سوالات کے جوابات۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

قونیہ ( ترکی) میں منعقدہ یورپین کونسل برائے افتاء اور بحوث کے 35 ویں اجلاس میں پیش کرده چند فتاوی درج کر رہا ہوں ۔ ہر فتویٰ کے آخر میں صاحب فتویٰ کے نام کا حوالہ دیا گیا ہے۔

ریٹائر منٹ پر پنشن کا حکم

سوال: میں اس مسئلہ کا حکم شرعی جاننا چاہتا ہوں کہ بنک کی طرف سے ایک شخص کی تنخواہ میں سے ہر ماہ 2 سو، یا 3 سو یورو یا ایک معین نسبت کے برابر رقم کاٹ لی جاتی ہے، جو بنک کے پاس جمع رہتی ہے اور جب وہ شخص ریٹائرمنٹ کی عمر جیسے 65سال کو پہنچ جاتا ہے تو اسے تمام جمع شده رقم 25 ہزار یورو کے اضافہ کے ساتھ لوٹا دی جاتی ہے، تو سوال یہ ہے کہ آیا ریٹائرمنٹ کے بعد اس رقم کا وصول کرنا جائز ہے ؟

جواب: سائل کے سوال میں منعقدہ صورت کا تعلق تجارتی بیمہ سے ہے نہ کہ اس پنشن سے جو حکومت کے کسی محکمہ یا کسی کمپنی کی طرف سے ریٹائرمنٹ کے بعد دی جاتی ہے کہ جہاں وہ شخص ملازم رہا تھا ، کہا جائے گا کہ اس معاملے کا تعلق تبرعاتی عقود (معاملات) سے ہے کہ جنہیں معاوضاتی معاملات کی طرح اعتبار کیا گیا ہے۔ مذکورہ تجارتی بیمہ یا بنک کی طرف سے جو معاملہ کیا گیا ہے وہ پنشن والا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک سودی معاملہ ہے یا کم از کم ایسا عقد ہے جس میں شبہ پایا جاتا ہے۔ فقہاء عام طور پر حکومت یا کمپنیوں کی طرف سے دی جانے والی پنشن اور مذکورہ تجارتی بیمہ میں فرق کرتے ہیں۔ پہلا تعاون پر مبنی ہے، اس لئے جائز قرار دیا گیا ہے اور دوسرا بر بنائے سود حرام قرار دیا گیا ہے ۔

مجمع الفقہ الاسلامی کے اجلاس منعقدہ10 تا 16 ربیع الثانى 1406 کے ایک فیصلے میں کہا گیا ہے۔

1۔ تجارتی بیمہ پرمشتمل وہ عقد کہ جس میں ایک طے شدہ قسط کی ادائیگی شامل ہوتی ہے ، ایسا معاملہ ہے کہ جس میں جہالت کی بنا پر عقد فاسد ہو جاتا ہے اور اس بنا پر وہ حرام قرار دیا جاتا ہے ۔

2۔ متبادل عقد کہ جس میں اسلامی اصولوں کا خیال رکھا گیا ہے ۔ وہ تعاوفی بیمہ کا نظام ہے ، جس کی بنیاد باہمی تعاون اور تبرعات پر ہے ۔

3۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ اگر بنک کی طرف سے یہ معاملہ کیا جاتا ہے، جیسا کہ مذکورہ سوال میں پوچھا گیا ہے، تو اسے جائز سرمایہ کاری (INVESTMENT) شمار نہیں کیا جائے گا، چونکہ یہ ناجائز سودی کا روبار پر مبنی ہے ۔

خیال رہے کہ بنک لوگوں کے جمع شدہ ڈپازٹ (DEPOSITS) کو مزید زر پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ ڈپازٹ کا 10 فیصد یا 20 فیصد حصہ تو اپنے پاس رہنے دیتا ہے لیکن باقی رقم کو قرض کی صورت میں صارفین کو دے دیا ہے ،لیکن چونکہ یہ رقم چیک کی صورت میں دی جاتی ہے تو وہ ایک سو یورو کو ایک ہی شخص کو نہیں بلکہ 10 اشخاص کو بھی دے سکتا ہے اور اس طرح وہ ایک سو یورو کے ایک ہزار یورو تخلیق کرتا ہے یعنی اس رقم کی بنیاد سود در سود پر ہوتی ہے ، اور اس لئے بنک کے لئے یہ بڑا آسان ہے کہ اپنے ایک صارف کو ریٹائرمنٹ کے بعد ایک اچھی اضافی رقم ادا کر سکے۔

ہم یہ رائے رکھتے ہیں کہ عصر حاضر میں مال کی حیثیت وہ نہیں ہے جو پچھلے زمانوں میں تھی اور وہ اس لیے کہ پہلے سونا چاندی ہی بطور کرنسی متداول رہے، لیکن پچھلی دو صدیوں میں بنکوں کے کاروبار کی ابتداء سے صورتحال میں تبدیلی آ چکی ہے۔ اب بنک مصنوعی طور پر زر بناتے ہیں اور وہ اس طرح کی جو رقوم لوگ بچت کے طور پر بنکوں میں جمع کراتے ہیں۔ بنک اپنے تجربات کی روشنی میں جاتے ہیں کہ اسی فیصد ڈپازٹ کی رقوم طویل مدت کے لئے بنک میں پڑی رہتی ہیں اور مشکل سے بیس فیصد رقوم لوگ بنکوں سے نکلواتے ہیں ۔ اس لئے وہ اسی فیصد رقوم کو ان لوگوں کو بطور قرض دیتے ہیں جوبنکوں سے اپنی نجی یا تجارتی ضروریات کے قرض لینا چاہتے ہیں اور یہ ادائیگی چونکہ چیک سے ہوتی ہے یا صرف بنک کی طرف ٹرانسفر کی شکل میں ہوتی ہے تو ایک ہی مبلغ کو (مثال کے طور پر ایک ہزار یورو یا پونڈ کو) جو بنک کے اندر موجود ہے، کئی بار قرض پر دیا جا سکتا ہے۔ اسے ہی مصنوعی زر کہا جاتا ہے اور چونکہ اگر مارکیٹ میں زر کی افزائش ہو جاتی ہے تو لازمی طور پر چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا ، جس کا مطلب ہے کہ زر کی قیمت میں کمی واقع ہو جائے گی۔

نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ صارفین جن کا پیسہ بنکوں میں جمع ہے وہ اگر اپنی رقم پانچ ،دس سال بعد بنک سے نکلواتے ہیں تو اس کی قیمت میں کمی واقع ہو چکی ہوگی۔ یعنی سائل کے سوال کے مطابق اس کی تنخواہ میں سے جو رقم ہرماہ بنک کے کھاتے میں جمع ہو رہی تھی تو دس سال کے بعد (بطور مثال) دس ہزار یورو کی قیمت گھٹ کر آٹھ ہزار ہو سکتی ہے۔ اس کا مداوا ایسے ہو سکتا ہے کہ وہ زائد رقم جو بنک اسے ریٹائرمنٹ کے بعد ادا کرے گا ، یہ شخص اس میں سے اتنی رقم لے سکتا ہے ، جو مجموعی بچت کی قیمت میں کمی کے برابر ہو اور باقی رقم اس کے لئے حلال نہیں ہے، وہ اسے رفاہی کاموں میں یا غرباء میں تقسیم کر دے۔

یہ ایک حل ہے جو ہم نے اجتہادی طور پر تجویز کیا ہے۔ اس مسئلے میں بحث کی گنجائش ہے اور اہل علم اپنی آراء سے ہمیں آگاہ کرتے ہیں تو ہم ان کے شکر گزار ہوں گے واللہ اعلم ۔ (د؍ صہیب حسن)

بنک میں ملازمت کرنے کا حکم

سؤال : میں ایک نوجوان ہوں، ایک یورپی ملک میں رہائش رکھتا ہوں، تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری کے حصول میں بہت دقت پیش آرہی ہے اور مجھے نوکری کی شدید ضرورت ہے، میں مصنوعی ذہانت اور علوم بیانات سے تعلق رکھتا ہوں ۔ ہا لینڈ جہاں کہ میں مقیم ہوں، وہاں کے کسی بنک میں کیا ملازمت کرنا میرے لئے جائز ہوگا ؟ بنک چونکہ سودی معاملات نمٹاتے ہیں، اس لئے کیا میں وہاں ملازمت کر سکتا ہوں، میں یہ ذکر کرتا چلوں کہ میں نے بنک میں کام کرنے سے بچنے کی بہت کوشش کی ہے لیکن میرے جیسے آدمی کے لیے بنکوں کے علاوہ کہیں اور ملازمت ملنے کے امکانات ناپید ہیں۔

جواب : یہ درست ہے کہ عام مسلمانوں کے لئے غیر مسلم ممالک میں بالکل صاف و شفاف نوکری کا حصول ایک جان جوکھم والا سا معاملہ ہے ، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ لوگوں کو مناسب روزگار کی بھی تلاش رہتی ہے ۔ لیکن مالی معاملات کی حاجت ، ضرورت کے درجے میں ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ ضرورت کی بنا پر ایک ممنوع چیز بھی جائز ہو جاتی ہے اور جہاں تک بنکوں کا تعلق ہے تو وہاں کئی قسم کے معاملات ہوتے ہیں لیکن پھر بھی سودی معاملات وہاں بنیادی مقام رکھتے ہیں، اور اس لئے عام علماء نے لوگوں کے روزگار کی حاجت کو دیکھتے ہوئے، بنک میں کام کرنے کو جائز قرار دیا ہے اور اس بنا پر آپ اگر بنک میں کام کرنا چاہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔

امید ہے کہ آپ کو روزی کمانے اور گھر کی کفالت کرنے کا اجر ملتا رہے گا۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ نمازوں پر پاپندر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے احکام پر کار بند رہیں ، بچوں کی صحیح اسلامی تربیت کرتے رہیں ۔ اللہ تعالیٰ آدمی کے نیک کاموں کی وجہ سے اس کی برائیوں کا ازالہ کرتے رہتے ہیں ۔ (ڈاکٹر اکرم ندوی)

ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے تحت‎ گاڑی کا خریدنا

سوال: یہاں یہ طریقہ عام ہے کہ بعض کمپنیاں HOUSE FINANCING اسکیم کے تحت گاڑیاں فروخت کرتی ہیں اور یہ عقد مشتری اور کمپنی کے درمیان کسی تیسری جہت کی مداخلت کے بعد (جیسے بنک وغیرہ) تکمیل پاتا ہے ، لیکن اس عقد میں کمپنی کے فوائد پرمشتمل گاڑی کی قیمت کا تعین کر دیا جاتا ہے۔ (فوائد سے مراد سودی فائدہ ہے) یا پھر اس کمپنی کا جس بنک کے ساتھ کاروباری تعلق ہوتا ہے، وہ مشتری کو مال مہیا کرتا ہے اور مشتری کا سارا معاملہ بنک کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ اسے گاڑی کی قیمت بمع سود ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے، کیا یہ دونوں صورتیں جائز ہیں ، پہلے میں بظاہر ایک ہی عقد ہے اور دوسرے میں قرض لیا جاتا ہے اور بمع سود واپس کیا جاتا ہے ؟

جواب: اگر بائع ، چاہے وہ ایک شخص ہو یا ایک کمپنی ، اور مشتری کے در میان موٹر کی ایک قیمت طے ہو جائے جن پر دونوں کا اتفاق ہو تو یہ معاملہ جائز ہے، چاہے بائع نے اس میں کچھ رقم بطور فوائد (سود) رکھی ہو، لیکن اگر مشتری کا لین دین بنک کے ساتھ ہو کہ مشتری بنک سے قرض لے کر بالاقساط موٹر کی قیمت ادا کرتا ہو اور اس کے اوپر سود کی رقم بھی ادا کرتا ہو تو یہ ایک سودی معاملہ ہے جو کہ حرام ہے۔ واللہ اعلم (د؍ عجیل نشمی)

حمل کے دوران بچے کی اپنی مرضی کے مطابق حنس کا تجویز کرنا

سوال: میں ایک شادی شدہ خاتون ہوں، میرا ایک بچہ ہے ، اب میں ایک ایسا آپریشن کروانا چاہتی ہوں کہ جس کی رو سے اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے، بچے کی جنس کا تعین کروا سکوں ، میں جاننا چاہتی ہوں کہ آیا ایسا کرنا جائز یا نہیں؟

اس سوال کا پس منظر یہ ہے کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ ایک مغربی ملک میں رہائش پذیر ہوں اور اس بات سے خائف ہوں کہ اگر میری بیٹی ہوئی تو یہاں کے حالات کو دیکھتے ہوئے، عین ممکن ہے کہ میں اس کی صحیح تربیت نہ کر پاؤں اور وہ پھر بگڑ نہ جائے اور یوں اس کا دین برباد ہو جائے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ میں ابھی سے ( آپریشن کے ذریعے) اس کی جنس متعین کر سکوں ؟

جواب : سائلہ نے یہ بات واضح نہیں کی ہے کہ وہ آپریشن (یعنی حمل میں نطفے کو پلانٹ کرنے) سے کیا مراد لیتی ہے ، کیا اس کا اشارہ رحم میں مادہ منویہ رکھنے کو پلانٹ کروانا ہے یا اس کی مراد وہ علاج ہے کہ جس میں نطفے کو علیحدہ سے ایک نلکی میں پرورش کیا جاتا ہے اور پھر عورت کے رحم میں پلانٹ کر دیا جاتا ہے، اگر اس کی طرف سے وضاحت آجائے تو مجھے بتایا جائے ۔

اب ہم اصل مسئلہ کو لیتے ہیں اور وہ ہے، جنین کی نوعیت کا اپنی مرضی سے اختیار کرنا، اسلام نے عزل کو جائز قرار دیا ہے اور وہ بھی بچے کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ایک قسم کا اختیاری فیصلہ ہے اور دوسری طرف اسلام نے اس بات کو جائز قرار دیا ہے کہ ایک مسلمان اپنے رب سے یہ دعا کرے کہ اسے بیٹا یا بیٹی عطا ہو ، الله کے نبی سیدنا زکریا نے دعا مانگی تھی :

﴿‏وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِن وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا﴾ (سورة مريم :5)

’’ اور مجھے اپنی طرف سے ایسا وارث عطا فرتا جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بن سکے۔‘‘

تو معلوم ہوا کہ ایسی دعا کرنے کی اجازت دی گئی اور یہ بات بھی معلوم ہے ، کہ اگر کوئی فعل حرام ہو تو اس کا مانگنا بھی حرام ہے؟ اور یہ بھی کہ دعا کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ کوئی حرام چیز نہ مانگے اور یہ بھی طے ہے کہ کسی چیز کے واقع ہونے یا نہ ہونے کا تعلق الله تعالیٰ کے ارادے کے ساتھ ہے ، اور انسان کو یہ نہیں پتہ چلتا کہ اللہ کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں چاہتا ، جب کوئی چیز واقع ہو جاتی ہے تب ہی سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی مرضی کیا تھی، اور اس کے ارادے کے مطابق ہی وہ واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ جو اللہ چاہتا ہے اور کوئی اس امر کو ٹھکرانے والا نہیں ہے۔ قضاء و قدر کے مسئلہ میں ہمارئے ایمان کا تقاضا ہے کہ اس بات پر پورا پورا یقین رکھیں کہ اللہ ہی کو کسی چیز کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کا علم ہوتا ہے اور یہ بات اللہ کے ساتھ خاص ہے اور وہ چیز اس علم کے مطابق ہی واقع ہوتی ہے، اور یہ بات اللہ کے ساتھ خاص ہے اور جس چیز نے واقع ہونا ہے وہ اسباب اور موانع کے باوجود واقع ہو کر رہتی ہے ۔

اولاد کے ہونے یا نہ ہونے کے قواعد ان اسباب اور ضوابط کے اوپر مبنی ہیں، جو کہ اللہ نے اپنی مخلوقات میں بطور امانت سپرد کر دیئے ہیں اور جونہی اللہ تعالیٰ کا ارادہ ان اسباب و ضوابط کے ساتھ جڑ جاتا ہے ، وہ کام ہو جاتا ہے ، چاہےحلال طریقے سے ہو یا حرام طریقے سے اور یہ اس لیے کہ حرام سے بچنے کا تعلق ایک مؤمن شخص کی قوت ایمانی سے متعلق ہے کہ جو اسے اللہ کی نافرمانی سے بچاتی ہے، وہ ایسے موانع میں سے نہیں ہے جو معجزے کی صورت میں یا دنیوی سزا کی شکل میں لازمی طور پر ظاہر ہوں۔

بعض لوگ اس آیت یعنی

﴿يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ 0‏ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ﴾ (سورۃ الشوری: 49۔50)

’’وہ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے عطا کرتا ہے یا دونوں بیٹے اور بیٹیاں دے دیتا ہے اور جسے جاتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے ۔‘‘ کو پیش کرتے ہیں کہ اس آیت کی رو سے ایسا کرنا جائز نہیں ہے ، لیکن یہ درست نہیں اور وہ اس لئے کہ ایک مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ کا ارادہ اور اس کی مشیئت ہر کام میں کار فرما ہوتی ہے، تو اس کا یہ فعل اس آیت کے مفہوم سے ٹکراتا نہیں ہے۔

اور اسی لیے تو اس بات کو جائز سمجھتے ہیں کہ ایک بانجھ مرد یا عورت کو اپنے بانجھ پن کے علاج کے لئے ڈاکٹر کے پاس جانا جائز ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان یہ نہیں سمجھتا کہ جنین کو متعین کرنا خودا س کے ہا تھ میں ہے اور یہ بھی زیر غور رہنا چاہئے کہ یہ معاملہ انفرادی سطح پر ہو رہا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، جیسے ایک انسان کا عزل کرنا یا اولاد کی پیدائش میں مناسب وقفہ لانے کی کوشش کرنا ۔

البتہ اگر یہ معاملہ پورے معاشرے کی سطح پر قانون بنانے کے مرحلہ تک پہنچ جاتا ہے تو بہر حال خطرے کا باعث ہوگا۔ تو ہم کہیں گے کہ سائل کے لئے مصنوعی طور پر نطقے کی آبیاری PLANTATION جائز ہے تاکہ جنین کی جنس کا تعین ہو سکے لیکن اس اعتقاد کے ساتھ کہ ایسا صرف الله کے ارادے سے ہو سکتا ہے اور یہ کام ان ڈاکٹروں کے ہاتھ پر وقوع پذیر ہو جن کی امانت اور دیانت پر بھروسہ کیا جاسکتا ہو ۔ واللہ اعلم ( ڈاکٹر عجیل نشمی)

نوٹ : کاتب سطور (ص ح) نے سورة الشوری کی مذکورہ آیت کے تحت اس عمل کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مذکورہ رائے کی مخالفت کی تھی لیکن کثرت آراء کی بنا پر مذکورہ فتویٰ کو اپنایا گیا۔

٭٭٭

شيخ الإسلام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں :

قبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أفضل قبر على وجه الأرض وقد نهى عن اتخاذه عيداً فقبر غيره أولى بالنهي كائناً من كان .

“رسول اللہ ﷺ کی قبرِ مبارک زمین پر افضل ترین قبر ہے، اور اسے میلہ گاہ بنانے سے منع کر دیا گیا ہے تو آپ کے علاوہ کسی دوسرے کی قبر سے ممانعت تو بالأولی ہے چاہے وہ کسی کی بھی ہو۔‘‘

(اقتضاء الصراط المستقيم : 2؍172 ؛ طبع دار عالم الكتب، بيروت)

٭٭٭

شیخ سليمان بن سليم الله الرحيلی﷾ فرماتے ہیں:

’’جو کوئی اپنی ذات، اپنے اہل خانہ اور معاشرے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ رکھتا ہو ؛ اسے چاہیے کہ فہمِ سلف کے مطابق کتاب و سنت کی تعلیمات عام کرے۔‘‘

(شرح الوصیۃ الصغرى : ص32)

٭٭٭

تبصرہ کریں