
آج کی نشست میں شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی چند خصوصی آراء کا بیان کیا جاتا ہے جو فقہ الزکاة کے متعلق ہیں اور جنہیں ” ابراهیم ابو شادی کی الاختيارات الفقہیہ للامام الألباني سے لیا گیا ہے:
1۔ سال کے دوران ہی نصاب کو بیچ دنیا یا اسے کسی غیر جنس سے بدل دینے کا حکم
سید سابق نے اپنی کتاب فقہ السنہ میں لکھا ہے کہ اگر ایسا کیا تو سال کا حساب از سر نو کرنا ہوگا ۔ یعنی نصاب ختم ہو جانے کی بنا پر جتنا سال گزر گیا ہے۔ اس کا حساب نہ ہوگا،بلکہ جونہی نصاب دوبارہ مکمل ہو جائے گا، اس دن سے نئے سال کا شمار کیا جائے گا۔
شیخ البانی لکھتے ہیں کہ اس حکم کو مقید کیا جانا چاہیے کہ ایسے اتفاقا ہو گیا ہو نہ کہ زکاۃ سے بچنے کے لیے ایسا کیا گیا ہو، جیسا کہ بعض حنفی علماء نے حیلہ کے طور پر یہ صورت جائز ٹھہرائی ہے کہ وہ شخص جس کے نصاب مال پر سال پورا ہونے کے قریب ہے ،تو وہ سال پورا ہونے سے پہلے پہلے اپنا سارا مال بیوی کو ہبہ کر دیتا ہے اور یوں اس پر زکاة واجب نہیں ہوتی اور پھر جب سال پورا ہو گیا تو بیوی سے کہا کہ میرا ہبہ مجھے واپس کر دو ، کیونکہ ان کے نزدیک ہدیہ کا واپس لے لینا بعض صورتوں میں جائز ہے۔
میرے نزدیک ایسا شخص جو اس حیلے کی بنا پر زکاۃ سے جان چھڑانا چاہتا ہو، سزا کا مستحق ہے اور بہز بن حکیم کی روایت کے مطابق نہ صرف اس سے زکاۃ لی جائے گی بلکہ اس کا آدھا مال بھی وصول کیا جائے گا، یہ جزاء اگر زکاۃ نہ دینے والے کے لئے تجویز کی گئی ہے تو جو شخص نہ دینے پر حیلہ سازی کرے تو وہ اس جزا کا زیادہ مستحق ہے ۔
مذکورہ روایت میں اونٹوں کی زکاۃ کا ذکر ہے کہ اگر خود رو گھاس چرنے والے اونٹوں کی تعداد چالیس ہو جائے تو اس میں بنت لبون (جس کے دوسال پورے ہو چکے ہوں ) واجب ہوگی، اونٹوں کا حساب رکھا جائے گا، جو شخص اجر کی نیت سے دے گا، اُسے اجر ملے گا اور جو نہ دے گا تو ہم اس کی زکاۃ لیں گے اور اس کے ساتھ اس کا آدھا مال بھی ، کیونکہ یہ ہمارے رب عزوجل کی طرف سے ایک واجب حق بتایا گیا ہے ، لیکن آل محمد ﷺ کو اس میں سے کچھ نہ ملے گا۔‘‘ (احمد، نسائی، ابوداؤد ، الحاكم، بیہقی)
2۔ زیورات کی زکات کا حکم
امام ابوحنیفہ، ابن حزم نے اس مسئلہ میں حس رائے کو اپنایا ہے اُسی کو شیخ البانی بھی راجح قرار دیتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر زیورات ، چاہے سونے کے ہوں یا چاندی کے، اگر نصاب کو پہنچ جائیں تو ان میں زکاة واجب ہوگی اور چاہے وہ قابل استعمال ہوں یا نہ ہوں ، دونوں صورتوں میں زکاۃ ادا کی جائے گی ۔
اس رائے پر چند دلائل کا ذکر کیا جاتا ہے:
1۔ عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس دو عورتیں آئیں جن کے ہاتھوں میں کنگن تھے تو اللہ کے رسولﷺ نے پوچھا : ’’کیا تم چاہتی ہو کہ قیامت کے دن اللہ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے ؟ انہوں کہا: نہیں! تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ تو پھر جو کچھ تمہارے ہاتھوں میں ہے، اس کا حق ادا کرو۔ (شیخ البانی اس حدیث کو حسن درجے کی روایت قرار دیتے ہیں۔)
2۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ نبی ﷺ گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ میرے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھیاں ہیں تو کہا: یہ کیا ہے عائشہ !‘‘
میں نے کہا : میں نے بنوائیں ہیں تاکہ آپ کے لئے بطور زینت پہنوں ۔‘‘
کہا کہ کیا اس کی زكاۃ ادا کرتی ہو؟ میں نے کہا : نہیں (یا یہ کہا کہ جو اللہ چاہے) تو کہا: تو پھر یہ تمہارا آگ کا حصہ نہ بن جائے ۔‘‘ (سنن ابوداؤد، دار قطنى، الحاكم، بیہقی) یہ حدیث بھی مزید شواہد کی بنا پر حسن قرار دی گئی ہے۔
3۔ بخاری کی روایت ہے کہ
’’چاندی میں دس میں سے چوتھائی حصہ ہے ۔‘‘
4۔ ایک اور روایت ہے :
’’پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکاۃ نہیں ہے اور اگر ان کی مالیت دو سو درہم تک پہنچ جائے تو اس میں پانچ درہم ادا کرنے ہوں گے ۔‘‘ (شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)
5۔ ایک اور صحیح روایت ہے کہ جو شخص سونے کا مالک ہو اور پھر اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو اللہ اُس سونے کو آگ کی بيڑیوں سے بدل دے گا کہ جن سے اسے داغا جائے گا ۔‘‘ (یہ تینوں روایات عمومی نوعیت کی نہیں لیکن اپنے حکم میں واضح ہیں ۔)
6۔ سورة التوبہ کی آیت 34
﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾
’’اور جو لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے رہتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتےتوانہیں درد ناک عذاب کی خوش خبری دو۔‘‘
7۔ سیدنا ابن مسعود کی اہلیہ نے ان سے زیورات کی زکاۃ کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے کہا: ’’جب وہ دو سو درہم کی مالیت کے ہو جائیں تو ان کی زکاۃ ادا کر دنیا ۔‘‘
اہلیہ نے کہا، میری گود میں چند یتیم ہیں تو کیا انہیں دے سکتی ہوں ؟ تو کہا کہ ہاں۔
( عبدا لرزاق اور طبرانی نے صحیح لغیرہ کی سند سے روایت کیا ہے۔)
8۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو کی روایت ہے کہ وہ اپنے خازن کو ہدایت کیا کرتے تھے کہ وہ ہر سال ان کی بیٹیوں کے زیورات کی زکاۃ ادا کر دیا کریں۔ (دار قطنی حسن” سند کے سا تھ)
9۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے : ’’زیورات پہننے میں کوئی حرج نہیں اگران کی زکاۃ ادا کر دی جائے۔‘‘ (دار قطنی اور بیہقی حسن سند کے ساتھ)
یہ مذہب تابعین میں سے سعید بن المسيب، ابراہیم نخعی ، عطاء ، الزہری ، سعید بن جبیر اور سفیان ثوری کا بھی ہے اور دلیل اور احتیاط دونوں اعتبار سے راجح ہے ۔
3۔ اموال تجارت پر زكاة
أموال تجارت سے مراد وہ تمام سامان تجارت ہے، جو فروخت کی غرض سے وکان میں لایا گیا ہے ۔ جمہور علماء وفقہاء کہ جن میں ائمہ اربعہ شامل ہیں ۔ ان کی رائے بھی ہے کہ اگر مذکورہ اشیاء پر ہجری سال گزر جائے اور وہ نصاب (یعنی بقدر 85 گرام سونا ) تک پہنچ جائے تو اس پر زکاة واجب ہے، جیسے کے سونے پر یا چاندی پر (کہ جس کا نصاب 595 گرام) ہے ، ان کے دلائل یہ ہیں:
1۔ اللہ تعالیٰ کا عمومی حکم ، فرمایا :
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ﴾
(سورۃ البقرہ: 267)
’’اے ایمان والو! خرچ کرو اچھی چیزیں اپنی کمائی میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے ۔‘‘
2۔ حضرت معاذ سے مروی حدیث کے عمومی معنیٰ سے اور وہ یہ کہ نبی ﷺ نے معاذ سے کہا تھا: ’’اور پھر انہیں بتادینا کہ اللہ نے ان کے اموال میں صدقہ فرض کیا ہے ۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
3۔ دو آثار جن کی سند ضعیف ہے ۔
الف: نبی ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ جو چیزیں ہم فروخت کے لئے لاتے ہیں ، اس میں سے صدقہ دیا کریں۔ (سنن ابوداؤد ، بیہقی)
ب: اونٹوں کا اپنا صدقہ ہے، بکریوں کا اپنا اور کپڑے کا اپنا۔ ( مسند احمد، بیہقی اور دار قطنی)
4۔ قول عبد اللہ بن عمر: سامان تجارت میں زکاۃ نہیں ہے الا یہ کہ وہ تجارت کی غرض سے ہو ۔ ( امام شافعی نے کتاب الام میں اور عبد الرزاق نے المصنف میں اور بیہقی نے السنن میں اسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
5۔ قول عبداللہ بن عباس ، کوئی حرج نہیں کہ فروخت کرنے تک انتظار کیا جائے ، اور اس میں زكاة واجب ہے۔ (عبد الرزاق اور ابن ابی شیبہ)
6۔ ابن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے زمانہ میں بیت المال کا ذمہ دار تھا ، ان کا قاعدہ تھا کہ جب لوگوں کو ان کے عطیات دیئے جاتے تو وہ تاجروں کے اموال کو جمع کرتے اور پھر ان کا حساب کرتے ، چاہے وہ مال حاضر ہوتا یا گودام میں ہوتا اور پھر حاضر مال میں سے حاضر اور غائب دونوں طرح کے اسوال کی زکاة نکال لیتے ۔‘‘ ( ابن ابی شیبہ ، ابوعبيد ابنى كتاب الاموال میں اور ابن حزم نے المحلیٰ میں ذکر کیا ، اسے صحیح قرار دیا لیکن اس کی تاویل کی۔)
7۔ حضرت عمر، ابن عمر اور ابن عباس کے ان اقوال اور تعامل کا کوئی مخالف نظر نہیں آیا اور صحابہ وتابعین کے زمانے سے اسی قول پر عمل کیا جاتا رہا ہے کہ سامان تجارت پر زکاة واجب ہے اور اس بات پر اجماع کا بھی دعوی کیا گیا ہے ۔
شیخ البانی عروض تجارت پر زکاۃ کے وجوب کے قائل نہیں ہیں ۔ ان کے دلائل ملا حظہ ہوں:
1۔ یہ حکم اموال میں براءت اصلیہ کے قاعدے کے منافی ہے ، اللہ کے رسول ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا : بےشک تمہارے خون ، تمہاری عزتیں اور تمہارے اموال تم پر ایسے حرام ہیں جیسے آج کے دن کی ، آج کے مہینہ میں اور تمہارے اس شہر کی حرمت ہے ، خبردار! کیا میں نے بات پہنچا دی ہے ؟ اے الله ! گواہ رہنا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
اس قاعدے کو سرے سے پس پشت ڈال دینا یا اس کی ایک اثر سے ( جو صحیح بھی کیوں نہ ہو) سے تخصیص کرنا آسان نہیں ہے، اثر سے مراد حضرت عبد اللہ بن عمر کا قول ہے : عروض تجارت میں زکاۃ نہیں ہے، الّا یہ کہ وہ خاص تجارت کے لئے ہو۔‘‘ ( بروایت امام شافعی)
یہ اثر موقوف ہے ، مرفوع نہیں ہے، اور پھر اس میں نہ نصاب کا بیان ہے اور نہ ہی اس بات کا کہ کیا دیا جائے ، تو اس کا اطلاق مطلق زكاة پر کیا جا سکتا ہے کہ جو کسی زمانے یا کسی مقدار سے مقید نہیں ہے، بلکہ اس کا دارو مدار صاحب مال پر ہے کہ جتنا وہ خوشی سے دے سکتا ہو دے دے اور اس قسم کا اتفاق عمومی حکم کے طور پر ثابت ہے جیسے ارشاد فرمایا :
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم ﴾
’’اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تمہیں رزق کے طور پر عطا کیا ہے، اس میں سے خرچ کرو ۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 254)
﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾
’’اور فصل کے کاٹنے کے وقت اس کا حق ادا کرو۔‘‘ (سورۃ الانعام: 141)
اور جیسے نبی ﷺ کا ارشاد :
’’کوئی بھی قوم ہو، ہر صبح ان کے ہاں دو فرشتے اترتے ہیں، تو ان میں سے ایک کہتا ہے ، اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا کر اور دوسرا کہتا ہے : اے اللہ! جو مال کو روکے رکھے اُسے تلف کر دے۔‘‘ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
سلف میں سے بعض اہل علم کے قول سے اس بات کی تائید ہوتی ہے ۔
ابن جریح، عطاء کا قول نقل کرتے ہیں: زکاۃ موتیوں، زبرجد، یاقوت نگینوں ، سامان تجارت (عروض) میں نہیں ہے اور نہ ہی ان چیزوں میں جن کی تجارت نہیں کی جاتی اور اگر ان میں سے کوئی چیز تجارت کے لئے لائی گئی ہو تو جب وہ فروخت کر دی جائے تو اس کی قیمت میں ہو گی ۔‘‘ (عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ)
اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے اور اس روایت کے یہ الفاظ ہماری اس رائے کی شہادت دیتے ہیں :
“ففيه الصدقة فى ثمنه حين يباع”
’’تو اس کی قیمت میں زکاۃ ہے، جب اسے فروخت کر دیا جائے ۔‘‘
امام البغوى كا شرح السنہ میں یہ کہنا کہ زکاۃ کے وجوب پر اجماع ہے ، بالکل غلط ہے۔عطاء سے پوچھا گیا کہ ایک تاجر کے پاس طرح طرح کا مال ہے، زکاة کا وقت آ چکا ہے، کیا اس پر لازم ہے کہ اپنے مال کی قیمت کا اندازہ لگائے اور اور پھر اس کی زکاۃ نکالے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں! ہاں اگر سونا اور چاندی ہو تو وہ اس کی زکاۃ نکالے گا، اور جو سامان بيع وشراء کے لئے ہو تو جب انہیں فروخت کرے گا تو پھر اس کی زکاۃ نکالے گا ۔‘‘ ( ابن زنجو یہ ، کتاب الاموال، حسن سند کے ساتھ)
2۔ شیخ البانی یہ بھی کہتے ہیں کہ عروض تجارت کا ذکر قرآن و حدیث میں متعدد مرتبہ آیا ہے اور یہ نبی ﷺ کے زمانے میں معروف و مشہور تھے، تو نبی ﷺ کا ان کے بارے میں کچھ نہ کہنا، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ معاملہ ان معاملات میں سے ہے جس سے چشم پوشی روا رکھی گئی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ یہ رائے شیخ البانی سے قبل ظاہریہ، امام شوکانی اور صدیق حسن خان کی بھی ہے، ابن حزم نے اپنی کتاب ’المحلیٰ‘ میں بھی اس کی تصدیق کی ہے۔
لیکن شیخ البانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ عروض تجارت میں گو زکاۃ واجب نہیں ہے لیکن جیسے پہلے ذکر کیا گیا، کوئی شخص بطیب خاطر (دل کی خوشی کے ساتھ) کچھ بھی دینا چاہے تو دے سکتا ہے اور اگر مال بک جائے تو پھر اس کی قیمت میں زکاۃ واجب ہو گی۔
٭٭٭
دعوتِ فکر و عمل
امام ذہبی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’معجم المحدثين‘ (ص: 97) میں اپنا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:
…. وجمع تواليف يقال مفيدة والجماعة يتفضلون ويثنون عليه وهو أخبر بنفسه وبنقصه في العلم والعمل والله المستعان ولا قوة إلا به وإذا سلم لي إيماني فيا فوزي”
’’انہوں نے (یعنی امام ذہبی نے) کچھ کتابیں لکھی ہیں جنہیں لوگ مفید بتاتے ہیں۔ اور لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں حالانکہ وہ اپنے بارے میں اور اپنے علم و عمل کی کمی و کوتاہی کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں۔
ایک دوسری کتاب ’ذيل ديوان الضعفاء والمتروكين ” (ص: 56) میں اپنا تعارف انہوں نے اس طرح کرایا ہے:
“سيء الحفظ ليس بالمتقن ولا بالمتقي. سامحه الله تعالى.”
حافظہ قوی نہیں اور نہ ہی حفظ میں اتقان و پختگی ہے اور نہ ہی متقی و پرہیز گار۔ اللہ معاف فرمائے۔
٭٭٭
یہ وہ لوگ تھے جو اپنے علم و عمل کے معیار کو جانتے تھے اور اپنے نفس کی قدر کو پہچانتے تھے اسی لئے ہمیشہ تواضع و انکساری اپنائے رہتے تھے جس کا صلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ
علم حدیث میں درجہ امامت پر فائز کر دیا اور رہتی دنیا تک لوگ فن حدیث میں ان کی کتابوں کے محتاج رہیں گے۔
اس کے برعکس آج کچھ لوگوں کے علم و عمل کے بلند بانگ دعوے اور بڑے بڑے القاب و آداب کے سابقے و لاحقے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ
تھوڑا سا علم حاصل کرنے اور کچھ لکھ لینے کے بعد اپنے آپ کو علامہ، مفتی، مصنف، صاحب طرز ادیب اور نہ جانے کیسے کیسے القاب خود بھی لکھتے ہیں اور دوسروں سے اس طرح کی چیزیں لکھوانا اور کہلوانا پسند کرتے ہیں۔
والله المستعان
٭٭٭
تبصرہ کریں