صحابہ کرام اور اولیاء اللہ کی کرامات(22)۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

ابو عبد الله حضرت امام بخاری نے کہا کہ لیث نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبد الرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ نے کہ رسول اللہ ﷺنے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے بنی اسرائیل کے ایک دوسرے آدمی سے ایک ہزار دینار قرض مانگے ، انہوں نے کہا کے پہلے ایسے گواہ لا جن کے گواہی پر مجھے اعتبار ہو، قرض مانگنے والا بولا کہ گواہ تو بس اللہ ہی کافی ہے ۔ پھر انہوں نے کہا کہ اچھا کوئی ضامن لا، قرض مانگنے والا بولا کہ ضامن بھی اللہ ہی کافی ہے ، انہوں نے کہا کہ تو نے سچی بات کہی ، چنانچہ اس نے ایک مقرر مدت کے لئے اس کو قرض دے دیا، یہ صاحب قرض لے کر دریائی سفر پر روانہ ہوئے اور اپنی ضرورت پوری کر کے کسی سواری کشتی وغیرہ کی تلاش کی تاکہ اس سے دریا پار کر کے اس مقررہ مدت تک قرض دینے والے کے پاس پہنچ سکے جو اس سے طے پائی تھی اور اس کا قرض ادا کر دے لیکن کوئی سواری نہیں ملی ، آخر اس نے ایک لکڑی لی اور اس میں سوراخ کیا ۔ پھر ایک ہزار دینار اور اس مضمون کا خط اس کی طرف سے قرض دینے والے کے پاس پہنچ سکے۔ جو اس سے طے پائی تھی اور اس کا قرض ادا کر دے لیکن کو ئی نہیں ملی، آخر اس نے ایک لکڑی لی اور اس میں سوراخ کیا ، پھر ایک ہزار دینار اور ایک اس مضمون کا خط اس قرض دینے والے کی طرف یہ دینار بھیجے جارہے ہیں اور اس کا منہ بند کر دیا اور اسے دریا پر لے آئے ، پھر کہا : اے الله! تو خوب جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لیا تھا، اس نے مجھ سے ضامن مانگا ، میں نے کہہ دیا تھا کہ میرا ضا من الله تعالیٰ کافی ہے اور وہ بھی تجھ پر راضی ہو گیا ۔ اس نے مجھ سے گواہ مانگا تو اس کا جواب میں نے یہی دیا کہ اللہ پاک گواہ کافی ہے، تو وہ تجھ پہ راضی ہو گیا اور تو جانتا ہے کہ میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی سواری ملے کہ جس کے ذریعہ میں اس کا قرض اس تک مدت مقررہ میں پہنچا سکوں لیکن مجھے اس میں کامیابی نہیں ہوئی، اس لئے اب میں اس کو تیرے ہی حوالے کر تا ہوں کہ تو اس تک پہنچا دے، چنانچہ اس نے وہ لکڑی جس میں رقم تھی دریا میں بہا دی، اب وہ دریا میں اور وہ صاحب قرض دار واپس ہوچکے تھے اگرچہ اب بھی یہی تھا کہ کسی طرح کوئی جہاز ملے جس کے ذریعہ وہ اپنے شہر میں جاسکیں، دوسری طرف وہ صاحب جنہوں نے قرض دیا تھا ، اسی تلاش میں بندرگاہ آئے کہ ممکن ہے کوئی جہاز ان کا مال لے کر آیا ہو، لیکن وہاں انہیں ایک لکڑی ملی ، وہی جس میں مال تھا ، انہوں نے وہ لکڑی اپنے گھر کے ایندھن کے لئے اٹھا لی لیکن جب اسے چیرا تو اس میں سے دینار نکلے اور ایک خط بھی نکلا ، کچھ دنوں بعد جب وہ صاحب اپنے شہر آئے تو قرض خواہ کے گھر آئے اور یہ خیال کر کے کہ شاید وہ لکڑی نہ مل سکی ہو ، دوبارہ ایک ہزار دینار ان کی خدمت میں پیش کر دئیے اور کہا ، قسم اللہ کی میں تو برابر اسی کوشش میں رہا کہ کوئی جہاز ملے تو تمہارے پاس تمہارا مال لے کرپہنچوں، لیکن اس دن سے پہلے جبکہ میں یہاں پہنچنے کے لئے سوار ہوا مجھے اپنی کوششوں میں کامیابی نہیں ہوئی ، پھر انہوں نے پوچھا، اچھا یہ تو بتاؤ کوئی چیز کبھی تم نے میرے نام بھیجی تھی ؟ مقروض نے جواب دیا، بتا تو رہا ہوں آپ کو کہ کوئی جہاز مجھے اس جہاز سے پہلے نہیں ملا جس سے آج پہنچا ہوں، اس پر قرض خواہ نے کہا کہ پھر اللہ نے بھی آپ کا وہ قرض ادا کر دیا جسے آپ نے لکڑی میں بھیجا تھا۔

چنانچہ وہ صاحب اپنے ہزار دینار کے کر خوشی خوشی واپس لوٹ گئے ۔

تشریح : حدیث میں مذکورہ واقعہ اس قابل ہے کہ اس سے عبرت حاصل کی جائے ۔ اگرچہ یہ دنیا دار الاسباب ہے اور یہاں ہر چیز ایک سبب سے وابستہ ہے ۔ قدرت نے اس کا رخانۂ عالم کو اسی بنیاد پر قائم کیا ہے مگر کچھ چیزیں مستثنیٰ بھی وجود پذیر ہو جاتی ہیں۔

ان ہر دو میں سے قرض لینے والے نے دل کی پختگی اور ایمان کی مضبوطی کے ساتھ محض ایک اللہ پاک ہی کا نام بطور ضامن اور کفیل پیش کر دیا ، کیونکہ اس کے دل میں قرض کے ادا کرنے کا یقینی جذبہ تھا اور وہ قرض حاصل کرنے سے قبل عزم مصمم کرچکا تھا کہ اسے کسی نہ کسی صورت بالضرور واپس کرنا ہوگا ، اسی عزم مصمم کی بنا اس نے یہ قدم اٹھایا ، حدیث میں اسی لئے فرما گیا ہے جو شخص قرض لیتے وقت ادائیگی کا عزم صمیم رکھتا ہے۔ اللہ پاک ضرور اس کی مدد کرتا اور اس کا قرض ادا کرا دیتا ہے اسی لئے ادائیگی کے وقت وہ شخص کشتی کی تلاش میں ساحل بحر پر آیا کہ سوار ہو کر وقت مقررہ پر قرض ادا کرنے قرض خواہ کے گھر حاضر ہو جائے مگر اتفاق کہ تلاش بسیار کے باوجود اس کو سواری نہ مل سکی اور مجبوراً اس نے قرض کے دینار ایک لکڑی کے سوراخ میں بند کر کے اور اس کے ساتھ تعارفی پرچہ رکھ کر لکڑی کو دریا میں اللہ کے بھروسہ پر ڈال دیا ۔

اس نے یہ عزم کیا ہوا تھا کہ لکڑی کی یہ رقم اگر اس قرض خواہ بھائی کو اللہ وصول کرادے تو فبہا ورنہ وہ جب وطن لوٹے گا تو اس کو یہ رقم دوبارہ ادا کردے گا، ادھر وہ قرض دینے والے ساحل بحر پر کسی آنے والی کشتی کا انتظار کررہے تھے کہ وہ بھائی وقت مقرره پر اس کشتی سے آئیں اور رقم ادا کریں، مگر وہ بھی ناکام ہو کر جا ہی رہے تھے کہ اچانک دریا میں اسی بہتی ہوئی لکڑی پر نظر جاپڑی اور انہوں نے ایک عمدہ لکڑی جان کر ایندھن وغیرہ کے خیال سے اسے حاصل کر لیا، گھرلے جانے پر اس لکڑی کو کھولا تو حقیقت حال سے اطلاع پا کر اور اپنی رقم وصول کر کے مسرور ہوئے چونکہ ادا کرنے والے حضرت کو وصولی کی اطلاع نہ تھی وہ احتیاطاً وطن آنے پر دوبارہ یہ رقم لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تفصیلات سے ہر دو کو علم ہوا اور دونوں بے انتہا مسرور ہوئے ۔

یہ توکل علی اللہ کی وہ منزل ہے جو ہر کسی کو نہیں حاصل ہوتی ، اسی لئے نبی کریمﷺ نے ایک صحابی سے فرمایا تھا کہ اپنے اونٹ رات کو خوب مضبوط باندھ کر اللہ پر بھروسہ رکھو کہ اسے کوئی نہیں چرائے گا ۔

گفت پیغمبر بآ واز بلند

بر توکل زانوئے اشتر بہ بند

آج بھی ضرورت ہے کہ قرض حاصل کرنے والے مسلمان اس عزم صمیم و توکل علی اللہ کا مظاہرہ کریں کہ وہ اللہ کی توفیق سے ضرور ضرور قرض کی رقم جلد ہی واپس کریں گے۔ وہ ایسا کریں گے تو اللہ بھی ان کی مدد کرے گا اور ان سے ان کا قرض ادا کرادے گا ۔

اس حدیث کے ذیل میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

یعنی اس حدیث میں جواز ہے کہ قرض میں وقت مقرر کیا جائے اور وقت مقررہ پر ادائیگی کا وجوب بھی ثابت ہوا اور اس سے بنی اسرائیل کے عجیب واقعات کا بیان کرنا بھی جائز ثابت ہوا اور اس سے عبرت حاصل کی جائے اور ان کی اقتدا کی جائے اور اس سے دریائی تجارت کا بھی ثبوت ہوا اور وریائی سواریوں پر سوار ہونا بھی، اور اس سے بھی ثابت ہوا کہ کاتب شروع میں اپنا نام لکھے اور اس سے قرض کے متعلق گواہوں کا طلب کرنا اور اس کے کفیل کا طلب بھی ثابت ہوا اور اس سے توکل علی اللہ کی فضیلت بھی نکلی اور یہ بھی کہ جو حقیقی صحیح متوکل ہوگا، اللہ پاک اس کی مدد اور نصرت کا ذمہ دار ہوتا ہے، خود قرآن پاک میں ارشاد باری ہے:

(ومن یتوكل على الله فهو حسبه)

جوالله پر توکل کرے گا اور اس کے لئے کافی وافی ہے۔

( صحيح بخاری ، باب الكفالة فى القرض والديون بالابدان وغيرها، ترجمہ اور تشریح کے بعض اقتباسات علامہ محمد داؤد راز دھلوی)

٭٭٭

شرک کالی چیونٹی سے بھی زیادہ مخفی

سیدنا معقل بن یسار کہتے ہیں :

میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔

آپ ﷺ نے فرمایا :

اے ابو بکر شرک لوگوں کے اندر کالی چیونٹی کی طرح چھپا ہوا ہے۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :

کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو الہ ماننے کے علاوہ بھی کوئی عمل شرک ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :

قسم ہے اس ذات کی جس قبضے میں میری جان ہے، شرک کالی چیونٹی سے بھی زیادہ مخفی ہے۔

کیا میں تمہیں بتاؤں ایسی دعا جس کی بدولت تم چهوٹے اور بڑے ہر شرک سے محفوظ رہ سکتے ہو۔

تم کہا کرو :

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لا أَعْلَمُ

اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں جان بوجھ کر شرک کروں اور تجھ سے معافی مانگتا ہوں۔ اس شرک سے جسے میں انجانے میں کروں۔

(رواه البخاري في الأدب المفرد (739)، وصححه الألباني)

٭٭٭

اللہ کے متعلق بدگمانیاں کیا ہیں؟

علامہ حافظ ابن قیم رحمہ الله نے فرمایا :

بیشتر لوگ اللہ تعالی کے متعلق برا گمان رکھتے ہیں۔

بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ وہ بد نصیب ہیں، ان کا نصیب اچھا نہیں، انہیں جو کچھ ملا ہوا ہے، اس سے زیادہ کے مستحق ہیں. ان کا رزق تنگ ہے۔

بعض کا خیال ہوتا ہے کہ وہ حسد کا شکار ہیں۔ انہیں لوگوں کی نظر بد لگی ہے۔

یہ سب اللہ تعالی کے متعلق بد گمانیاں ہیں۔

(زاد المعاد: 3 / 235)

٭٭٭

تبصرہ کریں