
الحمد للہ مجھے یورپ کی سرحد اور یوکرین سے متصل فن لینڈ جانے اور وہاں سے سمندر پار ریاست استونیا ESTONIA پہنچنے کا اتفاق ہوا، جو اس وقت یونین رشیا سے آزاد ہونے والی ایک ریاست ہے۔ اس کے نام سے بھی کم ہی لوگ واقف ہیں۔ ریاست بھر میں پائی جانے والی اکلوتی مسجد میں جب قدم رکھا تو اس وقت مرد درویش کی نصیحت بہت یاد آئی۔ اگر چہ کہ اس سے پہلے کئی بار اس نصیحت کے مضمرات ذہن کو کریدتے رہے کہ مجھے یہ نصیحت کیوں کی گئی تھی۔ ہمارے ہاں کشف و کرامات کی باتیں کم ہوتی ہیں۔ اس میں رطب ویابس کی اتنی بھر مار ہے کہ ان باتوں کی طرف طبیعت آسانی سے مائل نہیں ہوتی لیکن رویائے صالحہ، الہامی نوعیت کے اشاروں اور مردم شناسی کی صلاحیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
ہمارے استاذ گرامی نمونہ سلف مولانا عبدالسبحان اعظمی عمری ، جن کی وضع قطع اور چال ڈھال سے اسلاف کی جھلک نمایاں تھی ، شیخ الحدیث مولانا نعمان اعظمی کے دوسرے فرزند تھے۔ اٹھارہ برس کی عمر میں شمالی ہند مئو سے عمر آباد تشریف لائے۔ دار السلام سے سند فضیلت اور مدراس یونی ورسٹی سے مختلف امتحانات پاس کر کے جامعہ ہی میں مدرس متعین ہوئے ۔ 80 برس کی عمر میں وفات پائی، اور اسی قریے میں اپنے والد گرامی کے پہلو میں مدفون ہیں۔ سچ فرمایا : مولانا کے بھائی مولانا حبیب الرحمن زاہدا عظمی عمری نے :
یہ وہ زمیں ہے کہ آغوشِ خاک میں جس کی
مرے بزرگ، مرے مہربان سوتے ہیں
ہیں اس کی خاک میں مدفون عظمتوں کےمنار
یہ وہ زمیں ہے، جہاں آسمان سوتے ہیں
شیخ الحدیث مولانا ابو الوفاء محمد نعمان اعظمی نے فاضل جلیل استاذ کبیر شیخ الکل علامہ سید نذیر حسین محدث دہلوی (وفات1902ء) سے شرف تلمذ پایا اور اجازۂ حدیث حاصل کی تھی محدث دہلوی کے حلقہ درس میں شمولیت بجائے خود ایک اعزاز تھا، علمائے اجلہ اور دانش ور ان ملت بشمول مولانا ابوالکلام آزاد (وفات: 1958ء) نے محدث دہلوی کی عظمت اور علمی مرتبہ کا اعتراف کیا ہے۔ مولانا عبدالسبحان اعظمی پر (جنہوں نے ایک مختصر مدت مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی میں تعلیم حاصل کی تھی) پدری اثرات غالب تھے۔ آپ کا ذوق عبادت زبان زد خاص و عام تھا۔ اگر صحت ساتھ دیتی تو مسجد میں سب سے پہلے داخل ہوتے اور عموماً سب کے آخر میں نکلتے ۔ فرمان رسول : «ورجل قلبه معلق بالمسجد» کی عملی تصویر تھے۔ ذکر واذکار کا اہتمام نہ صرف خود کرتے ، اپنے شاگردوں کو بھی تلقین کیا کرتے ، بلکہ فضلائے جامعہ کو جو زمانہ طالب علمی سے نکل کر کاروان زندگی کے دھارے میں شامل ہو چکے، جو صاحب اولاد اور گردشِ لیل و نہار میں مصروف ہیں، انہیں بھی خط و کتابت میں تذکیر فرمایا کرتے کہ ’’نہ چھوٹے زندگی میں تجھ سے آداب سحرخیزی ‘‘ اور لذت اذکار ۔
سال 1977ء تھا کہ جامعہ میں جشن طلائی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ مولانا ان تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے شاگردوں کو خاص وظائف و اذ کار اور دعاؤں کا اہتمام کرنے کی تاکید کیا کرتے کہ ظاہری کوششوں اور تدبیروں کے ساتھ ساتھ مسبب الاسباب کی طرف توجہ رکھیے کہ حقیقی کامیابی اسی وحدہ لاشریک کی توفیق سے ممکن ہے ۔ بلاشبہ اس تاریخی جشن تعلیمی کی کامیابی ٹھوس منصوبہ بندی اور جہد مسلسل کے ساتھ دعاؤں اور انابت الی اللہ ہی کا نتیجہ رہی ہے۔ ور نہ عمر آباد جیسے قریے میں اس عالمی نوعیت کے پروگرام کا انعقاد محال تھا۔
مولانا کے ذمے حدیث کی مختلف کتابوں کی تدریس تھی۔ آخری سال کے طلبہ کو صحیح مسلم پڑھاتے تھے۔ یہ بھی حسنِ اتفاق ہے کہ مولانا کے والد گرامی شیخ الحدیث محمد نعمان اعظمی بھی صحیح مسلم پڑھاتے رہے، اور ان کے فرزند شیخ انیس الرحمن اعظمی عمری بھی عرصے تک یہی کتاب پڑھاتے رہے، اور اب مولانا عبدالسبحان اعظمی کے پوتے دکتور محمد الیاس اعظمی عمری بھی یہی فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ رب العالمین کی توفیق ہی سے ممکن ہے کہ ایک مشہور درس گاہ میں چار نسلوں تک حدیث کی اس اہم کتاب کی تدریس ایک ہی خاندان کی چار نسلوں میں جاری ہے۔ ذلك فضل الله يوتيه من يشاء
مولانا ئے محترم اپنے شاگردوں کو خارجی اوقات میں مختلف کتابوں کے مطالعے کا مشورہ دیا کرتے تھے ۔ نہیں معلوم یہ کوئی غیبی اشارہ تھا یا مولانا کی چھٹی حِس کہ مجھے ایک کتاب کے مطالعے کا حکم دیا ’’ زوال روما۔ ‘‘میں نہیں جانتا کہ طلبہ کے ہجوم میں مجھے اس کتاب کے مطالعے کا حکم کیوں دیا ، جب کہ اس وقت ہماری جولان گاہ محدود سمٹی اور سکڑی ہوئی اتنی ہی تھی جیسے طالب علمانہ دور میں ہوسکتی ہے۔ اس وقت تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ کبھی یورپ پہنچوں گا اور وہاں دعوتی اور تعلیمی خدمت کے مواقع میسر آئیں گے لیکن اللہ علیم و قدیر کی تو فیق ہی سے یہ ممکن ہوا کہ یورپ پہنچا اور عام مقامات سے لے کر قصر شاہی بکنگھم پیلس میں جانے اور اصحاب حل و عقد کے ساتھ گفتگو کرنے کے مواقع ملتے رہے، واللہ الحمد ۔
زمانہ قدیم میں روم جو کہ اٹلی کا دارالسطنت ہے سارے یورپ کے لیے مستعمل تھا۔ رومن امپائر کی وسیع و عریض حکومت شان وسطوت کی علامت تھی۔ اسی اعتبار سے رومن تہذیب، رومن ثقافت عام اصطلاح تھی کہ محکوم قو میں حاکم قوتوں کی نقالی کرتی ہیں۔
کہاوت مشہور ہے: الناس علی دین ملو کھم۔ سورۂ روم کے شانِ نزول کے مطالعے سے اس کی حیثیت کو مزید سمجھا جاسکتا ہے۔ مولانا نے عمر لائبریری میں اس کتاب کی جگہ کی نشان دہی بھی کر دی کہ فلاں الماری کے فلاں شیلف میں یہ کتاب رکھی ہوگی ۔ دراصل یہ کتاب ایڈورڈ گبن Edward Gibban کی مشہور کتاب ’’سقوط اور زوال روم‘‘ کا خلاصہ تھی۔
THE HISTORY OF THE DECLINE AND FALL OF THE
ROMANEMPIRE
مختلف لوگوں نے اس کتاب کے ترجمے اور خلاصے تیار کیے۔ مجھے یہ تو یاد نہیں کہ اس کے مترجم یا ملخص کون تھے، اور نہ ہی اس زمانے میں اس کی زیادہ اہمیت تھی۔ اس میں قوموں کے عروج و زوال کی داستان بیان کی گئی تھی ، خصوصاً رومن امپائر کے زوال کے مختلف اسباب بیان کیے گئے تھے۔ دینی ، سماجی تنظیمی ، معاشی اور معاشرتی وغیرہ ۔ گویا عروج کسی قوم کا پیدائشی حق نہیں اور پستی اور نکبت کسی کی دائمی قسمت نہیں۔ کامیابی اور ترقی کے لیے حالات کو سمجھتے ہوئے ذاتی یا شخصی مفادات سے بالا تر ہو کر درست وسائل بروئے کار لانا ضروری ہوتا ہے۔ اقبال کے بقول:
میں تجھ کو بتا تا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول، طاوس ور باب آخر
ہمارے استاذ محترم مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری نے ایک مناسبت سے یہ شعر پڑھتے ہوئے کہا تھا کہ اقبال ایک شاعر ہی نہیں بڑے فلسفی بھی تھے۔ قوموں کے عروج وزوال کا فلسفہ انہوں نے اس ایک شعر میں سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔
اگر قو میں وقت کی رفتار کونہ سمجھیں تو باہمی چپقلش ، ریشہ دوانیاں ، معاشی بحران اور نظم و نسق کی کمزوری ان کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ مجھے کئی بار دعوتی اور تعلیمی غرض سے اٹلی جانے کا اتفاق ہوا۔ یہاں ہم نے قدیم رومن تہذیب کے خدو خال بھی دیکھے اور سکڑی سمٹی ہوئی گلیاں بھی دیکھیں، جو آج بھی اپنے درودیوار میں عظمت رفتہ کے نشانات چھپائے ہوئے ہیں، اور اٹلی کے جدید تیور بھی دیکھے، جس میں دین اور عقیدہ کو یومیہ زندگی سے الگ کرنے کی روش عام ہے، ایسے کہ گویا ملکوں کی ترقی کی راہ میں مذہبی دیواریں ہی حائل ہیں، اگر انہیں گرا دیا جائے تو شاید ترقی کا پہیہ تیزی کے ساتھ حرکت کرے گا، لیکن ان مذہبی دیواروں کو گرا کر بھی اٹلی کی معاشی کشتی سود کی تلاطم خیز موجوں اور گرداب سے نہیں نکل سکی۔
اس وقت اطالوی باشندوں کی اکثریت دین بیزار اور ملحدانہ نظریات کی حامل ہے، گو کہ کلچر کے طور پر نصرانیت کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کرتے ہیں، جس کا مشاہدہ تہوار یا خصوصی موقعوں پر ہی ہوتا ہے، ورنہ یومیہ زندگی میں عوام کا کنیسا کے ساتھ تعلق نہیں ہے ، حالاں کہ اٹلی کے دار السلطنت روم کا مضافاتی محلہ ’ویٹیکن‘ جسے ایک ریاست کا درجہ حاصل ہے، رومن کیتھولک (ایک عیسائی فرقہ ) کا عالمی مرکز ہے اور اس کا دینی راہنما دنیا کے ایک ارب سے زیادہ نصرانیوں کا روحانی پیشوا سمجھا جاتا ہے، لیکن بڑی آبادی کا دین سے تعلق بہت ہی معمولی نوعیت کا رہ گیا ہے۔ نصرانیت اور کنیسا متعدد گھروندوں میں بکھر چکی ہے۔ بعض علاقوں میں جاری ان کے مابین خون ریز جھڑپیں اس کی واضح مثال ہے۔ چرچ آف انگلینڈ اور آئر لینڈ کے درمیان ہونے والی لڑائیوں سے دنیا واقف ہے ، مگر نہایت چالاکی کے ساتھ اس مذہبی منافرت کو سیاسی اور ریاستی اختلافات کے دبیز پردوں میں ڈھانکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ایک موقع پر مشہور محقق ڈاکٹرمحمد حمید اللہ ( وفات 2002ء) نے اپنے لیکچر کے بعد کسی سائل کی اس بے چینی کے جواب میں، کہ مسلمانوں میں بہت سے فرقے ہیں ان سے تنگ آکر لوگ عیسائیت کی طرف مائل ہو رہے ہیں، فرمایا تھا:
’’اگر اختلافات سے بچنے کے لیے کوئی نصرانیت کا رخ کرے تو اسے وہاں شدید مایوسی کا سامنا کرنا ہوگا، کیوں کہ عیسائیوں میں مسلمانوں سے کہیں زیادہ فرقہ واریت کی تلخیاں پائی جاتی ہیں۔ ‘‘
مذہبی منافرت کے علاوہ فرقہ وارانہ جھگڑے (Sectarian Conflicts) سائنسی تحقیقات اور علمی ترقی کے مقابلے میں کنیسا کا غیر منطقی کردار بھی ایک سبب ہے دین بیزاری کا ، نتیجے میں کنیسا کے اثر ورسوخ کو ختم کر کے اسے چند مذہبی رسوم تک محدود کر دیا گیا۔ آج مغربی یورپ کی بڑی آبادی کا دین کے ساتھ تعلق برائے نام سارہ گیا ہے لیکن افسوس کہ مسلم دنیا بھی اسی غلطی کا شکار ہوئی۔ جدید ترقیاتی دور کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی بجائے جذباتی قسم کی باتوں میں الجھتے نظر آتے ہیں ، اور بعض رہ نما زمانے کی نبض سمجھے بغیر رائے زنی اور فتوی بازی میں عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، اور دوسری طرف ایک انتہا ان مرعوب ذہنوں کی ہے جن کا نعرہ ہی یہ ہے کہ ’’چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی۔ ‘‘اپنی عقل اور فہم ہی کو انھوں نے حق و باطل کا پیمانہ قرار دے لیا۔ ان دو انتہاؤں کے درمیان ہر دور میں کچھ ایسی ہستیاں بھی ہیں جو متوازن انداز اپناتے دکھائی دیتی ہیں۔ انہوں نے اصول اور اساسیات دین پر قائم رہتے ہوئے جدید نافع سے استفادہ ضروری قرار دیا۔ اپنے افکار و آرا میں توازن برقرار رکھنے والا یہی طبقہ کامیابی سے ہم کنار ہوتا ہے ،مگر اس راہ اعتدال کو اپنانے کے لیے علمی بصیرت کے ساتھ حالاتِ زمانہ سے واقفیت، دور اندیشی اور طبیعت میں تحمل و برداشت نہایت ضروری ہے۔
مشہور ائمہ اور فقہار رحمہم اللہ نے اس کا بہت پہلے اندازہ کر لیا تھا۔ امام مالک کا قول ہے:
“لن يصلح آخر هذه الأمة إلا بما صلح به أولها.” (اقتضاء الصراط المستقیم شیخ الاسلام ابن تیمیۃ: 2؍ 762)
’’ یعنی متاخرین کی پریشانیوں کا حل متقدمین کی راہ کو اختیار کرنے میں ہے۔‘‘
یہ دراصل میزان ہے اور اس کی روشنی میں اصول فقہ کا ایک قاعدہ ہے : ’مصالح مرسلہ ‘یعنی حالات زمانہ سے واقفیت اور حدود شریعت میں رہتے ہوئے لوگوں کی رہنمائی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اسی اصول کے پیش نظر اپنی بعض قدیم آرا اور فتاویٰ کو بدل دیا۔ مشہور اصطلاح: الرأی القدیم اور الرأی الجدید لیکن بعد میں آنے والوں نے اس قاعدے کو برقرار رکھتے ہوئے اجتہاد و استنباط کی بجائے ان بزرگوں کے اقوال اور فتاوی ہی کو تقدس کا درجہ دے دیا کہ ان کے فرمودات سے سر موتجاوز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا نتیجہ واضح ہے کہ مساجد، جمعیات بلکہ مدارس دینیہ کی تقسیم اور باہمی خلفشار تاریخ کا نا خوش گوار باب بن گیا ، اور گاہے گا ہے آج بھی اس کے نمونے دیکھے جاسکتے ہیں۔
بات چل رہی تھی یورپ میں مذہب بیزاری کی لہر کی ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذہبی شعائر اور دینی شخصیات کی بھی اکثر نصاری کے ہاں اہمیت گھٹتی گئی ۔ اگر کوئی لندن یا پیرس میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرے یا سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بے توقیری کرے تو وہاں موجود مسلمانوں کو ان توہین آمیز جملوں کی جوتلخی اور ناگواری محسوس ہوتی ہے اس کا ادنی حصہ بھی اس مذہب کے مدعیوں کے ہاں دیکھنے میں نہیں آتا ۔ اسی تناظر میں جب خاتم النبین ﷺ کی شان میں بے ادبی کی جائے تو مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی اور رنج وغم کا درست ادراک بھی ان مغربی باشندوں کی اکثریت کو نہیں ہوتا۔ لیکن مسلم سماج مختلف عملی کوتاہیوں کے باوجود جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف جذباتی نہیں دل و دماغ کے ساتھ والہانہ عقیدت کو جزوایمان سمجھتا ہے، گو کہ عملی کمزوریوں سے انکار نہیں۔
بہر حال کتاب کے مندرجات سے بڑھ کر ذاتی مشاہدات اور تجربات ان قوموں کے اخلاقی زوال اور مادی غلبے کی شہادت کے لیے کافی ہے۔ جب استونیا کی مسجد میں قدم رکھا تو قلبی کیفیت آنسوؤں کی شکل میں نکلتی رہی، کہ کہاں دور افتادہ دیہات عمر آباد کا طالب علم اور کہاں سمندروں پار عمر ملک کی اکلوتی مسجد میں درس۔ یہ ریاست بھی دنیا کی ایک سوپر پاور کے تسلط سے آزاد ہو چکی ہے۔ جذبات کے ہیجان میں کیفیت کچھ ایسی تھی ، گویا
کس بیم ور جا کے عالم میں طیبہ کی زیارت ہوتی ہے
ایک سمت شریعت ہوتی ہے، ایک سمت محبت ہوتی ہے
اس وقت استاذ گرامی کی نصیحت بہت یاد آئی…. اللهم اغفر لهم وارحمهم وادخلهم في جنات النعيم کہ مجھے کتاب ’’زوال روما“ کے مطالعہ کا مشورہ کیوں دیا گیا تھا!! !
٭٭٭
محترم قارئین کرام ! آپ نے مولانا عبد السبحان اعظمی عمر می پر مولانا محمد عبد الہادی العمری المدنی ، صدر مجلس القضاء الاسلامى ، برطانیہ کا ایمان افروز مضمون ملاحظہ فرمایا ۔ مولانا عبد السبحان اعظمی صاحب جامعہ دار السلام عمر آباد کے نائب ناظم تھے، عموماً جامعہ کے داخلی معاملات سے نائب ناظم صاحب نپٹتے تھے اور خارجی معاملات سے ناظم جامعہ ، اور ان دونوں شیوخ کرام کی کلاسیں بھی ایک ہی ساتھ تھیں، صرف باب الداخلہ اور اس کا راستہ ان دونوں جماعتوں کا فاصل تھا ۔
چنانچہ ہم دیکھتے تھے کے جب مولانا تدریس سے فارغ ہوتے تو وہ ناظم صاحب کی آفس میں پہنچ جاتے تھے ، روزانہ جو استفتاء آتے تھے، ان کے جواب میں جو فتوے تیار ہوتے تھے، نائب ناظم صاحب ان کو دیکھ لیتے تا کہ کوئی غلطی کا امکان نہ رہ جائے اور ممکن ہے کہ نائب ناظم ہی اپنے ہاتھ سے وہ فتوے لکھ کر بھیجتے ہوں،کیونکہ مولانا اعظمی صاحب کی تحریر خوش خط تھی اور اسی طرح انتظامی امور میں مشورہ بھی کر لیتے ہوں گے ۔ ان دونوں ناظمین صاحبان کا آپس میں اتحا دواتفاق دیدنی اور مثالی تھا اور جب تک دو بڑے ذمہ دار علماء اس طرح وسیع الظرف اور وسیع المشرب نہ ہوں ، اتنے بڑے جامعہ کا نظم و نسق چلانا ممکن نہیں ہوتا اور جن جامعات و مدارس میں بڑے اساتذہ کے درمیان اس طرح کی وسیع القلبی نہ ہو اس کا بُرا اثر اساتذۂ کرام اور طلبا عزیز پر ضرور پڑتا ہے مگر جامعہ دار السلام میں سب خداترس ناظمین اور اساتذۂ کرام موجود تھے ۔ الحمد لله على ذالك
مولانا کی مصروفیات کو دیکھتے تو معلوم ہوتا تھا، آپ وہ مسافر میں کو جن کی نظر اپنی منزل پر لگی ہوئی ہے اور جو ہر طرح اپنی منزل پر فائز المرام پہنچنے کی تیاری میں مصروف ہیں ۔ صبح سویرے نماز فجرکی سنت گھر میں پڑھ کر سب سے پہلے مسجد میں داخل ہونے اور نماز فجرکے بعد اپنے وظائف واذکار سے فارغ ہو کر مولانا حافظ عبید اللہ صاحب عمری استاذ شعبہ حفظ کے کمرہ میں کچھ اساتذۂ کرام بیٹھتے تھے اور مختلف امور پر مختصر با چیت ہوتی، ان دنوں اگر سیکرٹری صاحب ( کا کا محمد عمر ثانی ، کا کا سعید احمد العمر ی) یا ان میں سے ایک بھی عمر آباد میں ہوتے تو عموماً وہ بھی اساتذۂ کرام کے ساتھ تشریف فرما ہوتے ، بعد ازاں ایک طالب علم ہوٹل سے تمام کے لئے چائے لے آتا اور اساتذۂ کرام کے ساقی کی سعادت حاصل کرنا ، میرے طالب علمی کی زمانہ میں اس خدمت کے لئے ڈی عبد الکریم عمری ریاضی کرنولی ثم حیدر آبادی کو دیکھتا تھا، پتہ نہیں، ان سے پہلے یا ان کے بعد یہ سعادت کس طالب علم کے حصہ میں آئی ؟ اساتذۂ کرام چائے نوشی کے بعد اپنی اپنی مصروفیات کےلئے چلے جاتے اور مولا ناعبدالسبحان اعظمی صاحب اپنے کمرہ میں پہنچ کر ان کتابوں پر ایک نظر ڈالتے جو روزانہ ان کو پڑھانی ہوتیں اور وہاں سے متصل کمرہ میں مولانا کا مطب (یونانی دواؤں کا دوا خانہ ) کھول کر تشریف فرما ہوتے، تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹے اپنے مطب میں بیٹھے رہتے اور اس مدت میں آنے والے بیمار طلباء کو دوائی دیتے اور کسی کی حالت بہت ہی نازک ہوتی تو اسے تعطیل بھی لکھ کر دیتے تاکہ وہ دوا استعمال کرکے کمرہ ہی میں آرام کرے اور اسی کو دی گئی تعطیل کی چھٹی کوئی طالب علم ساری جماعتوں میں ا ساتذۂ کرام کو دکھاتا!
حکیم صاحب کو جامعہ سے کیا معاوضہ دیا جاتا تھا یا وہ کیا معاضہ جامعہ سے لیتے تھے، وہ صیغہ راز میں تھا مگر جب جامعہ کے سکر یٹری صاحب کے بڑے بھائی کا کا عبدالرشید صاحب اپنے ساتھ پانی کے جہاز سے حج بیت اللہ کے لئے تشریف لے گئے تو اپنے اہل عیال کے ساتھ ایک باورچی کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تاکہ حج کے ایام میں وہ کھانا پکا کر ان کے اہل خانہ کو عبادت کا موقع فراہم کرے اور اسی کے ساتھ ایک ہادی و مرشد کو اپنے ساتھ لے گئے تاکہ شروع سے آخر تک وہ ان کی رہنمائی کر سکیں اور اس کار خیر کے لئے حکیم مولا ناعبد السبحان اعظمی عمری تیار ہو گئے، تین ماہ کا طویل سفر اور شروع سے لے کر آخر تک دینی رہنمائی ، خود صحیح مسلم کے مستند و باعمل استاذ! ماشاءاللہ ، یہ مبارک قافلہ حج تھا ، حکیم اعظمی صاحب کے تین ماہ سفر حج میں لگ گئے تو یہ مدت حکیم صاحب کے ایک فرزند مولانا ڈاکٹر ضياء الرحمٰن اعظمی صاحب، عمری سابق، استاذ جامعہ دار السلام عمرآباد نے مطب سنبھالا ، اس وقت ناچیز کو پتہ چلا کہ حکیم صاحب کو ان کے مطلب کے لیے جو مبلغ دیا جاتا تھا وہ اتنا تھا کہ ایک آدمی دن میں کچھ پیالی چائے پر خرچ کرتا ہے، یعنی بہت ہی معمولی معاوضہ، جو اس مطب پر خرچ ہونے والی رقم کا عشر عشیر بھی نہیں تھا ! مگر حکیم صاحب اپنی خوشی سے اتنا ہی معاوضہ جامعہ کے ذمہ داروں سے لیتے تھے، جس کا مطلب صاف ہے کہ اس کا تقریباً سارا خرچ غریب طلبا کے علاج کے لیے حکیم اپنی جیب سے دیا کرتے تھے ، تا کہ ڈیڑہ سو طلبا کے علیاج معالجہ کا خرچ جامعہ پر نہ پڑے، ﴿ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة﴾ (سورۃ الحشر: 9) کی تفسیر تھے۔ اللہ اکبر کبیرا۔
چونکہ ناچیز نے بھی جامعہ سے فراغت کے بعد حیدر آباد دکن میں یونانی علاج شروع کیا تھا اور گورنمنٹ آف آندھرا پردیش سے (R.M.P) کا امتحان پاس کیا تھا تو بہت جلد انگریزی دواؤں اور انجکشن کا استعمال اور ختنہ بھی کرتا تھا، جڑی بوٹیوں کا کوٹنا اور اس کا سفوف بنانا ، جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا بقول شاعر
دردسر کے واسطے صندل لگانا ہے مفید
اس کا گھسنا اور لگانا یہ بھی درد سر تو ہے !
حکیم صاحب اتنے کم معاوضہ میں دوائیں کو ٹنا ، ایک بہت بڑا مسئلہ تھا، کسی کو دوائیں پیسنے کے لیے اجرت پر لینا یہ اور بھی مسئلہ تھا کہ ان کی اجرت کیسے دی جائے؟ اس زمانے میں دوائیں پیسنے کے لیے وہ مشینیں نہیں تھیں، جو اب میسر ہیں۔
بحر حال حکیم صاحب مطلب سے اُٹھتے اور مسجد میں نماز اشراق ادا کرتے اور گھر جاتے ناشتہ کرکے فوراً جامعہ تشریف لاتے اور ظہر کے قریب تک جامعہ میں تدریس میں مصرف رہتے، گھر جاتے ہوئے مسجد میں کچھ نوافل اداکر تے، گھرسے کھانا کھا کر ظہر کی نماز کے لئے مسجد آتے اور بعد نماز ظہر اپنی کلاس سے متصل کمرہ میں قیلولہ مسنونہ فرماتے پھر عصر کی اذان تک تدریس میں مصروف رہتے ، عصر کے بعد کبھی کا کا خانواد ہ کے باغ میں بیاٹ مینٹنی کھیلتے، نماز مغرب کے فوراً بعد اپنے کمرہ میں آتے اور دوسرے دن پڑھانے کے اسباق پر نظر ڈالتے اور عشاء پڑھ کر گھر تشریف لے جاتے اور دوسرے دن مسجد میں نماز فجر کے لیے سب سے پہلے تشریف لاتے، پوری زندگی کتاب وسنت پر عامل رہے اور اپنے بچوں کو حفاظ و علماء بنائے۔ ماشاء اللہ و تبارک اللہ
ناچیز کو استاذ محترم نے بلوغ المرام ، حجۃ اللہ البالغہ اور صحیح مسلم پڑھائی ہے، صحیح مسلم کو ایک سال میں مکمل کرنا ہوتا تو اس کے پڑھنے کی رفتار کو بڑھانا ضروری ھوتا تھا ، کہیں کوئی وضاحت ہوتی تو استاذ محترم کر دیتے تھے، ورنہ طالب علم کو زور دار آواز میں تیز رفتار کے ساتھ پڑھنا ضروری ہو جاتا تھا، روزانہ ایک طالب علم کی پڑھنے کی باری ہوتی تھی، جس دن ناچیز کے پڑھنے کی باری آتی تو اتنی آواز اور رفتار سے پڑھتا تھا کہ پورا جامعہ گونج اٹھتا اور میں دیکھتا کہ نائب شیخ الحدیث کا مبارک چہرہ خوشی سے دمک اٹھتا اور ہونٹوں پر تبسم بکھر جاتا، جس سے پڑھنے والے کی حوصلہ افزائی ہو جاتی اور تیز آواز سے پڑھنے پر کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا تھا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ، اللہ کے اس ولی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، جن کی زندگی کو دیکھ کر اندازہ ہو جاتا تھا کہ وہ اس دنیا میں مصروف رہ کر آخرت کی تیاری میں بھی مصروف اور نبی کریمﷺ کے ارشاد گرامی:
«کن فی الدنیا کأنك غر یب أو عابر سبیل» ’’دنیا میں اجنبی یا مسافر کی طرح رہو۔‘‘ کی عملی تفسیر پیش کررہے ہوں۔
دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اولی
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللّٰہی
(علامہ اقبال)
میرا پہلا شعری مجموعہ فیضان ربانی جو 2004 میں شائع ہوا، اس کے صفحہ 237 پر استاذ محترم کی شان میں ایک قطع شائع ہوا ہے، ملاحظہ فرمائیے:
تھے وہ نائب ناظم و شیخ الحدیث جامع
اک مدبر، منتظم اور اک حکیم نابغہ
ان کے ابناء حافظ وعمری بھی مدنی بھی ہیں
بخش دے یارب! میرے استاذ کو فی الآخرۃ!
آمین
٭٭٭
پیغام حق
اللہ کا پیغام زمانے کو سنا دو
حق سے جو محبت ہے تو باطل کو مٹا دو
قصر ستم و جور کی بنیاد ہلا دو
انصاف کا اک اُونچا کلس جلد بنا دو
تم چاہو تو کھل جائیں گے اسرار دو عالم
آنکھوں سے مگر پہلے حجابات اٹھا دو
تن اُس کا ہے من اُس کا ہے اور مال بھی اُس کا
اللہ کے رستے میں ہر ایک چیز لٹا دو
دیکھو وہ قریب آہی گئی منزل مقصود
کافی ہے جو دو چار قدم اور بڑھا دو
ہے جن کا ارادہ کہ تمہیں کفر میں جھونکیں
تم اُن کی تمناؤں کو مٹی میں ملا دو
خاکستر دل میں جو ہیں ایماں کے شرارے
تم برق صفت خرمن باطل کو جلا دو
آثار سحر پھر سے نمایاں ہیں اُفق پر
ہر شخص کو اب خواب تغافل سے جگا دو
گزری ہوئی قوموں نے شفا پائی ہے جس سے
اس دور کے اقوام کو بھی تم وہ دوا دو
ذریّت ابلیس سے اب توڑ لو رشتہ
اللہ کے احکام پر سر اپنا جھکا دو
پھر شورش تا تار کو دہرائے نہ تاریخ
اُبھرے کہیں فتنہ تو اُسے جلد دبا دو
طوفان حوارث میں جو انسان پھنسے ہیں
تم نوح ؑکی مانند اُنہیں پار لگا دو
اللہ کے بندے جو ہیں اللہ سے غافل
حماد انہیں حق کا یہ پیغام سنا دو
حضرت ابو البیان حماد العمری
٭٭٭
ہماری نجات کا واحد راستہ اسلام ہے
موجودہ دور میں ہندوستانی مسلمانوں میں بھی ذات پات اور اچھوت چھات کا نظام دن بدن مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ اس چیز نے اسلامی کاز کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کی ذات پات کا نظام ہندو دھرم کا اٹوٹ حصہ ہے۔ ہندو توا کے علم برداروں نے چھوت چھات کی بنیاد پر ملک میں شودروں پر ظلم وستم کے جو پہاڑ توڑے ہیں، وہ تاریخ انسانی کا نہایت المناک باب ہے۔
شودروں کے لیڈر ڈاکٹر امبیڈ کرنے اپنی قوم کو اس عذاب سے نجات دلانے کو اپنی زندگی مشن بنا لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہندو دھرم میں رہ کر ہم کسی طرح کی ترقی نہیں کر سکتے، کیوں کہ وہ ہمیں پیدائشی انسانی حقوق سے محروم رکھتا ہے۔‘‘ اور اس کے لیے انہوں نے تبدیلئ مذہب کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ایک دفعہ تو انہوں نے واضح الفاظ میں دلتوں سے کہا تھا کہ ’’ ہماری نجات کا واحد راستہ اسلام ہے۔‘‘ جب انہوں نے تبدیلئ مذہب کا اعلان کیا تو تو 1953ء میں دوسرے مذاہب کے اسکالرز کی طرح مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی اور دوسرے علمائے اسلام ان سے دعوتی ملاقاتیں کرنے لگے۔ یہ ملاقاتیں لگاتار ان کی لائبریری میں ہوتی تھیں۔ ایک دن انہوں نے کتابوں کی ایک الماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دکھ سے کہا: ’’ مولانا! اس الماری میں آپ (یہ جو) کتابیں دیکھ رہے ہیں۔۔۔ یہ سب اسلامیات سے متعلق ہیں۔ میں نے سید امیر علی ، عبد اللہ یوسف علی، محمد پکتھال اور دوسرے مسلم، نو مسلم اور غیر مسلم اسکالرز کا لٹریچر بڑی توجہ سے پڑھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اصولی طور پر اسلام سماجی جمہوریت اور انسانی مساوات کا داعی ہے لیکن ہندوستان میں آپ لوگ منوکے ورن آشرم پر عمل پیرا ہیں اور آپ نے اپنے سماج کو بھی مختلف برادریوں اور ذاتوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ میں اسلام قبول کرلیتا ہوں تو بتائیے کہ آپ مجھے کس خانے میں رکھیں گے۔‘‘؟؟
اس سماجی تلخ حقیقت کا مولانا کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ آخر 14 اکتوبر 1956 کو وجے دشمی کے دن ڈاکٹر امبیڈ کرنے اپنے چھ لاکھ ہم نواؤں کے ساتھ ’’بدھ مذہب‘‘ اختیار کر لیا۔ (تلخیص از: ہندوستان میں ذات پات اور مسلمان، ص : 548)
بشکریہ مانامہ راہ اعتدال، عمر آباد، مارچ 2014
٭٭٭
تبصرہ کریں