی میں اللہ نے اولاد نہیں دی مگر اب اللہ کا فیصلہ ہے کہ تمہیں اولاد سے نوازے گا۔ اللہ اپنے افعال میں حقدار تعریف وتوصیف ہے۔

سورۂ ذاریات میں ہے:

﴿فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ 0 فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ ‎0‏ قَالُوا كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ ۖ إِنَّهُ هُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ﴾

پھر ان کی طرف سے آپ کے دل میں خوف پیدا ہوا، مہمانوں نے کہا، آپ خوف نہ کریں اور انہوں نے آپ کو ایک علم والے بچے کی خوشخبری سنائی، آپ کی بیوی تعجب سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگیں کہ میں تو بڑھیا اور بانجھ ہوں۔انہوں نے کہا:ہاں تمہارے رب نے اسی طرح فرمایا ہے، بلاشبہ وہ بڑی حکمت والا اور غیر محدود علم والا ہے۔‘‘ (سورۂ ذاریات: 28۔30)

عام طور پر خواتین اپنے قول وعمل سے تعجب کا اظہار کرتی ہیں، یہاں بھی حضرت سارہ علیہا السلام قول سے اپنے تعجب کا اظہار کیا، جس کا ذکر سورہ ہود میں ہے اور اپنے عمل سے بھی تعجب کا اظہار کیا، یعنی منہ پر ہاتھ مار کر تعجب کا اظہار کیا، جس کا ذکر سورۃ الذاریات میں ہے۔

حضرت سلیمان کے دربار میں اس شخص کی کرامت جس کے پاس کتاب کا علم تھا

﴿قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ‎0‏ قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ ۖ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ ‎0‏ قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُ قَالَ هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ ﴾

’’سلیمان نے فرمایا ،اے اہل دربار، تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس لاتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوں؟ جنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیا :میں اسے حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانتدار ہوں۔ جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بولا ،میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں۔ جونہی کہ سلیمان نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا، وہ پکار اٹھا۔یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کافر نعمت بن جاتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے۔‘‘ (سورۃ النمل: 38۔40)

حضرت ابن عباس نے کہا کہ

اس شخص کا نام آصف بن برخیاہ تھا، جو حضرت سلیمان کا کاتب تھا، جس نے ایک لمحہ میں ملکۂ بلقیس کا تخت سیدنا سلیمان کے سامنے لا کر رکھ دیا، کسی نے کہا کہ اس کا نام ’اسطوم‘ تھا، کسی نے کہا کہ ’خضر‘ تھا، کسی نے کہا کہ ’ذوالنون‘ تھا، یہ سب اپنا اپنا خیال ہے۔ اس کاثبوت نہ قرآن سے ہے اور نہ صحیح حدیث سے۔

اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ جن نہیں تھا بلکہ انسان تھا۔

جب حضرت سلیمان کے پاس ملکۂ سبا (بلقیس) کا تخت لایا گیا تو حضرت سلیمان ملک شام میں تھے اور عرش یمن میں تھا، ڈیڑھ ہزار میل کے سفر کی مسافت آنے کے لیے ایک مہینہ اور جانے کے لیے ایک مہینہ کی مدت لگتی تھی، یہ حضرت سلیمان کے ایک درباری کی کرامت تھی، ممکن ہے کہ حضرت سلیمان کو اس وقت اللہ کا وہ نام یاد نہ آیا ہو اور ان کے درباری کو وہ نام یاد آ گیا ہو۔

جیسا کہ حضرت زکریا نے حضرت مریم علیہا السلام سے تعجب سے پوچھا کہ

اے مریم! یہ بے موسم کے پھل تمہارے پاس کہاں سے آئے ہیں؟ تو مریم نے کہا، یہ اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔

ایک نبی اللہ کی ولیہ کے پاس یہ دیکھ کر حیرت میں رہ گئے اور ان سے پوچھنے لگے! جس طرح یہ حضرت مریم علیہا السلام کی کرامت تھی، حضرت زکریا کا معجزہ نہ ہوا، اسی طرح یہاں بھی یہ حضرت سلیمان کا معجزہ نہیں بلکہ ان کے ایک درباری ملازم کی کرامت ہوئی۔ اللہ اعلم بالصواب

٭٭٭

باکمال شاعر ادیب، صحافی وتنقید گار، معلم جناب ڈاکٹر تابش مہدی دہلوی اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔

ڈاکٹر تابش مہدی 1951ء کو بھارت میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پرتاب گڑھ سے جونیئر پرائمری سکول کا امتحان پاس کیا، تجوید و قراءت سبعہ انہوں نے مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد اور مدرسہ تعلیم القرآن مئی یور مراد آباد سے پاس کیا، انہوں نے عربی وفارسی بورڈ الٰہ ےباد سے مولوی عربی، منشی، فارسی اور کامل فارسی کا امتحان پاس کیا۔ جامع دینیات دیوبند سے عالم دینیات اردو کا امتحان پاس کیا ۔ اخیر میں 1989ء میں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے اردو اور 1997ء میں جامع ملیہ اسلامیہ دہلی سے اردو تنقید میں پی ایچ ڈی کی۔

ان کے اساتذہ سخن میں جناب عامر عثمانی بھی شامل ہیں، پسماندگان میں دو فرزند شاہ دانش فاروق فلاحی اور شاہ اجمل فاروق ندوی اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ سب فرزند اور دختران اعلیٰ تعلیم وتربیت سے آراستہ وپیراستہ ہیں۔

ایک بیٹی مولانا ابو الکلام آزاد یونیورسٹی حیدر آباد دکن میں شعبہ عربی کی پروفیسر ہیں۔

ڈاکٹر تابش مہدی کی ساری زندگی صحافت اور درس وتدریس میں گزر گئی۔ ان کے چند اعزازات یہ ہیں:

حضرت حسان ایوارڈ، کل ہند حمد ونعت اکاڈمی دہلی 2005ء نشان اردو، اردو اکاڈمی نیپال 2013ء، راسخ عظیم آبادی ایوارڈ، بہار اردو اکیڈمی 2013ء، ایوارڈ برائے اخراجات اردو، اردو اکاڈمی دہلی 2015ء، علامہ اقبال عالم ایوارڈبرائے شعر و ادب، اردو ڈیویپلمنٹ آرگنائزیشن آف انڈیا 2021ء

قلمی و ادبی زندگی و تصانیف:

ڈاکٹر تابش مہدی کی پچپن (55) مطبوعہ تصانیف موجود ہیں، جن میں سے چند حسب ذیل ہیں:

نقش اول، لمعات حرم، سرور حجاز، تعبیر، سلسبیل، کنکر بولتے ہیں، صبح صادق، طوبیٰ، غزل نامہ، مشک غزالاں، رحمت تمام، غزل خوانی نہیں جاتی، دانائے سبل، ڈاکٹر تابش مہدی وقفہ وقفہ سے برطانیہ آتے رہے اور ان کے اعزاز میں مختلف شہروں میں مشاعرے منعقد ہوتے تھے۔

اللہ تعالیٰ انہیں اچھا سا ترنم عطا فرمایا تھا، جس سے وہ مشاعروں میں ایک سماں باندھ دیتے تھے، ان کی وفات ان کے وطن دہلی میں ہوئی اور وہیں تدفین عمل میں آئی۔

ان کی وفات پر مولانا محمد عبد الہادی العمری، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شعیب احمد میرپوری، قاری کاء اللہ سلیم، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، برادر ثاقب، مولانا محمد ابراہیم میرپوری، محمد فاروق نسیم، ملک فضل حسین، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور دیگر شعراء کرام وعلماء وقائدین جمعیہ نے ان کے فرزندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ

اللہ تعالیٰ ڈاکٹر تابش مہدی کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

موت سے کس کو رستگاری ہے

آج وہ، کل ہماری باری ہے

٭٭٭

شوال کے روزوں کی فضیلت

سیدنا ابوایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

’’جس نے رمضان کے چھ روزے رکھے پھراس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے،اس کو عمربھرکے روزوں کاثواب ملے گا۔‘‘(صحیح مسلم : 1164)

رسول اللہ ﷺکے غلام ثوبان کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:

’’جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے تو اس کو پورے سال کے روزے کا ثواب ملے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’یعنی جو ایک نیکی کرے گا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔‘‘

(سنن ابن ماجہ : 1715)

٭٭٭

حضرت ابراہیم کی بیوی سارہ علیہا السلام کی کرامت

﴿وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ0 قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَٰذَا بَعْلِي شَيْخًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ ‎0‏ قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۖ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ۚ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ﴾ (سورة ہود: 71۔73)

حضرت ابراہیم کی بیوی جو کھڑی ہوئی تھی، ہنس پڑی اور ہم نے انہیں اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی بشارت دی، کہنے لگیں، ہائے میرے کس طرح اولاد ہو سکتی ہے، میں تو بوڑھی ہوں اور یہ میرے شوہر بھی کافی عمر کے ہیں۔

واقعی یہ بات انتہائی تعجب خیز ہے، فرشتوں نے کہا کہ کیا تم کو اللہ کی قدرت پر تعجب ہے اے ابراہیم کے گھرنے والو، تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں اترتی ہیں، واقعی اللہ لائق تعریف ہے اور بڑا بزرگ ہے۔ (سورہ ہود: 71۔73)

حضرت سارہ کو بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دی گئی، بشارت سن کر حضرت سارہ علیہا السلام کو بڑا تعجب ہوا کہ دونوں میاں بیوی انتہائی بوڑھے بھلا اولاد کیسے ہو سکتی ہے، فرشتوں نے حضرت سارہ کو جواب دیا کہ اللہ کے حکم میں اور اس کی قدرت میں تعجب کی کوئی گنجائش نہیں، اللہ کا فیصلہ ہے وہ اس عمر میں تمہیں اولاد دے گا، اگرچیکہ تم دونوں کی جوانی میں اللہ نے اولاد نہیں دی مگر اب اللہ کا فیصلہ ہے کہ تمہیں اولاد سے نوازے گا۔ اللہ اپنے افعال میں حقدار تعریف وتوصیف ہے۔

سورۂ ذاریات میں ہے:

﴿فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ 0 فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ ‎0‏ قَالُوا كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ ۖ إِنَّهُ هُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ﴾

پھر ان کی طرف سے آپ کے دل میں خوف پیدا ہوا، مہمانوں نے کہا، آپ خوف نہ کریں اور انہوں نے آپ کو ایک علم والے بچے کی خوشخبری سنائی، آپ کی بیوی تعجب سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگیں کہ میں تو بڑھیا اور بانجھ ہوں۔انہوں نے کہا:ہاں تمہارے رب نے اسی طرح فرمایا ہے، بلاشبہ وہ بڑی حکمت والا اور غیر محدود علم والا ہے۔‘‘ (سورۂ ذاریات: 28۔30)

عام طور پر خواتین اپنے قول وعمل سے تعجب کا اظہار کرتی ہیں، یہاں بھی حضرت سارہ علیہا السلام قول سے اپنے تعجب کا اظہار کیا، جس کا ذکر سورہ ہود میں ہے اور اپنے عمل سے بھی تعجب کا اظہار کیا، یعنی منہ پر ہاتھ مار کر تعجب کا اظہار کیا، جس کا ذکر سورۃ الذاریات میں ہے۔

حضرت سلیمان کے دربار میں اس شخص کی کرامت جس کے پاس کتاب کا علم تھا

﴿قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ‎0‏ قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ ۖ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ ‎0‏ قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُ قَالَ هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ ﴾

’’سلیمان نے فرمایا ،اے اہل دربار، تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس لاتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوں؟ جنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیا :میں اسے حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانتدار ہوں۔ جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بولا ،میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں۔ جونہی کہ سلیمان نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا، وہ پکار اٹھا۔یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کافر نعمت بن جاتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے۔‘‘ (سورۃ النمل: 38۔40)

حضرت ابن عباس نے کہا کہ

اس شخص کا نام آصف بن برخیاہ تھا، جو حضرت سلیمان کا کاتب تھا، جس نے ایک لمحہ میں ملکۂ بلقیس کا تخت سیدنا سلیمان کے سامنے لا کر رکھ دیا، کسی نے کہا کہ اس کا نام ’اسطوم‘ تھا، کسی نے کہا کہ ’خضر‘ تھا، کسی نے کہا کہ ’ذوالنون‘ تھا، یہ سب اپنا اپنا خیال ہے۔ اس کاثبوت نہ قرآن سے ہے اور نہ صحیح حدیث سے۔

اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ جن نہیں تھا بلکہ انسان تھا۔

جب حضرت سلیمان کے پاس ملکۂ سبا (بلقیس) کا تخت لایا گیا تو حضرت سلیمان ملک شام میں تھے اور عرش یمن میں تھا، ڈیڑھ ہزار میل کے سفر کی مسافت آنے کے لیے ایک مہینہ اور جانے کے لیے ایک مہینہ کی مدت لگتی تھی، یہ حضرت سلیمان کے ایک درباری کی کرامت تھی، ممکن ہے کہ حضرت سلیمان کو اس وقت اللہ کا وہ نام یاد نہ آیا ہو اور ان کے درباری کو وہ نام یاد آ گیا ہو۔

جیسا کہ حضرت زکریا نے حضرت مریم علیہا السلام سے تعجب سے پوچھا کہ

اے مریم! یہ بے موسم کے پھل تمہارے پاس کہاں سے آئے ہیں؟ تو مریم نے کہا، یہ اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔

ایک نبی اللہ کی ولیہ کے پاس یہ دیکھ کر حیرت میں رہ گئے اور ان سے پوچھنے لگے! جس طرح یہ حضرت مریم علیہا السلام کی کرامت تھی، حضرت زکریا کا معجزہ نہ ہوا، اسی طرح یہاں بھی یہ حضرت سلیمان کا معجزہ نہیں بلکہ ان کے ایک درباری ملازم کی کرامت ہوئی۔ اللہ اعلم بالصواب

٭٭٭

باکمال شاعر ادیب، صحافی وتنقید گار، معلم جناب ڈاکٹر تابش مہدی دہلوی اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔

ڈاکٹر تابش مہدی 1951ء کو بھارت میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پرتاب گڑھ سے جونیئر پرائمری سکول کا امتحان پاس کیا، تجوید و قراءت سبعہ انہوں نے مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد اور مدرسہ تعلیم القرآن مئی یور مراد آباد سے پاس کیا، انہوں نے عربی وفارسی بورڈ الٰہ ےباد سے مولوی عربی، منشی، فارسی اور کامل فارسی کا امتحان پاس کیا۔ جامع دینیات دیوبند سے عالم دینیات اردو کا امتحان پاس کیا ۔ اخیر میں 1989ء میں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے اردو اور 1997ء میں جامع ملیہ اسلامیہ دہلی سے اردو تنقید میں پی ایچ ڈی کی۔

ان کے اساتذہ سخن میں جناب عامر عثمانی بھی شامل ہیں، پسماندگان میں دو فرزند شاہ دانش فاروق فلاحی اور شاہ اجمل فاروق ندوی اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ سب فرزند اور دختران اعلیٰ تعلیم وتربیت سے آراستہ وپیراستہ ہیں۔

ایک بیٹی مولانا ابو الکلام آزاد یونیورسٹی حیدر آباد دکن میں شعبہ عربی کی پروفیسر ہیں۔

ڈاکٹر تابش مہدی کی ساری زندگی صحافت اور درس وتدریس میں گزر گئی۔ ان کے چند اعزازات یہ ہیں:

حضرت حسان ایوارڈ، کل ہند حمد ونعت اکاڈمی دہلی 2005ء نشان اردو، اردو اکاڈمی نیپال 2013ء، راسخ عظیم آبادی ایوارڈ، بہار اردو اکیڈمی 2013ء، ایوارڈ برائے اخراجات اردو، اردو اکاڈمی دہلی 2015ء، علامہ اقبال عالم ایوارڈبرائے شعر و ادب، اردو ڈیویپلمنٹ آرگنائزیشن آف انڈیا 2021ء

قلمی و ادبی زندگی و تصانیف:

ڈاکٹر تابش مہدی کی پچپن (55) مطبوعہ تصانیف موجود ہیں، جن میں سے چند حسب ذیل ہیں:

نقش اول، لمعات حرم، سرور حجاز، تعبیر، سلسبیل، کنکر بولتے ہیں، صبح صادق، طوبیٰ، غزل نامہ، مشک غزالاں، رحمت تمام، غزل خوانی نہیں جاتی، دانائے سبل، ڈاکٹر تابش مہدی وقفہ وقفہ سے برطانیہ آتے رہے اور ان کے اعزاز میں مختلف شہروں میں مشاعرے منعقد ہوتے تھے۔

اللہ تعالیٰ انہیں اچھا سا ترنم عطا فرمایا تھا، جس سے وہ مشاعروں میں ایک سماں باندھ دیتے تھے، ان کی وفات ان کے وطن دہلی میں ہوئی اور وہیں تدفین عمل میں آئی۔

ان کی وفات پر مولانا محمد عبد الہادی العمری، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شعیب احمد میرپوری، قاری کاء اللہ سلیم، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، برادر ثاقب، مولانا محمد ابراہیم میرپوری، محمد فاروق نسیم، ملک فضل حسین، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور دیگر شعراء کرام وعلماء وقائدین جمعیہ نے ان کے فرزندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ

اللہ تعالیٰ ڈاکٹر تابش مہدی کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

موت سے کس کو رستگاری ہے

آج وہ، کل ہماری باری ہے

٭٭٭

شوال کے روزوں کی فضیلت

سیدنا ابوایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

’’جس نے رمضان کے چھ روزے رکھے پھراس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے،اس کو عمربھرکے روزوں کاثواب ملے گا۔‘‘(صحیح مسلم : 1164)

رسول اللہ ﷺکے غلام ثوبان کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:

’’جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے تو اس کو پورے سال کے روزے کا ثواب ملے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’یعنی جو ایک نیکی کرے گا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔‘‘

(سنن ابن ماجہ : 1715)

٭٭٭

تبصرہ کریں