سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

عدت طلاق کے دوران سفر کا حکم

سوال: ایک خاتون کی طرف سے سوال کیا گیا ہے کہ اس کے خاوند نے اسے عدت کے آخری دن رجعی طلاق کے باعث واپس لے لیا ہے، اس نے میرے اوپر چند شرائط بھی عائد کی تھیں کہ جن میں سے کچھ میرے لیے قابل عمل تھیں اور کچھ بالکل ناپسندیدہ تھیں۔ اس لیے میں نے پھر دوسری طلاق کا مطالبہ کر دیا، اب وہ مجھے گھر سے نکال چکا ہے۔ میں اپنے والدین کے پاس آ چکی ہوں۔ وہ قطعاً صلح نہیں چاہتا ہے۔ میں اپنے والدین کے ساتھ عمرے پر جانا چاہتی ہوں، میرے والد کے کہنے پر اس نے مجھے جانے کی اجازت دے دی ہے، چونکہ یہ رجعی طلاق ہے اس لیے یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہوئی کہ آیا مجھے عمرے پر جانا چاہیے یا نہیں؟

جواب: چونکہ دوسری طلاق میں بھی خاوند کو رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے اس لیے مطلقہ کو سوائے شدید ضرورت کے گھر سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ﴾ (سورۃ الطلاق: 1)

’’اور اپنے رب اللہ سے ڈرو، انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں الا یہ کہ ان سے بدکاری کا ارتکاب ہو۔‘‘

علماء کا تقریباً اس پر اجماع ہے کہ جس خاتون کی طلاق رجعی ہو، اسے عدت اپنے گھر ہی میں پوری کرنی چاہیے، یہاں اللہ کا حق بھی ہے اور خاوند کا بھی، خاوند چاہے سفر کی اجازت بھی دے دے لیکن اللہ کے حق کی بنا پر اسے باہر نہیں جانا چاہیے اور عمرے کا سفر ایسی شدید ضرورت نہیں ہے کہ اس کی بنا پر وہ گھر سے باہر نکلے۔

البتہ شدید ضرورت جیسے ضروریات زندگی کو خریدنے کے لیے بازار جانا یا اگر کام کرتی ہو تو کام کے لیے نکلنا اس کے لیے جائز ہے۔

عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه، قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي ثَلَاثًا، فَخَرَجَتْ تَجُدُّ نَخْلًا لَهَا فَلَقِيَهَا رَجُلٌ، فَنَهَاهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهَا: اخْرُجِي، فَجُدِّي نَخْلَكِ، لَعَلَّكِ أَنْ تَصَدَّقِي مِنْهُ، أَوْ تَفْعَلِي خَيْرًا(سنن ابو داؤد: 2297)

سیدنا جابر بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ ان کی خالہ کو تیسری مرتبہ طلاق ہو چکی تھی۔ وہ اپنے نخلستان سے کھجور توڑنے کی غرض سے وہاں آئیں تو ایک آدمی نے انہیں دیکھ لیا اور گھر سے باہر نہ نکلنے کا حکم یاد دلایا۔ انہوں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: تم باہر آ سکتی ہو، کھجوروں کی فصل اتار سکتی ہو اور ہو سکتا ہے کہ اس بہانے تم تھوڑا بہت صدقہ کر سکو یا کوئی دوسرا نیک کام کر سکو۔‘‘

٭٭٭

سوال: ایک نوجوان سوال کرتا ہے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہوں۔ عدت پوری ہونے کے قریب ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں اپنا گھر فروخت کرنا چاہتا ہوں جو کہ آئندہ سال فروخت ہو سکے گا۔ کیا اس وقت تک ہم دونوں اسی مکان میں رہ سکتے ہیں؟ ہمارا مکان کھلا اور وسیع ہے، میری مطلقہ بیوی اسی مکان میں بالکل علیحدہ رہ سکتی ہے اور ہم دونوں کا آمنا سامنا بہت کم ہوگا لیکن اس طرح ہم اپنے بچوں کے قریب بھی رہ سکیں گے اور والدین کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں گے۔ ایک دوسری صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میں فی الوقت رجوع کر لوں اور مکان کی فروخت کے وقت اسے طلاق دے کر فارغ کر دوں؟

جواب: دونوں صورتیں قابل قبول ہیں یعنی

1۔ چونکہ آپ کا گھر کشادہ اور وسیع ہے تو آپ کی مطلقہ بیوی گھر کے ایک حصے میں اسی طرح رہ سکتی ہے جیسے کوئی کرایہ دار رہتا ہے، جس کا آپ سے کوئی آمنا سامنا نہیں ہوتا۔

2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ ابھی رجوع کر لیں لیکن نیت اصلاح احوال کی ہو، اور اگر مکان فروخت ہونے تک حالات میں بہتری پیدا نہ ہو تو پھر طلاق دے کر فارغ کر دیں۔ یہ اس لیے کہ وہ رجوع درست نہیں ہے جس میں بیوی کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ﴾ ( سورۃ البقرہ: 231)

’’ اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور پھر وہ اپنی عدت کے اختتام کے (قریب) ہوں تو یا تو انہیں اچھے طریقے سے روک لو اور یا پھر انہیں اچھے طریقے سے جانے دو اور انہیں نقصان پہنچانے کےلیے مت روک کے رکھو تاکہ تم زیادتی کر سکو اور جو ایسا کرتا ہے وہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔‘‘

بظاہر ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی نیت اس خاتون کے ساتھ بھلائی ہی کی ہے کہ وہ بے گھر نہ رہے، اس لیے دوسری صورت ہو یا پہلی، کوئی حرج دکھائی نہیں دیتا۔

سوال: ایک صاحب کا سوال ہے کہ ایک سادہ قطعہ زمین کا ہبہ شرعی طور پر کیسے مکمل ہو سکتا ہے؟ اگر زمین کی ملکیت کا وثیقہ (Title Deed) موہوب لہ کے نام کر دیا جائے لیکن یہ کاغذت مالک زمین کے پاس ہی رہیں تو کیا اسے ہبہ مکمل ہونے کا نام دیا جا سکتا ہے؟

جواب: اردو داں حضرات کے لیے پہلے یہ تین اصطلاحات بیان کر دی جاتی ہیں:

واہب: ہبہ عطا کرنے والا شخص

ہبہ: وہ چیز جو ہدیۃً دی گئی۔

موہوب لہ: جس شخص کو ہدیہ دیا گیا۔

ہبہ کے احکامات اختصار کے ساتھ یہ ہیں:

1۔ ہبہ کرنا یک مستحسن اور نیک عمل ہے۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:

« تهادُوا فإنَّ الهديَّةَ تَذهبُ بالسِّخيمةِ» (مسند أحمد، جامع ترمذى)

’’ہدیہ دیا کرو کہ ہدیہ کینہ، حسد وغیرہ کو دور کرتا ہے۔‘‘

2۔ اگر موہوب لہ کا ہدیہ پر قبضہ ہو جائے تو پھر اسے واپس لینا ناجائز ہے۔ اگر اس کا قبضہ نہ ہو تو البتہ وہ واہب کی ملکیت میں رہتا ہے۔

نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:

«العَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ» (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

’’اپنے ہبہ کو واپس مانگنا ایسا ہی ہے جیسے کتا قے کرے اور پھر اسے چاٹنا شروع کر دے۔‘‘

البتہ ایک والد کو اجازت ہے کہ وہ اپنے بچے سے ہبہ واپس مانگ سکتا ہے، جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے۔

«لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً أَوْ يَهَبَ هِبَةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ»

’’ایک آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ عطیہ دے اور پھر اسے واپس مانگے سوائے والد کے کہ جس نے اپنے بچے کو کچھ دیا ہو۔‘‘

3۔ ہبہ واہب کی ملکیت سے نکل کر موہوب لہ کی ملکیت میں آ جاتا ہے جیسے کہ بیع میں ہوتا ہے کہ فروخت کردہ چیز دوکاندار کی ملکیت سے نکل کر خریدار کی ملکیت میں آ جاتی ہے۔

مذکورہ بالا صورت میں قطعہ زمین کا ہبہ ہوا ہے، موہوب لہ کا نام ٹائٹل ڈیڈ پر درج کر دیا گیا ہے، زمین بھی اس کے قبضے میں آ چکی ہے، لیکن ٹائٹل ڈیڈ کے اصل کاغذات واہب ہی کے پاس ہیں تو اب دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

1۔ واہب ان کاغذات کو بطور امانت رکھ رہا ہے یعنی جب کبھی موہوب لہ نے کاغذت طلب کیے تو وہ فوراً دینے کا پابند ہو گا۔ ایسی صورت میں ہبہ مکمل سمجھا جائے گا۔

2۔واہب کاغذات اس لیے اپنے پاس رکھ رہا ہے تاکہ موہوب لہ اس قطعہ زمین کو فروخت نہ کر سکے۔ گویا اس کی یہ خواہش ہے کہ موہوب لہ اس زمین سے خود تو فائدہ اٹھا سکتا ہے، وہاں رہ بھی سکتا ہے لیکن فروخت نہیں کر سکتا، یا اسے کرائے پر نہیں اٹھا سکتا تو ایسی صورت میں یہ ہبہ مشروط ہبہ ہو گیا، مکمل ہبہ تو نہ ہوا اور ایسا ہبہ نا جائز ہے۔ اس کی ایک جائز صورت ہے وہ یہ ہے کہ واہب اسے العمریٰ قرار دے دے یعنی جب تک تم زندہ ہو، یہاں رہ سکتے ہو لیکن یہ ہبہ نہ کہلائے گا۔

٭٭٭

عبد العزیز عمر المودی کا مرکزی جمعیہ اہل حدیث برطانیہ کے دفتر کا دورہ

حیدر آبادکن کی قدر آور شخصیت الشیخ عبد اللہ العمودی﷫ کے فرزند شیخ عبد العزیز محمد عمر العمودی جو برطانیہ کے دورہ پر ہیں۔

انہوں نے برمنگھم میں مرکزی جمعیہ اہل حدیث برطانیہ کے دفتر کا دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ سہیل احمد بن مولانا فضل الرحمٰن بخشی بھی تھے۔

گرین لین مسجد میں ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے ان کا استقبال کیا اور مولانا محمد عبد الہادی العمری صدر مجلس القضاء الاسلامی، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مدیر صراط مستقیم برمنگھم، قاری ذکاء اللہ سلیم، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، اسسٹنٹ مجلس القضاء الاسلامی برمنگھم سے مہمانوں نے ملاقات اور جمعیہ اہل حدیث برطانیہ کی نشاطات سے واقفیت حاصل کر کے مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا۔

شیخ عبد العزیز محمد عمر العمودی دراصل یمنی الاصل اور وہاں سے ان کےآباؤ اجداد ہجرت کے لیے حیدر آباد دکن کو اپنا وطن بنا لیا اور دعوت وتبلیغ کے ذریعے انہوں نے دین اسلام کی خدمت کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ وہ حیدر آباد دکن کے اپنے رفقاء و احباب سے ملاقات کر کے پرانی یادیں تازہ کر رہے ہیں۔

٭٭٭٭

تبصرہ کریں