صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کرامتیں (قسط15)۔ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

سیدنا عباس بن عبد المطلب کی کرامت !

سیدنا انس سے روایت ہے کہ سیدنا عمر جب قحط سالی سے دوچار ہوتے تو سیدنا عباس سے بارش کی دعا کراتے اور دعا کرتے: ’’اے اللہ!پہلے ہم اپنے نبی کریم ﷺ سے بارش کی دعا کراتے تھے تو ہمیں بارش سے سیراب کرتا تھا، اب ہم اپنے نبی کے چچا سے بارش کی دعا کراتے ہیں، اس لیے ہمیں بارش سے سیراب کر۔ ‘‘ راوی کہتا ہے کہ اس کے بعد خوب بارش ہوتی۔ (صحیح بخاری: 3710)

سیدہ زینب بنت جحش کی کرامت

سیدہ ہرزہ بنت رافع روایت کرتی ہیں ، انہوں نے کہا کہ جب ہدیات آئے تو سیدنا عمر نے سیدہ زینب بنت جحش کے پاس بھیجا،جب وہ ان کے پاس پہنچیں تو انہوں نے کہا :

اللہ تعالیٰ سیدنا عمر کو بخشے کہ میرے علاوہ میرے بہنیں ہیں جو اس کے زیادہ مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارا آپ کے لئے ہے، انہوں نے کہا:

سبحان الله! اور اسے ایک کپڑے سے چھپا لیا اور کہا کہ آپ اپنا ہاتھ اس میں ڈالیں اور اس سے ایک مٹھی بھر لے کرفلاں کو دے دیں اور ایک مٹھی بھر کر فلاں کو تقسیم کر دیں، ان کے بچوں اور رشتہ داروں کو انہوں نے سب میں تقسیم کر دیا، اس کے باوجود کچھ باقی رہ گیا، ان سے برزہ نے کہا، اللہ تمہیں بخش دے ، ہمارا بھی اس میں حصہ ہونا چاہیے تو انہوں نے کہا:

تمہارے لئے وہ ہے جو کپڑے کے نیچے ہے ، انہوں نےکہا کہ ہم نے کپڑے کو اٹھایا تو اس کے نیچے پچاسی (85) درھم تھے۔ پھر سیدہ زینب بنت جحش نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور کہا کہ اے اللہ!اس سال کے بعد عمر کی عطا مجھے نہ پہنچے ۔ چنانچہ اسی سال ان کا انتقال ہو گیا ۔( الاصابۃ لحافظ ابن حجر :12؍162؛ مجابو الدعوۃ: 80)

ابوالمندر ابى بن كعب کی كرامت

سیدنا عبد اللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ سیدنا عمربن الخطاب نے کہا: ہمیں ہماری قوم کی زمین کی طرف لے چلو، چنانچہ سب کے سب نکل پڑے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا ابی بن کعب لوگوں سے پیچھے تھے، اچانک بادل گھِر کر آگئے تو سیدنا اُبی بن کعب نے کہا: اللہ اس کے نقصان سے ہمیں محفوظ ر کھ، پھر ہم دوسرے لوگوں سے جاملے، جبکہ ان کی سواریوں کے کجاوے بھیگ چکے تھے ، سیدنا عمر نے ان کو دیکھ کر کہا: ہمیں جو نقصان ہوا وہ تمہیں نہیں ہوا؟ ہم نے کہا : سیدنا ابو ذر نے الله سے دُعا کی تھی کہ اس کے نقصان سے ہمیں بچائے۔

سیدنا عمر نے کہا کہ تم اپنی دعا میں ہمیں بھی شامل کرتے تو ہم بھی اس نقصان سے بچ جاتے۔

(مجابو الدعوة ابن ابى الدنيا : ص74)

ابو نجید عمران بن حصین کی کرامت

سیدنا مطرف بن عبداللہ کہہ رہے تھے کہ مجھ سے سیدنا عمران بن حصین نے کہا کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کر رہا ہوں، شاید اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے فائدہ دے۔ اللہ کے رسول ﷺنے عمرہ اور حج کو جمع فرمایا اور اس سے منع نہیں فرمایا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺوفات پا گئے اور قرآن میں اس کی حرمت نازل نہیں ہوئی ہے ۔ (صحیح مسلم: 1226)

غزل

متاعِ صبر لٹی، دولتِ قرار گئی

وہ ہم سے دور ہوئے، رونقِ بہار گئی

پڑی جو ایک نظر ان کی، صحن گلشن میں

کلی کو پھول کیا، پھول کو نکھار گئی

حیات، لذت وغم کا حسین سنگم ہے

کہ آئی ناز سے، لوٹی تو اشکبار گئی

مرض یہ قوم کا کچھ بھی سمجھ میں آ نہ سکا

خدا کو چھوڑ کے کیوں جانبِ مزار گئی

دیا ہے شمع نے انساں کو درسِ عبرت یوں

جلا کے اپنی ’انا‘ بزم کو سنوار گئی

وطن جو لوٹے تو عقدہ کھلا ہے یہ ثاقب

خزاں تھی دشت میں، اب گھر سے بھی بہار گئی

ثاقب

اولڈہم: سابق امام وخطیب مولانا عبد العزیز کی وفات

سابق امام وخطیب مولانا عبد العزیز وفات پا گئے۔ مرحوم ضلع کوٹلی کے مفتی عبد الغفار سلفی بن خرماں آزاد کشمیر کے والد تھے اور جمعیۃ اہل حدیث برطانیہ کے معروف عالم دین تھے۔ ان کی وفات پر حاجی حبیب الرحمٰن جہملی گلاسگو، مولانا قاری لیاقت علی باجوہ سیالکوٹ، مولانا شعیب احمد میرپوری، قاری ذکاء اللہ سلیم، مولانا محمد عبد الہادی العمری، مولانا شفیق الرحمٰن شاہین، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور دیگر علمائے کرام اور احباب نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کی مغفرت کیلیے دعا کی ہے۔ نماز جنازہ میر پور آزاد کشمیر میں رئیس جامعہ اثریہ جہلم مولانا حافظ عبد الحمید عامر مدنی نے پڑھائی، جس میں علماء واحباب نے شرکت کی۔ ملک اور بیرون ملک مرحوم کی نمازہ جنازہ غائبانہ بھی ادا کی گئی۔

تبصرہ کریں