
سیدنا خبیب بن عدی کو قید میں انگور دیے گئے، یہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ وہ کہاں سے دیئے گئے۔
ماویہ بنت حجیر بن ابی اہاب بیان کرتی ہیں کہ وہ اسلام قبول کر چکی تھیں، انہوں نے کہا کہ خبیب میرے مکان میں قید کیے گئے تھے اور میں نے دروازہ سے دیکھا کہ ان کے ہاتھوں میں مرد کے سر کے برابر انگور کا خوشہ تھا، جس سے وہ تناول کر رہے تھے اور مجھے نہیں معلوم کہ اس زمانہ میں روئے زمین پر کہیں انگور کھایا جاتا ہو (انگور کا موسم ہو)۔ (صحیح ابن حبان: 7000)
سیدنا حمزہ بن عمرو کی انگلیاں روشن ہوتی تھیں
سیدنا اسامہ بن زید روایت کرتے ہیں کہ محمد بن حمزہ سے کہ حمزہ ابن عمرو جن کی کنیت ابو محمد تھی، جو 61ھ میں وفات پائے اور اس وقت ان کی عمر 71 سال تھی، محمد بن عمر نے کہا کہ
سیدنا حمزہ نے کہا کہ جب ہم مقام تبوک میں تھے تو منافقوں نے عقبہ میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے قریب بھاگ دوڑ شروع کی، یہاں تک کہ آپﷺکی سواری سے کچھ چیزیں گر پڑیں، حمزہ نے کہا کہ میری پانچوں انگلیاں روشن ہو گئیں جن کی روشنی میں میں نے وہ سامان اکٹھا کرنا شروع کر دیا جو آپﷺ کی سواری سے گر گیا تھا، کوڑا، رسی اور اسی طرح کا سامان۔
سیدنا حمزہ کے تعلق سے بیان کیا جاتا ہے، وہ بہت زیادہ روزے رکھتے تھے (شاید اس وجہ سے اللہ کریم نے انہیں یہ کرامت عطا فرمائی تھی)۔ (امام بخاری نے التاریخ الکبیر میں بیان کیا ہے۔)
مقام تبوک میں ایک مقام ہے، جہاں رات میں تاریکی زیادہ تھی وہاں پر منافقوں نے یہ سازش کی تھی کہ مصنوعی طور پر اپنی سواریوں کی بھاگ دوڑ مچائی جائے تاکہ اس سے رسول کریمﷺ اور ان کے مخلص صحابہ کرام کی سواریاں بدک جائیں اور آپﷺ کو اذیت پہنچے، یہاں اس سازش کے نقصان سے اللہ کریم نے آپﷺ کو بتا دیا اور آپﷺ نے ان کے نام سیدنا حذیفہ بن یمان کو بتا دیا تھا، اس لیے یہ صحابی رسولﷺ ’صاحب سر النبیﷺ‘ کہلائے تھے، یعنی وہ صحابی جو رسول اکرمﷺ کے رازدان تھے۔
اللہ کے نبیﷺ نے سیدنا حذیفہ بن یمان سے فرمایا کہ جس نے تمہیں یہ خوشخبری دی ہے وہ فرشتہ ہے۔
سیدنا صفوان بن سعد نے خبر دی کہ سیدنا حذیفہ بن یمان اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ
جنگ خندق میں ایک رات اللہ کے رسولﷺ نے انہیں مشرکوں میں بھیجا تاکہ ان کا حال معلوم کرے یعنی ابو سفیان اور ان کی قوم کا حال اس دوران ایک شہسوار نے مجھ سے کہا:
اے نوجوان! اپنے ذمہ داروں کو یہ بات بتا دو کہ
اللہ تعالیٰ اپنے دشمن کے لیے کافی ہو چکا ہے، میں نے یہ بات نبیﷺ کو بتا دی تو اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’یہ ایک فرشتہ ہے جس نے تمہیں یہ خوشخبری دی ہے۔‘‘ (رجال حول الرسول: ص 43)
سیدنا انس بن مالک اللہ سے پانی طلب کرتے ہوئے
سیدنا ثابت بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا انس کے ساتھ تھا، کہ باغ کا مالی آیا ، انہوں نے کہا کہ اے ابو حمزہ! ہماری زمینیں پیاسی ہو گئیں ہیں، انہوں نے کہا کہ سیدنا انس اٹھے اور اور وضو کیا اور میدان کی طرف نکلے اور دو رکعت نماز پڑھی پھر دعا کی۔ میں نے دیکھا کہ بادل مل رہے ہیں، راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر بارش ہوئی، یہاں تک کہ ہر چیز جل تھل ہو گئی، جب بارش رک گئی تو سیدنا انس نے اپنے بعض لوگوں کو بھیا کہ دیکھو، بارش کہاں تک پہنچی، انہوں نے دیکھا کہ سیرین اور غضبان کے باہر بارش نہیں ہوئی، یعنی جتنے علاقے میں بارش کی ضرورت تھی وہاں ہوئی،دوسرے علاقوں میں نہیں ہوئی۔
سیدہ حفصہ روایت کرتی ہیں کہ سیدنا انس کی والدہ ام سلیم نے کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! اس کے لیے دعا فرمائیے، آپﷺ نے فرمایا: اے اللہ انس کو مال اور اولاد زیادہ دے اور انہیں جنت میں داخل فرما۔ (الاصابہ)
سیدنا انس کہتے ہیں کہ
میں دو چیزیں اپنی زندگی میں دیکھ لی ہیں یعنی مال اور اولاد میں برکت اور تیری کا انتظار ہے یعنی ہونے کے بعد جنت میں داخلہ کا۔
سیدنا انس کی 107 سال کی عمر میں وفات ہوئی۔ (الاستیعاب)
٭٭٭
تبصرہ کریں