
انبیا کے قتل کی سازش پر ایک اللہ کے ولی کی وصیت
﴿وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَىٰ قَالَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ ﴿٢٠﴾ اتَّبِعُوا مَن لَّا يَسْأَلُكُمْ أَجْرًا وَهُم مُّهْتَدُونَ﴾
’’اور اسی شہر کے پرلے کونے سے ایک شخص بھاگا ہوا آیا اور کہنے لگا ، اے قوم! ان رسولوں کی پیروی کر لو ان کی پیروی کر لو جو تم سے اجرت کا سوال نہیں کرتے اور سیدھی راہ پر ہیں۔‘‘ (سورۃ یاسین: 20۔21)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب انطاکیہ والوں پر دو رسولوں کو بھیجا تو وہ لوگ ان کا انکار کئے اور ان پر ایمان نہیں لائے تو اللہ نے تیسرے رسول کو بھیجا تا کہ ان کی باتوں میں تقویت ہو اور وہ لوگ اللہ پر ایمان لے آئیں مگر ان لوگوں نے اُس تیسرے رسول کے بھی منکر ہوگئے اور توحید کو قبول نہیں کئے تو ایک شخص جو شہر کے کنارے رہتا تھا اُ سے اس واقعہ کی خبر ملتے ہی وہ دوڑتے ہوئے اس نبی کے پاس آیا، اس کا نام حبیب بتایا جاتا ہے یہ ریشم بنایا کرتا تھا ، بے چارہ جذام کا مریض تھا، سیدھی سادھی زندگی گزارتا تھا، اپنی آدھی کمائی اللہ کے راستہ میں خرچ کر دیتا تھا۔ (سیرت ابن اسحاق)
اس نے کہا، ان ر سولوں کا کہا مان لو یہ تمہارے پاس خیر وبرکت لے کر آئے ہیں ، تم ان مخلص رسولوں کی پیروی کرو، جو تم سے کوئی معاوضہ بھی نہیں مانگتے ہیں اور جس کی دعوت دے رہے ہیں، توحید کی وہ سیدھی راہ ہے تم دنیا میں بھی پھلو گے اور پھولو گے ۔
﴿وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ0 وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ 0 أَأَتَّخِذُ مِن دُونِهِ آلِهَةً إِن يُرِدْنِ الرَّحْمَٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا وَلَا يُنقِذُونِ 0 إِنِّي إِذًا لَّفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ 0 إِنِّي آمَنتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ ﴾ (سورۃ یاسین: 22۔25)
’’میں اس کی عبادت کیوں نہ کروں جس نے مجھے پیدا فرمایا، اور تم سب اسی کی طرف لوٹ جاؤ گے، کیا میں اسے چھوڑ کر ایسے معبود بنالوں گے، اگر مہربان اللہ مجھے کوئی دکھ پہنچانا چاہے تو مجھے ان کی سفارش کچھ بھی کام نہ دے گی اور نہ وہ مجھے اس سے چھڑا سکیں ، پھر تو میں واقعی کھلی گمراہی پر ہوں ، میں تو تمہارے رب پر ایمان لا چکا، کان کھول کر سن لو ۔‘‘
اللہ کے ولی حبیب نے سب کے سامنے توحید کا اقرار کیا اور کہا،مجھے تو حید سے کون روک سکتا ہے، میں تو ایک اللہ کی عبادت کروں گا، جس نے مجھے پیدا کیا، اگر مجھے کوئی نقصان پہنچائے تو یہ بت میرے کچھ کام نہیں آسکتے اور نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں، اگر میں سچے اللہ کو جھٹلا کر معبودان باطلہ کو اپنالوں یا کھلی گمراہی میں ہوں گا، اس اللہ کے ولی نے رسولوں کو مخاطب کر کے یہ کہا کہ تم جس معبود کی طرف بلاتے ہو، میں نے تمہاری بات مان کر اس معبود حقیقی پر ایمان لے آیا ہوں،تم میرےیمان کے گواہ رہنا۔ ( ابن جریر)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب اس اللہ کے ولی نے ، اسلام لانے کا اقرار کیا تو کفار و مشرکین اس اللہ کے ولی پر ٹوٹ پڑے اور اتنا مارا کہ پیچھے سے اس کی آنتیں نکل گئیں اور وہ شہید ہو گیا۔ کسی نے بھی اس کی حمایت نہیں کی۔
﴿ قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ۖ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ﴾ (سورۃ یاسین: 26)
’’اس سے کہا گیا کے جنت میں داخل ہو جاؤ، بولا کاش میری قوم کو بھی معلوم ہو جاتا کہ مجھے میرے پر وردگار نے بخش دیا اور عزت عطا فرمائی اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی آسمانی لشکر نہیں اُتارا اور نہ ھم اس طرح اتارا کرتے ہیں وہ تو ایک گرج دار چیخ تھی کہ یکایک سب بجھے کے بجھے رہ گئے (مر گئے)۔‘‘
اللہ کے ولی (حبیب نجار) کی شہادت! حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں:
ان کی شہادت کے بعد الله نے ان سے فرمایا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ، وہاں ان کا اکرام کیا گیا اور نعمتوں سے نوازا اوران کے دکھ درد بیماریاں جو دنیا میں لا حق تھیں وہ ختم ہو گئیں اور راحت اور آرام نصیب ہوا، تو اسی ولی اللہ نے جنت میں داخل ہونے کے بعد بھی یہ آرزو و منا کر تا رہا کہ کاش میری قوم کو معلوم ہو جائے
کہ اللہ نے مجھے کتنی عزت اور نعمتوں سے نوازا ہے، کاش وہ بھی ایمان لے آتے تو مجھ جیسی نعمتیں انہیں بھی نصیب ہوتی ۔ یعنی وہ شخص زندگی میں بھی ان کا خیر خواہ تھا اور مرنے کے بعد بھی ان کا ہمدرد تھا ۔
تکذیب انبیاء اور اللہ کے ولی کی شہادت کے بعد انطاکیہ پر اللہ کا عذاب آیا
جب بستی والوں نے اس موحد کو شہید کردیا، تو اللہ تبارک وتعالیٰ کوئی بڑا عذاب نہیں بھیجا بلکہ حضرت جبریل علیہ السلام نے شہر کے چوکھٹ پکڑ کر ایک خوفناک چیخ ماری کہ جس سے سب کے سب فنا کے گھاٹ اتر گئے ۔ ممکن ہے، انطاکیہ نام کے دو مقام ہوں، چونکہ ایک نام جو انطاکیہ سے تاریخی اعتبار سے اس پر عذاب نہیں آیا، ممکن ہے کہ دوسرا مقام اسی نام کا ہو اور وہاں عذاب آیا ہو۔
آل فرعون کا ایک مؤمن اللہ کا ولی جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا
سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے حق میں توحید کا اعلان کیا کر دیا !
﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ 0 إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَقَارُونَ فَقَالُوا سَاحِرٌ كَذَّابٌ 0 فَلَمَّا جَاءَهُم بِالْحَقِّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا اقْتُلُوا أَبْنَاءَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ وَاسْتَحْيُوا نِسَاءَهُمْ ۚ وَمَا كَيْدُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ 0وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَىٰ وَلْيَدْعُ رَبَّهُ ۖ إِنِّي أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ 0 وَقَالَ مُوسَىٰ إِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُم مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ﴾
’’یقین مانو ہم نے موسی کو فرعون اور قارون کی طرف اپنی نشانیوں کے اور ظاہر غلبہ کے ساتھ بھیجا، انہوں نے کہا یہ جادو گر ہے اور جھوٹا ہے پھر جب وہ ان کے پاس سے ہمارے پاس سے حق لائے تو انہوں نے کہا جو اس پر ایمان لے آئے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر ڈالو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور کافروں کا مکر برباد ہو کر ہی رہتا ہے، فرعون بولا، مجھے موسیٰ کو قتل کرنے دو اسے اپنے رب کو بلا لینا چاہیے، مجھے موسیٰ سے ڈر ہے کہ موسیٰ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد مچائے گا ،موسیٰ بولے میں نے ہر مغرور سے جس کا جزا کے دن پرایمان نہیں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لی ۔‘‘ (سورۃ المؤمنون: 23۔27)
جب موسیٰ علیہ السلام واضح اور روش دلیلیں لے کر آئے کہ اللہ نے مجھے رسول بنایا ہے اور تمہاری طرف بھیجا ہے تو فرعون نے یہ قانون بنا دیا کہ اسرائیلوں کے بچے قتل کر دئیے جائیں اور بچیاں زندہ رکھی جائیں، یہ قانون دوسری مرتبہ بنا، موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے پہلے فرعون نے اپنے خواب کی تعبیر سے ڈر کر ایسا ہی حکم دیا تھا، اب آپ کے نبی بنائے جانے کے بعد پھر دوبارہ یہی قانون نافذ کیا اور علی الاعلان اپنے درباریوں سے کہا کہ آج مجھے موسیٰ کو قتل کر نےدو۔ جب موسیٰ علیہ السلام کو یہ شرمناک خبر پہنچی، تو آپ نے فرمایا کہ میں اس جیسوں کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اللہ کے آخری نبی کو جب کسی قو م کا ڈر ہوتا تو یہ دُعا پڑھا کرتے تھے :
اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ(مسند احمد )
’’ اللہ ہم تجھ کو ان کے مقابلہ میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔‘‘
﴿وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ ۖ وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ۖ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ 0 يَا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِينَ فِي الْأَرْضِ فَمَن يَنصُرُنَا مِن بَأْسِ اللَّهِ إِن جَاءَنَا ۚ قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَىٰ وَمَا أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ الرَّشَادِ﴾ (سورہ غافر: 28۔29)
جس شخص نے اپنا ایمان بچایا تھا، وہ قبطی تھا اور فرعون کے خاندان کا تھا اور فرعون کا چچازاد بھائی تھا ، یہی شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نجات پا گیا تھا۔ کیونکہ فرعون اس کی بات سے متاثر ہوا اور غور وفکر کرکے قتل موسیٰ سے بازرہا، لیکن اگر اسرائیلی ہوتا تو فر عون اس کے کہنے سننے سے کیوں اپنے ناپاک عزم سے رکتا بلکہ موسیٰ کے ساتھ اسے بھی سزا دلواتا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ موسیٰ پر قبطیوں میں سے بجز اس شخص کے اور اس شخص کے جس نے کہا تھا کہ سردار آپ کے قتل کا ارادہ کر رہے ہیں، آپ یہاں سے بھاگ جائیں، میں آپ سے ہمدردی کے طور پر کہہ رہا ہوں اور فرعون کی بیوی کے کوئی اور ایمان نہیں لایا ۔( ابن ابی حاتم )
یہ مسلمان تھے اور اپنی قوم سے ایمان چھپائے ہوئے تھے، جب فرعون نے دربار میں کہا، مجھے موسی کو قتل کرنے دو تو ان کی ایمانی غیرت جوش میں آئی اور اللہ کی رضا کے لئے فرعون سے یہ بات کہی، سب سے بڑا جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق گوئی ہے، جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے۔ (سورة المومن 29-28؛ تفسير السراج المنير تلخیص تفسیر ابن کثیر)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ، ایک دفعہ آپﷺ صحن کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپ کےگلے میں اپنی چادر ڈال کر اُسے پیچھے سے بل دینے لگا ، جس سے آپﷺ کا گلہ گھٹنے لگا، حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کو اس کی گستاخی پر غصہ آیا ،انہوں نے دھکا دے کر اسے دور کیا اور اس آیت ﴿ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ ﴾ کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرو گے جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور تمہارے پاس اپنے رب کے پاس سے روشن دلیلیں بھی لے کر آیا ہے۔‘‘ کی تلاوت فرمائی۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایسے موحد و مؤمن شخص کی حق گوئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تائید پر فرعون اس وقت اپنے ارادہ سے باز آگیا اور اس قبطی موحد ومؤمن کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا اس کے تعلق سے قرآن خاموش ہے ۔
سورۃ البروج میں بھی ہے کہ ایمان لانے والوں کو آگ کے گڑھے میں ڈال کر زندہ جلا دیا گیا۔! ان کا قصور یہ تھا کہ
﴿وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ﴾
’’انہوں نے مسلمانوں میں کوئی خرابی نہیں پائی ، بجز اس کے کہ وہ اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو بے حد قابل تعریف ہے ۔‘‘
یہ حقیقت ہے کہ ہر زمانے میں ایک اللہ پر ایمان لانے والے موحدین کو اذیتیں دی گئیں:
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبرنام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
٭٭٭
طریق دعوت
ہے وہ کامیاب دعوت، ہے وہ کام گارِ دعوت
جو ہے بے قرار دعوت جو ہے جاں نثار دعوت
یہی فرضِ منصبی ہے یہی شانِ بندگی ہے
ہو ہر ایک مرد مومن کو عزیز کار دعوت
نہ کبھی یہ رُک سکے گا نہ کبھی یہ تھم سکے گا
کہ وہ سیلِ بے کراں ہے جو ہے جوئے بار دعوت
جو جگر کا خون دے کر اسے سینچتے رہے ہم
تو چمن میں کیوں نہ آئے کبھی پھر بہار دعوت
نہ تو دارِ حرب ہی ہے نہ تو دارِ ضرب ہی ہے
یہ دیار بند اپنا ہے زبسکہ دار دعوت
کبھی شعلہ وہ بنے گی کبھی روشنی بھی دے گی
جو کسی کے دل میں کچھ بھی ہونہاں شرار دعوت
ہو جہاں لحاظ حکمت ہو وہیں زبان شیریں
ہے یہی طریقِ دعوت ہے یہی شعار دعوت
کبھی خارزار ہوگی کبھی شعلہ بار ہوگی
نہیں سیج وہ گلوں کی جو ہے رہ گزار دعوت
جو ہو سعی و جہد کامل جو خلوص بھی ہو شامل
نہ ہو کیوں مدام روشن رخ تاب دار دعوت
چلو مل کے سب اُٹھا ئیں چلومل کے سب سنبھالیں
ہے بہت گراں اگر چہ یہ متاعِ بار دعوت
ہو جہاں لحاظ حکمت ہو وہیں زبان شیریں
وہ ابوالبیاں یقیناً ہے یہ کاروبار دعوت
مولانا ابولبیان حماد
٭٭٭
محرم الحرام کا روزہ
محرم الحرام کا مہینہ عظمت والا اوربابرکت مہینہ ہے۔اسی ماہ مبارک سے ہجری سال کی ابتداء ہوتی ہے۔ اس مہینے کو اللہ کا مہینہ کہا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا مہینہ اور ہجری کیلنڈر کا مقصد اس مہینے کی عظمت ظاہر کرنا ہے۔ سال کے 12 مہینے ہیں جن میں سے چارحرمت والے ہیں ، جن میں سے 3 مسلسل ہیں ، ذوالقعدہ ، ذوالحجۃ ، اورمحرم ، اور چوتھا رجب کامہینہ ہے۔
حرمت والے ان مہینوں کی حرمت کی وجہ سے ان مہینوں میں گناہ کاارتکاب بھی زیادہ گناہ کا باعث بنتا ہے اور ان میں اعمال صالحہ کرنا بھی عظيم اجروثواب کاباعث بنایا ۔
محرم کو محرم اس لیے کہ جاتا ہے کہ یہ حرمت والا مہینہ ہے اوراس کی حرمت کی تاکید کے لیے اسے محرم کانام دیا گياہے ۔
رمضان المبارک کے بعدافضل ترین روزے اللہ تعالیٰ کے مہینہ محرم الحرام کے روزے ہيں۔
آپ ﷺ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو اسکا حکم دیا تو آپ ﷺکو بتایا گیا کہ یہود ونصاریٰ بھی 10 محرم کی تعظیم کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا :
’’جب آئندہ سال آئے گا تو ان شاء اللہ ہم 9 محرم کا روزہ بھی رکھیں گے۔‘‘
یوم عاشوراء 10 محرم کو کہا جا تا ہے اس دن کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
ارشادِ نبویﷺ ہے : ’’ مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یومِ عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا ۔‘‘
نبی ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اور یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ روزہ کیوں رکھتے ہو؟تو انہوں نے کہا: ’’اس لئے کہ یہ خوشی کا دن ہے، اس دن میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دشمن سے نجات دلائی تھی، تو سیدنا موسی نے روزہ رکھا۔ تو آپ ﷺنے فرمایا: ’’میں سیدنا موسیٰ کیساتھ تم سے زیادہ تعلق رکھتا ہوں تو آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا، اور روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا۔‘‘
اس مبارک و حرمت والے مہینےمیں ہمیں زیادہ سے زیادہ ذکر و اذکار اور نفلی عبادات کا اہتمام کرنا چاہئے ۔
٭٭٭
اہل بیت
سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: ’’ ایک دن نبی کریمﷺ پر سیاہ بالوں کی بنی چادر تھی۔ اتنے میں سیدنا حسن بن علی آ گئے، آپ نے ان کو اس چادر میں داخل فرما لیا، پھر سیدنا حسین آئے تو انہیں بھی داخل فرما لیا، پھر سیدہ فاطمہ حاضر ہوئیں تو آپﷺ نے انہیں بھی چادر میں لے لیا۔ پھر سیدنا علی آئے تو آپ نے انہیں بھی داخل فرما لیا۔ پھر فرمایا: ’’ اے اہل بیت! اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ہر بری چیز دور فرما کر تمہیں خوب پاک صاف کر دے۔‘‘ (صحیح مسلم: 2424)
تبصرہ کریں