
آج کی نشست میں ان فتاوی کا اردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے جو یورپین کونسل برائے فتوی اور تحقیق کے 36 ویں اجلاس منعقده اور فا (ترکی) میں بحث و تمحیص کے بعداپنائے گئے ۔ (تباریخ 22۔24 نومبر 2025ء)
قضاء شدہ نمازوں کا حکم
سوال :نماز کے احکام جاننے کے بعد مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ پچھلے کئی سالوں کی میری نمازیں بعض علماء کے نزدیک باطل قرار دی جائیں گی کہ جس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں، جیسے سورہ فاتحہ کی تلاوت میں غلطی کر جانا ، نماز کی ادائیگی اس سرعت کے ساتھ کہ اس میں اطمینان نہ ہو یا طہارت (غسل اور وضو ) کی شرائط کا لحاظ نہ رکھا گیا ہو، چاہے وہ جہالت کی بنا پر ہو یا نسیان کی بنا پر ، قلبی اطمینان کی خاطر میں ان دو سوالات کے جوابات چاہتا ہوں :
1۔ اگر میری پچھلی نمازیں باطل ٹھہرائی گئیں تو کیا ان کا اثر بعد میں ادا شدہ نمازوں پر بھی پڑے گا جو کہ تمام صحت کے ساتھ پڑھی گئیں ؟ یا ہر نماز کا حکم علیحدہ علیحدہ کیا جائے گا؟
2۔ کسی بڑی غلطی کی وجہ سے اگر ایک مسلمان کا عمل باطل ٹھہرایا گیا تو اس کے ساتھ آخرت میں کیا معاملہ کیا جائے گا، کیا اس کے لئے سچی توبہ کرنا، مزید علم حاصل کرنا، اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنا، نجات پانے کے لئے کافی ہو گا یا عمل کے ضائع ہونے کا بوجھ ہمیشہ اس پر سوار رہے گا ؟
جواب: دین حنیف اللہ کے فضل سے آسانی اور مشقت کو ہٹانے پر قائم ہے۔آپ کے سوال کے جواب میں عرض ہے :
1۔ جہاں تک نمازوں کے باطل ہونے اور ان کے اثرات کے باقی رھنے کا تعلق ہے، تو اہل علم کے نزدیک ان دو حالتوں میں فرق کیا جائے گا :
أ۔ جو شخص جان بوجھ کر نماز کی کوئی شرط (جیسے طہارت ) کو چھوڑتا ہےتو سب کے نزدیک اس کی نماز باطل ہے، اسے اس کی قضا کرنا ہوگی، وہ اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بغیر طہارت کے نماز قبول نہیں ہوتی۔‘‘ اور کوئی بھی شخص اگر. جہالت، نسیان یا غلطی کی بنا پر نماز کو یا نماز کی کسی شرط کو کامل طور پر ادا نہیں کر پایا تو اس کی نماز صحیح قرار دی جائے گی اور اس کو لوٹایا نہیں جائے گا ۔ خاص طور پر جب کہ اس پر کچھ وقت بھی گزر چکا ہو ۔ ایک مسلمان پر اتنا ہی واجب ہے کہ جتنی اس کی استطاعت ہے ، اللہ کے نبی ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جتنی استطاعت ہو، اتناہی اس پر عمل کرو ۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے :
﴿رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا﴾(سورۃ البقرہ)
’’اے رب! ہمارا مواخذہ نہ کرنا اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں۔‘‘
اور یہ بات بھی جان لیں کہ ہر نماز اپنی علیحدہ شناخت رکھتی ہے۔ پچھلی ایک نماز کے باطل ہو جانے سے اگلی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اکر وہ درست ادا کی گئی ہو، اور پھر جب آپ نے جان بوجھ کر نماز میں کوئی کوتاہی نہیں کی تو آپ کو ایسی نماز کی قضا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اتنا کافی ہے کہ آپ توبہ کریں، دین پر قائم رہیں اور آئندہ مزید بہتری پیدا کریں۔
2۔ آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ بندے کے اعمال کے مقابلے میں اللہ کی رحمت بے پایاں ہے ۔ ایک نماز کا باطل ہونا، اس کے سارے اعمال پر پانی نہیں پھیر دیتا، اور نہ ہی اللہ کی مغفرت سے محروم کرتا ہے ۔ اب جب کہ آپ نے توبہ بھی کرلی ہے ، اصلاح کی کوشش بھی کر رہے ہیں اور درست بات کو اپنا رہے ہیں۔ تو بے شک اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہیں۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا:
﴿وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَىٰ﴾
’’اور بے شک میں اس کی مغفرت کرنے والا ہوں جو توبہ کرتا ہے ، ایمان لاتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ہدایت پا جاتا ہے ۔‘‘
تو خیر کی توقع رکھیئے ، اللہ سے تعلق کو مضبوط کیجئے ، اپنی نماز کو مزید بہتر بنا ئیے ، توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اللہ توبہ کرنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہے ۔
مطلقہ عورت سے کیا مرد نان و نفقہ کا مطالبہ کر سکتا ہے؟
سوال : کیا جس عورت کو میں طلاق دے چکا ہوں اور جو کہ میرے بچوں کی ماں ہے ، کیا میں اس سے نفقے کا مطالبہ کر سکتا ہوں اور وہ اس لیے کہ اگر میں یہ مطالبہ نہ کروں تو وہ رہائش کا معاوضہ دینا بھی بند کر دیں گے اور وہ معاشی مدد بھی جو مجھے بچوں کی وجہ سے ملتی ہے ، میں اب ایک مخمصے میں گرفتار ہوں۔
بچوں کی ماں بچوں کو میری نگرانی اور کفالت میں چھوڑنا چاہتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اپنے کام کے اوقات کم کرنا ہوں گے، جس کے نتیجے میں میری تنخواہ اتنی کم ہو جائے گی کہ گھر کے اخراجات پورے نہ ہو سکیں گے۔ برائے کرم میری رہنمائی کریں ۔
جواب : جرمنی میں اجتماعی کفالت کا نظام اس بات کا ضامن ہے کہ ہر شہری یا مقیم کے اخراجات پورے ہو سکیں ۔ وہ اس بات کا اندازہ لگاتا ہے کہ ہر شخص کو اس کی آمدنی کے حساب سے اُسے اتنی مدد دی جائے،جس کا وہ استحقاق رکھتا ہے اور چونکہ باپ بچوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے، تو جرمنی کے قانون کے مطابق ماں سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ باپ کی آمدنی کے مطابق بچوں کی کفالت کے ضمن میں نفقہ ادا کرے ۔ اور اگر باپ یہ مطالبہ نہیں کرتا تو اُسے دوسرا بوجھ اٹھانا پڑے گا ۔ ایک تو یہ کہ حکومت کی طرف سے جو مدد ملتی ہے، اس میں کمی واقع ہو جائے گی، کیونکہ ماں کی طرف سے ملنے والی رقم اس کی آمدنی ہی کا ایک حصہ ہے کہ اگر وہ اس کا مطالبہ نہیں کرتا ، تو اسے یہ بوجھ خود اٹھا نا پڑے گا اور دوسری جانب وہ بچوں کی دیکھ بھال کرنے کی بنا پر کام کے اوقات کم کرنے پر بھی مجبور ہوگا کہ جس کی وجہ سے اس کی اپنی آمدنی بھی کم ہو جائے گی۔
یہاں یہ شرعی قاعدہ ملحوظ رہنا چاہیے، کہ ” لا ضَرر و لا ضِرار” ’’ نہ کسی کو ضرر پہنچاؤ اور نہ ہی کوئی دوسرا تمہیں ضرر پہنچائے اور اس قاعدے کے مطابق شوہر کے لئے جائز ہے کہ وہ بچوں کی ماں سے نفقہ یا بطور عوض اس رقم کا مطالبہ کرے، جس کے لئے اسے کہا گیا ہے۔
طبی تعلیم کے ضمن میں سؤر کی کھال سے سلائی کرنا
سوال : زخموں کو سینے کے لئے میں نے ایک ورکشاپ میں اپنا نام لکھایا ہے اور اس مقصد کے لئے ہم خنزیر کی کھال جس کے ساتھ گوشت کا ایک ٹکڑا بھی ہوتا ہے ، بطور سلائی استعمال کرتے ہیں ۔ میں ہاتھ پر دستانے (Gloves) پہن کر یہ مشق کروں گا۔ چونکہ سؤر کی کھال کو مسّ کرنا ہو گا تو اس میں کوئی شبہ کی بات تو نہیں ؟ مقصد صرف کھال کو سینے کی مہارت حاصل کرنا ہے۔
جواب: یہ بات تو طے ہے کہ سؤر کا گوشت ، چربی اور اس کی قیمت سب حرام ہیں، اور اس بارے میں قرآن و حدیث کی تعلیمات واضح ہیں اور ایسے ہیں اکثر فقہاء کے نزدیک سؤر کا نجس ہونا بھی قرار دیا جا چکا ہے ۔ لیکن متذکرہ صورت میں سائل ضرورت یا حاجت کی بنا پر کھال کو سینے کا ہنر جاننے کے لیے اس کام میں ہاتھ ڈالنا چاہتا ہے، تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہ اس قاعدے کے تحت آتا ہے کہ زخمیوں کی مرہم پٹی جان کی حفاظت کے ضمن میں جائز ہے۔ فقہاء یہ کہتے ہیں کہ وسائل کا حکم بھی وہی ہے جو مقاصد کا ہوتا ہے۔ بہرصورت کسی ایسے متبادل وسیلے کی تلاش جاری رہنی چاہیے ، جو طاہر ہو۔
اور جہاں تک نجاست کو چھونے کا تعلق ہے تو فقہاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ حاجت کی بنا پر نجاست کو چھونا حرام نہیں ہے۔
ابن قدامہ اپنی کتاب المغنی میں لکھتے ہیں : ’’نجاست کا کھانا حرام ہے۔ مسّ کرنا حرام نہیں ہے اور چونکہ آپ دستانے پہن کر نجاست کو مسّ کر رہے ہیں تو جونہی دستا نے اتاریں گے، نجاست کا حکم بھی جاتا رہے گا ۔ واللہ اعلم
بیماری کی آڑ میں چھٹی لینا جب کہ تنخواہ بھی وصول کی جارہی ہو
سوال : میں اٹلی میں مقیم ہوں اور ایک فارمیسی میں کام کر رہی ہوں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کمپنی کی طرف سے عطا کردہ سالانہ چھٹی تو ختم ہو چکی ہے لیکن کثرتِ کار اور تھکاوٹ کی بنا پر میں کچھ مزید آرام کرنا چاہتی ہوں۔جب میں نے اپنے مینجر سے بات کی تو اس نے کہا کہ وہ کمپنی کےحساب سے تو تنخواہ کے ساتھ چھٹی نہیں دے سکتا، لیکن اس نے یہ بھی کہا کہ اگر میں میڈیکل سرٹیفیکیٹ پیش کر کے حکومت کی طرف سے مع تنخواہ چھٹی حاصل کرنا چاہوں تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ ایسی صورت میں تنخواہ انشورنس سے یا حکومت کی جانب سے ادا کی جاتی ہے ، کمپنی پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا ہے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
جواب: ایسا کرنا شرعاً قطعاً جائز نہیں ، اور وہ اس لئے کہ آپ یہ چھٹی اپنے آرام اور راحت کی خاطر لینا چاہتی ہیں، چاہے مالکان کمپنی اس بات پر راضی بھی ہو جائیں ، یہ معاملہ تو جھوٹ اور فریب پر مبنی ہو گا۔ یعنی آپ ایک مصنوعی سرٹفیکیٹ پیش کریں گی کہ میں بیمار ہوں اور پھر اس بیماری کے عوض حکومت کی طرف سےآپ کو تنخواہ بھی ملتی رہے گی۔ جس مال کو وصول کرنے کا استحقاق آپ کو حاصل نہیں وہ کیسے آپکے لئے جائز ہو سکتا ہے؟
ہاں البتہ ایسے ہو سکتا ہے کہ اگر کمپنی آپ کو بلا تنخواہ چھٹی دینے پر آمادہ ہو تو آپ چھٹی لے سکتی ہیں ، ایک مسلمان کے لئے لازم ہے کہ ، الله تعالیٰ سے ڈرتا رہے ، خود بھی حلال کھائے اور ا بھی اہل وعیال کو بھی حلال کھلائے ۔
ایک بیوہ کا تدفین زوج کے لئے وطن کا سفر کرنا
سؤال: ایک مسلمان عورت جو فرانس میں مقیم ہے ۔ شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے وطن جانا چاہتی ہے، جہاں شوہر کو دفن کرنا مقصود ہے، فراغت کے بعد وہ واپس فرانس آ کر اپنی عدت پوری کرنی چاہتی ہے؟
جواب: شرعی طور پر اصل حکم تو یہی ہے کہ جہاں شوہر کی رہائش تھی، وہیں اُسے اپنی عدت پوری کرنی چاہیے، عدت کی مدت کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ﴾ (سورۃ البقرہ: 234)
’’اور جو لوگ وفات پا جاتے ہیں اور اپنے پیچھے اپنی بیویاں چھوڑ جاتے ہیں تو وہ چار مہینے اور دس دن کی مدت پوری کریں ۔‘‘
اور فریعہ بنت مالک کی حدیث کے مطابق اپنے گھر ہی میں یہ مدت پوری کریں ۔ لیکن فقہاء نے کسی شرعی عذر کی بنا پر عدت کے دوران سفر کی اجازت دی ہے، جیسے علاج کی ضرورت ہو یا اگر اس کی کفالت کرنے والا کوئی نہ ہو تو وہ کام کی خاطر گھر سے باہر جا سکتی ہے اور اسی ضمن میں مذکورہ سائلہ کے مسئلہ کو بھی مندرجہ ذیل تفصیل کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے:
الف: عدت کے دوران میت پر سوگ کے آداب کا خیال رکھے کہ جس میں خوشبو لگانا اور زیب وزینت سے بچنا شامل ہے۔
ب: وہاں صرف ضرورت کی حد تک قیام کرے یعنی دفن اور تعزیت کے مراحل ختم ہوتے ہی واپس آ کر اپنی عدت پوری کرے۔
یہ اس فقہی قاعدے کے مطابق ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ شدید حاجت کا بھی ضرورت کی مانند خیال کیا جانا چاہیے۔ اور مذکورہ صورت میں حاجت کا پایا جانا متحقق ہے۔ واللہ اعلم
یورپ میں مقیم شخص کیلئے ریسٹورنٹ سے کھانے کو خریدار تک پہنچانا
سوال: میں ایک مسلمان نوجوان ہوں جو یورپ میں مقیم ہے ، میرا کام کھانے کے پیکج کو گھروں تک ڈلیور کرنا ہے، جس میں یہ باتیں کھٹکتی ہیں:
1۔ نوعیت عمل : ان میں سے کچھ کھانے حلال ہوتے ہیں اور کچھ حرام
2۔ مطلوب کھانے کے بارے میں لاعلمی: جب تک ریسٹورانٹ سے مجھے پیکٹ نہیں ملتا، مجھے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے اندر کھانا حلال ہے یا حرام ، اور ایسے وقت میں مذکورہ طلب ( آرڈر) کو ٹھکرانا ممکن نہیں ہوتا۔
جب کہ غالب امکان اس چیز کا ہوتا ہے کہ مطلوبہ آرڈر میں سؤر کا گوشت یا شراب بھی شامل ہے۔
3۔ میں یہ نہیں کہ سکتا کہ میں حالت اضطرار میں ہوں ۔ یعنی میں اس کام کے بغیر بھی جی سکتا ہوں مجھے اپنے کھانے پینے کی کوئی مشکل نہیں ہے۔
4۔ چونکہ میں شادی کر کے اپنا گھر بسانا چاہتا ہوں تو اس کام کی شدید ضرورت بھی سمجھتا ہوں تاکہ گھر کے اخراجات پورے کر سکوں۔
5۔میں اس بات کے لئے تیار ہوں کہ میرے سارے کام میں جتنا حصہ حرام یا مشکوک طعام کے ڈلیور کرنے کا ہے، اس کے برابر اپنی اجرت میں سے فقراء اور مساکین پر صدقہ کرتا رہوں تاکہ جو کچھ میں کھاؤں ، اس میں حرام کی آمیزش نہ ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ اس احتیاط اور حرام سے چھٹکارا حاصل کرنے کی اس نیت کے ہوتے ہوئے میں اس کام کو جاری رکھ سکتا ہوں یا اس وقت تک یہ کام کرتا رہوں جب تک کہ مجھے مکمل حلال روزی نہ مل جائے؟
جواب : سائل کے سوال سے ہم یہ باتیں اخذ کر سکتے ہیں:
1۔ سائل غیر اسلامی ریسٹورانٹ سے کھانا لیکر خواہشمند حضرات کو پہنچانےکا پابند ہے۔
2۔ بعض دفعہ اسے اچانک حرام نوعیت کا کھانا ڈلیور کرنے کا آرڈر دیا جاتا ہے، اسے اتنا وقت نہیں دیا جاتا کہ وہ معذرت کر سکے۔
3۔ وہ خود انتہائی کوشش کرتا ہے کہ حرام کھانوں والے آرڈر سے اجتناب کرے۔ اور اگر ایسا کرنا پڑ جائے تو وہ اپنی اجرت میں سے کچھ صدقہ دینے کے لئے بھی آمادہ ہے ۔
4۔ وہ ایسے کام کی تلاش جاری رکھ رہا ہے جس میں کوئی شبہ نہ ہو۔
5۔ اس کے لئے موجودہ کام کو جاری رکھنا اس نے بھی ضروری ہے کہ وہ خود مقروض ہے اور اتنی بچت بھی کرنا جاتے بھی کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنا گھر آباد کرسکے۔
ان تمام باتوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہم یہ کہیں گے :
1۔ اصل کے اعتبار سے کھانا ایک خواہشمند کو ڈلیور کرنا جائز کام ہے، لیکن اگر کھانا حلال نہ ہو تو اُسے پہنچانا جائز نہیں۔
2۔ سائل کا زیادہ تر کام حلال طعام سے ہی متعلق ہے ، کبھی کبھار اس کی مرضی کے على الرغم اُسے غیر حلال کو بھی ڈلیور کرنا پڑتا ہے، وہ خود تو اس سے اجتناب کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے لیکن اسے مجبوراً ایسا کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ (سورۃ التغابن: 16)
اور جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘
3۔ قرض کی ادائیگی اور شادی کے لیے استعداد کی فراہمی شرعی لحاظ سے درست امر ہے اور اس کی خاطر کام میں لگے رہنا مشروع امر ہے۔
4۔ مجبوراً اگر حرام کام کا ارتکاب ہو جائے اور پھر اپنی اجرت میں سے اس کی تلافی کرنے کے لیے صدقہ کرنا ایک قابل توصیف عمل ہے۔
5۔ سائل کو بہر صورت غیر حلال طعام کو ڈلیور کرنے سے بچنا چاہیئے اور خالص حلال کام کی تلا ش برابر جاری رکھنا چاہیئے۔
تبصرہ کریں