صحابہ کرام اور اولیاء اللہ کی کرامتیں (قسط27)۔ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

جامعہ دارالسلام کے نصاب تعلیم کے حوالہ سے لکھ چکا ہوں کہ اس میں قدیم صالح کے ساتھ جدید نافع کو شامل کیا گیا، یہاں ابتدائی درجات سے قرآن مجید اور احادیث کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے، ہم نے تیسری جماعت ، جس میں طلبہ کم عمر اور نا تجربہ کار ہوتے ہیں، ترجمہ قرآن مجید اور بلوغ المرام منجھے ہوئے تجربہ کار اساتذہ سے پڑھے۔ تو یہیں مضامین آخری سال تک اپنی معنوی پختگی کے ساتھ پڑھے، یہاں جس اساس پر عمارت علوم دینیہ کی تعمیر شروع ہوتی ہے ، اسی خاکہ پر چھت تک پہنچایا جاتا ہے، یہاں اساسی مضامین بطور تبرک یا خانہ پری کے لیے نہیں پڑھائے جاتے، ساتھ ساتھ فقہی مضامین میں قدوری، بداية المجتہد، اور ہدایہ وغیرہ بھی باقاعدہ مقررات میں شامل ہیں ۔ تاکہ مسلمان فقہاء کی خدمات ، ان کی علمی مہارت اور اجتہاد و استنباط کے زاویہ کا بھی طالب علم معترف اور قدر دان بن سکے، لیکن تعصب، ضد بازی یا اندھی تقلید کا خوگر نہ رہے، نصوص قرآن و سنت کے مقابلہ میں شخصی آراء کو ترجیح یا دور از کار تاویلات کی روش نہ اپنائے ۔

یوں یہاں حق شناسی کے ساتھ عقائد، اعمال، معاملات اور اخلاقیات میں اعتدال پسندی کی آبیاری اور تربیت ہوتی ہے، اس نصاب کے ساتھ جامعہ کے ماحول کے مقام کو مثبت اثرات مختلف اساتذہ کرام کے باہمی برادرانہ روابط کے یومیہ مشاہدات طالب علم کے ذہن میں توسع اور فکر و نظر میں گہرائی پیدا کرتے ہیں۔

جامعہ میں ہمارے آخری تعلیمی سال 1977 ء تک اس کے سالانہ جلسہ کو عرف عام میں بخاری جلسہ ہی کہا جاتا تھا، اس کی پہلی نشست درس حدیث کے لیے مختص ہوتی، پھر جامعہ کی رپورٹ ، تعلیمی نتائج، تقسیم انعامات وغیره وغیره کا پروگرام ہوتا ، شاید یہ محبت وعقیدت حدیث کا سبب ہوتا کہ گرد و نواح کے لوگ بڑی تعداد میں اس مجلس حدیث میں خصوصا شرکت کے لیے جمع ہوتے، آخری سال کے طلبہ کو جو اس سال سند فراغت پانے والے ہوتے اہتمام کے ساتھ انہیں آگے بٹھایا جاتا ، ان کے پیچھے منتظمین اور وابستگان جامعہ، مہمان اور پھر زیر تعلیم طلبہ ہوتے ہیں، یہ بڑا ہی پروقار پروگرام ہوتا ، جب ہال اور متصلہ صحن لوگوں سے پُر ہو جاتے، شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالواجد عمری رحمانی رحمہ الله اپنے حجرہ سے نکلتے ، برآمدے اور راہدری سے گزرتے ہوئے مسند تدریس پر جلوہ افروز ہوتے ، شیخ محترم کے کمرہ سے نکلنے اور مسند تدریس پر پہنچنے تک سارا مجمع دم بخود ان ہی کی طرف متوجہ رہتا، مجال ہے کہ اس بڑے مجمع میں کوئی معمولی سی آواز ہو، اس سے ماضی کے حلقہائے حدیث کی یاد تازہ ہو جاتی کہ کس درجہ حدیث کا احترام ہوتا ۔

ہم نے دیکھا ، معززین جامعہ میں محترم کا کا اسحاق رحمہ اللہ کو جو خانواده کا کا کی دوسری لڑی کی آخری کڑی تھے ، اپنے افراد خاندان کے ساتھ شامل ہوا کرتے ، ان دنوں مقامی لوگ انہیں ساہوکار صاحب کہا کرتے تھے، نکلتا ہوا قد، کسرتی جسم ، ابھرتی ہوئی روشن آنکھیں ؟ چہرہ مہرہ سے وجاہت ، جبہ نما طویل اجلی قمیص ، لنگی اور سر پر رومی ٹوپی جو اس وقت معززین کے لباس کا حصہ ہوا کرتی زیب تن کئے ہاتھ میں عصا جو ان کی شخصیت کو مزید پرکشش بناتا ، ان کے اطراف اساتذہ ، مہمان اور پھر طلبہ بیٹھے ہوتے ، جب سب پہنچ جاتے ، شیخ الحديث ہال میں پہنچتے ، بلند آواز سے خود سلام کرتے ہوئے مسند پر بیٹھتے، یوں محسوس ہوتا کہ نہ جانے کتنی مدت سے اس کے لیے ریہرسیل کی گئی کہ وقت مقررہ سے دو تین منٹ قبل شیخ پہنچتے، جیسے کسی نے گھڑی کے الارم بجنے کا اشارہ دیا ہو اور درس شروع ہو جاتا، اور آج تک دارالسلام میں پابندی وقت کا یہی دستور چلا آ رہا ۔ بڑے بڑے اجتماعات میں لوگ وقت سے پہلے جمع ہو کر وقت مقررہ کا انتظار کرتے ہیں، یہاں معززین اور مہمانوں کا وقت ہونے کے بعد انتظار نہیں کیا جاتا، شیخ کا اشارہ پاتے ہی فارغ ہونے والے طلبہ حدیث لکھائی بخاری کی خاندگی کرتے ، اور شیخ محترم حسب ضرورت اس کی تشریح کے ساتھ اہمیت حدیث کے متعلق پُرمغز خطاب فرماتے ، جس سے عظمت حدیث کے نقوش ہمہ تن گوش مجمع کے گویا دل پر ثبت ہوتے جاتے ، پھر شیخ اپنے ہاتھوں سے ان طلبہ کو تین سندیں دیتے اس کے ساتھ ہی پروگرام کی پہلی نشست ختم ہوتی ، اور سالانہ اجلاس کی باقی کا روائی شروع ہوتی ۔

1۔ اجازة الحديث، کہ تم نے جو صحیح بخاری پڑھی ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے ہم تک کیسے اور کن واسطوں سے پہنچی، 2۔پھر سند المسلسل بالا ولیہ کہ میں نے اپنے استاذ سے سب سے پہلے کونسی حدیث پڑھی یا سنی، 3۔سندمد، عہد نبوی میں استعمال ہونے والا پیمانہ نما پیالہ جو یو میہ ضروریات اور صدقۃ الفطر کے لیے مستعمل تھا ۔

سند یہ امت محمدیہ کا طرہ امتیاز ہے، سابقہ کسی قوم نے اپنے نبی کی تعلیمات کے ساتھ سند کی حفاظت نہیں کی کہ ان کی باتیں، شرعی مسائل کن واسطوں سے بعد میں آنے والوں تک پہنچے، درمیانی شخصیات کیا لائق اعتماد بھی ہیں، نتیجہ میں انبیاء کرام کی باتوں میں رطب و یابس کی آمیزش ہوتی گئی اور کچھ غلطی سے شامل ہو گئیں اور کچھ عمداً منسوب کی گئیں، بلاشبہ تو رات ، زبور، انجیل منزل من اللہ ہیں ، لیکن اس وقت جو نسخے ہمارے درمیان موجود ہیں، ان کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں کتنی باتیں سچی اور حقیقی ہیں اور کتنی بعد میں آنے والوں نے گھڑی ہیں ۔ حتی کہ موجودہ انجیل کا قدیم ترین نسخہ بھی اصلی نہیں، ترجمہ شدہ ہے اور مترجم کے بارہ میں نہیں معلوم کہ وہ کون تھا اور کس حد تک ترجمہ قابل اعتماد ہے ، لیکن فرمودات نبی ﷺ کو بڑی جانفشانی کے ساتھ محفوظ کیا گیا۔ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لیا کہ آخری نبی کو اسوہ بنا کر بھیجا گیا جو کہ قیامت تک کے لئیے رہے گا ، اس کا لازمی تقاضا تھا کہ آپ ﷺ کے ارشادات ، اقوال اور اعمال کا ریکارڈ درست رکھا جائے تاکہ ہر دور میں لوگ اسوۂ نبوی کے مطابق عمل پیرا ہو سکیں:﴿ إنا نحن نزلنا الذكر و إنا له لحافظون ﴾ (سورۃ الحجر: 9)

اس حفاظت کے لیے ایسے انتظامات کئے گئے کہ یہ ذخیرہ خرد برد زمانہ سے محفوظ رہ سکا، حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو یہاں موجود ہیں میرا پیغام ان تک پہنچا دیں، جو موجود نہیں ہیں ۔‘‘

« فليبلغ الشاهد الغائب» اور فرمایا:

« تسمعون ويسمع منكم ويسمع من سمع منكم »’’تم یہ باتیں براہ راست سن رہے ہو ، تم سے بعد میں آنے والے اور ان سے ان کے بعد آنے والے سنیں گے۔‘‘ (سنن ابوداؤد: 3659)

آپ ﷺ نے ان تمام لوگوں کے لیے بشارت اور دعا دی جو آپ ﷺ کی باتیں تو جہ سے سنیں، محفوظ رکھیں اور بعد میں آنے والوں تک بلا کم و کاست پہنچائیں ۔

«نضر الله امرأ مناسمع شئيا فبلغه كما سمعه فرب مبلغ أوعى من سامع»(جامع ترمذى: 2727)

چونکہ آپ کے ارشادات شریعت کا حصہ ہیں، لہٰذا اس میں احتیاط کا حکم دیا گیا، ورنہ اپنی طرف سے کمی بیشی کرنے والوں کے لیے ایک وارننگ دی گئی کہ اس کے لیے جہنم یقینی ٹھکانہ ہے۔

« من كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار » (صحيح بخارى: 3461؛ صحیح مسلم: 3)

حفاظت حدیث کے لیے حفاظت سند بہت ضروری ہے، جب احادیث کے مجموعے مرتب ہوگئے تو سند کی حفاظت یا واسطوں کا ذکر دوسرے درجہ میں چلا گیا کیونکہ ریکارڈ پر چیزیں محفوظ ہو چکی تھیں، اور بہت سے مجموعےوجود میں آئے۔ جیسے مجموعہ احادیث همام بن منبہ، 131ھ، جو مشہور صحابی ابوہریره رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں، مجموعہ سعيد بن ابى عروبہ، المتوفى 156ه، مجموعہ ربيع بن صبیح المتوفى 160، موطا امام مالک المتوفى 179، پھر مشہور کتب احادیث کی تدوین کا سلسلہ جن میں تمام احادیث کو محفوظ کیا گیا۔

یہی وہ ابتدائی دور تھا جس میں سند اور واسطوں کی زیادہ اہمیت اور ضرورت تھی۔ عبداللہ بن مبارك رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”الإسناد من الدين ولولا الاسناد لقال من شاء ما شاء .”’’سند دین کا حصہ ہے ورنہ دین میں جو جیسے چاہے کہہ دے گا ۔‘‘ (مقدمہ صحیح مسلم نمبر 2 )

امام حاکم نے فرمایا:

’’ اگر محدثین کی کثرت اور اہتمام سند نہ ہوتا تو اسلام کی چمک ماند پڑ جاتی اور ملحدین اور بدعتی لوگ احادیث گھڑنے لگتے :”لولا كثرة طائفة المحدثين على حفظ الاسانيد لاندرس منار الاسلام ولتمكن أهل الالحاد والمبدعة من وضع الاحاديث.”

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:

سند کی حفاظت اور تذکرہ اس امت کی امتیازی شان ہے اور ان میں اہل سنت والجماعت کو اللہ نے اس کی توفیق خاص بخشی ۔

“الإسناد من خصائص هذه الأمة و هومن خصائص الأمة الإسلام ثم هو في الإسلام من خصائص أهل السنة.” (منہاج السنہ: 3217 )

جامعہ دار السلام کے ابتدائی دور سے اس کا اہتمام کیا گیا، یہاں ماہرین علوم حدیث سند تدریس کو زینت بخشتے رہے، آئیے آپ کو شیخ الحدیث کی پہلے دن کی کلاس میں لئیے چلتے ہیں، آخری دن کا آپ نے احوال پڑھ لیا جو جلسہ عام کی صورت میں ہوتا۔

ہم بڑی آرزوں اور تمناؤں کے ساتھ شیخ الحدیث کی کلاس میں پہنچے جو جامعہ کی قدیم عمارت کی مغربی جانب کمرہ نمبر1 سے متصلہ ہال میں ہوا کرتی، اس کلاس کے لیے طالب علم کو فضیلت سال آخر کا انتظار کرنا ہوتا ، ہم سب ساتھی ترتیب سے بیٹھ گئے ۔اب ان میں سے کچھ بقید حیات ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت وایمان والی زندگی عطا کرے اور کچھ دار فانی سے کوچ گئے ، اللہ تعالیٰ ان کی بشری لغزشوں سے عفو و درگزر کا معاملہ فرماتے ہوئے اعلی علیین میں جگہ بخشے۔ آمین

ان ساتھیوں کی تصویری آنکھوں میں آتی ہے تو ضبط کا بندھن ٹوٹنے لگتا ہے۔ بھری جوانی پھولوں، جیسے چہرے، سہانے خواب، سجائے آج کی کلاس میں بیٹھے شیخ کا انتظار کررہے تھے۔ ان میں جو آسودہ خاک ہو چکے انہیں زندگی کی کم بہاریں دیکھنے کا موقع ملا۔ ’’حسرت ان غنچوں یہ ہے جو بِن کھلے مرجھا گئے ۔‘‘ کا کا عبد الرزاق شاہد، سید افسر باشاہ، عبد الرشید ملیباری، احمد اللہ قریشی، محمد قاسم ہیروری، محمد عاصم بھٹکلی، ان ناموں کے ساتھ رحہم اللہ لکھتےہوئے آنکھوں پر قابو اور نہ ہی جذبات پر یارا۔ ان کے ساتھ دار السلام کے دروبام اور عمرآباد کی گلیوں میں گزری کتنی حسین یادیں ہیں۔ بہر حال میں پہلے دن کے تصور میں کچھ دور نکل گیا۔ عربی شاعر امرئ القیس نے اپنے مشہور قصیدہ کا پہلا شعر اسی یاد سے شروع کیا تھا:

قفا نبك مِنْ ذِكرى حبيب ومنزل

بسِقْطِ اللَّوَى بَيْنَ الدَّخُولِ فَحَومَل

’’رکو ، کچھ دیر کے لیے اپنے محبوب کا ذکر اور اس کی بستی کی یاد میں چند آنسو بہالیں، جو ’دَخول ‘ اور ’حوملہ‘ کے ٹیلوں کے درمیان ریت کے لیے گم ہو چکی ہے۔‘‘

البقاء لہ وحدہ ۔۔اور ہم اپنے سب محبوب ساتھیوں اور عمر آباد کی گلیوں میں کچھ دیر کے لیے کھو گئے۔

شیخ محترم اپنی جگہ وقار اور اطمینان سے تشریف فرما ہیں ، ہم توقع کر رہے تھے کہ آپ کتاب صحیح بخاری کھولیں گے اور درس کا آغاز کریں گے، لیکن آپ نے فرمایا کہ علماء حدیث کا یہ طریقہ رہا ہے کہ پہلے حديث المسلسل بالاولیہ پڑھا کرتے کہ میں نے اپنے استاذ سے پہلے یہی حدیث سنی، انہوں نے اپنے استاذ سے یہی حدیث سنی تھی یوں یہ سلسلہ مشہور محدث تبع تابعی سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ وفات 198 ھ تک ایسے ہی پہنچتا ہے، پھر یہ حدیث رسول اللہ ﷺتک پہنچتی ہے۔ اللہ اکبر ۔

حفاظت حدیث ہی نہیں بلکہ ترتیب اور اسلوب تدریس تک سلامت !

حالانکہ احادیث پڑھنے پڑھانے میں ترتیب آگے بھی ہو جائے تو کوئی حرج یا فرق نہیں پڑتا، لیکن اس ترتیب کی بھی حفاظت کی گئی۔

سفیان بن عینیہ یہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے استاذ ہیں، ان کے متعلق امام شافعی نے فرمایا: اگر امام مالک اور سفیان نہ ہوتے تو حجاز سے علم ہی ختم ہو گیا ہوتا:

” لولا مالك وسفيان لذهب علم الحجاز.”

ہمارے استاذ عمرآباد سے متصلہ ٹاون پیارم پیٹ میں پیدا ہوئے، ان کی عطا کردہ سند چند واسطوں سے سفیان بن عینیہ اور وہاں سے رسول اللہ ﷺ تک پہنچتی ہے، اور صحیح بخاری کی سند اس سے کم واسطوں سے امام بخاری اور پھر رسول الله ﷺ تک پہنچتی ہے، شیخ محترم کا ایک سلسلۂ حدیث تاریخ برصغیر کا اہم اور معتبر نام جن کا حلقہ حدیث اور سند عالم عرب اور عجم میں بہت مشہور ہے، شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دهلوی رحمہ اللہ ایک ہی واسطہ شیخ الحدیث دار الحديث رحمانیہ علامہ احمد اللہ میر قریشی رحمہ اللہ سے ان تک پہنچتا ہے ۔

اس حیثیت ہم عمری احباب صرف دو واسطوں سےشیخ الکل سید نذیر حسین کے شاگرد ہیں :

عن الحافظ عبدالواجد عن احمد الله میر قريشى عن نذير حسين الدهلوی۔

اور پھر یہ سلسلہ سند کچھ واسطوں سے شاہ ولی اللہ محدث دهلوی سے ہوتے ہوئے آگے بڑھتا ہے ، شاہ ولی اللہ کی شخصیت کچھ ایسی بابرکت ہے کہ ہندو پاک میں دی جانے والی سند حدیث کا اکثر سرا خاندان ولی الله سے جا ملتا ہے، سند کے ابتدائی تین ، چار نام الگ الگ ہوتے ہیں، گویا اکثر مدارس دینیہ کے فارغین ایک ہی سلسلہ حدیث سے منسلک ہیں، اس لحاظ سے باہمی اخوت اور محبت کا تعلق ہونا چاہیئے ، لیکن برا ہو تعصب، ضد بازی کا مختلف فضلائے مدارس دینیہ کے درمیان اس درجہ دوری بلکہ منافرت ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے اور ملاقات کرنے کے لیے تک تیار نہیں اور سب ہی سلسلہ ولی اللہ کی سند تھامے ہوئے ہیں۔

شیخ محترم کی دوسری سند شاہ ولی اللہ کے بجائے مشہور فقیہ قاضى یمن علامہ الشوکانی کے واسطہ سے امام بخاری اور پھر رسول الله ﷺ تک پہنچتی ہے، یوں ہمیں چند واسطوں سے فقیہ امت علامہ الشوکانی مصنف نیل الاوطار کی شاگردی کی سعادت نصیب ہوتی ہے، جن کی فقہی بصیرت خصوصا فقہ السنہ اور فقہ مقارن میں بہت نمایاں ہے ۔

ہمارے استاذ محترم دار السلام سے فراغت کے بعد دار الحدیث رحمانیہ دہلی پہنچے ، اس وقت اس اہم درسگاہ میں نامور علماء تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے اور پھر وقتاً فوقتاً مشاہیر کی وزٹ بھی ہوا کرتی، مشہور عالم دین مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمہ الله نے دارالحدیث میں آپ کی تقریر سے متاثر ہو کر مشورہ دیا تھا کہ

تقریر میں اشعار کی طرح آیات قرآنی بھی ترنم کے ساتھ پڑھیں گے تو خطاب مزید موثر ہوگا۔

مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ سے بھی آپ کی ملاقات یہیں ہوئی، وفود کی آمد کے موقع پر عموماً ہونہار طلبہ کا علمی مظاہرہ کروایا جاتا ہے۔ یہاں قیام کے دوران اکثر آپ کو مواقع ملتے رہے۔

پڑھنے میں ذہین اور آگے تھے اس لئیے ایک ہی سال میں کورس مکمل کر لیا، قیام دہلی کے دوران فارغ اوقات میں طبی کتب ، طبیب کی نگرانی میں پڑھنا شروع کیا، جب اس کی اطلاع سکرٹری دار السلام جناب کا کا اسماعیل علیہ الرحمہ کو ہوئی تو فوری خط لکھا کہ آپ کے دہلی میں قیام کا مقصد علم حدیث میں رسوخ پیدا کرنا ہے۔ دیگر علمی مصروفیات کے سبب اصل ہدف میں کوئی خلل واقع نہ ہونے پائے، بہتر ہے کہ توجہ علم حدیث پر ہی مرکوز رکھیئے ۔ الحمد للہ ایک برس 1932 ء میں کورس مکمل کر کے واپس ہوئے، اور 1933ء سے دار السلام میں مدرس متعین ہو گئے، 1950 میں اس کے منصب اعلیٰ صدر المدرسين ناظم کے عہدہ تک پہنچے ، 20 سال تک جامعہ کے مشکل ترین حالات میں کامیابی سے تدریس کے ساتھ انتظامی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ 1971ء میں حکومتی قوانین کے باعث نظامت کے عہدہ سے سبکدوش ہو گئے لیکن بحیثیت مدرس کام کرتے رہے۔

آپ کے بعد صحیح بخاری کی تدریس اب آپ کے ایک ہونہار عزیز شاگرد ڈاکٹر عبد اللہ جولم نیپالی حفظہ اللہ کے حصہ میں آئی ، جو دار السلام سے فراغت کے بعد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کر کے واپس ہوئے ہیں، قیام مدینہ منورہ کے دوران مشاہیر اہل علم سے بھر پور استفادہ کیا ۔ (فقہ اسلامی کے نہایت علمی اور دقیق موضوع پر ڈاکٹریٹ کی۔)

امام احمد بن حنبل نے فرمایا:

’’ لوگ اپنے شیوخ سے پہچانے جاتے ہیں ۔ مشائخ گزر جائیں تو زندگی کا لطف ہی کیا ۔

“إنما الناس بشيوخهم فاذا ذهب الشيوخ فمع من العيش .”

شیخ نے یہ حدیث پہلے خود پڑھی پھر ہم سے پڑھائی :

«الراحمون يرحمهم الرحمن تبارك وتعالى ارحموا من في الارض يرحمكم من في السماء . »

(سنن ابو داؤد: 4941 ؛ جامع ترمذی: 1924 )

’’شفقت کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ مہربانی فرماتا ہے، تم اہل زمین پر مہربانی کرو ، عرش والا تم پر رحم فرمائے گا۔‘‘

اساتذہ دین کی کوشش ہوتی کہ ہمارے شاگردوں کے باہمی تعلقات، محبت اور مودت پر استوار ہوں نہ کہ عداوت و منافرت پر یہی جذبہ خلوص عمل کی طرف مائل کرے گا، کیونکہ مسلمانوں کی مثال اپنے سماج میں ایسے ہی ہے۔ جیسے ایک جسم کے مختلف اعضاء ، گو کہ ہر عضو کا اپنا اپنا الگ دائرہ کار ہے لیکن سب جسم انسانی کے لئے مصروف رہتے ہیں۔

فرمان نبوی ﷺ ہے:

« ترى المؤمنين في تراحمهم و توادهم وتعاطفهم كمثل الجسد اذا اشتكى عضو تداعى له سائر جسده بالسهر والحمى»

(صحیح بخاری: 6011؛ صحیح مسلم: 2586)

ہماری ہمدردی ، رحم و کرم کے زیادہ مستحق عزیز و اقارب پھر مسلمان درجہ بدرجہ اس میں شامل ہیں، یہ لطف و عنایت مختلف انداز اور حیثیتوں سے ہو سکتا ہے اس میں صرف انسانوں کے ساتھ ہمدردی کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ تحفۃ الاحوذی میں اس حدیث اول کے حوالہ سے یا اس میں اتنی جامعیت ہے کہ ہرقسم کے انسانوں کے علاوہ چرند پرند مویشیوں کے ساتھ بھی مناسب برتاؤ کرنے کا حکم پایا جاتا ہے اور وہ پاکیزه صفت ہمدردوں کے لئے ملائکہ کی دعائیں بھی رہتی ہیں۔

﴿الذين يحملون العرش ومن حوله يسبحون بحمد ربهم و یؤمنون به ويستغفرون للذين آمنوا ربنا وسعت کل شيئ رحمة وعلما فاغفر للذين تابوا واتبعوا سبيلك وقهم عذاب الجحيم ﴾

(سورۃ غافر: 24 )

اس حدیث کی تشریح اور توضیح کے بعد صحیح بخاری کھولی گئی ۔

شیخ محترم کی رہائش پیارم پیٹ میں تھی آپ عام سواری بس سے عمر آباد پہنچتے جو کہ مسافروں سے پر ہوتی کوئی احتراماً شیخ کو بیٹھنے کا موقع دے تو ٹھیک ورنہ کھڑے ہو کر ہی اس پیرانہ سالی میں مسافت طے کرتے۔ اس کے باوجود کیا مجال کہ وقت مقررہ سے کبھی تاخیر ہو جائے، وقت سے پہلے پہنچتے، اپنے کمرہ میں مطالعہ یا فتوی نویسی میں مصروف رہتے، وقت کے ساتھ ہی کلاس میں تشریف لاتے اور گھنٹی ختم ہونے تک پر وقار چاق و چوبند پڑھنے پڑھانے میں مصروف رہتے۔ سال کے اخیر حصہ میں دو گھنٹیاں اکھٹی ہوتیں۔ ایسی صورت میں آدھا وقت گزرنے کے بعد ایک پیالی چائے پی لیتے، وہ بھی اس طرح کہ کسی طالب علم کو چپکے سے اشارہ کر دیتے وہ خاموشی سے لاکر ان کے سامنے رکھ دیتا، کسی قسم کی خلل اندازی کے بغیر، شیخ چائے پیتے ہی جیب سے پیسے نکال کر، وہاں رکھ دیتے، کبھی لگتا کہ حدیث پورے جذب و کیف کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

حدیث کا متن اور الفاظ ہی نہیں موضوع کے اعتبار سے کبھی تاثرات پیشانی پر ابھرتے، ایک درس تھا، ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر لگنے والے بہتان اور ہرزہ سرائی کے حوالہ سے ، جس کربناک حالت سے وہ دوچار تھیں اور پھر وحی نازل ہوئی۔

ام المومنین کی براءت میں، جب ان سے ان کی والدہ نے کہا کہ اٹھو اور رسول اللہ ﷺ کا شکریہ ادا کرو۔ ام المومنین نے کہا کہ نہیں۔ میں اس مقام پر اللہ رب العالمین کا شکر بجا لاتی ہوں :

” ولا احمد الا الله “

شیخ محترم خود جس کیفیت سے یہ پڑھا رہے تھے ، بیساختہ وہ کہتے جاتے، یہ ہے توحید ! مختلف موقعوں پر یہ کیفیت ہوتی ۔

تیسری سند جو شیخ اہتمام سے دیا کرتے وہ پیمانۂ نبی ﷺمدکی سند ہے ، اسے پیالہ نما پیمانہ ہی سمجھ لیجئے جو عہد نبوی میں استعمال ہوتا ، اسی پیمانہ سے چار مد اناج، ایک آدمی کی طرف سے بطور صدقہ فطر ادا کیا جاتا، اور اسی ایک مد سے وضو کر لیا جاتا۔ شیخ محترم نے اس پیمانہ کی سند اپنے استاذ علامہ احمد اللہ سے دہلی میں حاصل کی، جو کہ نبی کریم ﷺ تک پہنچتی ہے، اس پیالہ کے عکس کے مطابق کئی مدبنو ا کر اپنے شاگردوں میں تقسیم کرتے اس پیالہ کی ہیئت اور سائز درست رکھنے کے لیے آپ نے بڑی محنت کی۔

شیخ فقہی مسائل اور فتوی نویسی میں صرف کتابی معلومات پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ گردو نواح کے حالات پر بھی نظر رکھتے تھے، خود فرماتے ہیں کہ بہت سے حنفی گھرانوں کے افراد ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں اور انہیں روایتی انداز کا فتوی دیا جاتا ہے کہ رشتہ ختم ہو چکا ہے، یہ حالات سے بے خبری اور فقہ حنفی کے اصول وقواعد کے ساتھ بھی زیادتی ہے، کیونکہ متاثرہ شخص ان فقہی باریکیوں سے نا آشنا ہوتا ہے، سوائے اس کے کہ اس نے حنفی والدین کے گھر میں آنکھیں کھولیں، اور دوسری طرف اس غلطی کا اثر کئی افراد کو بھگتنا ہوتا ہے، اور سنگینی نقصانات مرتب ہوتے ہیں، لہٰذا ان تمام باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے صرف ایک طلاق واقع ہونے کا فتوی دیا جائے تو یہ روح اسلام کے قریب اور فقہ حنفی سے بھی متصادم نہیں ہوگا کیونکہ وہاں بھی حالات اور نیت کا اعتبار تو کیا جاتا ہے۔

ایسے ہی تقسیم وراثت کے مسئلہ میں ہونے والی غلطیاں یا بے اعتدالی ہے، اگرچہ کہ کسی کی وفات کے بعد اس کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ واضح ہے، لیکن بگڑے ہوئے سماج میں اس کے مطابق عمل بہت کم ہوتا ہے، اس مسئلہ میں متعدد رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں، خاندان کے بعض طاقت ور افراد چابکدستی یا چرب زبانی سے فتوی بھی حاصل کرلیتے ہیں، اس مسئلہ میں مفتی کو مزید چوکنا رہنا چاہیے ، فتوی لکھنے کے بعد شیخ محترم اس پر کسی دوسرے استاذ کی بھی دستخط لیا کرتے ، اس میں ایک طرف احتیاط کا پہلو ہوتا کہ فتوی نویسی میں کوئی لغزش نہ ہو گئی ہو اور دوسرا فتوی میں اجتماعیت دکھائی دیتی ۔

جامعہ میں ان مصروفیات کے ساتھ خطبہ جمعہ اور دروس کا اہتمام بھی کرتے ، اپنے علاقہ کی جامع مسجد روڈ مسجد اہل حدیث میں خطبہ ارشاد فرماتے کبھی حمد وثنا شاه اسماعیل شہید رحمہ الله سے موسوم اپنے اسلوب خاص میں جب پڑھتے تو سماں بندھ جاتا ، عنوانات تذکیری اور اصلاحی زیادہ ہوتے، لیکن اپنی بات حالات حاضرہ سے مربوط رکھتے ، گردش کرنے والی کسی اہم خبر پر بھی ضروری تبصرہ کرتے، یوں خطبہ سننے والوں کو اندازہ ہو جاتا کہ شیخ محترم کی حالات پر بھی گہری نظر ہے۔

جامعہ کے جشن طلائی کے موقع پر مختلف اردو، ٹمل اور انگریزی اخبارات اور ریڈیو کے ذریعہ رپوٹنگ ہو رہی تھی، ٹمل ریڈیو کے ذریعہ بیرونی وفود کی تعداد کچھ گھٹا کر بتائی گئی، کم لوگ اس طرف توجہ دیئے ہوں گے لیکن شیخ نے بروقت ان کا نوٹس لیتے ہوئے اصلاح کی ، رپوٹنگ میں مبالغہ آرائی غلط ہے تو کوئی بات حقیقت سے گھٹا کر پیش کرنا بھی درست نہیں۔

شیخ محترم برسہا برس پابندی کے ساتھ اسی مسجد میں قرآن بھی سناتے رہے، ایک عالم دین ندوی کسی کام سے رمضان میں پیارم پیٹ پہنچے ، انہوں نے شیخ کے پیچھے نماز تراویح ادا کی، وہ شیخ کی تلاوت اور گفتگو سے اتنے متاثر ہوئے کہ اپنے گھر کے ایک لڑکے کو اسی سال دار السلام میں داخل کروا دیا کہ شیخ سے فیض یاب ہو سکے ، اہل اللہ کی مجالس روحانی برکات سے خالی نہیں۔

کبھی ہم دو چار ساتھی شیخ کی اقتداء میں جمعہ پڑھنے کے لیے اہتمام سے شریک ہوتے، نماز کے بعد شیخ کے ساتھ ملاقات کرتے ۔ شیخ عقیدت مندوں سے ملاقات کرتے ہوئے بیرونی دروازہ تک پہنچتے، وہاں ایک بیل گاڑی منتظر ہوتی ، مسجد انتظامیہ کے معززین ان میں بعض متمول اور بڑے تاجر بھی ہوتے، گاڑی کے اطراف کھڑے رہتے، شیخ سوار ہو کر آگے بڑھ جاتے تو معززین وہاں سے حرکت کرتے۔ ماشاء اللہ اب بھی اہل علم کی یہ قدر دانی !!

دوران درس شیخ فصیح زبان بولا کرتے، درس کے بعد حسب ضرورت مقامی لب ولہجہ اور مقامی زبان ٹمل میں بھی گفتگو کرتے ۔

اس اہم درسگاہ میں شیخ نے طویل عرصہ خدمات انجام دی ہیں ، سینکڑوں شاگرد دنیا کے مختلف حصوں میں مصروف عمل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان خدمات کو شیخ کے حق میں صدقہ جاریہ بنا کر جنت الفردوس کے اعلیٰ ٹھکانہ میں جگہ عطا فرمائے ۔ آمین

محترم قارئین کرام!

آپ نے جامعہ دار السلام عمر آباد کے شیخ الحدیث و ناظم جامعہ اور خطیب جامع مسجد پیارم پیٹ، مولانا حافظ عبد الواجد عمری رحمانی رحمہ اللہ پر مولانا محمد عبد الہادی العمری المدنی کا مضمون پڑھ لیا ہے۔

مولانا نے اپنے استاذِ محترم کے تعلق سے بہت ہی قیمتی معلومات دی ہیں۔ اس میں خصوصیت کے ساتھ شیخ الحدیث کی ہر سال اپنے جامعہ سے فارغ ہونے والے طلبہ کو تین قسم کی سندیں عطا فرماتے۔

ایک سند صحیح بخاری کی، جو دو واسطوں سے شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی تک پہنچتی ہے۔

اور دوسری سند حدیث «المسلسل بالأولية» کی، یعنی اپنے استاذ سے کون سی حدیث پہلے پڑھی ہے اور اپنے تلامذہ کو بھی وہ حدیث پہلے پڑھائی ہے۔

تیسری سند مُد کی، کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کا وہ پیمانہ، جس کے چار مد کا ایک صاع، یعنی صدقۂ فطر تقریباً پونے تین سیر کا ہوتا ہے اور مد بھی پانی ناپ کر کہ نہ پانی زیادہ ہو اور نہ کم! نبی ﷺ کا یہ مُد جس شکل و صورت کا تھا، بالکل اسی جیسا بنانا اور سند کے ساتھ دوسروں کو دینا، کہ یہ معلوم ہو کہ یہ مد کتنے واسطوں سے نبی کریم ﷺ تک پہنچتا ہے!ناچیز بھی شیخ الحدیث کا شاگرد ہے، جو 1962ء سے 1970ء تک جامع دار السلام عمر آباد میں 9 سال مکمل کر کے مولوی، عالم، فاضل کا کورس مکمل کیا، اور فضیلت کے آخری سال میں شیخ الحدیث سے صحیح بخاری مکمل پڑھنے کی سعادت حاصل کی اور مذکورہ تینوں سندیں بھی حاصل کیں، الحمد للہ!

اور آپ یہ بھی پڑھ چکے ہیں کہ جامعہ دار السلام عمر آباد سے فراغت کے بعد جامعہ کے ذمہ دار کا کام محمد اسماعیل نے حضرت شیخ الحدیث کو جامعہ رحمانیہ دہلی بھیجا، تاکہ وہاں کا کورس مکمل کر کے وہاں سے صحیح بخاری کی سندِ عالی حاصل کریں۔

چنانچہ شیخ الحدیث نے ایک ہی سال میں وہ سند وہاں سے حاصل کر لی اور یہاں جنوبی ہند کے اس جامعہ سے سینکڑوں طلبہ کو صحیح بخاری پڑھا کر وہ سند عطا کی۔شیخ الحدیث کی بہت سی خصوصیات تھیں۔

یہ مختصر مضمون اس طوالت کا متحمل نہیں ہے۔ سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ پیارم پیٹ کی ایک مسجد کے امام اور خطیب ہونے کے ساتھ جید حافظِ قرآن اور ایک متقی عالمِ باعمل تھے۔ حافظِ قرآن ہونے کی قدر انہوں نے اس طرح کی کہ وہ روزانہ تہجد میں ایک پارہ قرآن مسلسل ترتیب کے ساتھ پڑھتے تھے۔ اس طرح تہجد میں 40 سے زیادہ قرآنِ کریم مکمل کیے تھے اور اسی مسجد میں 40 سال سے زیادہ نمازِ تراویح پڑھائی، 40 سال سے زیادہ تراویح میں قرآنِ حکیم مکمل کیے۔ چالیس سال سے زیادہ جامعہ دار السلام عمر آباد میں طلبہ کو صحیح بخاری پڑھا کر سندِ حدیث دیتے رہے، جو صرف دو واسطوں سے شیخ الکل سید نذیر احمد محدث دہلوی تک پہنچتی ہے۔قیام اللیل کرنے والوں کے لیے بعد نمازِ ظہر قیلولہ کرنا بہت ہی مفید ہے۔ شیخ الحدیث کا یہ بھی معمول تھا۔ ویسے قیلولہ سنتِ نبویﷺ اور اہل اللہ کا شعار ہے۔ انہی بے شمار خوبیوں کی وجہ سے ہم ان کو اولیاء اللہ میں شمار کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ وہ عند اللہ ضرور اس کے مستحق ہوں گے۔شیخ الحدیث کا حلیہ ملاحظہ فرمائیں۔

فربہ بدن، سر پر عمامہ، سفید کرتا اور پاجامہ پر باریک گنجی دیا ہوا ملل کا سفید لمبا کرتا (تاکہ استری جلد خراب نہ ہو) ہاتھ میں چھتری جو عصا کی جگہ استعمال ہوتی تھی۔ چہرہ گول، خوبصورت، رنگ گورا، گھنی داڑھی، دیکھنے میں بارعب شخصیت، قد ذراپست مگر لحیم وشحیم ہونے کی وجہ سے وہ اوسط قد کے لگتے تھے، زندگی بھر پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے رہے مگر کبھی جامعہ پہنچنے میں تاخیر عمل میں نہیں آئی۔ جب ضعف بڑھ گیا تو جامعہ سے کار پیارم پیٹ پہنچتی اور عمر آباد لے آتی، ان کی مصروفیات کے بعد پھر ان کے مکان پر چھوڑ آتی تھی۔

معلوم ہوتا ہے کہ

شیخ الحدیث کو طالبِ علمی کے زمانہ میں شعر و شاعری کا بڑا شوق تھا، اس لیے جامعہ رحمانیہ دہلی میں طالبِ علمی کے زمانہ میں جب ایک مرتبہ مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی جامعہ تشریف لے گئے، تو منتظمین نے وہاں کے طلبہ کی تقاریر کا پروگرام رکھا، تو ان میں شیخ الحدیث کی تقریر بھی تھی، جو مختلف اشعار سے مزین تھی۔ حضرت میر نے یہ مشورہ دیا تھا کہ آیاتِ قرآن بھی ترنم سے پڑھیں۔

واضح ہو کہ حضرت ابراہیم میر، امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان، سینیٹر پروفیسر علامہ ساجد میر سیالکوٹی رحمہ اللہ کے نانا تھے۔ جو کہ دنیاوی اعتبار سے بھی صاحبِ حیثیت تھے، اور دینی اعتبار سے بھی وہ بڑے عالم کے نانا اور دادا تھے۔ایک مرتبہ حضرت شیخ الحدیث مرحوم نے کہا کہ میں نے طالبِ علمی کے زمانہ میں ایک فارسی شعر کا منظوم عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ وہ فارسی شعر یہ ہے:

آں کس کہ نداند و بداند کہ بداند

در جہل مرکب ابد الدہر بماند

’’وہ شخص جو نہیں جانتا ہے(لیکن بزعم خود) یہ جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے، ایسا شخص ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہالت ہی میں رہے گا۔‘‘

شیخ الحدیث کا عربی میں منظوم ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

الذي لا يعلم وهو يعلم أنه يعلم

هو في الجهل يكون المركب أبداً أبداً

اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه.

٭٭٭

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’عاقل کا شیوہ یہ ہے کہ وہ دو بھلائیوں میں سے بہتر کو دیکھتا ہے اور دو برائیوں میں سے کم تر کو اختیار کرتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اہلِ سنت، اگرچہ خوارج اور روافض اور دیگر اہلِ بدعت کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں، سو کہتے ہیں لیکن وہ ان کے دین کے خلاف کفار کی مدد نہیں کرتے اور نہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ کفر اور اس کے علم برداروں کو غلبہ حاصل ہو، خواہ اس کے مقابلے میں کسی بدعت ہی کا ظہور کیوں نہ ہو۔‘‘

(منہاج السنۃ النبویہ: 6؍ 375)

تبصرہ کریں