سردی کا موسم مؤمن کے لیے موسم بہار-شیخ مقصود الحسن فیضی

یہ سردی کا موسم ہے ، لوگوں کے لباس وہیئت پر ہر طرف سے سردی کے آثار ظاہر ہیں ، بعض علاقوں میں سردی سے لوگ سخت پریشان ہیں ، ہر شخص نے اپنی اپنی حیثیت و وسعت اور علاقے کے مطابق گرم کپڑے ، لحاف اورمکان رہائش کا انتظام کیا ہے ، حتی کہ بازاروں اور سڑکوں پر بھی موسم سرما کی آمد کے آثارپائے جارہے ہیں ، ایسے موقعہ پر اپنی بساط ، مزاج اور طبیعت کے لحاظ سے لوگوں کے رجحانات مختلف ہیں ، کوئی سردی سے کبیدہ خاطر ہے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنکی زبانوں پر سردی کی برائی ہے اور ایسے لوگ بھی ہمیں ملیں گے جن کے لئے موسم سرما کی آمد خوشی کا باعث ہے ۔

لیکن شرعی اعتبار سے موسم سرما سے متعلق ایک مومن کا موقف کیا ہونا چاہئے اس سے عمومی طور پر لوگ غفلت میں ہیں ، لہٰذا موسم سرما کی مناسبت سے خیر کے طالب مسلمانوں بھائیوں کے لئے چند ہدایات رکھی جارہی ہیں ۔

1۔ سردی کا اصل سبب

اس دنیا میں کسی بھی چیز کے وجود کا اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک سبب رکھا ہے جس کا علم عام طور پر لوگوں کو ہے ،مثلا بارش کا ایک سبب ہے گرمی کا ایک سبب ہے اسی طرح رات و دن کی آمد کا ایک سبب ہے لیکن بسا اوقات کسی چیز کے وجودکا ایک باطنی سبب بھی ہوتا ہے جس کا علم صرف عالم الغیب والشہادہ کے پاس ہے ، البتہ اگر وہ چاہتا ہے تو اپنے مخصوص بندوں کو ان میں سے بعض چیزوں کا علم دے دیتا ہے ، چنانچہ اس دنیا میں سردی وگرمی کا ایک محسوس سبب ہے جسے عام طور پر لوگ جانتے اور پہچانتے ہیں جیسے سورج کی گردش ، موسم سرما یا گرما کا داخل ہونا اور ہوائوں کا چلنا وغیرہ ، لیکن اسکا ایک باطنی سبب بھی ہے جسکا علم نبیﷺ کے ذریعہ ہمیں ملا ہے ۔

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا :

وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الحَرِّ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ (صحیح بخاری: 537 ؛ صحیح مسلم : 617 )

’’جہنم نے اپنے رب سے شکایت کرتے ہوئے کہا : اے میرے رب ؛ میرے ایک حصے نے دوسرے کوکھا لیا ،لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اسے دوسانس کی اجازت دے دی ، ایک سانس سردی کے موسم میں اور دوسرا سانس گرمی کے موسم میں ، اس طرح تمہیں جو سخت گرمی محسوس ہوتی ہے وہ جہنم کی گرمی کی وجہ سے ہے اور جو سخت سردی محسوس ہوتی ہے وہ جہنم کے زمہریر کی وجہ سے ہے ۔‘‘

ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے:

إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ (صحیح بخاری: 534 ؛ صحیح مسلم: 615)

’’جب گرمی سخت ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو ، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی گرمی کی وجہ سے ہے ۔‘‘

ان دونوں حدیثوں سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ سردی وگرمی کے اس ظاہر سبب کے علاوہ جو لوگوں کو معلوم ہے اسکا ایک باطنی اورحقیقی سبب بھی ہے اور وہ ہے جہنم کے دو سانس ، یعنی جہنم جب اپنا سانس باہر کرتی ہے تو موسم گرم ہوجاتا ہے اور جب وہی سانس جہنم اندر کرتی ہے تو موسم میں سردی چھا جاتی ہے ۔نیز ان حدیثوں سے ایک فائدہ یہ بھی حاصل ہوا کہ اہل سنت وجماعت کے عقیدہ کے مطابق جنت وجہنم مخلوق اور اس وقت بھی موجود ہیں، البتہ اس کا مکان وجود کہاں ہے یہ صرف اللہ تعالی کو معلوم ہے ۔

2۔ فطری وطبعی چیزوں کو برا بھلا مت کہو

چونکہ سردی وگرمی اللہ تعالی کی مخلوق ہیں ، ان میں سختی وگرمی بحکم الٰہی ہے، لہٰذا انہیں گالی دینا اور برا بھلا کہنا جائز نہیں ہے ، چنانچہ حدیث قدسی میں نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ

’’آدم کابیٹا مجھ کو دکھ دیتا ہے ، اسطرح کہ وہ زمانے کو گالی دیتا ہے ، حالانکہ میں زمانہ ہوں ، رات ودن کو میں ہی پھیر تا ہوں ۔‘‘ (صحیح بخاری: 4826 )

یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے ہوا اور اس طرح کی دیگر فطری اور بحکم الہٰی آنے جانے والی چیزوں کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ، کیونکہ علی سبیل المثال ہوا حکم الہٰی کے تابع ہو کر چلتی ہے، اب اسے برا کہناگویا اسکے خالق اور اس میں متصرف ذات کو برا کہنے کے ہم معنی ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص سخت یا تیز و تند ہوا دیکھے تو برا بھلا کہنے کے بجائے اسے چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ اس ہوا کے شر سے اسے محفوظ رکھے اور اس میں جو خیر کا پہلو ہو اس سے محروم نہ کرے۔ (سنن ابو داود:5097 ؛ سنن ابن ماجہ : 3727 )

اسی شرعی قاعدے کے تحت ہر مسلمان کو چاہئے کہ جہاں وہ سردی سے بچنے کے لئے ظاہری اسباب اختیار کرے وہیں اس طرف بھی توجہ دے کہ اس موسم میں ہمارے لئے خیر کے پہلو کیا ہیں؟ کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتاہے :

﴿وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا﴾

’’اور اسی نے رات و دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا ، اس شخص کی نصیحت کے لئے جو نصیحت حاصل کرنے یا شکر گزاری کرنے کا اردہ رکھتا ہو ۔‘‘ (سورة الفرقان:62)

3۔ موسم سرما میں مومن کے لئے خیر کے پہلو:

ا – روزہ : روزہ کو اسلام میں جو اہمیت حاصل ہے وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہے ، یہی کیا کم ہے کہ حدیث قدسی میں ارشاد نبوی ہے : اللہ تعالی فرماتا ہے:

كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ (صحیح بخاری: 1904)

’’ابن آدم کے تمام اعمال اسکے لئے ہیں سوا روزے کے جو میرے لئے ہے اور میں ہی اسکا اجر دوں گا ۔‘‘

علاوہ ازیں روزے کو اللہ تعالی نے جہنم سے ڈھال اور جنت کا راستہ قرار دیا ہے ، روزے دار کی دعاوں کی قبولیت کا اللہ تعالی نے وعدہ کیا ہے ، روزہ دار کی منہ کی بو مشک سے بھی زیادہ پسند کرتا ہے اور روزہ داروں کے لئے جنت کا ایک دروازہ خاص کر رکھا ہے وغیرہ۔ (صحیح الترغیب: 1؍576)

اب اگر غور کیا جائے تو نیکیوں پر حریص مسلمان موسم سرما میں ان فضیلتوں کو بڑی آسانی سے حاصل کرسکتا ہے ، کیونکہ سردی کے موسم میں دن چھوٹا ہوتا ہے ، موسم ٹھنڈا رہتا ہے جس کی وجہ سے انسان کو بھوک و پیاس کا احساس کم اور کم ہی ہوتا ہے ، لہٰذا بڑی آسانی سے روزہ رکھا جاسکتا ہے مسلمانوں کی توجہ اسی طرف دلاتے ہوئے نبی رحمت ﷺ نے فرمایا :

الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ

(جامع ترمذی: 797 )

’’ٹھنڈی (بڑی آسان )غنیمت یہ ہے کہ سردی کے موسم میں روزہ رکھا جائے ۔‘‘

یعنی جس طرح وہ مال جو اللہ کے دشمنوں سے حاصل ہو اور اس میں لڑائی نہ کرنی پڑے ، مٹھ بھیڑ نہ ہو اور نہ ہی جان کا خطرہ مول لینا پڑے تو اس سے ایک انسان کس قدر خوش ہوتا ہے اور اسے حاصل کرنے کی طرف کس قدر راغب ہوتا ہے اسی طرح سردی کے موسم میں روزہ بلا مشقت و پریشانی کے رکھا جا سکتا ہے۔

ب ۔ تہجد کی نماز :

تہجد اور شب بیداری اللہ تعالیٰ کےنیک بندوں اور جنت کے وارثین کا شیوہ رہا ہے ، ارشاد ربانی ہے:

﴿كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ0‏ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾

’’وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے اور وقت سحر استغفار کیا کرتے تھے ۔‘‘ (سورۃ الذاریات :18،17 )

﴿وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا﴾

’’اور (اللہ رحمان و رحیم کے خاص بندے وہ ہیں) جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزارتے ہیں ۔‘‘ (سورۃ الفرقان : 64)

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے :

عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ دَأَبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ وَإِنَّ قِيَامَ اللَّيْلِ قُرْبَةٌ إِلَى اللَّهِ وَمَنْهَاةٌ عَنْ الْإِثْمِ (جامع ترمذی: 3549 ؛ مستدرک حاکم: 1؍321 )

’’تم لوگ قیام اللیل کا اہتمام کرو اس لئے کہ یہ تم سے قبل نیک لوگوں کا طریقہ رہا ہے اور یہ تمہارے رب کی قربت کے حصول کا ذریعہ ہے ، قیام اللیل گناہوں کی معافی اور گناہوں سے بچنے کا سبب ہے ۔‘‘

نیز فرمایا:

أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الرَّبُّ مِنْ الْعَبْدِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ الْآخِرِ فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللَّهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ

’’اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری حصہ میں ہوتا ہے ، لہٰذا اگر تم سے ہو سکے تو ان لوگوں میں شامل ہو جاؤ جو اس وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں ۔‘‘ (جامع ترمذی: 3579)

قابل غور ہے کہ موسم سرما کی راتیں قیام اللیل اور تہجد کے لئے کس قدر مناسب ہیں کیونکہ موسم سرما کی راتیں اس قدر طویل ہوتی ہیں کہ بندہ اگر رات میں دیر گئے سوئے تو بھی تہجد کے لئے آسانی سے بیدار ہو سکتا ہے اس لئے کہ جن دنوں میں یہ سطریں لکھی جارہی ہیں، عشاء کی اذان اور طلوع فجر کے درمیان 10 گھنٹے سے زیادہ کا وقفہ ہے ، اب اگر ایک مسلمان اس میں سے چار گھنٹے بھی اپنے ضروریات کے لئے رکھ لے تو باقی ساڑھ پانچ گھنٹے یا اس سے زیادہ کی مدت کسی بھی شخص کے نیند سے آسودہ ہونے کے لئے کافی ہیں۔

درج ذیل حدیث میں اسی طرف مومن کی توجہ مبذول کی گئی ہے :

اَلشِّتاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ طَالَ لَيْلُهُ فقامَهُ وَقَصُرَ نَهَارُهُ فَصَامَهُ (مسند احمد : 3؍75؛ شعب الایمان: 3؍416؛ مسند ابویعلی: 1386، امام نور الدین﷫ اس حدیث کو حسن کہتے ہیں جبکہ علامہ البانی﷫ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔)

سردی کا موسم مومن کے لئے بہار کا موسم ہے کہ اسکی راتیں لمبی ہوتی ہیں جن میں وہ قیام کر لیتا ہے اور دن چھوٹے ہوتے ہیں جن میں وہ روزے رکھ لیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کے بہت سے نیک بندے موسم سرما کی آمد پر خوش ہوتے تھے ، چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود موسم سرما کی آمد پر فرماتے:سردی کو خوش آمدید ، اس موسم میں برکتیں نازل ہوتی ہیں ، اس طرح کہ تہجد کے لئے رات طویل ہوجاتی ہے اور روزہ رکھنے کے لئے دن چھوٹا ہوجاتا ہے ۔

ایک اور بزرگ سیدنا عبید بن عمیر﷫موسم سرما کی آمد پر فرماتے: اے اہل قرآن! تلاوت قرآن کے لئے رات لمبی ہو گئی ہے اورر وزہ رکھنے کیلئے دن چھوٹا ہوگیا ہے، لہٰذا اس موسم میں دن کو روزہ اور رات میں تہجد کا خصوصی اہتمام کرو۔ (لطائف المعارف: 453)

ج۔ صبر :

اس میں کوئی شک نہیں کہ مذکورہ دونوں عبادتوں میں سردی سخت رکاوٹ بنتی ہے اور اس کے لئے صبر اور برداشت کی ضرورت پڑتی ہے ، لیکن ایک مومن کو اچھی طرح جاننا چاہئے کہ صبر وہ نیکی ہے جس پر اللہ تعالیٰ بے حساب اجر دیتا ہے۔

﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ (سورة الزمر :10)

’’صبر کرنے والوں کو انکا اجر بے حساب دیا جائے گا۔‘‘

ارشاد نبویﷺ ہے :

«وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنْ الصَّبْرِ»

’’اور جو صبر کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دے گا اور (یاد رہے کہ) صبرسےبہتر اور وسیع تر کوئی عطیہ کسی شخص کونہیں دیا گیا۔‘‘ (صحیح بخاری: 1469)

واضح رہے کہ علماء کہتے ہیں کہ قرآن وحدیث میں جس صبر کی فضیلت وارد ہے اسکی تین قسمیں ہیں:

1۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ مصائب پر صبر۔

2۔اللہ تعالیٰ کی حرام کرہ چیزوں سے رکنے پر صبر

3۔اللہ تعالیٰ کے اوامر کی ادائیگی پر صبر ۔

صبر کی یہی تیسری قسم سورۃ العصر میں زیادہ واضح ہے اور اسی قسم کی سردی کے موسم میں زیادہ ضرورت پڑتی ہے لہٰذا جو شخص اس صبر میں کامیاب ہو گیا وہ سردی کے موسم میں تہجد بھی پڑھ لیگا اور روزہ بھی رکھ لیگا ۔ کیونکہ سردی کے موسم میں نرم وگرم بستر سے اٹھنا ، تہجد کے لئے وضو کرنا ، سردی کی حالت میں نماز میں کھڑے ہونا ، اور روزہ رکھنے کے لئے سحری کے وقت میں کچھ کھانا نیز جسم میں پانی وکھانے کی کمی کی وجہ سے جب سردی زیادہ محسوس ہوتو اسے برداشت کرنا ، یہ سب کچھ بغیر صبر کے ممکن نہیں ہے۔

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے :

میری امت کا ایک شخص رات کو بیدار ہوتا ہے ،وضو اور اسکی پریشانی پر اپنے نفس کو مجبور کرتا ہے تو جب وضو کے لئے اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، جب چہرہ دھوتا ہے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے ، جب سرکا مسح کرتا ہے تو ایک تیسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب پیر دھوتا ہے تو چوتھی گرہ بھی کھل جاتی ہے ، یہ دیکھ کر پردہ کی آڑمیں موجود فرشتوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے اس بندے کو دیکھو؛ اپنے نفس پر زور دے کر وضو کی تکلیف برداشت کر رہا ہے اور مجھ سے کچھ سوال کررہا ہے ، لہٰذا تم سب گواہ رہو کہ میرے بندے نے مجھ سے جو کچھ مانگا اسے ہم نے دے دیا ، میرے بندے نے مجھ سے جو کچھ مانگا اسے ہم نے دے دیا۔ (مسند احمد: 4؍201؛ صحیح ابن حبان: 2؍347)

سیدنا عبد اللہ بن مسعود سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ دو شخصوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ ہنس دیتا ہے، ایک وہ شخص جو سرد رات میں اپنے بستر اور لحاف سے اٹھ کر وضو کرتا ہے ، پھر جب نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے:

میرے بندے کو یہ تکلیف برداشت کرنے پر کس چیز نے ابھارا ہے ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ وہ آپ کی رحمت کا امید وار ہے اور آپ کے عذاب سے خائف ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم لوگ گواہ رہو میں نے اس کی امیدیں پوری کردیں اور جس چیز سےخوف کھا رہا ہے اس سے امن دےدیا ۔

(الطبرانی:صحیح الترغیب: 1؍402 علامہ البانی﷫ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث موقوف ہے لیکن حکما مرفوع ہے ۔)

مسلمان بھائی: اس سردی کے موسم میں آپ بھی اپنے رب رحیم کے ہنسنے کا سبب بن سکتے ہیں اور جسے دیکھ کر اس کے رب نے ہنس دیا وہ کامیاب ہوا ۔

﴿ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾

’’سب سے عظیم کامیابی یہی ہے ۔‘‘

د۔ اکمال وضو :

وضو کو اللہ تعالیٰ نے بڑی اہمیت دی اور وضو کرنے کی بڑی فضیلت رکھی ہے ، خاص کر اگر کوئی شخص وضو کو مکمل اور اچھی طرح سے کرتا ہے تو اس کے لئے حدیثوں میں بہت بڑی خوشخبری ہے۔

ارشاد نبویﷺ ہے :

«مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، مُقْبِلٌ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» (صحیح مسلم : 234)

’’جب کوئی مسلمان وضو کرتا ہے اور اچھی طرح سے وضو کرتا ہے ، پھر کھڑا ہوکر دورکعتیں ایسی پڑھتا ہے کہ قلب و قالب سے اس میں مگن رہا تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی ۔‘‘

نیز فرمایا:

إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ شَطْرُ الْإِيمَانِ

(سنن نسائی: 2436)

’’پورا پورا وضو کرنا آدھا ایمان ہے ۔‘‘

پھر اگر یہی وضو اور اس کا پورا پورا کرنا سردی کے موسم اور کراہت نفس کے باوجود ہو تو اس کا اجر مزید بڑھ جاتا ہے ۔ارشاد نبویﷺ ہے :

«أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ». قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ »

(صحیح مسلم : 251)

’’کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتلاؤں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کر دے اور تمہارے درجات بلند کردے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول(ﷺ)! کیوں نہیں، آپﷺ نے فرمایا : سردی کی مشقت اور ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم بڑھا نا ، پس یہی رباط ہے ، یہی رباط ہے ۔‘‘

گویا عام حالت میں وضو سے تو صرف گناہ معاف ہوتے ہیں ، البتہ سردی کے موسم میں اچھی طرح وضو کرنے سے گناہ ہوں کی معافی کے ساتھ جنت میں بندوں کے درجات بھی بلند ہوتے ہیں ، یہ بات اورکئی حدیثوں میں وارد ہے نیز ملأ اعلیٰ سے متعلق حدیث میں ہے کہ ” اور سخت سردی کے موسم میں اچھی طرح سے وضو کرنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں رہنا (یہ وہ عمل ہے کہ) جو شخص اس پر مداومت کرلے اس کی زندگی بخیر ہے ، اس کی موت بھی بخیر ہے اور اپنے گناہوں سے ایسے ہی پاک ہوجا تا ہے جس طرح اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔‘‘ (جامع ترمذی ؛ صحیح الترغیب : 1؍197)

ھ۔صدقۃ و خیرات :

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ

كلُّ امرِئٍ في ظلِّ صَدقتِهِ، حتّى يُفصَلَ بينَ النّاسِ (مسند احمد: 4؍147؛ مستدرک حاکم: 1؍416 )

’’قیامت کے دن لوگوں کا فیصلہ ہوجانے تک ہر شخص اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا۔‘‘

نیز فرمایا:

«وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ» (جامع ترمذی :2616؛ سنن ابن ماجہ : 3973 )

’’صدقہ گناہوں کو اسطرح مٹادیتا ہے جسطرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ۔‘‘

پھر اگر یہی صدقہ وقت حاجت و ضرورت ہو تو اس کی اہمیت و فضیلت اور بڑھ جاتی ہے ، خاص کر سردی کے موسم میں جبکہ لوگ سردی سے بچنے کے لئے، کپڑے، گرم لباس اور لحاف وغیرہ اور آمدنی میں کمی کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاءکے محتاج ہوتے ہیں تو ایسے ایام میں صدقہ کی فضیلت بڑھ جاتی ہے ، چنانچہ نبی کریمﷺ سے سوال کیا گیا کہ سب سے افضل عمل کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :

إدخالُكَ السُّرورَ على مؤمنٍ، أشبعتَ جَوْعَتَهُ، أو كسَوتَ عورَتَه، أو قضَيتَ لهُ حاجةً (طبرانی الاوسط: 6؍38، رقم الحدیث: 5077)

” سب سے افضل عمل یہ ہے کہ کسی مومن کے دل کو تو خوش کردے ، اس طرح کہ اسکی شرمگاہ کو چھپا دو (یعنی کپڑا پہنا دو) اس کی بھوک کو دور کردو یا اس کی ضرورت پوری کردو۔‘‘

اگر غور کیا جائے تو سردی کاکے موسم اس فضیلت کے حاصل کرنے کا بہترین موقعہ ہے کیونکہ ہمارے پڑوس میں ، ہمارے علم میں اور ہمارے آس پاس کے علاقے میں کتنے ایسے لوگ ملیں گے جنکے پاس سردی سے بچنے کے لئے کپڑے ہونگے اور نہ لحاف و رضائی انہیں دستیاب ہوگی اور بہت سے لوگ ایسے بھی ملیں گے کہ گھر کا سرپرست بیمار ی یا کمزوری کی وجہ سے کھانے اور علاج کیلئے پیسہ نہ کماپا رہا ہو گا اسے بچوں کے کھانے اور اپنے علاج کیلئے پیسوں کی ضرورت ہے ، ایسی صورت میں ہر شخص اپنی استطا عت اور بساط کے مطابق صدقہ کرکے اپنے رب کو راضی کر سکتا ہے اور محشر کے میدان میں اپنے لئے سایہ انتظام کرسکتا ہے۔

مشہور تابعی اور کتب ستہ کے راوی صفوان بن سلیم﷫ ٹھنڈی کے موسم میں ایک شب مسجد نبوی سے باہر نکلے ، دیکھا کہ ایک شخص سردی سے کانپ رہا ہے اور اسکے پاس اپنے آپ کو سردی سے بچانے کے لئے کپڑے نہیں ہیں ، چنانچہ انہوں نے اپنی قمیص اتاری اور اس شخص کو پہنادیا ، اسی شب بلاد شام میں کسی شخص نے خواب دیکھا کہ

صفوان بن سلیم صرف ایک قمیص صدقہ کرنے کی وجہ سےجنت میں داخل ہو ئے، وہ شخص اسی وقت مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوا ہے اور مدینہ منورہ آکر صفوان بن سلیم﷫ کا پتہ دریاف کیا اور ان سے اپنا خواب بیان کیا ۔ (صفۃ الصفوۃ : 2؍ 154)

و۔ جہنم کی یاد :

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دار فانی میں کچھ جگہیں ، بعض موسم اور کچھ حالات ایسے بنائے رکھے ہیں جو اسے آخرت کی یاد دلاتے ہیں ، بعض جگہیں اور زمانے اسے جنت کی یاد دلاتے ہیں اور بعض جگہیں اور زمانے جہنم کی یاد دلاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ باہر سے آنے والے ایک حاکم و بادشاہ نے جب سرزمین کشمیر پر قدم رکھا اور وہاں کے خوبصورت موسم اور سبزہ زاری کا مشاہد کیا تو بر جستہ کہہ اٹھا ۔

” اگر فردوس بر روئے زمین است ۔ ۔ ہمین است و ہمین است وہمین است ‘‘

اگر کہیں رو ئے زمین پر جنت ہے تو وہ یہی جگہ ہے وہ یہی جگہ ہے ۔

بعینہ اسی طرح سخت سری وگرمی کی کا موسم انسان کو جہنم کی یاد دلاتا ہے کیونکہ ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اس روئے زمین پر سردی و گرمی کی شدت کا اصل سبب جہنم ہے،لہٰذا جب انسان کو سخت اور ناقابل برداشت گرمی محسوس ہوتو اسے فورا ًجہنم کی گر می وتپش یاد آجاتی ہے او ر وہ اپنے رب سے بعجز وعاجزی جہنم سے بچنے کی دعا کرنے لگتا ہے حتی کہ اگر ایمان تازہ ہو معمولی گرمی بھی مومن کو جہنم کی یاد دلاتی ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہ فرماتے تھے کہ

حمام بہت اچھا گھر ہے جس میں ایک مومن داخل ہوتا ہے تو اپنے میل کچیل صاف کرتا ہے اور اس میں جہنم سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہے۔ (المطالب العالیہ: 1؍50حافظ کہتے ہیں کہ یہ اثرصحیح ہے ۔)

حافظ ابن رجب﷫ لکھتے ہیں کہ کسی نیک بندے نے غسل کیلئے حمام کا قصد کیا ، اور جب وہ حمام میں داخل ہوئے اور سرپر گرم پانی پڑا تو محسوس کیا کہ یہ پانی کچھ زیادہ ہی گرم ہے، لہٰذا پیچھے ہٹے اور رونا شروع کردیا ، پوچھنے پر وجہ بتلائی کہ مجھے جہنمیوں کے بارے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد آگیا کہ

﴿يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ﴾

(سورۃ الحج :19)

’’ان کے سر کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا ۔‘‘ (لطائف المعارف: 547)

اسی طرح مؤمن بندہ کو جب سردی اور اس کی شدت محسوس ہو اور اسے تنگ کرے تو اسے زمہریر کی ٹھنڈک یاد کرنا چاہئے کیونکہ جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ اہل جہنم کو سخت اور ناقابل برداشت جلن اور آگ کا عذاب دے گا اسی طرح ناقابل برداشت ٹھنڈکا بھی عذاب دے گا چنانچہ علماء کہتے ہیں کہ

جہنم میں ایک طبقہ زمہریر یہ ہے ، جب کافر آگ میں جلتے جلتے تنگ آجائیں گے اور رب سے ٹھنڈے پانی کا مطالبہ کریں گے تو اللہ تبارک وتعالیٰ انھیں جہنم کے طبقہ زمہریریہ میں ڈال دے گا جس میں سخت سردی کی وجہ سے ان کی ہڈیاں پھٹ جائیں گی ۔

لہٰذا سخت سردی کے موسم میں ایک مومن کو چاہئے کہ وہ جہنم کو کثرت سے یاد کرے اور اس سے بچنے کی دعا کرے چنانچہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے :

مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتْ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ اسْتَجَارَ مِنْ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتْ النَّارُ اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنْ النَّارِ (جامع ترمذی: 2572)

’’جو مسلمان بھی 3 بار اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت بطور سفارش اللہ تعالیٰ سے عرض کرتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو جنت میں داخل فرمادے اور جو مسلم بندہ اللہ تعالیٰ سے تین بار جہنم سے پناہ چا ہتا ہے، اے اللہ اسے جہنم سے پناہ دے گا۔‘‘

٭٭٭

شیخ سلیمان الرحیلی کی ایک قیمتی نصیحت

میری عمر 60 سال کے قریب پہنچ چکی ہے۔ میرے بھائی! اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں انسان کی عمر جب ڈھل جاتی ہے تو اسے زندگی کے ان اوقات اور لمحات پر افسوس ہوتا ہے جسے اس نے طاقت و قوت ہونے کے باوجود ضائع و برباد کر دیا۔ جوں جوں آپ کی عمر ڈھلتی جائے گی یقین جانیں آپ لاغر و کمزور ہوتے جائیں گے۔ اب آپ وہ بہت ساری چیزیں کرنے کی طاقت نہیں رکھتے جو پہلے کر سکتے تھے۔

اللہ کی قسم سب سے زیادہ حسرت و افسوس زندگی کے ان ایام اور اوقات پر ہوگا جس میں انسان کچھ حفظ کر سکتا تھا، کچھ علم حاصل کر سکتا تھا، قیام اللیل پڑھ سکتا تھا اور روزے رکھ سکتا تھا مگر مرور وقت کے ساتھ اس کے جسم کی طاقت و قوت ختم ہو جاتی ہے۔

بالخصوص اگر انسان کو یہ معلوم ہو جائے کی کسی عمل یا عبادت کی پابندی کرنے کے بعد اگر کسی وجہ سے اسے کرنے سے معذور ہو جائے تو اس کا اجر و ثواب اسے آخری دم تک ک ملتا رہے گا تو ایسے میں اسے اپنے ضائع کئے ہوئے ایام اور لمحات پر اور بھی زیادہ افسوس ہوگا۔

آپ سب ابھی جوان ہیں اسی لیے میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس جوانی کو غنیمت سمجھیں اور اسے اللہ کی رضا اور خوشنودی کے کاموں میں استعمال کریں۔اللہ کی قسم سعادت مند شخص وہ ہے جو اپنے اور اپنے رب کے درمیان تعلق کو آباد رکھے اگرچہ تم دنیا کے گمنام ترین شخص ہو۔ لوگ تمہیں نہیں جانتے ہیں۔ لوگوں کے درمیان تمہاری کوئی وقعت اور اہمیت نہیں۔ تاہم اگر تمہار دل آباد ہے اور تمہارا تعلق اللہ سے مضبوط ہے تو تم دنیا کے سب سے زیادہ سعادت مند، دولت مند اور بہترین انسان ہو۔ اس لئے اپنے دلوں کو آباد رکھیں اور صحیح راستے پر گامزن رہیں۔ اس کے سوا کسی اور چیز کی پرواہ نہ کریں۔

یاد رکھیں یے یہ چیز ناممکن ہے کہ دنیا کے سارے لوگ آپ سے خوش ہو جائیں بلکہ انسان جتنا ہی اچھا ہوتا ہے اس کے نا چاہنے والے اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ اکثر لوگوں کو اچھائی پسند نہیں ہوتی۔ اس لئے لوگوں کی پرواہ نہ کریں۔ اللہ کے ساتھ تعلق کو آباد رکھنے کی کوشش کریں۔ ثابت قدم رہیں اور صحیح راستے پر چلتے رہیں یہاں تک کہ اللہ سے ملاقات کا وقت آجائے۔

٭٭٭٭

تبصرہ کریں