صحابہ کرامؓ اور اہل ِبیت عظام کے درمیان قابلِ رشک برادرانہ تعلقات(قسط1)-جسٹس صالح عبداللہ

اصحابِ رسولﷺ کے چند اَوصاف

جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ صحابہ کرام امت کا ایک منفرد طبقہ تھے اور اسے وہ امتیازات اور خوبیاں حاصل تھیں جو دوسرے طبقات کو حاصل ہونا ناممکن ہیں۔ وہ شرفِ صحابیت کے مقام پر فائز ہیں۔ وہ رسول اللہﷺ کی صحبت میں رہے اور آپﷺ نے ہی ان کی تربیت کی اور انہیں تعلیم دی اور انہیں آداب سے بہرہ ور فرمایا، ان کو لے کر آپﷺ نے کفار سے جہاد کیا اور انہوں نے ہی آپ ﷺکا ساتھ دیا۔ یہاں ہم ان کے اوصاف میں سے ایک وصف پرتوجہ مرکوز کرتے ہیں اور وہ وصف اس لائق ہے کہ اس کی تدریس اور تشریح کی جائے اور اس کا تذکرہ ہر سو پھیلایا جائے اور وہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور گروہوں کے نزدیک نشان راہ بن جائے۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ وصف کون سا ہے؟ وہ ہے ’ باہمی رحمت و مودّت‘

ذرا سوچئے گفتگو کا آغاز اس وصف سے کرنے کی کیا وجہ ہے؟

قارئین کرام! آپ نے کیا اس مرغوب وصف کی حقیقت کے بارے میں سوچا ہے؟ بلاشبہ آپ کو اس موضوع پر بات کرنے سے بہت سے اسباب ملیں گے، لیکن میں اس مقالے کے اختصار کے پیش نظر چند اَسباب کا تذکرہ کروں گا :

پہلا سبب

صفت ِذاتی اور اس میں پنہاں حقائق اور اَوصافِ محمودہ، اور اس صفت کے متعلق نازل ہونے والی آیات اور رسول کریم ﷺسے منقول شدہ احادیث اور آپﷺکے اخیار صحابہ کرام سے مروی آثار۔ چنانچہ غور فرمائیے، ہمارا اللہ سبحانہ وتعالیٰ، رحمن اور رحیم ہے اوراس نے اپنے حبیب ﷺ کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا :

﴿لَقَد جاءَكُم رَسولٌ مِن أَنفُسِكُم عَزيزٌ عَلَيهِ ما عَنِتُّم حَريصٌ عَلَيكُم بِالمُؤمِنينَ رَءوفٌ رَحيمٌ ﴾ (سورة التوبہ: 128)

’’تحقیق تمہارے پاس رسول آیا جو تمہاری جانوں سے ہے۔ تمہارا مشقت میں پڑنا اس پر گراں گزرتا ہے، وہ تم پر (آسانیوں کا)حریص ہے اور مومنوں کے ساتھ مشفق اور مہربان ہے۔‘‘

اور رسولِ کریمﷺ نے فرمایا:

«من لا یرحم لا یرحم» ’’جو کسی پررحم نہیں کرتا، اس پررحم نہیں کیا جاتا۔‘‘(متفق علیہ)

اور صفت ِذاتی کے متعلق گفتگو لمبی ہوجائے گی اور اس صفت کے متعلق بیان شدہ نصوص بہت زیادہ ہیں جو آپ پر مخفی نہیں ہیں۔

دوسرا سبب

یہ کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے صحابہ کی تعریف کے لئے اس صفت کو پسند فرمایا ہے اور دوسری صفات کی بجائے اس صفت کے اختیار میں بہت سی غیرمعمولی اہمیت والی حکمتیں اور فائدے ہیں اور ان کی تعریف میں اس صفت کو اختیار کرنے میں علمی اعجاز بھی ہے۔ جو انسان بھی اس نکتے پرغور کرے گا تو اس پر یہ اعجاز آشکارا ہوجائے گا، کیونکہ آیت قرآنی میں خصوصی طور پر صفت ِرحمت جو ان کے درمیان موجود تھی کو دوسری صفات کی بجائے اللہ نے بھی امتیاز سے بیان کیا ہے۔اس میں ان اعتراضات اور الزامات کا ردّ ہے جو اس وقت ظاہرنہیں ہوئے تھے اور نہ ہی وہ کتابوں میں لکھے گئے تھے اور بعد ازاں وہ قصہ گو حضرات کی زبانوں کاچٹخارا بن گئے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿مُحَمَّدٌ رَسولُ اللَّهِ وَالَّذينَ مَعَهُ أَشِدّاءُ عَلَى الكُفّارِ رُحَماءُ بَينَهُم تَرىٰهُم رُكَّعًا سُجَّدًا يَبتَغونَ فَضلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضو‌ٰنًا سيماهُم فى وُجوهِهِم مِن أَثَرِ السُّجودِ ﴾ (سورة الفتح: 29)

’’محمد اللہ کے رسول ہیں اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر بڑے سخت ہیں اور آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں رکوع اور سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا وہ اللہ کا فضل اور خوشنودی تلاش کرتے ہیں۔ انکے چہروں پرسجدوں کے اثر کی وجہ سے (شرف و وقار کی) نشانیاں ہیں۔‘‘

تیسرا سبب

اس حقیقت کی تعیین (کہ آپ کے صحابہ کرام آپس میں رحم دل تھے) اور یہ کہ رحمت کی صفت ان کے دلوں میں جاگزیں تھی، ان روایات اور اوہام اور قصوں کہانیوں کو ردّ کردیتی ہے جو اصحاب ِرسول کی ہمارے سامنے یہ تصویر پیش کرتی ہیں کہ وہ آپس میں نامانوس اور نفور تھے اور ان کے درمیان عداوت چھائی ہوئی تھی!!

جب آپ کے نزدیک یہ حقیقت ثابت ہوگئی کہ صحابہ کرام آپس میں رحم دل تھے اور یہ بات آپ کے دل کی گہرائیوں میں اُترگئی تو آپ کے دل سے ان لوگوں کے متعلق حسد و کینہ نکل جائے گا، جن کے متعلق اللہ نے دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَالَّذينَ جاءو مِن بَعدِهِم يَقولونَ رَبَّنَا اغفِر لَنا وَلِإِخو‌ٰنِنَا الَّذينَ سَبَقونا بِالإيمـٰنِ وَلا تَجعَل فى قُلوبِنا غِلًّا لِلَّذينَ ءامَنوا رَبَّنا إِنَّكَ رَءوفٌ رَحيمٌ ﴾ (سورة الحشر: 10)

’’اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں: اے ہمارے ربّ! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان قبول کرنے میں ہم سے سبقت لے گئے اور ہمارے دلوں میں ان لوگوں کے متعلق حسد و کینہ نہ پیدا کر جو ایمان لائے، اے ہمارے ربّ تو بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘

چوتھا سبب

محققین کے نزدیک معتمد اُصول یہ ہے کہ متن کا سند کے ساتھ اہتمام کیاجائے اور اسناد کے ثبوت کے بعد روایات کے متون کی طرف آیا جائے اور روایات کا مفہوم قرآن کی نصوص اور اسلام کے کلی اُصول کے مطابق سمجھا جائے۔ یہ ہے علم میں رسوخ حاصل کرنے والوں کا طور طریقہ ،تاریخی روایات کی تحقیق میں اس منہج کی بطور خاص پابندی ضروری ہے، لیکن افسوسناک معاملہ یہ ہے کہ مؤرخین نے اَسانید پر توجہ نہیں دی اور انہوں نے تاریخ وادب کی کتابوں میں صرف روایات کی موجودگی پر اکتفا کیا ہے دوسری طرف جنہوں نے اسانید کا اہتمام کیاہے، انہوں نے متون پر غور کرنے اور انہیں قرآن کے ساتھ موزوں کرنے میں غفلت سے کام لیا ہے۔

قارئین کرام! فیصلہ کرنے اور بہتانات کو ہوا دینے سے قبل، بلکہ اپنے تاریخی اسٹاک اور خاندانی معلومات پر اعتماد کرکے احکام صادر کرنے سے قبل بلکہ جذباتی کینے سے قبل ٹھنڈے دل سے غور کیجئے اور ان دلائل کامطالعہ کیجئے جو میں نے درج ذیل سطور میں پیش کئے ہیں۔ یہ دلائل اپنی وضاحت و ستھرائی، قربِ فہم اور قوتِ معانی کے باوجود نامانوس تو ہیں، لیکن یہ موجودہ صورت حال سے ہم آہنگ ضرور ہیں اور قرآنی نص سے مطابقت اور قوت رکھتے ہیں جیساکہ سورۂ فتح کے آخر میں ہے :

﴿مُحَمَّدٌ رَسولُ اللَّهِ وَالَّذينَ مَعَهُ أَشِدّاءُ عَلَى الكُفّارِ رُحَماءُ بَينَهُم تَرىٰهُم رُكَّعًا سُجَّدًا يَبتَغونَ فَضلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضو‌ٰنًا سيماهُم فى وُجوهِهِم مِن أَثَرِ السُّجودِ ذ‌ٰلِكَ مَثَلُهُم فِى التَّورىٰةِ وَمَثَلُهُم فِى الإِنجيلِ كَزَرعٍ أَخرَجَ شَطـَٔهُ فَـٔازَرَهُ فَاستَغلَظَ فَاستَوىٰ عَلىٰ سوقِهِ يُعجِبُ الزُّرّاعَ لِيَغيظَ بِهِمُ الكُفّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ مِنهُم مَغفِرَةً وَأَجرًا عَظيمًا ﴾ (سورة الفتح: 29)

’’محمد، اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت ہیں اورآپس میں رحم دل ہیں تو انہیں جھکے ہوئے سربسجود پائے گا، وہ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں، سجدوں کے اثر سے ان کے چہروں پر (شرافت و وقار کی) نشانیاں ہیں۔ ان کے یہی اَوصاف تورات میں بیان ہوئے ہیں اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں اس کھیتی کی طرح جس نے اپنی کونپل نکالی پھر اس کومضبوط کیا پھر وہ موٹی ہوئی پھر وہ اپنی نال پرکھڑی ہوئی اور کسانوں کو خوش کرنے لگی تاکہ اللہ ان (کی قوت و شوکت) کے ساتھ کفار کادل جلائے۔ اللہ نے ان لوگوں کے ساتھ جو ان میں سے ایمان لائے اور انہوں نے اچھے اعمال کئے، مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا:

﴿وَالَّذينَ جاءو مِن بَعدِهِم يَقولونَ رَبَّنَا اغفِر لَنا وَلِإِخو‌ٰنِنَا الَّذينَ سَبَقونا بِالإيمـٰنِ وَلا تَجعَل فى قُلوبِنا غِلًّا لِلَّذينَ ءامَنوا رَبَّنا إِنَّكَ رَءوفٌ رَحيمٌ ﴾ (سورة الحشر: 10)

’’(اور مالِ فے سے ان لوگوں کا بھی حصہ ہے) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے اور وہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے ایمان قبول کرنے میں سبقت لے گئے اور ہمارے دلوں میں ان لوگوں کے متعلق کینہ و کدورت پیدا نہ کر جو ایمان لائے، اے ہمارے رب تو بلا شبہ شفقت کرنے والامہربان ہے۔‘‘

اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے، آپ مذکورہ بالا آیات کو پڑھیں اور ان کے معانی میں غوروفکر کریں۔ان آیات میں صحابہ کرام کی باہمی محبت کی گواہی اللہ تعالیٰ نے خود دی ہے۔

پہلا مبحث: دلالۃ التسمیۃ

اسم (نام) کا مسمّیٰ (نامزد انسان) پر اشارہ ہوتا ہے اور وہ اس کا ایسا نشان بن جاتاہے جو اسے دوسرے انسانوں سے جدا کرتا ہے اور لوگوں میں نام رکھنے کی روش رواج پاچکی ہے اور کوئی عقل مند انسان نام کی اہمیت میں شک نہیں کرسکتا،کیونکہ اس کے ساتھ ہی پیدا ہونے والے بچے کو پہچانا جاتا ہے اور اسے اس کے بھائیوں اور دیگر بچوں سے شناخت کیا جاتا ہے اور وہ اس کی اور اس کے بعد اس کی اولاد کی علامت بن جاتا ہے۔ انسان فنا ہوجاتا ہے اور اس کا نام باقی رہ جاتا ہے۔ اسم سُمُوّ سے مشتق ہے جس کا معنی بلندی ہے اورکہا گیا ہے کہ یہ وِسْمٌ سے بھی مشتق ہے جس کامعنی علامت ہوتاہے۔یہ تمام الفاظ پیدا ہونے والے بچے کے نام کی اہمیت پر دلالت کرتے ہیں۔

والد کی نفسیات اور محبت وچاہت کا اندازہ لگانے میں نام کی اہمیت مخفی نہیں ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نام کا انتخاب والد کی دین داری اور عقل پر دلالت کرتاہے، کیا آپ نے کبھی سنا کہ عیسائی اور یہودی اپنی اولاد کا نام محمدﷺ رکھتے ہوں؟ یا مسلمان اپنی اولاد کانام لات اور عزیٰ رکھتے ہوں؟

ایسے ہی نام سے بیٹے کا اپنے باپ سے ربط ہوتا ہے، باپ اور گھر والے اپنے بچے کو اس نام سے ہی پکارتے ہیں جو انہوں نے پسند کیا ہوتا ہے۔ چنانچہ خاندان کے افراد کے درمیان اسم (نام) کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے۔ دورِ قدیم میں کہا جاتا تھا: ما اسمك أعرف أباك ’’آپ کانام کیاہے تاکہ اس کے ذریعے تیرے باپ کو پہچانوں…‘‘

(دیکھئے تسمیۃ المولود مؤلفہ بکر بن عبداللہ ابوزید)

اسلام میں نام کی اہمیت

نام کی اہمیت کو پہچاننے کے لئے ناموں کے متعلق شریعت کا اہتمام ہی کافی ہے۔چنانچہ حضرت رسولِ کریمﷺ نے صحابہ میں بعض مردوں اور عورتوں کے نام بدل دیے تھے۔ بلکہ آپﷺ نے ’شہنشاہ‘ جیسے نام رکھنے سے روک دیا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ ناپسند اور قبیح نام والا وہ شخص ہے جو ’شہنشاہ‘ کے نام سے ہو اور آپﷺ نے عبداللہ و عبدالرحمن جیسے نام رکھنے کی تاکید فرمائی،کیونکہ ان میں مسمّٰی(نام والے) کے اللہ کے بندہ ہونے کی علامت پائی جاتی ہے۔‘‘

رسول مقبولﷺ نے فرمایا:«أحب الأسماء إلی اﷲ عبداﷲ وعبدالرحمن»

’’اللہ کے ہاں محبوب ترین نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔‘‘

آپ ﷺ کو اچھا نام پسند ہوتا تھا اور آپﷺ اس کے ذریعے نیک فال لیتے تھے اور یہ بات آپﷺ کی سیرت کاعلم رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں۔

علماے اُصول و لغت کے ہاں یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ناموں میں واضح اِشارات اور معانی ہوتے ہیں جو شخصیت میں پنہاں چیزوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس مسئلہ کی تحقیق لغت اور اُصولِ فقہ کی کتابوں میں موجود ہے اورعلماے کرام نے اس مسئلہ پر اور اس کے متعلقات اور اس سے پیدا ہونے والے بہت سے مسائل پر طویل بحث کی ہے۔

میں آپ سے پوچھتاہوں…

٭ آپ اپنے بچوں کے نام کس چیز کو مدنظر رکھ کر ٹھہراتے ہیں ؟

٭ کیاآپ اپنی اولاد کے لئے وہی نام نہیں پسند کرتے جس کا معنی آپ کے نزدیک یا بچے کی ماں اورگھر والوں کے نزدیک پیارا ہوتا ہے ؟

٭ کیا آپ اپنی اولاد کے نام اپنے دشمنوں کے ناموں پر رکھنا پسند کریں گے ؟

کیا عقل اس بات کو مانتی ہے کہ ہم اپنے لئے تو وہ نام پسند کریں جو ہمارے نزدیک تو کسی معنی اور مفہوم کے حامل ہوں اور پیغمبر کے بعد سب انسانوں سے افضل ہستیوں کے متعلق کہا جائے کہ انہوں نے بعض سیاسی اور معاشرتی وجوہات سے مجبور ہو کر یہ نام رکھے تھے اور اس نام کا مفہوم اور دلالت ان کے پیش نظر نہیں تھی ۔

اُمت کے عقل مند ترین لوگ، قائد اور اپنی ذات و حسب کے اعتبار سے عزت دار شخصیتوں کو تو وسیع انسانی کمالات سے محروم کردیاجائے اور انہیں اس بات کا حق نہ دیا جائے کہ وہ اپنی اولادوں کے نام ان شخصیتوں کے ناموں پر رکھیں جن کی فضیلت اور محبت کا انہیں اعتراف ہے بلکہ (وہاں ہم یہ غلط نظریہ اپنالیں کہ) انہوں نے کچھ بچوں کے نام اپنے دشمنوں کے نام پر رکھ لئے تھے۔ بھلا آپ اس بات کی تصدیق کریں گے ؟

اور یہ بات بھی آپ کے علم میں ہونی چاہئے کہ نام صرف ایک فرد کانہیں بلکہ اولاد میں کئی افراد کا ہو، اور وہ بھی عداوت مٹ جانے کے صدیوں بعد نہیں بلکہ (مدعیانِ حب ِاہل بیت کے بقول) عداوت کے عروج کے دور میں ، درحقیقت پیار ومحبت کے عروج کے دور میں رکھا گیا ہو۔

نام تجویز کرنے کا مسئلہ نہایت اہم ہے، اس کی تحقیق اوراس کا اہتمام نہایت ضروری ہے،کیونکہ اس میں بہت بڑے اشارے اور دلائل ہیں۔ اس میں اس داستانوں اور وسوسوں اور خیالی قصوں کاردّ بھی ہے اور دل و جذبات کو اپیل کرنے کاموقع بھی اور اس میں عقل مندوں کے لئے عقل مندوں کو قائل کرنے کامواد بھی ہے جسے ردّکرنا اور اس کی تاویل کرناممکن نہیں ہے۔ اس تمہید کے بعد ہم اصل مقصد کی طرف لوٹتے ہیں :

1.امیرالمؤمنین سیدنا علی المرتضی نے خلفاے ثلاثہ سے شدید محبت کی بنا پر اپنے چند بچوں کے نام ان کے ناموں پررکھے اور وہ یہ ہیں :

٭ ابوبکر بن علی بن ابی طالب جو اپنے بھائی سیدنا حسین کے ساتھ کربلا میں شہیدہوئے۔ان پراور ان کے باپ پر اعلیٰ و افضل درود وسلام ہو۔

٭ سیدنا عمر بن علی بن ابی طالب جو اپنے بھائی حسین کے ساتھ معرکہ کربلا میں شہید ہوئے۔ ان پر اور ان کے باپ پر اعلیٰ و افضل درود و سلام ہو۔

٭ عثمان بن علی بن ابی طالب جو اپنے بھائی حسین کے ساتھ حادثہ کربلا میں شہید ہوئے۔ ان پر اور ان کے باپ پر اعلیٰ و افضل درود و سلام ہو۔

2. امیرالمومنین سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب نے جنہیں عظیم قربانی کی بدولت فرشتہ رحمت کا لقب دیا گیا… اپنی اولاد کے نام

٭ ابوبکر بن حسن بن علی المرتضیٰ

٭ عمر بن حسن بن علی المرتضیٰ

٭ طلحہ بن حسن بن علی المرتضیٰ رکھے اور یہ سب اپنے چچا سیدنا حسین بن علی کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے۔

3. ریاضِ رسول کے مشک بارپھول سیدنا حسین نے بھی اپنے بیٹے کانام

٭ عمربن حسین رکھا۔

4 مدعیانِ حب ِاہل بیت کے چوتھے امام سیدالتابعین علی بن حسین ، زین العابدین نے اپنی بیٹی کا نام

٭ عائشہ بنت علی بن حسین رکھا اور ان سے ان کی نسل بھی موجود ہے۔

علاوہ ازیں دیگر اہل بیت کرام مثلاً سیدنا عباس بن ابی طالب اور سیدنا جعفربن ابی طالب اورمسلم بن عقیل کی اولاد میں بھی یہ نام آپ کو ملیں گے۔ یہاں ان کے ایسے ناموں کا شمار تو مقصود نہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ نام رکھنے کا یہ عمل ہمارے مقصد پر بخوبی دلالت کرتا ہے جیساکہ سیدنا امیرالمومنین علی اور سیدنا حسن اور سیدنا حسین کی اولاد کے ناموں کا ذکر ہوچکا ہے…ان پر اللہ کی طرف سے ہزارہا درود و سلام ہو!

مناقشہ

روافض میں سے چند لوگ اس بات کاانکار کرتے ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰ اور ان کے صاحبزادوں نے اپنی اولاد کے نام ان ناموں پررکھے ہوں، لیکن یہ ان لوگوں کا طرزِ عمل ہے جنہیں علم الانساب والاسماء کا علم نہیں ہے اور کتابوں سے ان کا تعلق بھی محدود ہے اور بحمداللہ ایسے لوگوں کی تعداد تھوڑی ہے ۔ دوسری طرف کبار ائمہ اور علمائے شیعہ نے ایسے لوگوں کی تردید کی ہے،کیونکہ ان ناموں کے وجود کے دلائل حقیقی اور قطعی ہیں اور ان کی اولاد کے وجود پر دال ہیں اور یہ شیعہ کی معتمد کتابوں حتیٰ کہ سانحہ کربلا کی روایات میں بھی موجود ہیں،کیونکہ سیدنا ابوبکر بن علی بن ابی طالب ،اس طرح ابوبکر بن حسن بن علی اور علاوہ ازیں دیگر نوجوانانِ اہل بیت سیدنا حسین کے ساتھ ہی شہید ہوئے تھے۔

یہ سیدنا حسین کے ساتھ تھے اور شیعہ نے اپنی کتابوں میں ان کاتذکرہ کیاہے اورآپ یہ نہ کہیں کہ ہم’ حسینیات’ میں تو یہ نام نہیں سنتے اور نہ ہی ماتم کے دنوں میں ان کا تذکرہ ہوتا ہے کیونکہ عدمِ ذکر، عدمِ وجود پر دلالت نہیں کرتا۔ کربلا کی آزمائش میں سیدنا عمر بن علی بن ابی طالب اور سیدنا عمر بن حسن السبط کی جواں مردی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔

مقصد یہ ہے کہ ائمہ کرام کا اپنی اولاد کے نام، سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان و عائشہ وغیرہم کبار صحابہ کے نام پر رکھنے کا مسئلہ ایسا ہے کہ آپ کو روافض کے ہاں سے اس کا تسلی بخش جواب نہ ملے گا، کیونکہ یہ تو ممکن نہیں کہ ہم ناموں کے معاملے کو بلادلالت و معنی قرار دیں اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ ہم اسے اہل السنہ کی روافض کتب میں دسیسہ کاری قرار دیں، کیونکہ اس طرح کرنے کا مطلب تمام کتابوں کی تمام روایات میں تشکیک پیدا کرنا ہوگا۔ ممکن ہے کہ جو چیز روافض کو پسند نہ آئے وہ کہہ دیں کہ یہ دسیسہ کاری ہے!!

خصوصی طور پر اس صورت میں کہ ہر عالم کو روایات قبول کرنے یا ردّ کرنے کا حق ہے، اس لئے کہ ان کے ہاں اس کا کوئی ضابطہ نہیں ہے۔ بیک وقت ہنسا اور رُلا دینے والا نادر قول یہ ہے کہ کبار صحابہ کے نامو ں پر نام رکھنے کی غرض تقیہ کے طور پر انہیں سب و شتم کرنا ہے!!

سبحان اللہ! کیا ہمارے لئے جائز ہے کہ ہم یہ نظریہ رکھیں کہ سیدنا علی اپنے ساتھیوں اور عام مسلمانوں کو دھوکا دیتے تھے؟ اور سیدنا علی اس غرض سے اپنی اولاد کو کیوں دکھ دیتے تھے؟ اور سیدنا علی کو ان ناموں کے ذریعے کن سے بچاؤ کی توقع تھی ؟آپ کی شجاعت اور عزتِ نفس اس بات سے انکار کرتی ہے کہ وہ بنو تیم یا بنو عدی یا بنو اُمیہ کی وجہ سے اپنے آپ کو یا اپنی اولاد کی توہین کرتے ہوں۔

سیدنا علی المرتضیٰ کی سیرت کا مطالعہ کرنے والا حق الیقین رکھتا ہے کہ آپ بہادر ترین آدمی تھے، برخلاف ان جھوٹی روایات کے جو انہیں ایسا بزدل ثابت کرتی ہیں کہ وہ اپنے دین اور اپنی عزت و تکریم کی پامالی پر چپ سادھ لیتے تھے۔ افسوسناک معاملہ یہ ہے کہ ایسی روایات ان کی کتابوں میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ اور آپ کے صاحبزادوں جیسے ائمہ اہل بیت کا طرزِ عمل، عقلی، نفسیاتی اور حقیقی اعتبار سے اس بات کی مضبوط دلیل ہے کہ اہل بیت سچے دل سے خلفاے راشدین اور تمام اصحابِ رسولﷺ سے محبت رکھتے تھے اور آپ بذاتِ خود بھی اس صورتِ حال کا اندازہ کرسکتے ہیں اور اسے جھٹلانے کی مجال نہیں اور یہ صورتِ حال اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تصدیق کرتی ہے کہ

﴿مُحَمَّدٌ رَسولُ اللَّهِ وَالَّذينَ مَعَهُ أَشِدّاءُ عَلَى الكُفّارِ رُحَماءُ بَينَهُم تَرىٰهُم رُكَّعًا سُجَّدًا يَبتَغونَ فَضلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضو‌ٰنًا سيماهُم فى وُجوهِهِم مِن أَثَرِ السُّجودِ﴾ (سورة الفتح: 29)

’’محمد، اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت ہیں اورآپس میں رحم دل ہیں تو انہیں جھکے ہوئے سربسجود پائے گا وہ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں، سجدوں کے اثر سے ان کے چہروں پر (شرافت و وقار کی) نشانیاں ہیں۔ ‘‘ (سورۃ الفتح:29)

خود مختار و آزاد رو قارئین کرام! آیت کو دوبارہ تلاوت کریں اور اس کے معانی پر غور کریں اور صفت ِرحمت پر بھی غورفرمائیں۔

دوسرا مبحث : دلالۃ المصاہرۃ (باہمی رشتہ داریاں)

قارئین کرام! بیٹیاں جگر کے ٹکڑے اور دل کا پھول ہوتی ہیں،ہم انہیں کن کے سپرد کرتے ہیں؟ کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ انہیں کسی فاجریا مجرم کے سپرد کریں، بلکہ ان کی ماں یا بھائی کے قاتل کے ہاتھ میں دے دیں۔صہری اور نسبی کے الفاظ آپ کو کیا چیز باور کراتے ہیں۔

لغت میں مصاھرۃ صَاھَرَ کا مصدر ہے۔ جب آپ کسی قوم میں شادی کریں تو کہیں گے: صاھرت القوم کہ میں نے فلاں قوم سے رشتہ ناتا کیا۔

ازہری کہتے ہیں کہ صہر کا لفظ محرم عورتوں کے قریبی رشتہ داروں پرمشتمل ہے اور محرم عورتوں کے قریبی رشتہ دار اس کے والدین اور بھائی وغیرہ ہی ہوتے ہیں اور شادی کے بعد مرد کے قرابت دار محارم عورت کی صھر (سسرال) ہوتے ہیں۔ لہٰذا مرد کا صھراس کی بیوی کے قرابت دار ہیں اور عورت کے صھر اس کے خاوند کے رشتہ دار ہیں۔

خلاصہ یہ کہ لغت میں مصاھرت کا معنی ہے: عورت کے قرابت دار، اور کبھی مرد کے قرابت داروں پربھی صھرکا اطلاق کیا جاتاہے، اللہ سبحان و تعالیٰ نے اس مصاہرت کو اپنی نشانیوں میں بیان کیا ہے ۔ فرمانِ الٰہی ہے:

﴿وَهُوَ الَّذى خَلَقَ مِنَ الماءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهرًا وَكانَ رَبُّكَ قَديرًا﴾ (سورة الفرقان: 54)

’’اللہ وہ ذات ہے جس نے پانی سے بشر کو پیدا فرمایا اور اس کا نسبی اور سسرالی رشتہ بنایا اور تیرا ربّ قدرت والا ہے۔‘‘

اس آیت میں غور کیجئے کہ انسان ایک بشر ہے۔ اللہ نے اسے ایسا بنایا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ ازدواجی رشتے ناطے قائم کرتا ہے۔نسب اور مصاہرت ایک شرعی تعلق ہے اور اللہ نے اسے نسب کے ہم پلہ قرار دیا ہے۔’ نسب’ سے مراد باپ کے قرابت دار ہیں اور بعض علما کا خیال ہے کہ ہر طرح کی مطلق قرابت داری کو نسب کہا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے نسب اور مصاہرت کے درمیان تعلق قائم کردیا ہے اور اس تعلق میں عظیم اشارے اور دلالتیں ہیں جن سے غفلت نہیں برتنی چاہئے۔

تاریخ مصاہرت

عربوں کے ہاں مصاہرت کا خاص مقام و مرتبہ ہے۔ وہ نسب پر فخر کے قائل ہیں اور اس بنا پر وہ اپنی بیٹیوں کے شوہروں او ران کے مرتبہ و مقام پر بھی فخر کرتے ہیں اور وہ ان لوگوں سے اپنی بیٹیاں نہیں بیاہتے جنہیں وہ اپنے سے کم تر خیال کرتے ہوں او ران کے بارے میں یہ بات بہت مشہور ہے بلکہ ایسا بہت سے عجمی طبقات میں بھی پایا جاتا ہے او ریورپ میں آج کل اسی نسلی امتیازکو معاشرتی مشکلات قرار دیا جاتا ہے۔

عرب لوگ اپنی عورتوں پر غیرت کھاتے ہیں اور اسی غیرت اور خوفِ عار نے بعض لوگوں کو اپنی ننھی ننھی بچیوں کو زندہ درگور کرنے تک پہنچا دیا تھا اور اسی عورت کی وجہ سے لڑائیاں ٹھن جاتیں اورخونی دریا بہہ پڑتے۔ بس اتنا اشارہ ہی طویل عبارت اور گفتگو سے بے نیاز کردیتا ہے۔ غرض یہ بات آپ سے مخفی نہیں ہے کہ اس کے اثرات آج تک باقی ہیں۔

اسلام میں مصاہرت

اسلام آیا تو اس نے بلند اخلاق او رحمیدہ اوصاف کو برقرار رکھا اور قبیح عادات و نظریات سے ہمیں منع کردیا او راللہ سبحانہ و تعالیٰ نے واضح کردیا کہ اصل اعتبار تقویٰ کا ہے: ﴿إِنَّ أَكرَمَكُم عِندَ اللَّهِ أَتقىٰكُم ﴾ (سورۃ الحجرات: 13)

’’تم میں سے اللہ کے ہاں معزز وہ ہے جو سب سے بڑھ کر متقی ہو۔‘‘

یہی مرتبہ و مقام شرعی میزان بھی ہے۔

آپ دیکھتے ہیں کہ فقہاے کرام نے دین، نسب اور پیشے میں برابری پر بحث کی ہے او ر اس کے متعلقات پر طویل مباحثے کئے ہیں کہ کیا عقد ِزواج یا اس کے لوازمات میں کفاء ت (برابری) شرط ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ بیوی کا حق ہے یا اس میں اولیا بھی شریک ہیں؟ جب انہوں نے نکاح پر گفتگو کی ہے تو اس طرح کے دیگر مباحث پر اظہارِ خیال کیا ہے۔

جہاں تک عزت و آبرو بچانے اور عورتوں پر غیرت کرنے کامسئلہ ہے تو اس سلسلے میں نبی کریمﷺ نے اپنی آبرو کی خاطر قتل ہونے والے کو شہید قرار دیا ہے اور آپﷺ نے بنفس نفیس اس عورت کی خاطر لڑائی کی قیادت کی تھی جس کے پردے سے یہودیوں نے بے ہودگی کی تھی۔ اس سلسلے میں رسولِ کریم اور یہود بنی قینقاع کے درمیان نقض معاہدہ کا قصہ مشہور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک یہودی نے اپنی دکان سے سونا خریدنے والی مسلمان خاتون سے چہرہ سے پردہ ہٹانے کا مطالبہ کردیا۔ اس نے انکا رکیا تو اس خاتون کو غافل بیٹھی دیکھ کر اس کا کپڑا کسی چیز سے باندھ دیا۔ جب وہ کھڑی ہوئی تو اس کا چہرہ ننگا ہوگیا۔ اس نے زیادتی کا بدلہ چکانے کی صدا بلند کی تو پاس کھڑے مسلمان نوجوان نے یہودی کو قتل کردیا۔ پھر یہودی اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے اس نوجوان کو قتل کردیا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی طرف سے معاہدہ توڑنے کے کئی اور اسباب بھی سامنے آگئے تھے۔

عقد ِنکاح اور اس پر گواہوں کی شرط رکھنے بلکہ حد ِقذف اور حد ِزنا وغیرہ جیسے شرعی احکام پر تدبر کرنے اور ان کی حکمتوں اور اثرات پر غور کرنے اور ان کے بارے میں قوانین پر نظر کرنے سے آپ پر اس موضوع کی اہمیت بخوبی آشکارا ہوجائے گی۔

رشتہ مصاہرت کی بنا پر بہت سے احکام مرتب ہوتے ہیں۔ عقد ِنکاح جیسے مضبوط اور پختہ قانون پر غور کریں، جب آدمی نکاح کا پیغام بھیجتا ہے تو اس کے اپنے احکام ہیں۔ چنانچہ کبھی تو قبول اور کبھی انکار ہوجاتا ہے۔ پھر نکاح کا خواہش مند بعض اوقات دوسروں کی رضامندی حاصل کرنے کی خاطر اپنے گھر والوں اور اپنے دوستوں کی معاونت بھی طلب کرتا ہے اور عورتوں کے سرپرست اور گھر والے رشتہ طلب کرنے والے سے سوال کرتے ہیں اور انہیں بھی قبول یا ردّ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اگرچہ اس نے تحفے بھی دیے ہوں اور قبل از نکاح حق مہر بھی دے دیا ہو۔ چنانچہ جب تک عقد مکمل نہیں ہوتا، لڑکی کے اولیا کو خاطب (نکاح کے خواہشمند) کو ردّ کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

ایسے ہی عقد میں گواہوں کا ہونا ضروری ہے اور نکاح کی تشہیر کرنا شرعی تقاضاہے، کیونکہ نکاح کی بنا پر کئی احکام مرتب ہوتے ہیں۔چنانچہ وہ دور والوں کوقریب کرتا ہے اورانہیں صھری رشتہ دار بناتا ہے۔ نکاح کی وجہ سے خاوند پر کئی عورتیں ہمیشہ کے لئے یا بیوی کی موجودگی تک حرام ہوتی ہیں۔ مزید طوالت کی یہاں گنجائش نہیں ۔چونکہ بعد والے موضوع کو سمجھانے کے لئے اس موضوع کی اہمیت یاد دلانا مقصود تھی۔ چنانچہ درج ذیل (حقیقت) پر غور کیجئے …

٭ سیدنا حسن و حسین کی بہن کے والد سیدنا علی المرتضیٰ اپنی بیٹی اُمّ کلثوم کا نکاح سیدنا عمر بن خطاب سے کرتے ہیں۔

کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر کے ڈر کی وجہ سے ایسا کیا تھا ؟

٭ان کی شجاعت کہاں چلی گئی؟

٭ان کی اپنی بیٹی سے محبت کہاں گئی؟

٭کیاوہ اپنی بیٹی معاذ اللہ ایک دشمن کے سپرد کرسکتے تھے؟

٭اللہ کے دین کے معاملے میں ان کی غیرت کہاں گئی؟

اس طرح کے نہ ختم ہونے والے سوالات جنم لیتے رہیں گے یا پھر ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ سیدنا علی المرتضیٰ نے سیدنا عمر کی خواہش اور اس کے ساتھ رضامندی کی وجہ سے اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کردیا تھا۔

ہاں سیدنا عمر نے حضرت رسولِ کریمﷺ کی اس بیٹی سے صحیح اور شرعی نکاح کیاتھا، اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں او ریہ نکاح دونوں خاندانوں کے درمیان محبت اور صلہ رحمی پر دلالت کرتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہوتا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ حضرت رسول مقبولﷺ سیدنا عمر کی بیٹی کے شوہر ہیں اور سیدہ اُمّ کلثوم بنت علی کی سیدنا عمر سے شادی سے پہلے بھی دونوں خاندانوں میں مصاہرت قائم تھی۔

٭دوسری مثال: امام جعفر صادق﷫ کا یہ قول بھی کافی ہے کہ

”ولدنی أبوبکر مرتین” ’’مجھے سیدنا ابوبکر نے دو مرتبہ جنا ہے۔‘‘

آپ جانتے ہیں کہ امّ جعفر کون ہے؟ یہ اُمّ فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق ہیں اور اُمّ فروہ کی ماں اسماء بنت عبدالرحمن بن ابوبکر الصدیق ہے۔

دیکھئے یہاں امام جعفر﷫ نے سیدنا ابوبکر کا نام لیا ہے، محمدبن ابی بکر کا نام نہیں لیا؟ انہوں نے سیدنا ابوبکر کے نام کی صراحت اس بنا پر کی، کیونکہ بعض آپ کی فضیلت کا انکار کرتے ہیں جبکہ آپ کے بیٹے محمد بن ابوبکر کی فضیلت پر تمام روافض متفق ہیں۔

اللہ کو حاضروناظر جان کر بتائیے کہ انسان کن کے ساتھ فخر کرتا ہے ؟؟

قارئین کرام! مہاجرین اور انصار صحابہ کرام کے حسب ونسب میں غیر معمولی میل جول کو ہر وہ شخص جانتا ہے جسے ان کے انساب کی معرفت حاصل ہے۔ یہاں تک ان کے آزاد کردہ غلاموں کے نسب بھی ان میں داخل ہیں۔ حتیٰ کہ آزاد کردہ غلاموں نے بھی سادات و اشراف قریش کے گھرانوں میں شادیاں کیں۔

٭ ان میں ایک زید بن حارثہ ہیں اور یہ وہ واحد صحابی ؓہیں جن کا نام قرآن کی سورۂ احزاب میں آیا ہے۔ ان کی بیوی کون تھی؟ وہ تھیں:اُمّ المؤمنین زینب بنت جحش

٭ ایسے ہی ایک اسامہ بن زید ہیں، رسول کریمﷺ نے ان کی شادی فاطمہ بنت قیس قریشیہ سے کی تھی۔

٭ انہی میں سے سیدنا سالم ہیں جو آزاد کردہ غلام ہیں۔ ان کی شادی ان کے آقا حضرت ابوحذیفہ قریشی نے اپنی بھتیجی ہند بنت ِولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کی تھی اور اس کا باپ قریش کے سادات میں سے تھا۔

صحابہ کرام کے درمیان مصاہرت پر گفتگو بہت طویل ہوجائے گی، اس لئے اہل بیت اور خلفاے راشدین کے درمیان مصاہرت (رشتہ ازدواج) کی چند ایک مثالیں بیان کرنے پر اکتفا کرتاہوں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق نے حضرت فاطمہ بنت رسول اللہﷺ کی صاحبزادی (اُم کلثوم ) سے شادی کی تھی؟

حضرت جعفر بن محمد الصادق ﷫ کی والدہ محترمہ جن کا تذکرہ گذر چکا ہے،آپ جانتے ہیں کہ ان کی بڑی نانی کون تھی، یہ دونوں (ماں بیٹی) سیدنا ابوبکر الصدیق کی پوتیاں تھیں۔

قارئین کرام! آپ دل سے شیاطین کے وسوسے دھوڈالئے اور گہری سوچ سے کام لیجئے۔ آپ مسلمان ہیں، آپ پر عقل کا مقام مخفی نہیں ہے اور جن آیات میں تدبر اور تفکر کی ترغیب ہے ،وہ بہت زیادہ ہیں، ان کی تفصیل بیان کرنے کایہاں موقع نہیں ہے، اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی عقلوں سے سوچیں اور اندھی تقلید کو چھوڑ دیں اور اس بات سے بچیں کہ بے ہودہ لوگ ہماری عقلوں سے کھیلنا شروع کردیں۔نعوذ باﷲ السمیع العلیم من شیاطین الانس والجن

قارئین کرام! کیا یہ بات آپ کو پسند ہے کہ آپ کے باپ دادوں کو گالی دی جائے او ریہ کہا جائے کہ آپ کی عورتوں کی سردار خاتون زبردستی بیاہ دی گئی باوجودیکہ وہ سارے خاندان کی آبرو اور ناک تھی ؟

کیا آپ کسی کہنے والے کی اس ژاژخائی کو پسند کرتے ہیں کہ وہ پہلی خاتون تھی جو ہم سے زبردستی چھین لی گئی؟ اس طرح کے ایسے نہ ختم ہونے والے سوالات اُٹھیں گے۔ کون سی عقل اس بے ہودہ گوئی کو پسند کرے گی؟! اور کون سا دل اس بے سروپا بات کو قبول کرے گا؟!

ہم اللہ سے دُعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے دلوں میں ان لوگوں کے متعلق کینہ پیدا نہ کرے جو ایمان دار ہیں۔ اے اللہ ہمیں اپنے تمام صالحین بندوں کی محبت نصیب فرما۔ آمین!

سیدہ اُمّ کلثوم بنت علی المرتضیٰ کے نکاح کے متعلق اثنا عشری روایات

تیسرا موضوع شروع کرنے سے پہلے (مناسب معلوم ہوتا ہے )کہ آپ کے سامنے چند نصوص اور واضح مفہوم والی تصریحات شیعہ کی ایسی کتابوں میں سے پیش کردی جائیں جو ان کے ہاں معتبر ہیں او ران کے معتبر علما کی لکھی ہوئی ہیں اور ان میں سیدہ اُمّ کلثوم بنت علی المرتضیٰ کی سیدنا عمر فاروق سے شادی کا تذکرہ ہے …رضوان اللہ علیہم اجمعین

٭ امام صفی الدین محمد بن تاج الدین جو ابن طقطقی کے نام سے مشہور ہیں اور نامور مؤرخ اور ماہر انساب ہیں، اپنی اس کتاب میں جو انہوں نے ہلاکو خاں کے مشیر خواجہ نصیرالدین طوسی کے صاحبزادے اصیل الدین حسن کی نذر کی تھی، میں بیان کرتے ہیں:

ذکر بنات امیر المومنین علی رضي الله عنه: واُمّ کلثوم أمھا فاطمة بنت رسول اﷲ تزوجھا عمر بن الخطاب فولدت له زیدًا ثم خلف علیھا عبد اﷲ بن جعفر (ص:58)

’’اور اُمّ کلثوم، ان کی ماں حضرت فاطمہ بنت رسول اللہﷺ تھی۔ ان سے سیدنا عمر بن خطاب نے شادی کی تھی، انہوں نے عمر کے بیٹے زید کو جنا۔ ان کی وفات کے بعد سیدنا عبداللہ بن جعفر(ہاشمی) نے ان سے شادی کی۔‘‘

٭ اور اس سلسلے میں محقق سید مہدی رجائی کا قول بھی دیکھئے۔ انہوں نے بھی حوالے ذکر کئے ہیں۔

٭ ان میں ایک تحقیق سیدنا عمر بن علی بن حسین کی طرف نسبت کی بنا پر عمری کہلانے والے علامہ ابوالحسن عمری کی ہے، وہ اپنی کتاب المجدی میں لکھتے ہیں :

والمعول علیه من هذه الروایات ما رأیناه آنفا من أن العباس بن عبدالمطلب زوجها عمر برضی أبیها علیه السلام وإذنه وأولدها عمر زیدا

’’اور ان روایات سے معتبر بات جو ہم نے ابھی دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب نے سیدنا علی کی رضا مندی اور اجازت سے ان کی شادی سیدنا عمر سے کردی اور انہوں نے سیدنا عمر کے بیٹے زید کو جنم دیا… الخ‘‘

٭ بعض لوگوں نے یہاں عجیب وغریب اقوال بھی ذکر کئے ہیں کہ جن میں ایک یہ بھی ہے کہ جس عورت سے سیدنا عمر نے شادی کی تھی، وہ ایک جن عورت تھی یا یہ کہ اس نے ان سے صحبت نہیں کی تھی یا یہ کہ اس نے بزورِ بازو چھین کر شادی کی تھی…الخ

علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ اس طرح مفید کا اُصولِ واقعہ سے انکار بھی منقول ہے، لیکن وہ صرف اس چیز کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ یہ بات ان کے طرق سے ثابت نہیں ہے۔ ورنہ ان روایات اور عنقریب ذکر ہونے والی اسناد کے بعد یہ مانے بنا چارہ نہیں کہ جب سیدنا عمر فوت ہوئے تو سیدنا علی اُمّ کلثوم کے پاس آئے اور انہیں لے کر اپنے گھر چلے گئے۔ اس کے علاوہ اور روایات بھی ہیں جو میں نے بحار الانوار میں ذکر کی ہیں۔ لہٰذا اس واقعہ کا انکار عجیب بات ہے۔ اس بات کا اصل جواب یہ ہے کہ یہ کام تقیہ اور اضطرار کی بنا پر ہوا تھا۔ الخ (مرآۃ العقول: 2؍ 45)

میں کہتا ہوں کہ شیعہ کے ہاں مستند ترین کتابِ حدیث ’الکافی‘ کے مصنف نے ’کافی‘ میں بہت سی احادیث ذکر کی ہیں، ان میں سے ایک حدیث اس باب میں درج ہے :

باب المتوفی عنها زوجها المدخول بها أین تعتد وما یجب علیها

حمید بن زیاد عن ابن سماعة عن محمد بن زیاد عن عبد الله بن سنان ومعاویة بن عمار عن أبی عبد اﷲ علیه السلام قال: سألته عن المرأة المتوفی عنها زوجها أتعتد في بیتها أوحیث شاء ت ؟ قال بل حیث شاء ت: أن علیا علیه السلام لما توفی عمر أتی اُمّ کلثوم فانطلق بها إلی بیته (فروعِ کافی:6؍155)

’’باب اس مسئلہ پر کہ جس مدخولہ عورت کا خاوند فوت ہوگیا ہو وہ عدت کہاں گزارے اور اس پرکیا کچھ واجب ہے۔ حمید بن زیاد، ابن سماعہ سے بیان کرتے ہیں اور وہ محمد بن زیاد سے اوروہ عبداللہ بن سنان اور معاویہ بن عمار سے اور وہ ابوعبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ عدت کے ایام اپنے گھر میں گزارے یا جہاں کہیں وہ چاہے؟ آپ نے فرمایا: بلکہ جہاں کہیں وہ چاہے۔جب سیدنا عمر فوت ہوئے تھے تو سیدنا علی اُم کلثوم کے پاس آئے اور انہیں لیکر اپنے گھر چلے گئے۔‘‘

قارئین کرام! میں نے بعض معاصر روافض علما سے اس شادی کے متعلق مراسلت کی تو سب سے تفصیلی جواب محکمہ اوقاف و مواریث کے قاضی شیخ عبد الحمید الخطی نے لکھا۔ ان کے الفاظ کا ترجمہ یہ ہے :

’’باقی رہا شہسوارِ اسلام سیدنا علی کا سیدنا عمر فاروق سے اپنی لخت ِجگر کی شادی کا معاملہ تو ہم اس سے نفرت نہیں کرتے اور آپ کے سامنے رسول اللہﷺ کااسوۂ حسنہ ہے اور آپ تمام مسلمانوں کے لئے اُسوہ تھے اور آپﷺ نے سیدہ اُمّ حبیبہ بنت ابی سفیان سے نکاح کیا تھا اور ابوسفیان سیدنا عمر فاروق کے مرتبہ و مقام پرنہ تھے۔ اس نکاح کے سلسلے میں جو غبار اُڑایا جاتا ہے اس کا مطلق جواز نہیں ہے۔ باقی رہا تمہارا یہ کہنا کہ ایک جن عورت اُمّ کلثوم کی ہم شکل بن کر ان کی جگہ سیدنا عمر بن خطاب کے پاس آئی تو یہ ہنسا ہنسا کر رُلا دینے والا قول ہے اور اس لائق نہیں کہ اس پر توجہ کی جائے اور اس کیلئے وقت صرف کیا جائے اگر ہم اس طرح کی من گھڑت خرافات کی تلاش کریں تو ہمیں بہت سی ہنسا اور رُلا دینے والی باتیں ملیں گی… الخ

شیخ نے بحث کے اصل قضیے کو نہیں چھیڑا اور وہ یہ تھا کہ خاندانوں کے درمیان ربط کے لئے دلالت ِ مصاہرت بغیر اطمینان اور تسلی کے نہیں ہوتی اور اس میں أصہار(سسرالی رشتہ داروں) کے درمیان باہمی اُلفت ، اُخوت اور محبت کی دلالت کی صراحت پائی جاتی ہے۔

٭ ایسے ہی آپ پریہ واضح اور روشن ترین فرق مخفی بھی نہیں ہے کہ مسلمان مرد کی کتابیہ (یہودیہ یا نصرانیہ) سے شادی جائز ہے او رکتابی مرد کی مسلمان عورت سے شادی جائز نہیں ہے، اس بات کو بھی ذرا سوچئے…!!

خلاصہ یہ ہے کہ اصحابِ رسول کے درمیان رشتہ مصاہرت آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہے خصوصاً خلفاے راشدین اور سیدنا علی المرتضیٰ کی اولاد کے درمیان اس طرح اسلام سے قبل اور اس کے بعد بنو ہاشم اور بنوامیہ کے درمیان مصاہرات کے رشتے بھی مشہور ہیں اور ان میں سے زیادہ مشہور رشتہ مصاہرت رسول کریمﷺ کا سیدنا ابوسفیان اُموی کی لخت ِجگر سیدہ ام حبیبہ سے نکاح کرنا ہے۔

مزید تفصیلات اس مقالہ کے دوسرے حصے میں دیکھیں۔ یہاں اس چیز کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ مصاہرت سے نفسیاتی اور معاشرتی اثرات پیدا ہوتے ہیں، ان میں سے بڑا اثر دونوں خاندانوں کے درمیان محبت کا پھلنا پھولنا ہے ورنہ اسے تسلیم نہ کرنے کی صورت میں بہت سے اثرات رونما ہوتے ہیں اور شاید جو کچھ بیان ہوچکا ہے وہ کافی ہے او رجو کچھ بیان نہیں ہوا، اس کی ضرورت نہیں۔ وباﷲ التوفیق (جاری ہے)

تبصرہ کریں