
اللہ کے راستے کے مجاہد کے گدھے کو مرنے کے بعد زندہ کر دیا گیا
سیدنا ابو سبرہ نخعی روایت کرتے ہیں کہ یمن سے ایک آدمی آیا، جب وہ راستے میں تھا تو اس کا گدھا مر گیا، وہ آدمی اٹھا اور وضو کیا، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر اس نے کہا: ’’اے اللہ! میں الوثنیہ تیرے راستے میں مجاہد کی حیثیت سے اور تیری رضا کے لیے آیا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تو مردوں کو زندہ کرتاہے اور قبروں سے اٹھاتا ہے، آج کا دن مجھے کسی کا احسان لینے والا مت بنا، میں یہ چاہتا ہوں کہ تو میرے گدھے کو کھڑا کر دے۔ چنانچہ گدھا اپنے کانوں کو ہلاتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔ (اس کی سند صحیح ہے۔ (دلائل النبوہ: 6؍98)
ایک مہاجرہ جس کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے اُس کے بیٹے کو زندہ کر دیا
سیدنا انس روایت کرتے ہیں کہ ہم نے ایک نوجوان انصاری کی عیادت کی اور اس کے پاس اس کی نابینا ماں بھی تھی، سیدنا انس نے کہاکہ ہم وہیں تھے کہ وہ نوجوان مر گیا اور ہم نے اس کے چہرے پر کپڑا ڈال دیا اور اس کی ماں سے کہا کہ اس مصیبت پر اللہ سے اجر کی امید رکھو، اس کی ماں نے کہا کہ میرا بیٹا مر گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ ماں نے کہا کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے تیری طرف اور تیرے نبی کی طرف ہجرت کی ہے، تاکہ ہر مصیبت کے وقت تو میری مدد کرے، آج یہ مصیبت میرے اوپر مت ڈال، سیدنا انس نے کہا وہ وہیں تھی کہ اس نوجوان نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا دیا اور اس نے کھانا کھایا اور ہم نے بھی اس کے ساتھ کھانا کھایا۔ (البدایہ: 6؍154، 292)
ایک آدمی کی بصارت سیدنا حسین بن علی کی شان میں گستاخی کرنے سے چلی گئی
سیدنا ابو رجاء العطاردی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی اور اہل بیت میں سے کسی کو گالی مت دو، کیونکہ ہمارا ایک پڑوسی بلہجیم نے کہا کہ کیا تم اس فاسق حسین بن علی کو نہیں دیکھتے ہو، اللہ اسے ہلاک کرے؟ اللہ نے اسے دو ستاروں سے اس کی آنکھوں کو مارا اور اللہ نے اس کی بینائی کو مسخ کر دیا۔ (طبرانی: 3؍2830)
سیدنا جابر بن عبد اللہ کے والد سیدنا عبد اللہ بن عمرو کی کرامت
سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جب میرے والد گرامی شہید ہو گئے تو میں رونے لگا اور ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانا چاہا تو نبی ﷺ کے صحابہ کرام نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ لیکن نبی ﷺ نے منع نہیں فرمایا۔
اور نبی ﷺ نے فرمایا:
’’اس پر مت رؤو، یا فرمایا: کیوں روتے ہو؟ فرشتے برابر ان کی لاش پر اپنے پروں کا سایہ کیے ہوئے تھے، یہاں تک کہ انہیں اٹھا لیا گیا۔‘‘ (صحیح بخاری: 4080، صحیح مسلم:130)
سیدنا علی کی بد دعا سے ایک شخص کی بینائی کا ختم ہو جانا
سیدنا زاذان روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی نے ایک حدیث بیان کی، جسے ایک شخص نے جھٹلایا، اس سے سیدنا علی نے کہا کہ میں تجھ پر بد دعا کرتا ہوں، اگر تو جھوٹا ہے؟ اس شخص نے کہا کہ بد دعا کیجیے کہ سیدنا علی نے بد دعا کی اور اس شخص کی بینائی چلی گئی۔ (مجمع الزوائد: 9؍116)
جنگ حنین میں فرشتوں کا صحابہ کی مدد کرنا
سیدنا عوف بن عبد الرحمٰن جو ام بُرثن کے غلام تھے جو جنگ حنین میں کفر کی حالت میں شریک تھے، انہوں نے کہا کہ جب ہم اور اللہ کے رسول ﷺ کا آمنا سامنا ہوا، تھوڑی ہی دیر میں ہم اپنی تلواریں رسول اللہ ﷺ کے سامنے لہرانے لگے، یہاں تک ہم نے جب آپﷺ کو گھیر لیا تو ہمارے اور ان کے درمیان خوبصورت مرد تھے، انہوں نے کہا کہ چہرے سیاہ ہو جائیں گے لوٹ جاؤ، بس ہم نے ان کی اسی بات سے شکست کھا گئے۔ (البدایہ: 4؍334)
دشمن صحابی جہجاہ غفاری کا انجام
سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین سیدنا عثمان منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اسی دوران میں جہجاہ غفاری آیا اور اس نے آپ کے ہاتھ سے عصا چھین کر آپ کے گھٹنے پر اتنی زور سے مارا کہ وہ عصا ٹوٹ گیا اور گھٹنا شدید زخمی ہو گیا، اس وقعہ کو ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ اللہ نے جہجاہ کے اس ہاتھ پر ایک زخم پیدا کر دیا اور وہ زخم اس قدر شدید تھا کہ اُس سے اس کی جان چلی گئی۔ (دلائل النبوہ: ص 221)
٭٭٭
تبصرہ کریں