سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

عصر حاضر میں مال (زر و نقد) کی حقیقت کیا ہے؟

سودی معاملات کے بارے میں بحث و نقاش کرتے ہوئے نظریہ خلق نقود یعنی زر کو کیسے مصنوعی طور پر پیدا کیا جا رہا ہے۔ عموماً تغافل کا شکار رہتا ہے ۔ لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ ایک سو روپے قرض میں دیئے جائیں تو قرض کی واپسی کے وقت اگر ایک سو دس دیئے جائیں گے تو وہ سود ہو گا لیکن وہ اس بات کا ادراک نہیں کر پاتے کہ جو قرض وہ بینک سے لے رہے ہیں، وہ خود سود ہی کی پیداوار ہے ،۔

اس موضوع کو یورپین کونسل برائے فتویٰ اور ریسرچ کے ایک سیمینار منعقدہ 26 فروری 2025ء (براه زوم) زیر بحث لایا گیا ۔ مرکزی مقالہ ملیشیا کے جناب شہر الدین زین الدین نے پیش کیا۔ اُسی کا خلاصہ یہاں پیش خدمت ہے۔

٭ زر( MONEY ) کیا ہے ؟

اسے چار معیارات سے پہچانا جا سکتا ہے ۔

1۔ ذریعہ تبادل : یعنی اس کے ذریعے مختلف چیزوں کی خرید کی جا سکتی ہے اور کسی بھی کام کا کا معاوضہ دیا جا سکتا ہے ۔

2۔ حساب و کتاب کی اکائی : یعنی زر کے ذریعے چیزوں اور مختلف خدمات کی قیمت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

3۔ خزانۂ قیمت یعنی اُسے مستقبل میں خرید و فروخت کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

4۔اُدھار سودوں کی قیمت چکانے کا معیار ہے یعنی لوگوں کی اکثریت اس بات کو مانتی ہے کہ زرہی وہ معیار ہے کہ اگر کوئی چیز پہلے خرید لی جائے تو بعد میں اس کی قیمت کی ادائیگی کی جا سکتی ہے ۔

٭ زر تین طرح کا ہوتا ہے :

1۔ کوئی بھی مال بطور خود دوسرے مال سے تبادلے کے لئے استعمال کیا جائے۔

اسے COMMODITY MONEY کا نام دیا گیا ہے ۔ اور اس قسم کا مال ذاتی طور پر اپنی قیمت رکھتا ہے ۔

2۔ FIAT MONEY : یہ کسی بھی ملک کی کرنسی کو کہا جاتا ہے ۔ جیسے روپیہ ، پاؤنڈ ، ڈالر، یورو اور چونکہ اسے ملک کی سرکار جاری کرتی ہے تو اسے قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔

3۔ Bank MONEY ، یہ وہ زر ہے جو بنک پیدا کرتا ہے اور دنیا میں اس وقت بنک کا پیدا کرده زر تقریبا 97 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور یہی بات زیر بحث ہے ۔

عصر حاضر کے زر کی تاریخ

یہ کوئی سترہویں صدی عیسوی کی بات ہے کہ لوگوں نے جب سناروں کے پاس اپنا سونا بحیثیت امانت رکھوانا شروع کیا تو سُنار ان کے سونے کی قیمت کے مطابق انہیں رسیدیں جاری کرنے لگے ۔ انہی رسیدوں کو (PROMISSORY NOTES) کہا جاتا ہے، گویا یہ رسیدیں اس بات کا وعدہ کرتی ہیں کہ جب بھی ا نہیں سناروں کے سامنے پیش کیا جائے گا وہ رسید میں تحریر کردہ سونا واپس کرنے کے مجاز ہوں گے۔

لوگوں نے انہی رسیدوں کو خرید و فروخت کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا اور پھر یہی رسیدیں اس کاغذی نوٹ کی شکل میں وجود پذیر ہو ئیں جو اب تک ہر ملک کی کرنسی شمار ہوتے ہیں۔

اور اس کے ساتھ ساتھ بنکوں کا قیام کبھی عمل میں لایا گیا ۔ انگلینڈ میں پہلا بنک 1694 ء میں قائم کیا گیا، جس نے کاغذی نوٹوں کے اجراء کے عمل کو اپنایا اور ان نوٹوں میں اس بات کی ضمانت دی جاتی تھی کہ بنک نوٹ میں درج شدہ قیمت کے مطابق حامل نوٹ کے مطالبہ پر اُتنا ہی سونا دینے کا پابند ہوگا۔ اور یوں لوگ بنک میں اپنا سونا جمع کروا دیتے اور اپنے اخراجات کے لئے بنک سے بقدر ضرورت پیسے نکلوا لیتے اور یہیں سے فر یکشنل رزرو منی (FRACTIONAL RESERVE MONEY) کا تصور عمل میں آیا ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مالکان بنک کے تجربے میں میں یہ بات آئی کہ جو لوگ اپنا سونا بنک میں بطور امانت جمع کراتے ہیں وہ اکثر طویل مدتوں کے لئے ہوتے ہیں ۔ صرف بیس فیصد (یا دس فیصد ) لوگ قلیل مدت میں اپنا سونا واپس وصول کرنے کے لئے آتے ہیں، تو کیوں نہ بنک میں جمع شده تمام رقوم (سونا،نقد کرنسی) میں سے صرف ایک قلیل حصہ (جیسے بیس (20) فیصد حصہ) بنک میں رکھا جائے اور باقی اسی فیصد رقوم کو بطور قرض دینے کے لئے استعمال کیا جائے۔

گویا اگر کسی شخص نے سو پاؤنڈ جمع کروائے ہیں تو صرف بیس پاؤنڈ بنک اپنے پاس رکھے اور باقی اسی پاؤنڈ وہ کسی قرض خواہ کو سود پر دے دے ،لیکن یہ قرض چونکہ سونے کے سکوں میں تو نہیں دیا جائے گا، بلکہ کاغذی نوٹ کی شکل میں یا چیک کی شکل میں دیا جائے گا تو اسی ایک رقم کو چیک کی شکل میں ایک سے زیادہ افراد کو دیا جاسکتا ہے ، اور عملاً دیکھا گیا کہ ایسی ایک رقم کے چیک دس افراد کو دیئے جاسکتے ہیں ،گویا صرف 80لونڈ کی رقم کو بذریعہ چیک اگر دس افراد کو دیا جائے گا تو وہ دس گنا بڑھ کر 800 پاؤنڈ کی شکل اختیار کر گئے اور پھر ہر قرض خواہ جب بھی قرض کو بمع سود واپس کرے گا تو بنک کو مزید رقم بھی حاصل رہے گی ۔ مزید تفصیل آگے آرہی ہے۔

اس عمل کے نتیجے میں بنکوں کے جاری کردہ قرضے سونے اور چاندی کا متبادل قرار دیئے گئے۔

٭ مرکزی بنک کے جاری کردہ نوٹ اور سکے (FIAT MONEY)

لاطینی زبان میں FIAT کا مطلب ہے : Let it Be Done ’ہو جا‘ (جیسے قرآنی زبان میں اللہ کی صفت ہے : ’ کُن فیکون ‘ ہو جا تو وہ چیز وجود میں آجاتی ہے )

تو یہ لفظ عام طور پر اللہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے بائبل (عہد قدیم) کے پہلے باب (پیدائش) میں کہا گیا:

LET THERE BE LIGHT) FIAT LUX: روشنی ہو جائے !

حکومتوں نے یہ لفظ اُس زر کے لئے استعمال کیا ہے جو وہ عدم سے وجود میں لاتے ہیں۔ یعنی کچھ نہیں تھا پھر بھی انہوں نے اُسے پیدا کر لیا ۔

اوراس کامطلب یہ ہوا کہ یہ عمل خدائی کردار کی نقل کرنے کے مترادف ہے، یعنی یہ تو صرف اللہ کی ذات ہی ہے، جو عدم سے کسی شیئ کو وجود میں لا سکتی ہے اور یہاں انسان ڈھٹائی سے یہ دعوی کرتا ہے کہ ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں ۔

٭ جزئی طور پر محفوظ رکھنے کا عمل (فریکشنل رِزَرَو سسٹم )

اس سسٹم کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کہ اس سسٹم کے مطابق بنکوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کی جمع شدہ رقوم ( DEPOSITS) کا ایک معمولی سا حصہ اپنے خزانے میں محفوظ رکھتے ہیں اور باقی رقم لوگوں کو بطور قرض دے سکتے ہیں اور یوں بنک قرض دینے کے بہانے مزید رقم پیدا کرنے کے مجاز ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ اصلی رقم سے کئی گنا رقم کو مارکیٹ میں پھیلا دیتے ہیں ، یہ جاننے کے لئے وہ ریزرو (محفوظ رقم ) کو کتنے گنا مزید بڑھا گئے ہیں ، اس فارمولے سے جانا جا سکتا ہے جسے منی ملٹی پرائر (MONEY MULTI PRIER) کا نام دیا گیا ہے۔

فارمولا یہ ہے :

1-Reserve RATIO = (منی ملٹی برائر ) MM

اگر ریزور کی نسبت 10 فیصد ہے تو شکل یہ ہوگی :

1/0.01=10

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر اصل ڈپازٹ ایک ہزار پاؤنڈ تھا تو اُسے اس عمل کے نتیجے میں دس گنا یعنی دس ہزار تک بڑھایا جاسکتا ہے،

نتیجۃً فریکشنل ریزرو بیکنگ سسٹم کے تحت بنک اپنی محفوظ رقوم کو دس گنا تک بڑھا سکتا ہے۔

بنک کیسے زر کو پیدا کرتے ہیں ؟

ہم اس عمل کو مرحلہ وار ترتیب کے ساتھ بیان کرتے ہیں :

1۔ابتدائی ڈپازٹ کی رقم

ایک گاہک بنک (A) میں ایک ہزار پاؤنڈ کی رقم جمع کراتا ہے۔

2۔ بنک اس کا ایک حصہ یعنی دس فیصد ( 100 پاؤنڈ) محفوظ رکھتا ہے اور باقی 900 پاؤنڈ کو قرض پر دینے کا مجاز ہوتا ہے۔

3۔ بنک (A) نوسو پاؤنڈ کی اس رقم کو ایک قرض خواہ کو دے دیتا ہے جو اس رقم کو کسی چیز کے خریدنے میں یا کسی خدمت (SERVICE) کی ادائیگی کے عوض ادا کر دیتا ہے اور نتیجہ 900 پاؤنڈ کی یہ رقم وصول کرنے والا اسے بنک(B) میں جمع کرا دیتا ہے۔

4۔ بنک (B) نو (900 پاؤنڈ کی رقم وصول کرنے کے بعد اس کا دس فیصد (90) پاؤنڈ) اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے اور باقی 810 پاؤنڈ کسی کو قرض دے دیتا ہے اور پھر یہ رقم ایک تیسر ا شخص وصول کرتا ہے اور جب وہ کوئی چیز خرید لیتا ہے یا کسی خدمت کے عوض کسی کو ادائیگی کر دیتا ہے تو یہ رقم وصول کرنے والا اسے بنک (C) میں جمع کرا دیتا ہے، بنک(C) اس کا دس فیصد (81 پاؤنڈ) اپنے ریزرو میں رکھنے کے بعد باقی 729 پاؤنڈ کسی اور کو قرض میں دے دیتا ہے۔

5۔ اب یہی عمل بار بار دہرایا جائے گا ، ہر بنک جمع شدہ رقم کا دس فیصد بطور ریز رو رکھے گا اور باقی قرض دے دے گا ۔

اور اس طرح کل دس دفعہ کے تبادلے کے بعد ایک ہزار پاؤنڈ کی اصلی رقم مصنوعی تخلیق زر کے نتیجے میں دس ہزار میں تبدیل ہو جائے گی۔

٭ تخلیق زر کے اثرات !!!

1۔ معیشت کو تمویل (پیسہ لگانے) کے عمل میں تبدیل کر دیا گیا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل معیشت (ECONOMY ) کے بجائے مارکیٹ میں پیسہ لگانے والا حصہ چھا جائے گا ۔ گویا زر کو کاروبار کی شکل دے دی جائے گی۔

2۔ اور اس عمل کے نتیجے میں غیر ملکی کرنسی کے تبادلے کی تجارت روزانہ کے حساب سے 7.5 کھرب ( TRILLION) تک پہنچ گئی ہے ۔

اور یہ رقم اس نسبت سے بہت زیادہ ہے جو عالمی تجارت کے لئے (FX) یعنی غیر ملکی کرنسی کے تبادلے کے لئے ضروری ہے۔

3۔ اور اس عمل کے نتیجے میں صرف امریکہ کی سالانہ آمدنی 85 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو کہ اس کی کل متوسط آمدنی (GDP) سے 370 فیصدزائد ہے ۔

4۔ اس کا سب سے خطرناک اثر ملکی معیشت میں غیر معمولی گرانی ( INFLATION) کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ۔

ظاہر ہے مارکیٹ طلب اور رسد کے اصول پر کام کرتی ہے۔ مارکیٹ میں اگر پیسہ زیادہ آجائے اور چیزیں کم ہوں تو قیمتیں بڑھیں گی ۔

رہائشی مکانات کی قیمتیں ہر سال اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہیں کہ لوگوں کی قیمت خرید سے باہر پہنچ چکی ہیں اس لیے مارگیج کی بزنس آسمانوں کو چھو رہی ہے۔ (ص ح)

٭ زر کو تجارت میں بدلنے (FINANCIALISATION) کے اثرات :

1۔قرض کے اوپر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ عالمی قرض 307 کھرب ( ٹریلین ڈالر) تک پہنچ چکے ہیں ۔

2۔ تمام آبادی کا ایک فیصد (سب سے اونچاطبقہ) ، حصص کی مارکیٹ میں ملکیت کی بناپر زیادہ تر آمدنی وصول کرتا ہے ۔ سن 2022 کے اختتام تک عالمی سرمائے کی قیمت 454 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو کہ عالمی GDP کا 450 فیصد حصہ بنتا ہے ۔ اور یوں آمدنی کی یہ تقسیم انتہائی غیر منصفانہ ہے ۔

3۔ معیشت کا عدم استحکام

معیشت میں اُتار ( Bust ) اور چڑھاؤ (BOOM) کا سبب قرض میں مہنگائی INFLATION ) کارجحان اور طویل عرصے کی کساد بازاری (RECLESSION) شامل ہے ۔

4۔ حقیقی پیداواری عمل میں پیسہ لگانے (INVESTMENT) کی شرح کم ہوتی جا رہی ہے ۔

٭ اسلامی طرز عمل کے مطابق کاروباری عمل کا مستقبل کیا ہے ؟

1۔ اسلامی بنک صرف اسی لئے اسلامی کہلاتے ہیں کہ وہ اپنے پیچھے ایک شریعت بورڈ رکھتے ہیں۔

2۔ علاج صرف یہی ہے کہ بنک سو فیصد محفوظ (RESERVE) رکھنا شروع کریں اور اس طریقے سے جو غلطی کی گئی ہے اس کا ازالہ ہو سکے ۔

3۔ اس بات کا عزم کیا جائے کہ جو بھی تجارتی معاملات ہوں گے ان کو حصص اور نفع میں شراکت کی بنیاد پر چلایا جائے گا ۔

٭ اسلامک بیکنگ اب کہاں کھڑی ہے ؟

1۔ کیا اس نے موعودہ مقاصد شریعہ کو پورا کر دکھایاہے، جو مال کے تحفظ اور بقاء کا مطالبہ کرتے ہیں؟

2۔اسلامی بیکنگ کے 90 فیصد عقود (معاہدے) قرض کی بنیاد پر ہیں کہ جس کی بنا پر انہوں نے گھریلو اخراجات کے قرض پر انحصار کو بڑھا دیا ہے۔

3۔ کہاں گیا وہ دعویٰ کہ ایسے معاملات کو فروغ دیا جائے جس میں حصے داری اور منافع میں شراکت کی بنیاد پر پیسہ لگایا جاتا تھا؟

4۔ کیا خود اسلامی بنک اس نظام کا حصہ نہیں بن چکے ہیں، جس میں جزئی طور پر ریزرو رکھنے کے اصول کو اپنا یا گیا ہے؟ کیا وہ بھی زرکی تخلیق میں شریک نہیں ہیں ؟

نوٹ: بطور تتمہ میری چند میری گذارشات اگلے پرچے میں ملاحظہ ہوں ۔ (ص ح)

٭٭٭

مسجد جلدی جانے کے فوائد اور اس کی فضیلتیں

مسجد جلدی آنے والا نماز کے حکم میں

جلدی مسجد آنے کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ مسجد جلدی آنے والے کو نماز کے انتظار کرنے کا موقع ملتا ہے اور حدیث میں صراحت ہے کہ

’’نماز کا انتظار کرنے والا ایسا ہے گویا کہ وہ نماز کی حالت میں ہے ۔‘‘ (صحیح نسائی : 733)

دوسری حدیث میں آتا ہے کہ ’’جب تک تم میں سے کسی کو نماز روکے رکھتی ہے وہ مسلسل نماز میں ہوتا ہے ، اسے گھر کی طرف لوٹنے سے نماز کے علاوہ اور کسی چیز نے نہیں روکا ہوتا ۔‘‘ (صحیح بخاری : 656)

فرشتوں کی دعائیں

جلدی مسجد آنے والا جب نماز کا انتظار کر رہا ہوتا ہے تو فرشتے اس بندے کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

تم میں سے کوئی شخص جب تک اپنی ( نماز پڑھنے کی ) جگہ پر بیٹھا رہتا ہے ، فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ بے وضو نہیں ہوتا ۔کہتے ہیں : اے اللہ ! اسے بخش دے ! اے اللہ اس پر رحم فرما ۔

ایک اور حدیث میں نبی كریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’تم میں سے کوئی شخص جب تک اپنی ( نماز پڑھنے کی ) جگہ پر بیٹھا رہتا ہے ، فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں ، کہتے ہیں : اے اللہ ! اسے بخش دے ! اے اللہ اس پر رحم فرما ! یہ اس وقت تلک جاری رہتا ہے جب تک وہ بے وضو نہیں ہوتا ، اور جب تک تم میں سے کسی شخص کو نماز روکے رکھتی ہے ، وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ۔‘‘ (صحیح مسلم :649)

گناہوں کی بخشش اور درجات کی بلندی

جلدی مسجد آنے والا جب نماز کے انتظار میں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نماز کے انتظار کرنے والے کے خطاؤں کو در گزر فرماتا رہتاہے اور اس کےدرجات بلند فرماتا رہتاہے ۔ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

أَلا أدُلُّكُمْ علَى ما يَمْحُو اللَّهُ به الخَطايا، ويَرْفَعُ به الدَّرَجاتِ؟ قالُوا بَلَى يا رَسولَ اللهِ، قالَ: إسْباغُ الوُضُوءِ علَى المَكارِهِ، وكَثْرَةُ الخُطا إلى المَساجِدِ، وانْتِظارُ الصَّلاةِ بَعْدَ الصَّلاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّباطُ، فَذَلِكُمُ الرِّباطُ.(صحیح مسلم :251)

کیا میں تم کو ایسی عبادت نہ بتاؤں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ مٹا دے اور جس سے تمہارے درجات بلند فرمائے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا : تکلیف کے وقت اچھی طرح (پانی بہا کر) وضو کرنا، کثرت سے مسجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، پس یہی تمہارے لیے رباط ہے، پس یہی تمہارے لیے رباط ہے یعنی گناہ سے بچنے کی سرحد ہے اور حفاظت کا ذریعہ ہے ۔

یعنی یہ اعمال جہاد کی طرح ہیں جن کے ذریعہ انسان اپنے سب سے بڑے دشمن شیطان کو زیر کرتا ہے، اس وجہ سے اسے رباط» کہا گیا ہے جس کے معنی سرحد کی حفاظت و نگہبانی کے ہیں۔

تبصرہ کریں