
حدیث أعمى ( نابینا )
سیدنا عثمان بن حنیف روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ٹھیک کر دے !
نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ان شئت دعوت لك وإن شئتَ أخرتُ ذالك فهو خير
’’کہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے دعا کروں گا اور اگر جا ہو تو میں سے مؤخر کر دوں کہ وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔‘‘
اور ایک روایت میں ہے:
وَإِن شَئتَ صَبَرَت فهو خير لك
’’ اور اگر تو چاہے تو صبر کرے اور وہ تمہارے لئے بہتر ہوگا۔‘‘
تواس نے کہا کہ نہیں! آپ دعاء کریں تو نبی ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ وضو کرے ، پھر دو رکعت نماز ادا کرے اور پھر یہ دعائیہ کلمات کہے:
اللهم إنى أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة. يا محمدا إني توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه فتقضى لى “
’’اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، تیرے نبی محمد، نبی رحمت (کے واسطے) سے ! اے محمد ! میں تیرے ساتھ اپنی اس حاجت کے بارے میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، تو میری حاجت پوری کردے ۔‘‘
اللهم فشفعة فى وشفعنى فيه
’’ اے الله ا تو انہیں میرے لئے سفارشی بنا دے اور مجھے ان کے بارے میں سفارشی بنا دے۔‘‘
اس نے پھر ایسا ہی کیا تو وہ شفایاب ہو گیا ۔‘‘ (احمد ترمذی، ابن ماجہ الحاکم)
توسل بالذات کے قائل اس واقعے کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں لیکن اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ نابینا آدمی کا توسل اختیار کرنا نبی ﷺکی ذات سے نہیں ، بلکہ ان کی دعاء سے تھا۔
شیخ البانی نے توسل بالذات کے قائلین کے فہم کو مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر غلط قرار دیا ہے :
1۔ نابینا آدمی نبی ﷺ کے پاس دعا کی درخواست لے کر آیا تھا:
(ادع الله أن يعا فینی)
’’اور اس اعتقاد کے ساتھ کہ نبی ﷺ کی دعا کا مقبول ہونا کسی بھی دوسرے شخص کے مقابلے میں بہر صورت زیادہ امکان رکھتا ہے اور اگر اس کا مقصد ذات نبی ﷺ ہوتا تو وہ گھر میں بیٹھ کر بھی یہ دعا کر سکتا تھا کہ اے اللہ! نبی ﷺ کی جو قدر و منزلت تیرے نزدیک ہے، اس کے وسیلے سے میری بصارت مجھے واپس کر دے !
2۔ خود نبی ﷺ نے اس شخص سے صرف دعا کرنے کا ہی وعدہ کیا تھا ۔ (ان شئت دعوتُ لكَ ) اور پھر صبر کرنے کی بھی تلقین کی تھی کہ جس کا ذکر ایک حدیث قدسی میں یوں آیا ہے کہ جب میں اپنے بندے کو اس کی دو محبوب ترین چیزوں (یعنی آنکھوں) کے بارے میں آزمائش میں متلا کرتا ہوں ، پھر وہ صبر کرتا ہے تو میں ان کے بدلے میں اسے جنت عطا کرتا ہوں ۔ (بخاری بروایت انس)
3۔ نابینا شخص کا اصرار کرنا کہ نہیں میرے لئے دعا ہی کریں ( فادع )
ظاہر ہے کہ نبی ﷺ نے یقینا دعا کی ہوگی کیونکہ آپ سے بڑھ کر وعدہ وفا کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے ، اور یہ بات بھی علم میں رہے کہ نبی ﷺ نے اس کی دعا قبول ہو جانے کی خاطر اسے جائز توسل کے دوسرے طریقے کی طرف بھی رہنمائی کر دی، یعنی ایک نیک عمل کے وسیلے سے دعا کرنا اور وہ یہ کہ وہ وضو کرے اور اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کرے اور پھر اپنی اس حاجت کو اللہ کے حضور پیش کرے ۔
اور یہاں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ سارا واقعہ دعا کے ارد گرد ہی گھومتا ہے۔
اب یہاں اگر کوئی کہے کہ یہ ہدایت تو ایک عام ہدایت ہے اور ہر شخص یہ طریقہ اختیار کر سکتا ہے، تو ہم یہ کہیں گے کہ اس ہدایت کی عمومیت کا کوئی بھی منکر نہیں ہے لیکن یہ واقعہ نبی ﷺ کی حیات میں پیش آیا تھا، کیونکہ نبی ﷺ اپنی حیات ہی میں کسی کے لئے دعا کر سکتے تھے۔ آپ کی وفات کے بعد اب لوگوں کے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے کہ نبی ﷺ سائل کے لئے دعا کر رہے ہیں یا نہیں اور اسی لئے صحابہ کرام بھی آپﷺ کی وفات کے بعد آپ کی دعا کا وسیلہ نہیں اختیار کرتے تھے۔
4۔ جو الفاظ نبی ﷺنے نابینا شخص کو کہنے کے لئے سکھائے تھے یعنی (اللهم فشفعه في) اے اللہ! انہیں میرے بارے میں سفارشی بنا دے ، انہیں کسی بھی صورت ذات نبی، جاہِ نہیں، یا حق نبی پر محمول نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ ان الفاظ کا معنی و مطلب یہ ہے کہ اے اللہ ! نبی ﷺ کی سفارش میرے حق میں قبول فرما ! یعنی وہ میری بصارت عود کر آنے کے بارے میں جو دعا کر رہے ہیں، اسے قبول فرما ۔
شفاعت ہے کیا ؟
لغوی اعتبار سے شفاعت کا مطلب بھی دعا کرنا ہے جو نبی ﷺ اور دوسرے انبیاء اور صالحین کے لئے بروز قیامت خاص کر دی گئی ہے ، یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ شفاعت دعا کے مقابلے میں خاص ہے ، یعنی دعا تو کوئی بھی شخص انفرادی طور پر کر سکتا ہے لیکن شفاعت میں دو اشخاص کا ہونا ضروری ہے ، دونوں ایک ہی مطالبہ کر رہے ہیں تو دونوں میں سے ہر شخص دوسرے کے لئے شفیع (سفارشی) بن جاتا ہے ۔
اور اس وضاحت سے بھی معلوم ہو گیا کہ نابینا شخص کا وسیلہ اختیار کرنا ذات نبی کا نہیں بلکہ دعا نبی کا تھا ۔
5۔ ذات نبی ﷺتوسل ثابت کرنے والے حضرات اس واقعہ کے ایک اہم جزو کو بھول جاتے ہیں اور وہ یہ کہ نبی ﷺ نے اُسے یہ بھی کہا تھا کہ (شفعنی فیه) اور مجھے ان کے لئے سفارشی بنادے) جس کا مطلب یہ ہے کہ
میری یہ دعا بھی قبول کر کے میرے بارے میں نبی ﷺ کی دعا قبول ہو۔‘‘ یعنی میر کی بصارت عود کر آئے ۔
اور چونکہ اس فقرے سے قائلین توسل بالذات کی دلیل کے تار و پود بکھر جاتے ہیں، اس لئے وہ اس جملے کو سرے سے ذکر ہی نہیں کرتے۔
6۔ اس حدیث کو نبیﷺ کے معجزات میں بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کیسے کیسے نبی ﷺ کی دعا سے مریضوں اور مختلف عوارض میں مبتلا لوگوں کو شفاء حاصل ہوتی رہی ، امام بیہقی نے اسے اپنی کتاب ’ دلائل النبوة ‘ میں بھی ذکر کیا ہے، اور اس سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر توسل بالذات سے یوں شفا حاصل ہو جاتی تو دنیا میں ہزاروں ایسے نابینا افراد ہوں گے۔ جو اپنی بصارت کے عود کر آنے کے لئے نبی ﷺ کی ذات اور آپ کی جاہ و منزلت کا وسیلہ اختیار کرتے ہوئے دعا کرتے رہے ہوں گے بلکہ اپنی دعا میں کتنے ہی نبیوں اور اولیاء کی جاہ و منزلت کا بھی ذکر کرتے رہے ہوں گے تو پھر آپ ﷺکی وفات سے لے کر اب تک کیا ایسے لوگوں کو شفاء حاصل ہوتی رہی ہے ؟ ایسے واقعات ، اگر ہوئے ہوتے تو کثرت سے منقول ہوتے !!
ایک آخری بات اور عرض کرتے چلیں کہ امام احمد اور شیخ العز بن عبد السلام کے قول کے مطابق اگر نابینا شخص کے اس واقعہ کو توسل بالذات پر بھی محمول کر لیا جائے تو یہی کہا جائے گا کہ یہ نبی ﷺکی خصوصیات میں سے ہے یعنی اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ، یعنی نبی ﷺ کی جہاں دوسری خاص فضیلتیں ہیں کہ جو دوسرے انبیاء اور مرسلین کو حاصل نہیں ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جو نابینا شخص سے متعلق ہے اور جب بات خصوصیات کی ہو تو اس میں قیاس کا کوئی دخل نہیں ہے۔
شیخ البانی نے اپنی کتاب ’ التوسل‘ میں ان 6 وجوہات کے بعد وہ سات ضعیف احادیث اور چند آثار بھی پیش کئے ہیں جو توسل بالذات کے قائلین پیش کرتے ہیں ، شیخ نے ان احادیث اور آثار کی اسنادی حیثیت پر بھر پور کلام کیا ہے اور جو حضرات مزید تحقیق کے طالب ہوں ، وہ اس کتاب کی طرف رجوع کریں۔
٭٭٭
مقام شوق فاطمہ بتولؓ
بانوئے بوتراب وجگر گوشۂ رسولؐ
ہیں میر کاروانِ زناں فاطمہؓ بتول
تن سے کسی کو پیار کسی کو ہے من عزیز
مجھ کو عزیز میرا خدا اور مرا رسولؐ
وہ زندگی ہو قابل صد رشک کس طرح؟
مقصد ہے جس کا کوئی نہ جس کا کوئی اصول
حالِ تباہ امتِ مرحوم دیکھ کر
ہے میرا دل فسردہ و رنجیدہ وملول
آگے ہے عر وسدرہ سے اس کا مقامِ شوق
دنیائے دوں ہے پائے مسلماں کی گرد، دھول
ہیں خار ہائے رنج ومصیبت بھی بے شمار
گلزارِ زندگی میں نہیں عیش ہی کے پھول
گُل چیں ہی باغباں ہو تو پھر اس کی فکر کیا
کِھلتے ہیں پھول، باغ میں اُگتے ہیں یا ببول
شاداں ہو جس پر دل جسے رحمت نصیب ہو
وہ پھول بھی ہے کتنا حسین وجمیل پھول
اخلاص کی متاعِ گراں مایہ جب نہ ہو
گفتار بھی عبث ہے، تو کردار بھی فضول
ارضِ وطن میں بھی وہ غریب الدیا رہے
حماد کو پسند ہے یوں گوشۂ خُمول
ابو البیان حماد عمری
درود شریف ؛ بھلائی کا دروازہ
امام ابن الجوزي فرماتے ہیں :
“عباد الله تعاهدوا الصَّلاة على حبيبنا محمد ﷺ، لأنَّ الله تعالى إذا أراد بعبده خيرًا، يسر لسانه للصَّلاة على محمد ﷺ.”
’’اﷲ کے بندوں حبیبِ الٰہی سیدنا محمدﷺ پر درود بھیجنے کو لازم پکڑو، کیونکہ جب ﷲ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زبان پر محمد ﷺ پر درود کو جاری و ساری کردیتا ہے۔”
(بُستان الوَاعظين :1؍300)
تبصرہ کریں