
دیت کی رقم کو بنک میں انویسٹ کرنا
سوال: میں اپنی فیملی کے ساتھ یورپ کےایک ملک میں مقیم ہوں۔ میری بیٹی کا آپریشن تھا اور ڈاکٹروں کی غلطی سے وہ جسمانی اور عقلی طور پر بالکل معذور ہو چکی ہے اور یہ حالت ساری زندگی ایسے ہی رہے گی ، ہم والدین اب اس کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں، حکومت نے ہمیں ایک بھاری معاوضہ عطا کیا ہے ۔ بنک نے ہمیں یہ پیشکش کی ہے کہ اگر ہم ا س رقم کا ایک بڑا حصہ ڈنمارک کی حکومت کے بانڈز میں بطور کاروبار لگا ئیں تو پندرہ سال تک ہمیں ایک فکسڈ نفع ملتا رہے گا۔
میرا سوال یہ ہے کہ آیا اس منافع کی رقم جو6 ہزار کرونہ ماہانہ بنتی ہے، سود شمار ہوگی ؟
یہ بات علم میں رہے کہ ہماری اپنی آمدن بہت کم ہے ، شوہر کو مرض کی بنا پڑ چھٹی دے دی گئے ہے اور اس کی تنخواہ کام کرنے کی بہ نسبت کم ہے ، میں خود ایک معمولی سے وظیفے کی بنیاد پر اپنی تعلیم جاری کئے ہوئے ہوں ، مقامی بلدیاتی کونسل ہمیں کچھ مدد دیتی ہے لیکن دوسرے ناروا بوجھ بھی ڈال دیتی ہے ، ہم اگر اس منافع کی رقم کو استعمال میں لے آئیں تو یہ بوجھ کچھ کم ہو جائیں گے اور ہمارا معاشی مرتبہ بھی کچھ بہتر ہو جائے گا لیکن ہم خلاف شرع کوئی کام کرنا نہیں چاہتے۔
یہ بھی علم میں رہے کہ جو معاوضہ ہمیں دیا گیا ہے ،اس میں ہم والدین کلی یا جزوی طور پر قطعاً کوئی تصرف نہیں کر سکتے ، سوائے ایسے معاملات کے جو بنک کے ذریعہ طے کئے جاتے ہیں، اگر کوئی چھوٹی موٹی رقم ہو تو ہم فیملی کورٹ کو درخواست دے سکتے ہیں اور ان کی موافقت کے بعد وہ رقم خرچ کر سکتے ہیں۔
جواب :اس سوال کی تین شقیں ہیں، جن کا جواب درج ذیل ہے:
1۔آپ کی کم عمر بیٹی کومیڈيكل خطا کی بنا پر جو معاوضہ دیا گیا ہے وہ بالکل جائز ہے، اس کی حیثیت دیت کی سی ہے اور اس کی ادائیگی بھی خطا کار جانب (یعنی ہسپتال) کی رضامندی سے دی گئی ہے اور اس لحاظ سے شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔
2۔ رہا اس رقم کو پندرہ سال کے لئے فکسڈ منافع پر بصورت سَنَدات (BONDS) کا روبار میں لگانا ایسا ہی ہے، جب قرض کو سودی منافع کے ساتھ واپس ادا کیا جائے اور یہ معاملہ تمام فقہی اکاڈمیوں کے نزدیک حرام معاملات میں سے شمار ہوتا ہے۔
2۔ اگر وہاں کا قانون اس رقم کو سوائے حرام سندات کی شکل میں یا بنک کے سودی ڈپازٹ کی شکل میں INVEST کرنے کے علاوہ کسی دوسری جائز شکل کا اختیار نہیں دیتا ہے تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کم سن بچی کے مال کی حفاظت کیسے کی جاسکتی ہے ؟
اور اگر صرف یہی ایک صورت ہو اور قانونی طور پر یہی ایک صورت اختیار کی جاسکتی ہو تو بربنائے ضرورت ایسا کرنا جائز ہوگا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ جو کچھ منافع منافع ملے گا اسے خیراتی کاموں پر خرچ کیا جائے گا ۔ البتہ اگر بچی کو علاج یا تعلیم کے لئے کچھ رقم درکار ہو تو وہ بقدر ضرورت اور شدید حاجت کے اس مال میں سے خرچ کی جا سکتی ہے۔
غیر شادی شدہ عورت کا بویضہ کو منجمد کرنے کا حکم
سوال :میں ایک غیر شادی شدہ خاتون ہوں جس کی شادی میں تاخیر ہوتی جارہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنے بویضہ کو منجمد (FREEZE) کرواسکتی ہوں تاکہ جب بھی شادی ہو اور کبر سنی کی بنا پر شوہر سے حمل نہ ہو سکے تو انہیں بویضات کو استعمال کر سکوں ؟
جواب : بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ غیر مسلم ممالک میں اس موضوع پر کوئی ردّو کدَ نہیں کی جاتی، کوئی اخلاقی، قانونی یا شرعی ضابطے کی پابندی نہیں کی جاتی ، اس لیے سب سے پہلے تو کونسل مسلمان نوجوان مردوں اور عورتوں کو شادی میں تاخیر کرنے سے خبردار کرتی ہے ، جلد شادی کرنا، ایک مسلمان کے لئے بمنزلہ قلعہ ہے کہ وہ شادی کے حصار میں آ کر پاکد امن ہوجاتا ہے اور بہت سی بے حیائیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے، نبی ﷺ کا ارشاد ہے:
« يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ»(صحیح بخارى وصحیح مسلم )
’’اے نوجوانو! تم میں سے جو شادی کی استطاعت رکھتا ہو تو اُسے شادی کر لینی چاہئے کہ اس سے آنکھ کی حفاظت اور شرمگاہ کی پاکیزگی برقرار رہتی ہے۔‘‘
اور جہاں تک بويضات EGGS کو منجمد کروانے کا تعلق ہے تو شادی سے قبل ایسا کرنے سے اجتناب کرنا بہتر ہے، الا یہ کہ کوئی مخصوص حالت ہو جیسے کہ ایک عورت کے بیضے کسی علاج معالجے کی بنا پر یا کسی مرد کا مادہ منویہ تلف ہونے کا خدشہ ہو تو اس صورت میں بو یضات کا یا مادہ منویہ کا منجمد کروانا جائز ہوگا تاکہ جو نہی مرد یا عورت کے لئے شادی کرنا ممکن ہو تو وہ بچے پیدا کرنے کے قابل ہو سکیں ، پھر بھی ان ضوابط کا خیال رکھنا ضروری ہوگا :
1۔ اس عمل کو شادی مؤخر کرنے کا حیلہ نہ بنایا جائے۔
2۔یہ عمل کرانے والا شخص وہ تمام قانونی کاروائیاں کرے کہ جس کی بنا پر بیضات یا مادہ منویہ منجمد کرانے والا ادارہ ہبہ یا بیع کے بہانے کوئی بے قاعدگی نہ کر سکے ۔
3۔ اگر ایسی کوئی ہنگامی صورت پیدا ہو جائے کہ عورت کا کسی بھی سبب کی بنا پر حاملہ ہونا نا ممکن ہو تو اس بات کی اجازت نہ ہوگی کہ ان بویضات کو شوہر کے مادہ منویہ سے بار آور کر کے کسی دوسری عورت کے حمل میں افزائش کی جائے۔
4۔ اور اگر مرد اور عورت یہ سمجھیں کہ ان بویضات یا مادہ منویہ کی ضرورت باقی نہیں رہی ہے تو انہیں تلف کروا دیا جائے اور منجمد کرنے والے کے پاس نہ چھوڑا جائے۔
قربانی کے جانور کی تعیین کا حکم
سوال : قربانی کے اس طریقے کے بارے میں حکم بیان فرمائیں :
قصاب کسانوں سے بڑی تعداد میں قربانی کے جانور خرید کر لے آتا ہے ، ہم عید سے قبل اس کے پاس آتے ہیں اور کیلو کے حساب سے ایک قربانی کے برابر گوشت کا سودا کر لیتے ہیں ، قربانی کے جانور کی تحدید نہیں کی جاتی اوراس کا پتہ ذبح ہونے کے بعد علم میں آتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام جانور قربانی کی نسبت سے لائے گئے تھے ، اور نماز کے بعد ذبح کئے گئے تھے اور ان تمام جانوروں میں شرعی معیار کا لحاظ رکھا گیا تھا۔
جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ قربانی ایک عبادت ہے اور اللہ کی خوشنودی لئے کی جاتی ہے۔
﴿ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۗ﴾
’’اور ہم نے ہر امت کے لئے ایک طریقہ عبادت بنایا ہے تاکہ وہ ان قربانی کے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو ہم نے بطور رزق انہیں عطا کی ہیں۔‘‘ (سورة الحج)
تو قربانی کے جانوروں میں تمام شرعی مطلوبہ شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔ یعنی اس کا تعین کیا جائے، اس کی عمر دیکھی جائے اور یہ کہ وہ تمام عیبوں سے پاک ہو ، آپ کے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ جانور کے ذبح ہو نے سے قبل جانور کا تعین ہونا ضروری ہے کہ یہ جانور کسی کی طرف سے قربان کیا جارہا ہے ، جانور بحالت حیات سارا کا سارا خریدا جائے ، اور بہتر ہے کہ اس پر نمبر لگا دیا جائے تاکہ معلوم ہو جائے
کہ یہ جانور کس شخص کا ہے،ذبح کے وقت مستحب ہے کہ قربانی کرنے والے شخص کا نام لیا جائے ۔ نبی کریمﷺ قربانی کے وقت یہ کہا کرتے تھے:
اَللهم هَذَا مِنْكَ وَلَكَ اَللهم هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ
’’اے اللہ ! یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تجھی کے لئے ہے، اے اللہ یہ محمد اور آل محمد کی طرف سے (پیش کرتا ہوں) ۔
اگر اس کی تعیین ذبح سے قبل ہو چکی تھی لیکن نام نہیں لیا گیا تب بھی قربانی ہو جاے گی۔ البتہ اگر جانور ذبح ہونے کے بعد ایک شخص وزن کے اعتبار سے اُسے خریدتا ہے ، تویہ قربانی جائز نہ ہوگی ۔
مسلم رفاہی تنظیم میں غیر مسلم کی رکنیت کا حکم
سوال: ہماری ایک رفاہی تنظیم ہے جو زکاۃ کی رقوم جمع کر کے مستحقین میں تقسیم کرتی ہے۔ کیا ایک غیر مسلم اسی تنظیم کا ٹرسٹی بن سکتا ہے کہ جسےزکا ۃتقسیم کرنے کا کام بھی کرنا ہو گا؟
اور ایسے ہی کیا ایک غیر مسلم کسی مسجد کا ٹرسٹی بن سکتا ہے جب کہ اس کی ذمہ داریوں میں یہ شامل ہو گا کہ وہ مسجد کے تمام معاملات کی دیکھ بھال کرے کہ جس میں جمعہ کے خطبات اور رسائل کی منظوری بھی شامل ہے؟
جواب: جہاں تک رفاہی تنظیم کے ادارتی امور کا تعلق ہے کہ جس میں زکاۃ کی رقوم کا حساب و کتاب بھی شامل ہے تو وہ ایک ماہر حسابیات کا کام ہے ،چاہے وہ مسلمان ہو یا نہ ہو، لیکن زکاۃ کی تقسیم کے لئے مستحقین کا جاننا بہت ضروری ہے ۔اس لیے بہتر ہے یا تو کوئی مسلمان اس کام کو انجام دے یا وہ مشورے میں شریک رہے۔ اور جہاں تک مسجد کا تعلق ہے تو مسجد کے اکاؤنٹس کو چھوڑ کر مسجد کے باقی سارے کام جیسے اماموں کا تقرر ، نمازوں اور روزوں کا ٹائم ٹیبل، دینی سوالات کے جوابات اور خطبوں کا جائزہ ، یہ سارے کے سارے کام مذہبی امور میں شامل ہیں اور وہ ایک مسلمان ہی سرانجام دے سکتا ہے۔
کیا خلع کی صورت میں صرف حق مہر کی واپسی ہو گی؟
سوال ایک مسلمان خاتون خلع چاہتی ہے ، اور ایسی صورت میں وہ کیا چیزیں واپس کرنے کی پا بند ہوگی:
1۔ مثلاً وہ ،پیسہ، قطعہ زمین ، سونا، جو خاوند نے خود کھا یا تھا اور بیوی کو دیا تھا۔
2۔ وہ پیسہ، قطعہ زمین ، سونا وغیرہ جو عورت نے خود کما یا تھا یا اُسے اسے اس کے والدین کی طرف سے ہبہ کیا گیا تھا ۔
3۔ ان میں سے جو چیز شادی سے قبل دی گئی تھی یا بعد میں دی گئی تھی ، کون سی واپس کی جائیگی ؟
جواب : خلع کا سنت طریقہ تو یہی ہے کہ خاوندان چیزوں کا مطالبہ کر سکتا ہے جو اس نے اپنی بیوی کو بطور مہر ادا کئے تھے ، بیوی کی کمائی یا والدین کی طرف سے دئیے گئےعطیات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔
ایک دوسری بات یہ ہے کہ شوہر کو خلع کے عوض کچھ بھی نہیں مانگنا چاہیئے اگر قصور اس کا ہو یا وہ خود بیوی کو رکھنا نہ چاہتا ہو اور طلاق اس لیے بھی دینا نہ چاہتا ہو تاکہ اسے کچھ ادا نہ کرنا پڑے، بلکہ بیوی خلع کی درخواست کر کے کچھ نہ کچھ واپس ادا کرنے پر مجبور ہو ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا ۚ أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا 0 وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا ﴾ (سورۃ النساء: 20۔21)
’’اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم نے ایک کو ڈھیروں مال دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو، کیا تم بہتان لگا کر اور کھلی حق تلفی کر کے اس کو لوگے؟ اور کس طرح اس کو لوگے جب کہ تم ایک دوسرے کے آگے بے حجاب ہو چکے ہو اور انہوں نے تم سے مضبوط عہد لے رکھا ہے۔ ‘‘
اور اگر قصور بیوی کا ہے تب بھی خلع کا تقاضا یہ ہے کہ جتنا کچھ بطور مہر دیا تھا، وہی واپس لو ادراسے زیادہ نہ طلب کرو ۔
لیکن اگر مرد مہر سے زائد کا طالب ہو اور عورت ہر صورت اسے چھٹکاراپانا چاہتی ہو تو اگر اُ سے کچھ زائد بھی دنیا بڑے تو وہ دے سکتی ہے۔
سورة البقرة کی اس آیت میں یہ مفہوم آ جاتا ہے:
﴿وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ﴾
(سورۃ البقرہ: 229)
’’اور تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ جو تم نے انہیں دیا ہے، اس میں سے کچھ واپس لو ، الا یہ کہ دونوں اس بات سے ڈرتے ہوں کہ (اگر وہ ساتھ رہے) تو اللہ کے حدود کی پاسداری نہ کر سکیں گے، اور اگر تمہیں اس بات کا خدشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو جو کچھ بھی وہ بطور فدیہ ادا کرے ، اس پر دونوں کے لئے کوئی حرج نہ ہوگا ۔‘‘
یعنی عورت اگر کچھ بھی دے دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور مرد اسے لے لے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔
پہلی صورت جو کہ سنت ہے یعنی صرف مہر کی ادائیگی وہ زیادہ بہتر ہے ، اور دوسری صورت کہ جس میں ادائیگی کی کوئی مقررہ حد نہیں رکھی گئی ، اُسے جائز سمجھا جائے گا ۔
٭٭٭
محاسبہ نفس
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’جو شخص اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے، یا پھر خاموش رہے۔‘‘
( صحیح بخاری ؛ صحیح مسلم)
یہ چیز محاسبہ نفس کے بغیر نہیں ہوسکتی۔
سیدنا شداد بن اوس بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’عقلمند وہ ہے جو اپنے آپ کو پہچان لے، اور موت کے بعد کے لئے تیاری کرے، اور عاجز وہ شخص ہے جو نفسانی خواہشات کے پیچھے لگا رہے اور اللہ سے امید لگا کر بیٹھے۔‘‘
سیدنا عمر بن خطاب کہتے ہیں:
’’محاسبہ شروع ہونے سے پہلے اپنا محاسبہ کر لو، اپنے نفس کا وزن کر لو اس سے پہلے کہ اسکا وزن کیا جائے، اور بڑی پیشی کے لئے تیاری کرو۔‘‘
سیدنا میمون بن مہرانکہتے ہیں:
’’کنجوس شراکت دار سے بھی زیادہ سخت محاسبہ متقی افراد اپنے نفس کا کرتے ہیں۔‘‘
سیدنا ابن مسعود کہتے ہیں:
’’مؤمن اپنے گناہوں کو پہاڑ کی چوٹی پر سمجھتا ہے،اور اندیشہ رکھتا ہے کہ وہ اس پر آ گریں گے، جبکہ فاجر اپنے گناہوں کو مکھی کی طرح سمجھتا ہے، جو اس کی ناک پر بیٹھے تو ایسے اڑا دے، یعنی: ہاتھ کے اشارے سے۔‘‘ (صحیح بخاری)
مؤمن شخص محاسبہ نفس اور نگرانی جاری رکھتے ہوئے اچھی حالت پر نفس کو قائم رکھتا ہے، تو وہ اپنے افعال کا محاسبہ کرتے ہوئے عبادات اور اطاعت گزاری کامل ترین شکل میں بجا لاتا ہے، جو اخلاص سے بھر پور، بدعات، ریاکاری ، خود پسندی سے پاک ہوتی ہیں، اپنے نیک اعمال سے رضائے الٰہی اور اخروی زندگی کی تلاش میں رہتا ہے۔
سیدنا حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ
’’دلوں کو فتنے ایسے مسلسل در پے ہوتے ہیں کہ جیسے چٹائی کے تنکے ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں، چنانچہ جو دل ان فتنوں کو مسترد کر دے تو اس کے دل میں ایک سفید نکتہ لگا دیا جاتا ہے، اور جو دل فتنوں کو اپنے اندر جگہ دے دے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے، حتی کہ دلوں کی دو قسمیں بن جاتی ہیں:
ایک بالکل صاف ستھرا دل جیسے سخت چٹان ہو، اسے زمین و آسمان کے قائم رہنے تک کوئی فتنہ نقصان نہیں دیتا۔
دوسرا دل سیاہ خاکی مائل الٹے مشکیزے کی طرح ہوتا ہے، جو نیکی کو نیکی اور برائی کو برائی نہیں سمجھتا، اسے من لگی بات ہی سمجھ میں آتی ہے۔‘‘
٭٭٭
تبصرہ کریں