سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

14مئی 2025ءکو فتویٰ کمیٹی برطانیہ کا اجلاس ہوا ، جن فتاوی کے جوابات پر اتفاق کیا گیا ، وہ عربی اور انگریزی میں تحریر کردہ ہیں ، ان کا ترجمہ پیش خدمت ہے، ہر فتوی کے آخر میں فتوی تحریر کرنے والے صاحب علم کا نام دیا گیا ہے ۔

دانتوں کی خوبصورتی کے بارے میں

سوال : ایک خاتون کی طرف سے سوال کیا گیا ہے کہ آج کل (SMILY PIERCING) کے نام سے ایک رواج چل پڑا ہے اور وہ یہ کہ اوپر والے ہونٹ میں سے ایک جھلہ اس طرح گزارا جاتا ہے کہ اس میں دو تین موتی دانت کے اوپر لٹکے ہوئے نظر آتے ہیں تو آیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

جواب:چہرے کی خوبصورتی کو بڑھانے کے لئے چند ایسی چیزیں ہیں، جن سے منع کیا گیا ہے۔

اور جن کا تذکرہ اس حدیث میں ہے ۔

بروایت عبد اللہ بن مسعود نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«لَعَنَ اللَّهُ الوَاشِمَاتِ وَالمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالمُتَنَمِّصَاتِ وَالمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ» (صحیح بخاری: 5943)

’’الله لعنت بھیجتا ہے ان عورتوں پر جو جسم پر نشانات (TATOOES) گدواتی ہیں اور وہ بھی جو اس کی خواہش کرتی ہیں اور وہ عورتیں جو اپنے چہرے کے بال اکھڑواتی ہیں یا اس کی طلب کرتی ہیں اور وہ عورتیں جو صرف خوبصورتی کی خاطر اپنے دانتوں میں رخنے ڈلواتی ہیں (یعنی ایک دانت دوسرے سے الگ نظر آئے ) ، وہ جو اللہ کی پیدا کرده صورت کو بدلنا چاہتی ہیں۔‘‘

جو صورت خاتون نے ذکر کی ہے وہ بھی صرف خوبصورتی کی خاطر کی جاتی ہے حالانکہ اس طرح کی زیبائش سے دانتوں کی صفائی میں بھی دقت پیش آ سکتی ہے چنانچہ جس علت کا ذکر حدیث میں آیا ہے ، وہ اس عمل میں بھی پائی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا ایسی عورتوں پر لعنت بھیجنا اس کے ممنوع اور قابل مذمت ہونے کے لئے کافی ہے ۔ (صہیب حسن)

وراثت کے بارے میں

سؤال:شام سے آئے ھو ایک مہاجر نوجوان سؤال کرتے ہیں کہ میرے والدنے اپنی زندگی میں ایک موٹر کار خریدی، اور اس کی تمام قیمت اقساط میں ادا کر دی تھی گو وہ ان کے نام رجسٹرڈ نہ کی جا سکی بلکہ مالک موٹر (کمپنی) کے نام پر ہی رہی، والد کی وفات کے بعد میرے چچا حضرات کے استعمال میں رہی، یہاں تک کہ ملک شام میں خانہ جنگی شروع ہو گئی ، 2013ء تک ہم سب شام سے نکلنے میں کا میاب ہو گئے تھے، اب جب شام کے کچھ علاقوں کو آزاد کرا لیا گیا تو ہم نے ایک جگہ سے گاڑی کو بازیاب کرا لیا اور پندرہ سو ڈالر کے عوض اُسے موجودہ حامل کار کے پاس رہنے دیا۔اب سوال یہ ہے کہ اس مال میں بطور وراثت تمام ورثہ کا حق ہے یا صرف میت کی اولاد اس کی وارث ہوگی؟

جواب : اللہ آپ کے والد پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور مغفرت سے نوازے اور اللہ کا شکر ہے کہ آپ سلامتی کے ساتھ اپنے وطن کو لوٹ آئے۔

گاڑی بیچ کر جو رقم حاصل ہوئی ہے وہ تمام شرعی وارثوں ہی میں تقسیم کی جائے گی، اگر اولاد میں بیٹے، بیٹیاں دونوں ہیں تو بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دگنا حصہ ملے گا اور اگر والدہ بقید حیات ہیں تو انہیں ان کا فرض حصہ ملے گا جو کہ اولاد کی موجودگی میں چھٹا حصہ بنتا ہے اور اگر اولاد نہ ہو تو وہ ایک تہائی کی حقدار ہوں گی، اگر صرف بیٹیاں ہی ہوں تو پھر ان کا حصہ دینے کے بعد جو بچے گا وہ ان کے چچا تایا کو بطور عصبہ دیا جائے گا۔ (شیخ بسام شطی، کویت)

مرتد اولاد کے ساتھ تعلقات کی نوعیت !!

سوال: میں چوبیس سال سے یورپ کے ایک ملک میں مقیم ہوں، ایک نو مسلمہ خاتون سے شادی کی جس سے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ، میری 18 سالہ بیٹی اسلام چھوڑ چکی ہے اور ایک عیسائی نوجوان کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کئے ہوئے ہے ۔ ہم نے اس کی اسلامی تربیت کی تھی لیکن اب وہ پوری طرح آزادی کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ کھلے عام شراب پیتی ہے، مغربی لباس پہنتی ہے، اگر اسلام کے بارے میں بات کریں تو بات سننے سے انکار کردیتی ہے، کہتی ہے کہ یا تو جیسی میں ہوں ویسے ہی مجھے قبول کرو، وگرنہ میں سب سے قطع تعلق کر لوں گی۔ میں ان سوالوں کا جواب چاہتا ہوں:

1۔اس کے مرتد ہونے ، غیر اسلامی طرز حیات رکھنے کے با وجود کیا ہم اس سے تعلقات رکھ سکتے ہیں ؟

2۔ کیا ہم اسے اس بات کی اجازت دیں کہ وہ اپنے غیر مسلم شریک حیات کے ساتھ ملنے کے لئے آئے ؟

3۔ اگر وہ ایک غیر مسلم سے شادی کر لیتی ہے تو کیا ہم اس نکاح کو تسلیم کر لیں ؟

4۔ مستقبل میں اگر اسی کی اولاد ہوتی ہے تو ہمارا ان سے کیا تعلق ہونا چاہیے ؟

5۔ خاندان کے باہمی روابط اور اسلامی اصولوں کے درمیان کیسے توازن قائم کیا جاسکتا ہے؟

جواب : یہاں ہم اختصار سے جواب پیش کرتے ہیں :

1۔ اس کے ساتھ، ایک محدود تعلق رکھا جا سکتا ہے، صرف اس خیال سے کہ شاید وہ راہِ صواب پر آجائے ، کیونکہ اگر ا ُسے بالکل چھوڑ دیا گیا تو وہ منحرف اور بد کردار لوگوں کے ہتھے چڑھ سکتی ہے، تعلقات محدود ہوں تاکہ آ پ کا اپنا گھر اس کے زیر اثر نہ آسکے ، پھر بھی ہمیشہ اس کے لئے دعا کرتے رہیں کہ اسے تو بہ کی توفیق ہو اور وہ راہِ راست پر آجائے ۔

2۔ کوشش کرتے رہیں کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ اس سے اسلام کے بارے میں بات چیت جاری رہے، اسلام کے محاسن کا بیان ہوتا رہے ۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ پر ایمان لانے کی ترغیب دی جاتی رہے اور بتایا جائے کہ اسلام رحمت اور عدل کا دین ہے اور تمام بنی نوع انسان کی بھلائی چاہتا ہے ۔

3۔ وہ آپ سے ملنے آئے تو تنہا آئے ، ساتر لباس پہن کر آئے ، اسلام کے بارے میں طعنہ زنی نہ کرے اور حرام مشروبات ساتھ لے کر نہ آئے۔

3۔ آپ اپنے اس موقف پر قائم رہیں کہ ایک غیر مسلم مرد کے ساتھ شادی کرناحرام ہے۔

4۔ اگر اس کے ہاں اولاد ہو جاتی ہے تو ان کے ساتھ اچھے روابط رکھے جائیں تاکہ وہ اچھا تاثر قبول کریں ، ان کے دلوں کو جیتنے کی کوشش کریں ۔

5۔ جن جن شرعى ناجائز حرکات میں وہ مبتلاہے، اسے کراہت کی نگاہ سے دیکھا جائے اور اس بات کو واضح کرتے رہنا چاہیئے کہ اگر وہ اسلام کی طرف لوٹ آتی ہے ، اللہ کے احکامات کی تابعداری کرتی ہے اور محرمات سے بچتی ہے تو وہ پہلے کی طرح عزت ، محبت اور نصرت کی مستحق ہو گی ۔ (ب ش)

حاملہ عورتوں کی رہنمائی کے لئے ایک APP کا قیام

سوال : میں آن لائن پروگراموں کا بنانے والا ہوں ۔ سوال یہ ہے کہ میں بحیثیت کنٹریکٹر ایک ایپ APP روشناس کروانا چاہتا ہوں، جس کا مقصد ان عورتوں کی رہنمائی اور مدد کرنا ہے جو حمل اور مرحلہ ولادت کے دوران مزاجی تقلبات کا شکار ہو سکتی ہیں ؟ اس پروگرام میں ایسی عورتوں کو مفید مشورے دیے جائیں گے اور اس کے توسط سے ایسے ماہر افراد کے ساتھ بات چیت ہوسکے گی جو انہیں ان کے حالات کے مطابق مناسب رہنمائی دے سکیں گے۔

اس پروگرام میں ایسے مضامین بھی شامل ہوں گے جن میں بعض خواتین کی بغیر حجاب کے تصاویر بھی ہو سکتی ہیں اور ضروری نہیں کہ میں نے ہی یہ تصویریں وہاں ڈالی ہوں، یعنی میں ان کی وہاں موجودگی کا ذمہ دار نہیں ہوں گا ۔

میں جاننا چاہتا ہوں کہ ایسے APP کے بنانے اور اس کی تشہیر کرنے کا کام میرے لئے جائز ہوگا یا نہیں ؟

جواب: تجارتی امور میں اصل تو جواز ہے اور اس میں یہ کام بھی داخل ہے جس کا آپ نے اپنے سوال میں ذکر کیا ہے یعنی ایسی APP کی تشکیل دنیا جس میں مذکورہ خواتین کی طبی، اجتماعی، نفسیاتی اور دینی رہنمائی کی جاسکے ، اگر اس پروگرام میں، اسلامی تعلیمات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، لیکن جہاں تک تصاویر کا تعلق ہے تو اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان میں قطعی طور پر کوئی ایسی تصویر نہ ہو جو شریعت میں حرام متصور ہوتی ہو یا اس میں کسی حرام چیز کی طرف رغبت دلائی گئی ہو یا وہ شبہات کے دائرے میں آتی ہو ، نبی ﷺ کا واضح فرمان ہے :

« دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ»

’’چھوڈ دو ہر اس چیز کو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اختیار کرو اس چیز کو جس میں کوئی شک نہ ہو۔ ‘‘ (ب ش)

وہ خاتون جو سن یآس تک پہنچ گئی ہے

سؤال: میری عمر 54 سال کی ہو چکی ہے اور دو سال سے ماہواری کا آنا منقطع ہو گیا ہے،اور سن یأس کے عوارض شروع ہو چکے ہیں، جیسے گھبراہٹ، گرمی کا احساس، ہڈیوں کی کمزوری، مایوس کن خیالات، نیند کا نہ آنا وغیرہ وغیرہ ۔

جب میں نے اپنی ڈاکٹر کی طرف رجوع کیا تواس نے ہرمون کی تبدیلی پر مشتمل علاج کروانے کا مشورہ دیا یعنی میں آسٹروجن (ESTROGEN) پروجیس ٹیرون PROGESTERONE کا متبادل استعمال کروں۔ میں نے رمضان سے قبل علاج شروع کیا تھا کہ دو دن کے بعد ماہواری کا آغاز ہو گیا لیکن میں نے اس خیال سے کہ کہیں یہ ہرمون کے علاج کی بنا پر نہ آیا ہو، روزے رکھتی رہی اور نماز کی ادائیگی کرتی رہی، اب اس وسوسے کا شکار ہوں کہ کہیں میرے روزے فاسد تو نہیں ہو گئے ؟ مہربانی کر کے میری رہنمائی کی جائے۔

جواب : جو خاتون سن یأس کو پہنچ جائے تو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ

ذکر الٰہی کثرت سے کیا کرے ، قراءت قرآن کی پابندی کر ے، استغفار کا عمل جاری رکھے۔ دعا کرتی رہے اور نماز کی پابندی کرے اور اگر ہرمونات کے علاج کے طور پر دوا کھانے سے ماہواری عود کر آ ئے تو پھر جو حکم حائضہ کا ہے وہی حکم اس کا ہوگا یعنی وہ نماز نہ پڑھے اور روزہ نہ رکھے ، اورجونہی طاہر(پاک) ہو تو غسل کرے اور روزوں کی قضا کرے اور پھر ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا کرے۔ (ب ش)

مصنوعی حمل کا حکم

سوال : میری شادی کو سات سات سال ہو چکے ہیں لیکن میری بیوی ابھی تک بچے سے محروم ہے، اس کی شدید خواہش ہے کہ وہ ماں بن سکے لیکن قدرتی طور پر وہ وہ حاملہ نہیں ہو سکتی ، ڈاکٹروں نے مصنوعی طور پر حمل قرار پانے (کہ جسے IVF کہا جاتا ہے) کا مشورہ دیا ہے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے ۔ یادر ہے کہ میری دوسری بیوی سے میرے چار بچے ہیں ۔

جواب: اسباب کا اختیار کرنا اللہ پر توکل کے منافی نہیں ہے۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی انہی وسائل میں سے ایک وسیلہ ہے لیکن تین شرطوں کے ساتھ:

1۔شوہر کا نطفہ ہو اور اسی کی بیوی کا بُویضہ ہو کہ جنہیں ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعہ ملایا جائے گا تاکہ حمل قرار پا سکے۔

2۔اور کوئی خارجی دخل اندازی نہ کی جائے گی یعنی کسی اور عورت کا بویضہ استعمال نہ ہوگا۔

3۔یہ آپریشن ایک با اعتماد مسلمان ڈاکٹر کے زیر نگرانی کیا جائے گا ۔ (ب ش)

بیٹی کو اس کے حصے سے زیادہ دینے کا حکم

سوال : ایک خاتون ( نام فاطمہ ہے ) سوال کرتی ہیں کہ ان کے دو بھائی ہیں ، لیکن وہی کئی سالوں سے اپنے والدین کی خدمت کرتی رہی ہے اور اس کا اعتراف اس کے والد بھی کرتے ہیں اور اپنی طرف سے اسے حصہ وراثت سے زیادہ دینا چاہتے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ اسے میراث کا 36فیصد ملے اور ہر بھائی کو 27 فیصد ۔

والد نے اپنے علاقے کے ایک مفتی سے مشورہ کیا تو اس نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن دونوں بھائیوں نے وصیت منسوخ کرنے پر زور دے رکھا ہے اور صورححال یہ ہے کہ وہ دونوں مالی لحاظ سے خوشحال ہیں اور خاتون کے پاس اپنا گھر تک نہیں ہے ۔ اب والد کی وفات کے بعد والدہ 50 فیصد ترکہ کی مالک ہے ، دونوں بھائی ماں پے زور ڈال رہے ہیں کہ وہ قانون میراث پر عمل کرتے ہوئے انہیں دہرا حصّہ دے اور بہن کو ایک حصہ، اب سوال یہ ہے کہ والده اپنی بیٹی کی طویل خدمت کا لحاظ کرتے ہوئےاگر اُسے اپنے حصے میں سے نصف بیٹی کو اپنی زندگی میں ہبہ کر دے یا بیٹی کو دونوں بٹیوں کے مساوی حصہ دے دے تو کیا ایسا کرنا اسی لئے جائز ہوگا ؟

جواب: زندگی میں ایک شخص اپنی اولاد کو جو چا ہے ہبہ کر سکتا ہے اور اس صورت میں جب کہ والد فوت ہو چکا ہے، ماں کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کو اپنی زندگی میں مال کا کچھ حصہ ہبہ کر دے تاکہ اسے اپنی خدمت کا کچھ صلہ مل سکے، لیکن چند باتوں کا خیال رکھا جائے:

یعنی دوسرے بچوں کی مالی حالت کا بھی لحاظ رکھا جائے ، یعنی اگر وہ بھی حاجتمند ہیں تو ان کی ضروریات کا بھی اعتبار کیا جائے۔

بیٹی کو دیتے وقت یہ نیت نہ ہو کہ باقی وارثین میں سے کسی کو بالکل نظر انداز کیا جارہے ہو یا کسی وارث کا حصہ کم کرنے کی خواہش ہو۔

البتہ یہ جاننا ضروری ہے کہ وصیت میں ایسا نہیں لکھا جا سکتا کہ بیٹی کو اس کے شرعی حصہ سے زیادہ دیا جائے۔ ایسا کرنا حرام ہے اور ایسی وصیت ناجائز ہے، حضرت جابر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:«لا وصية لوارث »

’’وارث کے لئے وصیت نہیں کی جاسکتی۔‘‘

اور اسے مراد یہ ہے کہ ا سے اس کے حصے سے زائد دیا جائے ، اور اگر وہ ایسی وصیت کر بھی جاتا ہے تو وصیت نافذ کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسی وصیت کی اصلاح کرے ، یعنی ہروارث کو اس کا جائز حصہ ادا کرنے کا پابندرہے۔ (ب ش)

٭٭

سیدنا حسن وحسین کے والد سیدنا علی بن ابی طالب

صحابئ جلیل سیدنا علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم، نبی کریمﷺ کے تایا زاد اور آپ کی بیٹی سیدہ فاطمہ کے شوہر نامدار ہیں۔ آپ بعثت نبوی سے 10 سال پہلے پیدا ہوئے اور نبی کریمﷺ کے ہاں پرورش ہوئی۔ سیدہ خدیجہ کےبعد بچوں میں سے آپ سب سے پہلے اسلام لائے۔ اس وقت عمر 10 برس کی تھی۔ ان کا لقب حید راور کنیت ابو تراب تھی جو انہیں نبی کریمﷺ نے عطا فرمائی تھی۔نبی کریمﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تو سیدنا علی کو بستر پر سونے کا حکم دیا۔ آپ نے سیدنا علی کو ہدایت کی کہ تین دن کے اندر میرے ہاں محفوظ لوگوں کی امانتیں لوٹا کر مدینہ چلے آئیں۔ یہ فریضہ انجام دینے کے بعد انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور پیدل چلتے ہوئے مدینہ پہنچ گئے۔سیدنا علی غزوۂ تبوک کے سوا تمام غزوات میں شریک ہوئے تھے۔

غزوۂ تبوک کے دوران بھی رسول اللہ ﷺ نے آپ کو مدینہ میں اہم ذمہ داریاں سونپیں اور مدینہ میں قیام کا حکم دیا۔سیدنا علی کی شادی بنت رسول سیدہ فاطمہ سے ہوئی۔ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریمﷺ نے انہیں پرچم دیا تھا جس کے بعد انہوں نے قلعہ خیبر فتح کیا ۔سیدنا علی کا شمار ان صحابہ میں ہوتا تھا جو بڑے بہادر، عدالتی فیصلوں کے ماہر اور درویش صفت تھے۔سیدنا علی نے کبھی بت پرستی نہیں کی۔ آپ ایک شاعر اور ایک نمایاں خطیب بھی تھے۔ سیدنا علی کاشمار خلفائے راشدین میں ہوتا ہے۔

نبی کریمﷺ نے ایک موقع پر ان سے فرمایا تھا: ’’ تم سے صرف مؤمن ہی محبت کرتا ہے اور صرف منافق ہی تم سے نفرت کرتا ہے۔‘‘ (جامع ترمذی: 3736)

رسول اللہﷺ نے سیدنا علی سے فرمایا: ’’میرے لیے تم ویسے ہی ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ (صحیح بخاری: 4416، صحیح مسلم: 2404)

تبصرہ کریں