سوالات کے جوابات۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

وسیلہ کی جائز اور ناجائز صورتیں

سوال: ایک صاحب سوال کرتے ہیں کہ توسّل کے مسئلہ کو واضح طور پر بتایا جائے کہ کونسا طریقہ صحیح ہے اور کون سا غلط ، وہ اس لئے کہ عام لوگ اس بارے میں شک و شبہ کا شکار ہیں۔

جواب: سورة المائدة کی آیت 35 میں وسیلہ کا ذکر ہے۔ ارشاد فرمایا :

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ‎﴾

’’ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ اختیار کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تا کہ تم کا میابی حاصل کر سکو ! ۔‘‘

وسیلہ لغوی طور پر وہ ذریعہ ہے کہ جس سے انسان اپنے مقصود کو پہنچ سکتا ہے، اس لئے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ گھر کی چھت پر جانا ہو تو سیڑھی وہ وسیلہ ہے کہ جس سے انسان چھت پر پہنچ سکتا ہے۔

اور سورۃ الاسراء کی آیت 57 سے معلوم ہوتا ہے کہ رب کی طرف وسیلہ اختیار کرنے کا مطلب ہے کہ وہ ذرائع استعمال کئے جائیں کہ جس سے قرب الٰہی حاصل ہو۔ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے کہ جو لوگ اپنی حاجات پوری کرنے کے لئے جنات کو پکارتے تھے تو انہیں بتایا جارہا ہے کہ تم جن جنات کو پکارتے ہو وہ تو خود اللہ کے تابعدار ہیں اور اب ان کی حالت یہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ ۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا ﴾

’’وہ لوگ جن کو یہ پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کے تقریب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ قریب ہے، اللہ کے، وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوفزدہ رہتے ہیں ۔ بےشک اللہ کا عذاب ایسا ہے کہ جس سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ ‘‘

یعنی یہ جنات تو خود ایسے اعمال صالحہ کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں کہ انہیں اللہ سے قریب کر دیں۔

اب ہم اس مسئلہ کی مزید وضاحت کرتے ہیں ۔

وسیلہ دو طرح کا ہوسکتا ہے :

وسیلہ کونیہ اور وسیلہ شرعیہ

وسیلہ کو نیہ سے مراد وہ تمام قدرتی ذرائع ہیں کہ جن سے انسان کسی چیز کو حاصل کر سکتا ہے ۔

بھوک کو مٹانے کا وسیلہ کھانا کھانا ہے ، پیاس کو بجھانے کے لئے پانی یا کوئی دوسرا مشروب وسیلہ ہے ۔ یہاں ایک مسلمان کو یہ دیکھنا ہے کہ ایساوسیلہ نہ اختیار کیا جائے، جو شر عاً حرام ہے ۔ مثلاً طعام وشراب میں سؤر کے گوشت اور خمر (شراب) سے بچا جائے جو کہ حرام قرار دیے گئے ہیں ۔

معاملات میں سود، جُوا اور چور چکاری سے بچا جائے جو کہ نا جائز ہیں۔

گویا وسیلہ کو نیہ ایک عام اصطلاح ہے، اس میں جو وسیلہ شریعت میں جائز ٹھہرایا گیا وہ وسیلہ شرعیہ کہلائے گا اور جو نا جائز ٹھہرایا گیا ، وہ شرعی وسیلہ نہیں قرار پائے گا ۔

فرق یہ ہوا کہ وسائل کو نیہ تو ہماری دسترس میں ہیں، لوگ انہیں جانتے ہیں۔ اس لیے صرف یہ دیکھنا باقی رہ جاتا ہے کہ ان میں سے کون سا وسیلہ شریعت کے مطابق ہے اور کون سا نہیں ؟

اور اب جہاں تک اللہ کا قرب حاصل کرنے کا تعلق ہے تو یہ ایسے ہی جیسے اللہ تعالیٰ کی طرف تک قرب نماز کا حکم دیا گیا ہے ، لیکن یہ نماز کیا ہے ؟ کیسے پڑھی جائے تو اس کا علم کا علم صرف قرآن اور سنت ہی سے ہو سکتا ہے۔ اگر اللہ کے رسول ﷺ اسے تفصیل سے نہ بتاتے تو ایک عام انسان کے لئے مشکل تھا کہ وہ نماز کو خود بخود جان لیتا۔

اللہ کی طرف وسیلہ اختیار کرنے کا حکم بھی قرآن ہی میں دیا گیا ہے ، اس لئے اس کی حقیقت جانے کے لئے قرآن اور حدیث کا ہی سہارا لینا چاہئے ۔

اب دیکھیئے‎ قرآن کا اس سلسلے میں کیا ارشاد ہے ۔

1۔ سورة الأعراف کی آیت 180میں ارشاد فرمایا :

﴿وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ﴾

’’اور اللہ کے سارے خوبصورت نام ہیں تو پھر انہی کے واسطے سے دعا کرو۔‘‘

اور یہی اسوہ اللہ کے تمام انبیاء اور رسولوں کا رہا کہ ان کی دعائیں الله، رب ، رحمن، رحیم اور اللہ کے دیگر صفاتی ناموں کے واسطے ہی سے شروع ہوتی ہیں۔

سیدنا آدم پر جب اپنی خطا واضح ہوئی تو انہوں نے ’رب‘ ہی کو پکارا :

﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ‎﴾ (سورۃ الاعراف: 23)

’’ان دونوں نے (آدم اور حواء) نے کہا : اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے تو اگر آپ ہماری مغفرت نہ کریں گے، ہمارے اوپر رحمت نہ کریں گیں تو ہم ناکام لوگوں میں سے ہو جائیں گے ۔‘‘

سیدنا نوح اپنی قوم کی سرکشی دیکھ کر اپنے رب کے نام کی دھائی دیتے نظر آتے ہیں۔

﴿ فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ ﴾(سورة القمر (10)

’’تو پھر اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہو چکا ہوں تو پھر میری مدد فرما۔‘‘

سیدنا ابراہیم کی تو بکثرت دعائیں قرآن میں وارد ہوئی ہیں جو سب ’’ربنا‘ کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں۔ نیک اولاد کی تمنا کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں :

﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ ﴾ (سورۃ الصافات: 100)

’’اے رب مجھے نیکو کاروں میں سے عطا کر ۔‘‘

سیدنا یوسف اپنی زندگی کے آخری مراحل میں یہ کہتے نظر آتے ہیں:

﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ ﴾ (سورة يوسف: 101)

’’اے رب ! تو نے مجھے بادشاہت میں سے کچھ عطا کیا، مجھے باتوں (خوابوں) کی تعبیر کا علم عطا کیا ، اے آسمانوں اور زمینوں کو وجود میں لانے والے ! تو ہی میرا مددگار ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، مجھے اسلام کے عالَم میں وفات دے اور مجھے نیکو کاروں کے ساتھ ملا دے ۔‘‘

اس دعا میں رب اور فاطر دو صفاتی ناموں کا واسطہ دیا گیا ہے ۔

سیدنا مو سیٰ کہتے نظر آتے ہیں :

﴿ قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ‎0‏ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي﴾(سورۃ طہ: 25۔26)

سیدنا موسیٰ نے کہا: اے رب ! میرا سینہ کھول دے اور میرا معاملہ میرے لئے آسان کر دے ۔ ‘‘

یہ ایک لمبی دعا ہے لیکن اس کا آغاز بھی ’رب‘ کے واسطے سے ہو رہا ہے ۔ سیدنا عیسیٰ سے جب ان کی قوم نے مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے مطالبہ کرو کہ وہ ہمارے اوپر آسمان سے (کھانے پر مشتمل) دستر خوان نازل فرمائیں تو سیدنا عیسیٰ نے ان الفاظ کے ساتھ دعا کی :

﴿اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ﴾ (سورۃ المائدہ: 112)

’’اے اللہ، اے ہمارے رب ! ہمارے اوپر آسمان سے ایک دستر خوان نازل فرما۔‘‘

اس دعا میں اللہ اور رب دو ناموں کا واسطہ دیا گیا ہے۔ اور نبی ﷺ کی دعاؤں میں تو رب،رحمان، رحیم، حیّ، قیوم اور اللہ کے کتنے ہی صفاتی ناموں کا تذکرہ ہے۔

معرکہ بدر سے پہلے عریش بدر میں رات بھر آپ یہ دعائیہ کلمات دہراتے رہے :

اللهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلامِ ، فَلا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا

اے اللہ ! اگر یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو پھر زمین میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا ۔ ‘‘

ایک اور مشہور دعا ہے کہ

“يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغيثُ

’’اے زندہ وتابندہ! اے سب کو کھڑا کرنے والا ! تیری رحمت چاہتا ہوں۔‘‘

آپ کی ساری سیرت پڑھ لیجیے، کہیں بھی ایسی دعا نظر نہ آئے گی جس میں اللہ کے رسول نے دعاؤں میں اپنے آباء و اجداد (یعنی ابراہیم، اسماعیل، اسحق ﷩) کا واسطہ دیا ہو ؟

ایک موقع پر کہا تو یوں کہا :

یا معلم ابراهیم علمنی

’’ اے ابراہیم کو تعلیم دینے والے مجھے بھی علم عطا کر۔‘‘

تو معلوم ہوا کہ ایک مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنی دعا میں سوائے اللہ کے ناموں کے سوا کسی دوسری ہستی کا نام بطور وسیلہ لیا جائے، چاہے وہ نام نبی کا ہو یا فرشتہ کا یا کسی جن کی یا کسی ولی کا ہو۔

اور اب اگر اللہ کے نبی ہی اپنی دعاؤں میں صرف اللہ کو پکارتے ہیں ، اللہ کے نام سے یا اللہ کے کسی بھی صفائی نام سے تو پھر امت کو یہ بات کیسے زیب دیتی ہے کہ وہ نبی ﷺ کا اسوہ چھوڑ کر مشرکین کا اسوہ اپنائے جو اپنی دعاؤں میں جنات ، فرشتوں اور اپنے خود ساختہ خداؤں کے نام کی دھائی دیتے تھے ۔

2۔ وسیلے کا دوسرا جائز طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے کسی نیک عمل کی دھائی دے کہ اے ا للہ!

اس نیک عمل کے وسیلے سے اس کا مقصود و مطلوب پورا کر دے یا ناگہانی آفت میں مبتلا ہے تو اس سے نجات دے دے ۔ اس ضمن میں خود نبی ﷺ نے پچھلی قوموں کے قصوں میں سے ایک قصہ سنایا کہ ایک مرتبہ تین آدمی جو کہیں جنگل یا صحراء میں سفر کر رہے تھے ۔ آندھی اور طوفان کی وجہ سے ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے لیکن غار کے منہ پر ایک بڑا پتھر یُوں آکر گرا کہ باہر جانے کا راستہ بند ہو گیا۔ انہوں نے اسے کھسکانے کی کوشش کی لیکن وہ ایک انچ نہ ہلا ۔ اب ان میں سے ہر شخص نے دعا کی اور اپنے ایک نیک عمل کا حوالہ دیا ۔ ایک شخص نے کہا کہ میں دن بھر بکریاں چرانے کے بعد جب گھر واپس آتا تو پھر گھر والوں کے کھانے پینے کا ہندوست کرتا ۔ ایک دن مجھے تاخیر ہو گئی ، گھر وا پس آیا تو دیکھا، میرے بوڑھے والدین کھائے پئے بغیر سو چکے تھے، تو میں نے دودھ کا پیالہ بھرا اور ان کے سرھا نے بیٹھا رہا ، کہ پہلے ان کو دودھ پلاؤں گا اور پھر اپنے گھر والوں کی خاطر مدارات کروں گا ۔ اور اس دعا کے بعد ان تینوں نے پتھر کو کھسکایا تو وہ تھوڑا سا کھسک گیا ، لیکن اتنا نہیں کہ وہ باہر نکل سکیں۔ پھر دوسرے شخص نے اپنی دعا میں اپنے اس نیک عمل کا ذکر کیا کہ اے اللہ ! میں اپنی خالہ زاد یا چچا زاد بہن سے پیا کرتا تھا لیکن اس کے ساتھ وصال کی کوئی صورت پیدا نہیں ہو رہی تھی ۔ ایک دن وہ میرے پاس آئی اور اپنی ایک شدید ضرورت کی بنا پر مجھ سے امداد کی طالب ہوئی ۔ س نے اس فرصت کو غنیمت جانا اور امداد کی حامی بھر لی لیکن اس شرط پر کہ وہ اپنے آپ کو میرے حوالے کر دے گی ، وہ مجبوراً آمادہ تو ہو گئی لیکن عین وقت پر وہ گویا ہوئی کہ اللہ سے ڈر ! اور اگر تعلق قائم ہی کرنا ہے تو جائز طریقے سے کر ۔ میں ایک دم ٹھٹک کر رہ گیا اور پھر صرف اللہ کے ڈرسے اس عمل بد سے باز آ گیا ۔ اس دعا کے بعد ان تینوں نے پتھر کو پھر کھسکایا تو وہ اتنا اور کھسک گیا کہ نکلنے کی امید پیدا ہو گئی۔ پھر تیسرے شخص نے اپنے اس نیک عمل کے حوالے سے دعا کی کہ ایک دفعہ میں نے کھیت اور مویشیوں کی دیکھ بھال کے لئے ایک مزدور کو ملازم رکھا وہ مزدور جب کام پورا ہو جانے کے بعد جانے لگا تو میں نے بطور مزدوری ایک بکری اُس کے حوالہ کی ۔ اس نے نے مزدوری کی اس قیمت کو تھوڑا جانا اور غصے میں آکر بکری لئے بغیر چلا گیا۔

میں نے اس بکری کی نگہداشت کا خاص خیال رکھا۔ اس بکری کے دودھ کی قیمت کو بھی اس کے کھاتے میں لکھتا گیا اور پھر اس کے بچوں کا بھی خیال رکھتا گیا اور اسے کھاتے سے مزید مویشی خریدے جن میں بھیڑ، بکریاں اور گائیں شامل تھیں۔ ایک عرصہ دراز کے بعد وہ مزدور دوبارہ میرے پاس آیا اور کہا کہ میری مزدوری میرے حوالہ کر دو ! میں نے کہا :

میرے ساتھ آؤ ، میں تمہیں تمہاری مزدوری کا پھل دکھاتا ہوں ۔ میں اسے اس وادی میں لے گیا جہاں اس کے نام سے پرو ان چڑھنے والے سارے مویشی موجود تھے۔ میں نے کہا : یہ سب تمہاری مزدوری ہے اور تمہی ان کے مالک ہو، اب اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا ۔

پھر اس شخص نے کہا کہ یا الله! میرا یہ عمل خالصتاً تیرے لئے تھا تو تو ہمیں اس مصیبت سے نجات دے۔

اب جو تینوں نے اس پتھر کو ایک دھکا اور لگایا تو اتنی گنجائش پیدا ہو گئے کہ تینوں اس غار سے بحفاظت نکل آئے ۔

3۔ وسیلے کی تیسری جائز شکل یہ ہے کہ کسی با حیات شخص کی نیکی اور بزرگی کو دیکھتے ہوئے اس سے دعا کی درخواست کی جائے ۔

پہلے دونوں وسیلے انسان کی اپنی ذاتی دعا سے متعلق تھے اور اس تیسری شکل میں ایک نیک آدمی سے دعا کی التجا کی جارہی ہے۔

قرآن میں یوسف اور برادران یوسف کا واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے ، قصے کے آخر میں بیان ہوا کہ جب برادرانِ یوسف پر ان کی زیادتی و ظلم کا انکشاف ہو گیا تو وہ اپنے والد سیدنا یعقوب کے پاس آتے ہیں اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اللہ سے ان کی مغفرت کے طالب ہوں ۔

﴿قَالُوا يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ﴾ (سورۃ یوسف: 97)

’’انہوں نے کہا، اے ہمارے باپ ! ہمارے لئے مغفرت طلب کر، بےشک ہم خطاوار تھے۔‘‘

جس کے جواب میں انہوں نے کہا :-

﴿ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ‎﴾(سورۃ یوسف: 98)

’’میں عنقریب تمہارے لئے مغفرت طلب کروں گا، بےشک وہ غفور رحیم ہے۔‘‘

احادیث میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول خطبہ دے رہے تھے کہ ایک بدوی آیا اور اس نے بلند آواز سے کہا : کہ بارش کے لئے دعا کریں ، کہ بارش نہ ہونے کی بنا پر جہاں انسان اور موشیی پانی کے لئے بے تاب ہیں وہاں زمین بھی پانی کے لئے ترس رہی ہے ۔ پانی برسے گا تو کھیتی باڑی ہو سکے گی اور لوگوں کو ان کا رزق مل سکے گا۔

نبی ﷺ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیے اور بارش کے لئے دعا کی اور پھر سب نے دیکھا کہ سارا ہفتہ مسلسل بارش برستی رہی اور وادیاں جل تھل ہو گئیں۔ یہی بدوی اگلے جمعہ پھر حاضر ہوا اوراب اس نے التجا کی کہ اللہ سے دعا کریں کہ بارش برسنا بند ہو جائے، وگرنہ کھیت کھلیان سیلاب کی نذر ہو جائیں گے تو اللہ کے رسول ﷺ نے نے دوبارہ ہا تھ اٹھائے اور دعاکی :

اللهم حوالينا ولا علينا

’’اے اللہ! ہمارے اوپر نہیں بلکہ ہمارے ارد گرد بارش رہنے دے۔‘‘

اللہ کے رسول موجود تھے اس لئے دعا کے لئے آپ کے پاس آنا ہی ہر مسلمان کی خواہش ایک فطرتی خواہش تھی۔

سیدنا ابوہریره اپنی والدہ کی طرف سے بڑے متفکر تھے، وہ اسلام لانے میں، بڑے ترددکا شکار تھیں ۔ انہوں نے اللہ کے رسول سے دعا کی درخواست کی، چنانچہ اللہ کے رسول نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی ! اے اللہ ام ابوہریرہ کو ہدایت دے !!

اور پھر یہ دعا اس عجلت کے ساتھ پوری ہوئی کہ ابو ہریرہ گھر جاتے ہیں ، دروازه کھٹکھٹاتے ہیں ، والدہ نے کہا : ’’ذرا ٹھہرو! میں غسل سے فارغ ہولوں۔

پھر انہوں نے دروازہ کھولا اور انہیں یہ خوشی کا پیغام ملاکہ اُم ابو ہریرہ کلمہ پڑھنے کے لئے پہلے اپنے آپ کو پاک کر رہی تھیں ۔

جائز وسیلہ کے ان تینوں طریقوں کا بیان ہو گیا ۔ لیکن جو لوگ اپنی دعا میں کسی نیک شخص کی ذات کا وسیلہ جائز مانتے ہیں ، وہ سیدنا عباس اور دوسرے ایک نابینا آدمی کا واقعہ پیش کرتے ہیں ۔

آئندہ مضمون میں ان دونوں واقعات کو تفصیل سے بیان کیا جائے گا اور ان کے صحیح مطلب کو واضح کیا جائے گا ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں