صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کرامتیں (قسط13)۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

سیدنا زید بن حارثہ کی کرامت کہ آسمان سے فرشتہ اتر آیا

حضرت لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ تک یہ بات پہنچی کہ حضرت زید بن حارثہ نے ایک آدمی سے طائف سے ایک خچر کرایہ پر لیا۔ اس آدمی نے اسے سوار کیا اور چلا، ایک جگہ جہاں دو راستے تھے جب وہاں پہنچے تو اس نے کہا: اس راہ پر چلو ۔ میں نے کہا: میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ سیدھی راہ یہی ہے ۔ اس نے کہا: نہیں، میں پوری طرح واقف ہوں ، یہ بہت نزدیک کا راستہ ہے ۔ میں اس کے کہنے پر اسی راہ پر چلا تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک لق ودق بیابان میں ہم پہنچ گئے ہیں، جہاں کوئی راستہ نظر نہیں آتا ۔ نہایت خطرناک جنگل ہے، ہر طرف لاشیں پڑی ہوئی ہیں ۔ میں سہم گیا ۔ وہ مجھ سے کہنے لگا:

ذرا لگام تھام لو مجھے یہاں اترنا ہے میں نے لگام تھام لی وہ اترا اور اپنا تہبند اونچا کر کے کپڑے ٹھیک کر کے چھری نکال کر مجھ پر حملہ کیا ۔ میں وہاں سے سرپٹ بھاگا لیکن اس نے میرا تعاقب کیا اور مجھے پکڑ لیا میں اسے قسمیں دینے لگا لیکن اس نے خیال بھی نہ کیا ۔ میں نے کہا: اچھا یہ خچر اور کل سامان جو میرے پاس ہے تو لے لے اور مجھے چھوڑ دے اس نے کہا:

یہ تو میرا ہو ہی چکا لیکن میں تجھے زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا، میں نے اسے اللہ کا خوف دلایا آخرت کے عذابوں کا ذکر کیا لیکن اس چیز نے بھی اس پر کوئی اثر نہ کیا اور وہ میرے قتل پر تلا رہا ۔ اب میں مایوس ہو گیا اور مرنے کے لیے تیار ہو گیا ۔ اور اس سے منت سماجت کی کہ تم مجھے دو رکعت نماز ادا کر لینے دو ۔ اس نے کہا:

اچھا جلدی پڑھ لے ۔ میں نے نماز شروع کی لیکن اللہ کی قسم! میری زبان سے قرآن کا ایک حرف نہیں نکلتا تھا ۔ یونہی ہاتھ باندھے دہشت زدہ کھڑا تھا اور وہ جلدی مچا رہا تھا اسی وقت اتفاق سے یہ آیت میری زبان پر آ گئی:

﴿أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ﴾ (سورة النمل:62)

’ یعنی اللہ ہی ہے جو بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو سنتا اور قبول کرتا ہے اور بےبسی بےکسی کو سختی اور مصیبت کو دور کر دیتا ہے ۔‘‘

پس اس آیت کا زبان سے جاری ہونا تھا ، جو میں نے دیکھا کہ بیچوں بیچ جنگل میں سے ایک گھڑ سوار تیزی سے اپنا گھوڑا بھگائے نیزہ تانے ہماری طرف چلا آ رہا ہے اور بغیر کچھ کہے اس ڈاکو کے پیٹ میں اس نے اپنا نیزہ گھونپ دیا، جو اس کے جگر کے آرپار ہو گیا اور وہ اسی وقت بےجان ہو کر گر پڑا ۔

سوار نے باگ موڑی اور جانا چاہا لیکن میں اس کے قدموں سے لپٹ گیا اور بہ الحاح کہنے لگا اللہ کے لیے یہ بتاؤ تم کون ہو ؟ اس نے کہا: میں اس کا بھیجا ہوا ہوں جو مجبوروں بےکسوں اور بےبسوں کی دعا قبول فرماتا ہے اور مصیبت اور آفت کوٹال دیتا ہے میں نے اللہ کا شکر کیا اور اپنا سامان اور خچر لے کر صحیح سالم واپس لوٹا۔ (تاریخ دمشق: 19؍489؛ تفسیر ابن کثیر: ج4، سورۃ النمل: 62)

سیدنا قتادہ بن نعمان کی چھڑی کا روشن ہونا

سیدنا ابو سعید روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ پھر آسمان ابر آلود ہوا، اس رات، جب نبی ﷺ عشاء کی نما ز کے لیے نکلے تو بجلی چمکی ور اس سے قتادہ بن نعمان کو آپﷺ نے دیکھ لیا، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اے قتادہ کیا ہے راز؟انہوں نے کہا کہ مجھے یہ معلوم ہوا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! نماز میں آنے والے لوگ کم ہیں، تو میں ا س نماز میں حاضر ہونے کو پسند کیا، آپﷺ نے فرمایا: جب تم نماز پڑھ لو تو پس بیٹھے رہو، یہاں تک کہ میں تم پر گزروں، جب آپﷺ لوٹے تو ایک چھڑی عطا کی اور فرمایا کہ اسے لے لو، یہ تمہارے آگے دس (ہاتھ) روشن کرے گی اور تمہارے پیچھے دس (ہاتھ) روشن کرے گی، جب تم گھر میں داخل ہو جاؤ اور گھر کے کونے میں کالی چیز کو دیکھو تو بات کرنے سے پہلے اس کو مار دو کیونکہ وہ شیطان ہے۔ (مجمع الزوائد: 2؍167)

سیدنا طفیل بن سخبرہ کا خواب

سیدنا طفیل بن سخبرہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس آیا، میں نے کہا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم یہودی ہیں، میں نے کہا کہ بے شک تم وہ قوم ہو کہ تم عزیر کو اللہ کا بیٹا کہتے ہو، انہوں نے کہا کہ ’’بے شک تم وہ قوم ہو جو کہتے ہو جو اللہ چاہے اور جو محمد (ﷺ) چاہے۔‘‘

پھر میں نے نصاریٰ کی جماعت پر آیا اور کہا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں، میں نے کہا کہ بے شک تم وہ لوگ ہو جو یہ کہتے ہو کہ سیدنا عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں، انہوں نے کہا کہ بے شک تم وہ لوگ ہو جو کہتے ہو: ’’ جو اللہ چاہے اور محمد (ﷺ) چاہے۔‘‘

جب صبح ہوئی تو میں نے لوگوں کو اپنا خواب بیان کیا، پھر اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس خواب کے تعلق سے بیان کیا، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اس خواب کو کسی سے بیان کیا ہے؟ میں نے عرض کیا، ہاں، اللہ کے رسول ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمدوثنا بیان فرمائی، پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

حمدوثنا کے بعد کہ طفیل نے خواب دیکھا ہے اور تم میں سےبعض لوگوں کو اس تعلق سے خبر دی ہے کہ تم ایک لفظ کہتے ہو اور مجھے حیا روکتی رہی، لہٰذا تم آئندہ سے ’ماشاء اللہ و شاء محمد‘ جو اللہ چاہے اور محمد ﷺ چاہے نہ کہو بلکہ صرف ماشاء اللہ جو اللہ چاہے کہو۔ (سنن ابن ماجہ:2117)

سیدنا سلمان کی ملک الموت سے گزارش

سیدنا سلمہ بن عطیہ الاسدی روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ

سیدنا سلمان ایک شخص کی عبادت کے لیے گئے جو کہ سکرات کے آخری اسٹیج پر تھا، انہوں نے کہا: اے ملک الموت، اس آدمی پرنرمی کیجیے، راوی نے کہا کہ ملک الموت کہہ رہے تھے کہ میں ہر مؤمن کے لیے رفیق ہوں (میں ہر مؤمن کی روح آسانی سے نکالتا ہوں۔) (الحلیۃ : 1؍204)

٭٭٭

تنہائی میں بے چینی کیوں گھیر لیتی ہے؟

امام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں:

”گناہوں پر پکڑ کی جاتی ہے، علانیہ گناہوں کی علانیہ، خفیہ گناہوں کی خفیہ …“

(مجموع الفتاوى : 7؍295)

قتیل، بے مہری

(علامہ عبد اللہ یوسف علی ﷫)

10 دسمبر 1953ء کو قرآن مجید کا یہ عظیم مترجم اور مفسر لندن میں کسمپرسی کے عالم میں فوت ہوا۔

(1)

کلام پاک الٰہی کی دلنشیں تفسیر

رموزد دین وشریعت کی معتبر تشریح

بنائے خشتِ کلیسا اکھاڑ دی کس نے

صحیفہ ہائے مسیح ویہود کا احوال

چراغ جادۂ اسلام کا وہ پروانہ

نگاہِ نقد بھی تحریف پر اشارت بھی

جہان امت مرحوم کا وہ فرد فرید

وہ اک سلیس عیارِ زبانِ افرنگی

وہ ایک گنج گراں مایۂ علوم وفنون

دیار غرب میں تفہیم دین کا آغاز

وہ ایک شمع فروزاں کتاب وحدت کی

شعاعِ نور صلیبوں کے دیس میں چمکی

وہ اپنے آپ میں قاموسِ زندہ وتاباں

ہوئے گمان وتعصب کے چاک کچھ پردے

مگر قتیلِ ستم ہائے یاس دبے مہری

بکھر رہا ہے شب تارِ کذب کا افسوں

کہ تاج سر پہ لیے عظمت وجلالت کا

دلوں میں جاگ رہی ہے صداقت قرآں

دیار غرب کی تاریک وسرد راتوں میں

طلوع صبح صداقت قریب ہے شاید

بھٹکتا پھرتا تھا ویران شاہراہوں پر

٭٭٭

(2)

نہ کوئی دوست، نہ ہمدم نہ ہم سفر کوئی

یہ کس نے ارض مسیحا یوں صدا دی تھی

جگر خراش خموشی، مہیب تنہائی

یہ کس نے سینۂ ظلمت میں نور پھونکا تھا

بدن کو چیرتے تھے زمہریر کے نشتر

یہ کون لایا حرم سے کتابِ ربانی

بکھر کے رہ گیا آخر وہ لالۂ صحرا

طلسم دینِ اقانیم کس نے توڑا تھا

چھنک کے ٹوٹ گیا سازِ زندگی اس کا

نگاہ و دل کو حقیقت شناس کس نے کیا

خبر ہوئی نہ کسی عیش کے شبستاں میں

بتا کے راز اَحد، لم یلد، ولم یولد

پتہ نہ چلا کسی خادم شریعت کو

نوائے حرفِ صداقت کہاں خموش ہوئی

قلم صریر ہدایت کا، کیسے ٹوٹ گیا

ہوائے مرگ کے سفاک و سرد جھونکوں سے

چراغ بزم شریعت پہ آہ کیا گزری

٭٭٭

(3)

خبر کرو کوئی عشرت کی جلوہ گاہوں میں

بتاؤ جا کے یہ دانش وروں کی بستی میں

سناؤ محفلِ ارشاد وعظ میں جا کر

کہ وہ صحیفۂ جاوید کا معانی داں

عظیم شارح ِ اسرار نصِ قرآنی

تباہ حال، پریشاں و خستہ تن ہو کر

قریب نصف صدی قبل دشتِ مغرب میں

کنار گور غریباں میں سو گیا جا کر

اب اس کی قبر کا شاید نشان بھی نہ ملے

شاعر: علامہ اطہر نقوی دہلوی﷫

٭٭٭

تبصرہ کریں