
یورپین ممالک میں موسم سرما میں جمعہ کی ادائیگی
سوال : یورپ کے بعض ممالک جو انتہائی شمال میں ہیں، موسم سرما میں وہاں دن بہت چھوٹا ہو جاتا ہے، یعنی ظہر، عصر اور پھر مغرب تین گھنٹے کے اندراندر ہو جاتی ہیں اوراس بنا پر جمعہ کی ادائیگی کے لئے بھی مناسب وقت نہیں ملتا ہے ، تو کیا جمعہ کو تاخیر سے ادا کیا جا سکتا ہے؟
جواب: ( از ڈاکٹر عجیل نشمی ، عضو یورپین کونسل برائے فتوی اور ریسرچ)
پہلی بات تو یہ ہے کہ نمازوں کے اوقات کی تحدید شریعت میں کر دی گئی ہے کہ اب اس میں اجتہاد نہیں کیا جا سکتا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا ﴾ (سورۃ النساء : 103)
’’ بےشک نماز مومنوں کے اوپر چند مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ہے۔‘‘
یعنی وہ ایک ایسا فریضہ ہے کہ جس کا تعلق اوقات سے ہے کہ جب وہ وقت داخل ہو جا ئےتو نماز واجب ہو جاتی ہے ۔ بروایت عبد اللہ بن عباس ، اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’جبرائیل نے دو مرتبہ بیت اللہ کے قریب میری امامت کی۔ پہلی مرتبہ اس وقت جب کہ سورج کا سایہ تسمے کی مانند تھا ( بمعنی زوال کے وقت ) اور پھر عصر کی نماز اس وقت ادا کی جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کی اپنے برابر ہو چکا تھا ، پھر سورج کے غروب ہونے کے وقت جب کہ روزے دار کے روزے کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے ، مغرب کی نماز پڑھی ۔ پھر شفق کے غائب ہو جانے کے بعد، عشاء کی نماز ادا کی اور پھر جب فجر طلوع ہو چکی اور روزے دار کے لئے کھانا حرام ہو گیا تو صبح کی نماز ادا کی ۔
دوسری دفعہ ظہر کی نماز اس وقت ادا کی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل (یعنی اس کے اپنے برابر) ہو گیا تھا جو کہ پہلی مرتبہ عصر کے وقت کی نشاندھی کر رہا تھا اور پھر عصر اس وقت ادا کی جب ہر چیز کا سایہ دو مثل (یعنی دو گنا ) ہو گیا تھا۔ پھر مغرب اپنے اول وقت میں ہی ادا کی، اور پھر رات کے ایک تہائی گزر جانے کے بعد عشاء کی نماز ادا کی اور پھر فجر کی نماز اس وقت ادا کی جب زمین پر روشنی پھیل چکی تھی ، پھر جبرائیل میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا : اے محمد ! تم سے پہلے جو نبی گزرے ہیں ، ان کا بھی یہی وقت تھا اور ان دونوں اوقات کے مابین ہرنماز کا وقت ہے ۔ (صحيح جامع از الشیخ البانی: 1402)
اور اسی بات پر مسلمانوں کا اجماع ہے ۔
اب رہی جمعہ کے وقت کی بات اور آیا اسے مغرب تک ادا کیا جا سکتا ہے یا نہیں ، اُن اسباب کی روشنی میں جو سوال میں بیان کئے گئے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جمہور فقہاء کے نزدیک تو جمعہ کا وقت وہی ہے جو ظہر کا ہے ، ابتداء کے لحاظ سےاور انتہاء کے لحاظ سے بھی ۔‘‘ ( امام شافعی : کتاب الام : 1؍223؛ كشاف القناع 2؍26؛ ابن قدامہ ، المغنی : 3؍159؛ الکاشانی، بدائع الصنائع :1؍269)
مالکیہ نے اس سے اختلاف تو نہیں کیا لیکن انتہا وقت میں گنجائش نکالی ہے، ان کے نزدیک جمعہ کا وقت ظہر سے لے کر غروب تک ہے کہ خطبہ اور نماز دونوں اتنے وقت کے اندر اندر ادا ہو جائیں تو جمعہ صحیح قرار دیا جائے گا ۔
ابن القاسم المدونہ میں کہتے ہیں: اگر امام نے نماز جمعہ میں اتنی تاخیر کردی کہ عصر کا وقت داخل ہو گیا تو اسے غروب سے پہلے پہلے نماز جمعہ پڑھا دینی چاہئے ۔
این رشد کہتے ہیں : جمعہ کے وقت اخیر میں اختلاف ہے، کہا گیا ہے کہ اگر اتنا بھی وقت ہو کہ عصر کی ایک رکعت ادا ہو سکے (یعنی مغرب سے پہلے پہلے ، تو جمعہ ادا کیا جا سکتا ہے ۔
(یہ بات المدونہ میں بھی ہے اور عیسیٰ کی سماعت کے مطابق ہے ) اور مطرف کی روایت ہے کہ جب تک سورج غروب نہ ہو جائے ۔ (بحوالہ: التاج والإكليل لمختصر الخليل :2؍519؛ ابن رشد، بدایۃ المجتہد: 1؍100؛ المدونہ: 1؍239)
مالکیہ کا ابتداء وقت میں اختلاف نہیں ہے ، وہ اسے ظہر کے وقت ہی سے شروع کرتے ہیں، لیکن جمعہ کے آخری وقت کے بارے میں انہوں نے اجتہاد سے کام لیا ہے ۔
وہ کہتے ہیں کہ ظہر اور عصر کا وقت مشترک ہے ، ایک دوسرے میں داخل ہو جاتا ہے تو اس لحاظ سے جمعے کا وقت بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اب دیکھئے کہ فی الجملہ چونکہ ظہر اور عصر کا وقت ایک ہی ہے اور اسی لیے بر بنائے سفر اور کئی دوسری وجوہات کی بنا پر ان دونوں نمازوں کا جمع کرنا جائز قرار دیا گیا ہے اور اس لحاظ سے جمہور کے نزدیک اگر کسی شخص کا جمعہ چھوٹ جائے اور عصر کا وقت داخل ہو جائے تو وہ اُسے بطور ظہر ادا کرے ، لیکن مالکیہ کے نزدیک وہ اُسے جمعہ ہی کی طرح ادا کرے ، مالکیہ نے جو یہ کہا ہے کہ ان دونوں نمازوں کا وقت ایک دوسرے میں داخل ہے تو اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ فقہاء نے حائضہ عورت کے بارے میں اختلاف رائے کا اظہار کیا ہے کہ اگر وہ عصر کے وقت پاک ہو جائے تو کیا وہ ظہر کی نماز کی بھی قضاء کرے گی اور اسی طرح اگر وہ عشاء کے وقت پاک ہو جائے تو کیا وہ مغرب کی قضا بھی کرے گی ؟
تو اس میں دونوں آراء پائی جاتی ہیں لیکن جمہور فقہاء کا کہنا ہے کہ اس پر ان دونوں صورتوں میں قضاء واجب ہے ۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ ارشاد فرماتے ہیں :
جمہور علماء کہ جن میں مالک ، شافعی اور احمد شامل ہیں ، یہی رائے رکھتے ہیں کہ اگر حائضہ عورت دن کے آخری حصے میں (یعنی مغرب سے پہلے پہلے) پاک ہو جائے تو وہ ظہر اور عصر دونوں نمازیں ادا کرے گی اور اگر رات کے آخری حصے میں پاک ہو جائے تو وہ مغرب اور عشاء دونوں کی ادائیگی کرے گی اور یہ بات عبدالرحمٰن بن عوف ، ابوہريرہ اور ابن عباس سے منقول ہے کیونکہ عذر کی حالت میں ان دونوں نمازوں کے اوقات میں اشتراک پایا جاتا ہے۔
تو اگر وہ دن کے آخر میں پاک ہو جائے تو اس کے لئے ابھی ظہر کا وقت باقی ہے ، اس لئے وہ عصر سے قبل ظہر کی نماز ادا کرے گی اور اگر وہ رات کے آخر میں پاک ہو جاتی ہے تو وہ اسی عذر کی بنا پر کہ اس کے لئے مغرب کا وقت باقی ہے تو وہ عشاء سے قبل مغرب بھی ادا کرے گی۔
ابن قدامہ المغنی میں لکھتے ہیں کہ امام احمد نے کہا : یہی قول عام تابعین کا ہے، سوائے حسن بصری کے جو کہتے ہیں کہ اس پر وہی نماز واجب ہے کہ جس کے وقت میں وہ پاک ہوئی تھی اور یہی قول ثوری اور اصحاب الرأى (یعنی احناف) کا بھی ہے ۔
اور ہمیں بھی مالکیہ کے قول میں توسع دکھائی دیتا ہے (یعنی دونوں نمازوں کے وقت میں اشتراک پایا جاتا ہے) اور اس بنا پر ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ جن مجبوریوں کاسائل نے ذکر کیا ہے وہ اس رائے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن جہاں تک جمعہ کا تعلق ہے تو عصر اور مغرب کے اوقات اپنی اپنی جگہ واضح علامات رکھتے ہیں ، اس لئے ہمیں یہ بات راجح نہیں معلوم ہوتی کہ جمعہ کا وقت وہاں تک پھیلا دیا جائے ، اس لئےجس کا جمعہ چھوٹ گیا ہو وہ اُسے بطور جمعہ ( بعد از عصر ) ادا نہ کرے بلکہ ظہر قضاء کی نیت سے ادا کرے ۔واللہ اعلم
کتے کی نجاست کا مسئلہ
سوال :- یورپ کے ایک ملک میں رہنے والی ایک خاتون دریافت کرتی ہیں کہ وہ عرصہ آٹھ سال سے وہاں رہ رہی ہیں اور اپنی تنہائی کی بنا پر ایک کتا پالنا چاہتی ہیں تاکہ ان کی تنہائی کا مداوا ہو ، اب جب وہ اس کے ساتھ کھیل کود کریں گی تواس کے بدن سے مسّ ہوگا اور ہو سکتا ہے اس کے کپڑوں میں بھی اس کے بال جا لگیں تو کیا وہ اس صورت میں لازمی طور پر وضو کریں اور پھر نماز پڑھیں ؟
جواب: از ڈاکٹر انیس قرقاح (عضو یورپین کونسل برائے فتوی اور ریسرچ)
مالکی فقہاء یہ رائے رکھتے ہیں کہ کتا سارے کا سارا طاہر ہے، اس کا لعاب، ناک کا اخراج ، اس کا جسم اس کے بال سب کے سب طاہر ہیں اور اس کی بنیاد اس بنیادی قاعدے پر ہے کہ ہر زنده حیوان طاہر ہے۔
مطلب اس کا یہ ہے کہ اگر ایک ایسا حیوان جس کا کھانا جائز ہو وہ مر جائے تو اسے نجس شمار کیا جاتا ہے تو پھر زندہ حالت میں اُسے طاہر ہی مانا جائے گا ، احناف نے بھی اس بات سے اتفاق کیا ہے سوائے لعاب کلب کے جوان کے نزدیک نجس ہے۔ شافعیہ، حنابلہ نے کتے کے نجس ہونے اور حنفیہ نے اس کے لعاب کے نجس ہونے کے بارے میں اس حدیث سے استدلال کیا ہے، جس میں کیا گیا ہے۔
’’ اگر کتا تمہارے کسی برتن میں منہ ڈال دے تو وہ اُسے بہا دے اور پھر سے سات مرتبہ دھوڈالے ۔‘‘
جمہور نے کہا کہ برتن کے دھونے کا سبب کتے کی نجاست کی وجہ سے ہے۔
مالکیہ نے کہا کہ نہیں یہ ایک امر تعبدی ہے۔ (یعنی جیسے عبادت کا کوئی سبب نہیں ہوتا ، صرف اللہ کے حکم کی بنا پر کی جاتی ہے اور جہاں تک کتے رکھنے کا مسئلہ ہے تو سبھی فقہاء کا اتفاق ہے کہ کتار کھنا ان مذکورہ اسباب کی بنا پر جائز ہے ۔
شکار کرنا ، کھیتوں کی حفاظت کرنا ، جانوروں کا چرانا ، معذور افراد کی مدد کے لئے انہیں ساتھ رکھنااور تربیتی کتوں کو ان لوگوں کی نشاندھی کرنا جو کسی عمارت کے گرنے کی بنا کر ملبے میں دبے ہوتے ہوں،تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے اور ایسے ہی کئی دوسرے کاموں کے لئے جن کے کرنے میں انسان کا فائدہ ہو اور اسی کی بنیاد وہ روایت ہے جسے سیدنا عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ’’سوائے شکاری کتے یا جانوروں کی حفاظت والے کتے کے اگر کوئی شخص کہتا پالتا ہے تو روز انہ اس کے اجر میں سے دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے ۔‘‘ ( صحیح بخاری وصحیح مسلم)
حضرت ابوہریرہ کی روایت میں کھیت کی رکھوالی کے کتے کا اضافہ ہے اور بلاوجہ کتار کھنے پر روزانہ ایک قیراط ثواب کم ہونے کی وعید سنائی گئی ہے۔
ابن عبد البر المالکی اپنی کتاب التمہید میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے علم ہوتا ہے کہ کتے کا رکھنا مباح ہے، حرام نہیں ہے کیونکہ حرام چیزوں کے بارے میں یہ نہیں کہا جاتا کہ اگر ایسا کیا تو اس کے عمل میں یا اس کے اجر میں اتنی کمی واقع ہو جائے گی … بلکہ حرام چیز سے مطلق منع کر دیا جاتا ہے تاکہ لوگ اسے بچ سکیں ، ہاں وہ اس کی کراہت کی دلیل ہے نہ کہ حرام ہونے کی ۔
قاضي عياض ” إكمال المعلم” میں ارشاد فرماتے ہیں :
’’یہ حکم کے سوائے کالے کتے کے کسی اور کتے کو قتل نہ کرو، تو اس سے کتوں کو رکھنے کا جواز معلوم ہوتا ہے نہ کہ لازمی طور پر ان سے بچنے کا ۔‘‘
اور ان دلائل کی بنیاد پر ہم سائلہ سے کہتے ہیں کہ کتے کو دل بستگی کے لئے رکھنا حرام تو نہیں ، زیادہ سے زیادہ مکر وہ کہا جائے گا کیونکہ حرمت کلاب پر کوئی حتمی دلیل نہیں ہے ۔
اور جیسا کہ مالکی فقہاء نے کہا ہے کہ کتے نجس نہیں ہیں، اس لیے اگر کسی شخص نے وضو کر لیا ہے اور اس کے بعد کتے کو چھو لیا ہو تو نہ ہی وضو کو لوٹائے گا اور نہ ہی اپنے کپڑوں کو دھوئے گا ۔
ہم پھر بھی اس خاتون سے کہیں گے کہ اپنی تنہائی دُور کرنے کے لئے دوسرے وسائل کے بارے میں سوچیں، جیسے کسی جماعت یا جمعیت کے ساتھ علمی، تحقیقی، دعوتی یا تعلیمی سر گرمیوں میں حصہ لینا یا اپنا گھر آباد کرنے کی کوشش کرنا اور اگر ایسا کرنا مشکل ہو تو ایک یتیم بچی یا ایک سے زائد یتیم بچیوں کی کفالت کا ذمہ لینا۔
ان سرگرمیوں سے نہ صرف تنہائی دور ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مزید ثواب سے بھی نوازا جائے گا۔
﴿وَ اللهُ يَقُوْل الحقَّ وَهُوَ يَهْدِى إِلَى السبيل﴾
اضافہ : اسی مسئلہ پر ڈاکٹر عصام الشیر ( عضو پور پین کونسل برائے فتویٰ و تحقیق) نے چند اضافی باتیں درج کی ہیں جن کا تذکرہ مقصود ہے ۔
الف: یہ مسئلہ کبیرہ گناہوں یا اُن نافرمانیوں کا نہیں ہے جو آدمی کو ہلاک کر دیتی ہیں بلکہ جواز اور کرا ہت کے مابین ہے ۔
امام ابن عبد البر کہتے ہیں کہ یہ جو حدیث میں کہا گیا کہ
جس شخص نے کتے کو پالا تو اس کے اجر وثواب میں ایک قیراط یا دو قیراط ثواب کی کمی ہوتی ہے تو یہ صرف کتا رکھنے کی بنا پر نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ کتے کو رکھنے کے بعد پھر اسے صاف رکھنے ، اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور اس کی دیکھ بھال کرنے میں کو تاہی کی تو اس کی نسبت سے اس شخص کے اجر و ثواب میں کمی ہوتی رہے گی، ان کے نزدیک اور اسی طرح قاضی عیاض کے نزدیک کتے کو بغرض حفاظت بلکہ ہر صورت رکھا جاسکتا ہے چاہے کوئی فائدہ مطلوب ہو یا نہ ہو۔
ب : تو ا س مسئلہ میں اختلاف ہو گیا ، آیا ایسا کرنا حرام ہے یا مکروہ ہے یا یا مکروہ ہے یا جائز ہے ؟
جنہوں نے جائز کہا ہے وہ کسی منفعت کی بنا پر اسے جائز قرار دیتے ہیں جیسے شکار یا حفاظت کے لئے اور ایسے ہی مجرموں کی نشاندہی کے لئے ، پولیس کے تجربہ کار کتے ۔ شیخ یوسف القرضاوی نے اس شخص کے لئے جو بلاد غرب میں تنہائی کا شکار ہو، بغرض دل بستگی کتا رکھنے کی اجازت دی ہے۔
البتہ ہم یہ کہیں گے کہ کتا پالنے کے لئے مندرجہ ذیل ضوابط کا خیال رکھا جائے :
1۔کتے کے اوپر اخراجات اسراف کی حد تک نہ ہوں۔
2۔اس کی وجہ سے دوسروں کو چاہے انسان ہوں یا جانور ، ضرر نہ پہنچے۔
3۔ خود کتے سے زیادتی نہ کی جائے کہ اُسے ایذا پہنچے ، پر مشقت کام کرائے جائیں، یا اس کی ضروریات کا خیال نہ رکھا جائے اور جانوروں سے اچھا سلوک کرنے پر اسلام نے کافی زور دیا ہے ۔
ج: بعض علماء نے اس کا رکھنا اس لئے حرام قرار دیا ہے کہ خود انسان کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے اور پھر وہ کاٹ کھا سکتا ہے یا دوسروں کو ڈرانے کا سبب بنتا ہے۔ اور خود بقدر قراط یا دو قیراط مالک کلاب کے اجر میں کمی کی بات کی گئی تو اُسے متعین نہیں کیا گیا اور جہاں تک جنازے کی نماز میں اور پھر دفن تک جنازے کے ساتھ جنازے میں بقدر قیراط یا دو قیراط ثواب کی بات کی گئی تو وہاں قیراط کو جبل احد کے برابر قرار دیا گیا۔
فرمان نبویﷺ ہے:
جو شخص جنازے کی نماز میں شامل ہو جاتا ہے تو اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ہوتا ہے اور جو دفن تک ساتھ رہتا ہے تو اسے دو قیراط کا ثواب ہوتا ہے، اور ایک قیراط جبل احد کے برابر ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
د: اور جن احادیث سے کتوں کو پالنے کی ہمت شکنی کی گئی ہے تو ابن ہبیرہ نے اس کا یہ سبب بتایا ہے کہ ایک تو اس کی وجہ سے نجاست پھیلتی ہے اور دوسرے مہمانوں اور راہ گزرنے والوں کو اس سے خوف آتا ہے اوراس بنا پر اس کے اجر میں بھی کمی کا ذکر کیا گیا ہے۔امام نووی نے ارشاد فرمایا :
مالک کلاب کے اجر میں کمی کے بارے میں علماء کے مابین اختلاف ہے۔ تو کہا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ اس لئے ہو کہ جہاں کتے ہوں وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے یا اس لئے کہ ان کی وجہ سے راہ گزرنے والوں کو اذیت اور خوف لاحق ہوتا ہے یا اس لیے کہ مالک کی لاعلمی میں اس نے برتن میں منہ ڈال لیا ہو اور پھر مالک نے وہ برتن مٹی اور پانی سے نہ دھویا ہو۔
اور جہاں تک فرشتوں کے نہ داخل ہونے کا ذکر ہے تو ایک قول یہ بھی ہے کہ اسے مدینہ منورہ کے گھر مراد ہیں ،کیونکہ مدینہ وحی لانے والے فرشتے کا محل نزول ہے ۔اور ابن عبد البر کے نزدیک اس سے خاص طور پر جبرئیل مراد ہیں جو وحی لایا کرتے تھے اور میرے خیال میں اسی مسئلہ کو غیر مسلم لوگوں یا نو مسلموں کے سامنے اجاگر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان میں سے اکثر لوگ کتوں سے اُنس رکھتے ہیں اور ا س مسئلہ میں رخصت کے خواہشمند ہیں، ہمیں بھی اپنے فقہی ورثہ میں ایسے فتاد کی کا انتخاب کرنا چاہئے کہ جو ایسے لوگوں کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کر سکیں ۔ ان کے حالات سے مناسبت رکھتے ہوں اور ان کے لئے نفرت کا باعث نہ بنیں۔ واللہ اعلم
امام دار الہجرہ سیدنا مالک بن انس رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی ہر چیز سے دست بردار ہوجاتے یہاں تک کہ احادیث مبارکہ کی تدوین وتالیف ،بحث و تحقیق اور اہل علم کے ساتھ نشست وبرخواست سے علیحدگی اختیار کرلیتے اور تلاوت کلام پاک میں مصروف ہوجاتے ۔
تبصرہ کریں