سوالات کے جوابات۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

اسقاط حمل میں بہنے والے خون میں نماز کا حکم

سوال:ڈاکٹرز نے میری حاملہ بیوی کے انتہائی مشکل حمل کی بنا پر اسقاط کے لئے انجکشن تجویز کیا ہے، جس کے نتیجے میں خون کا بہناز لازمی ہے، تو کیا اس دوران وہ نماز پڑھنے کی پابند ہوگی ؟

جواب : اسقاط حمل کے نتیجے میں بہنے والا خون نفاس ہی کی ایک شکل ہے ، اس لئے جب تک خون مکمل بند نہیں ہو جاتا ، خاتون کو نماز سے استثناء حاصل ہے۔

کاروبار میں شراکت داری

سوال: میں اپنے ایک دوست کے سا تھ اس کی تجارت میں شراکت کرنا چاہتا ہوں ۔ میں صرف ایک خاص رقم دینے کا پابند ہوں گا۔ لیکن میرا شریک ہر ماہ ایک خاص معین رقم مجھے دیتا رہے گا، تو کیا میں ایسا معاہدہ شراکت کر سکتا ہوں ؟

جواب : یہ صورت مُضاریہ یا قراض کہلاتی ہے، جس میں ایک فریق صرف اپنے پیسے سے شرکت کرتا ہے اور دوسرا فریق اسے تجارت میں لگاتا ہے۔ یعنی پہلے فریق کا پیسہ شمار ہوگا اور دوسرے فریق کی محنت ، اس میں قاعدہ یہ ہے کہ دونوں منافع کی شرح پر اتفاق کر سکتے ہیں یعنی پہلے فریق کو منافع کا نصف ملے گا اور دوسرے کو باقی نصف ، یا کوئی بھی دوسری نسبت شرح منافعہ، جیسے ایک کو 60 فیصد اور دوسرے کو 40 فیصد، لیکن اگر خسارہ ہو جاتا ہے۔ تو فریق اول کا خسارہ اس کے پیسے میں سے شمار ہوگا اور فریق ثانی اس لحاظ سے خسارے میں ہوگا کہ اس کی محنت رائیگاں گئی اور اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔

اب یہ منافع ما ہوار بھی دیا جا سکتا ہے اور یکمشت بھی، یعنی اسے ON ACCOUNT رکھا جائے گا ۔ یعنی اگر منافع کی رقم میں کمی بیشی ہوتی ہے تو اسے ADJUST کر لیا جائے گا، لیکن جو صورت آپ کے شریک نے تجویز کی ہے کہ وہ آپ کو ہرماہ ایک معین رقم ادا کرنے کا پابند ہو گا، چاہے اسے منافع زیادہ ہو یا کم ، یا چاہے اُسے خسارہ ہو، تو ایسی صورت نا جائز ہے۔

شیخ اللہ سلام ابن تیمیہ ﷫ارشاد فر تے ہیں :

’’اگر رب المال (پیسے لگانے والا شخص) اگر مضاربت میں معین دراہم اپنے لئے تجویز کر لیتا ہے، تو یہ بالاتفاق ناجائز ہے کیونکہ معاملات عدل و انصاف پر مبنی ہوتے ہیں ، اور اس طرح کے معاملات میں مشارکت کے ضمن میں آتے ہیں، اور مشارکت میں ہر پارٹی کے لئے (منافع) کا ایک حصہ لینا جائز ہے جیسے نصف یا ثُلث ، لیکن اگر معین مقدار مقرر کرلی جائے گی تو یہ عدل نہیں بلکہ ظلم ہوگا ۔‘‘ ( مجموع الفتاوی 28؍83)

ایسی ہی صورت یہ ہے کہ یہ ایک فریق کے لئے کل مال کا تین فیصد یا کوئی دوسری نسبت متعین کرلی جائے کہ اتنی رقم ہرماہ اسے ملتی رہے گی، تو یہ نا جائز ہوگا ۔ عدل کا تقاضا ہے کہ نفع میں ہو تو متفقہ نسبت کے برابر تقسیم منافع کی جائے اور اگر نقصان. ہو تو دونوں فریق نقصان میں شریک ہوں ۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ۔

ایسا ہی معاملہ نبی کریمﷺ نے یہود خیبر کے ساتھ مزارعت کے مسئلہ میں کیا تھا۔

فتح خیبر کے بعد خیبر کی زمین مسلمانوں کی ملکیت میں آچکی تھی ۔ نبی ﷺ نے یہودیوں کو وہاں رہنے کی اجازت دی اور پھر ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا کہ وہ اس زمین پر کام کریں گے۔ یعنی زمین کو پانی دینا ، درختوں کی دیکھ بھال کرنا اور پھر جو فصل ہوگی تو مسلمان بیت المال کی حیثیت سے نصف پھل کے حقدار ہوں گے اور یہود بحیثیت عامل باقی نصف کے حقدار ہوں گے۔ گویا اگر فصل اچھی ہوئی تو دونوں فریق اس سے فائدہ اٹھائیں گے اور اگر فصل اچھی نہ ہوئی یا کسی آفت کی بنا پر ضائع ہو گئی تو دونوں فریق کچھ نہ حاصل کر پائیں گے ۔

نافرمان بیٹے کو کسی فاؤنڈیشن یا ادارے کے سپرد کرنا

سؤال : یہ خط ایک درد بھرے والدین کی طرف سے موصول ہوا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کا بیٹا اب ساڑھے سولہ سال کا ہو رہا ہے، بولنے میں دقّت (AUTISM) کا شکار ہے۔ کہ جس کی وجہ سے اکثر شدید غصے میں آجاتا ہے جب کہ کوئی چیز اس کی طبیعت پرناگوار ہو اور ایسی صور ت میں وہ ماں باپ پر تشدد کرنے پر بھی اتر آتا ہے ۔

اگر گھر میں ایسی صور تحال ہو تو مقامی کونسل ایسے نوجوان کو مستقل رہائش گاہ مہیا کرتی ہے۔ جہاں اسے مناسب مدد اور تعاون حاصل رہتا ہے۔ لڑکے کی بھی خواہش ہے کہ وہ آزاد رہے اور اپنی مرضی سے زندگی گزار سکے۔ ہم اس مسئلہ میں تذبذب کا شکار ہیں ، کیا ہمارے لئے جائز ہوگا کہ ہم اسے علیحدہ کر دیں ؟

جواب: ماں باب کی اصل ذمہ داری تو بلوغت کی حدتک ہے اور زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب تک لڑکا اپنے پاؤں پر نہیں کھڑا ہو جاتا ، والدین کو اس کی ضروریات پورا کرنے کا خیال رکھنا چاہیے، لیکن یہاں ’’لا ضرر ولا ضرار ‘‘کی سی کیفیت پائی جاتی ہے کہ نہ تم کسی کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ ہی کسی کی تکلیف سہو۔‘‘

صورت مذکورہ میں لڑکا جوان ہو چکا ہے اور اپنی ایک تکلیف کی بنا پر سمجھنے سمجھانے سے قاصر نظر آتا ہے اور نوبت اس حد تک آچکی ہے کہ جن والدین کی خدمت کرنا اس کا فرض تھا، وہ انہیں اذیت پہنچانے کی حدتک کھڑا نظر آتا ہے ۔

یہ ایک نہایت تکلیف دہ صورت ہے ۔ بھلا ہو مقامی کونسل کا ، جو ایسے نا خلف بچوں کو اپنی گود میں لینے کو تیار ہے ، انہیں رہائش بھی مہیا کرتی ہے اور ان کی ضروریات کا بھی خیال رکھتی ہے اور جن عوارض میں وہ مبتلا ہے ، اس کے ازالے کے لئے بھی کوشاں ہے ۔ اس لئے آپ کے لئے جائز ہے کہ اُسے کونسل کی رہا ئشگاہ میں منتقل ہونے کی اجازت دیدیں تا کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزار سکے۔لیکن آپ دونوں باقاعدگی سے اس کے پاس جاتے رہیں اور اسے اپنی مادری اور پدری شفقت سے محروم نہ کریں ۔ اُس کو نماز ، قرآن کی تلاوت کرنے پر بھی رغبت دلاتے رہیں۔ دینی کتب بھی فراہم کرتے رہیں تاکہ وہ جادۂ مستقیم پرگامزن رہے۔ اس کی صلاح و بہبود کے لئے خاص طور پر دعا کرتے رہیں کہ والدین کی اپنی اولاد کے لئے دعا بڑا اونچا مقام رکھتی ہے اور کچھ بعید نہیں کہ وہ سدھر جائے۔

غیر مسلم ممالک میں والدین کا رہنے پر مجبور کرنا

سوال : ایک خاتون لکھتی ہیں کہ

میں یہاں اپنی والدہ کے پاس آ چکی ہوں، لیکن یہاں کے حالات دیکھتے ہوئے میں یہاں رہنا نہیں چاہتی ، واپس جانا چاہتی ہوں، تا کہ شادی کر سکوں اور عافیت کے ساتھ زندگی گزار سکوں۔

لیکن میری والدہ اس بات پر شدید برہم ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ تم پہلے یہاں مستقل اقامت کے حکومتی کا غذات حاصل کر لو اور اس کے بعد جہاں جانا ہے جا سکتی ہو۔

ایسی صورت میں جب کہ والدہ شدید غصے میں ہیں ، میں کیا کروں ؟

جواب : ایک بات تو بدیہی طور پر سب کے علم میں ہے کہ

والدین سے حسن سلوک کیا جائے ، ان کے سامنے اُف تک نہ کیا جائے ۔ یعنی ا نہیں قطعاً ناراض نہ کیا جائے ۔

اور یہی اسی آیت کا مطلب ہے :

﴿وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾

’’ اور دنیا میں ان کی صحبت اختیار کرو مگر اچھے انداز میں ۔‘‘

لیکن اگر وہ کسی نامناسب بات پر مجبور کریں تو باند از حسن ان کی بات کو نظر انداز کیا جائے، ایک غیر اسلامی ملک کی شہریت بعض مصالح کی بنا پر لینا بالکل جائز ہے لیکن اس پر مجبور کیا جانا نامناسب بات ہے ، آپ کی شادی کی خواہش کرنا اور اس مقصد‎ کے لیے واپس اپنے ملک جانا ایک خوش آئند بات ہے اور اس کےلئے والدہ کی طلب کہ جس کے حصول میں ایک طویل وقت لگ سکتا ہے ، ایک تاخیری حربہ دکھائی دیتا ہے ، اس لئے آپ اس مطالبے کو پورا کرنے کی پابند نہیں ہیں ۔ لیکن جیسے شروع میں کیا گیا ۔آپ ان سے قطعاً بدتمیزی نہ کریں۔ حسن سلوک سے پیش آتی رہیں ، ان کے حق میں دعا بھی کریں اور اللہ سے خاص طور پر یہ دعا بھی کرتی رہیں کہ

وہ آپ کو صراط مستقیم پر قائم رکھے اور ان کے لئے وہ بات مقدر کر دے جو دنیا اور آخرت میں ان کی کامیابی کی ضامن ہو۔

سلفی منہج کی طرف نسبت کرنا

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫کہتے ہیں:

“سلفی منہج کی طرف نسبت کرنے والے پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہے، بلکہ اگر کوئی نسبت ظاہر کرتا ہے تو اسے قبول کرنا چاہئے، اس بات پر سب کا اتفاق ہے، کیونکہ مذہبِ سلف حق ہی ہوسکتا ہے، اور اگر سلف کی طرف نسبت کا قائل شخص ظاہری اور باطنی ہر دو طرح سے سلف کے ساتھ اتفاق رکھتا ہو تو وہ ایسے مؤمن کی طرح ہے جو باطنی اور ظاہری طور پر حق پر ہے، اور اگر یہ شخص صرف ظاہری طور پر سلف کی موافقت کرتا ہے ، باطنی طور پر نہیں تو یہ شخص منافق کے درجہ میں ہے، اس لئے اسکی ظاہری حالت کو مان لیا جائے گا، اور دل کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا جائے گا، کیونکہ ہمیں لوگوں کے دلوں کا بھید لگانے کاحکم نہیں دیا گیا کہ وہ اندر سے کیسے ہیں!۔‘‘

(مجموع الفتاوى :1؍149)

٭٭٭

خوشگوار زندگی

شیخ محمد بن صالح العثیمین﷫ کا قول ہے کہ

’’بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ خوشگوار زندگی مصائب، امراض اور فقر سے نجات کا نام ہے۔ جبکہ خوشگوار زندگی مطمئن دل، اللہ کی تقدیر پر رضا، فراخی میں شکر اور تنگی میں صبر کا نام ہے۔ محض مال و دولت اور صحت کا وافر ہونا تو انسان کیلیے شقاوت اور تھکاوٹ کا باعث بن جاتا ہے۔‘‘ (فتاوى إسلامیہ:4؍64)

٭٭٭

امام ابن المبارك ﷫ کا قول ہے:

«مَن أراد النّظر إلى وجه خالقه؛ فليعمل عملًا صالحًا،ولا يُخبِر به أحدًا»

’’جو اپنے خالق کے چہرے کو دیکھنے کا ارادہ رکھتا ہے اسے چاہیے کہ کسی کو بتائے بغیر نیک عمل کرے۔‘‘

تبصرہ کریں