
توسل بالذات کا تصور
سوال : احادیث میں کچھ ایسے واقعات بھی بیان ہوتے ہیں جن سے توسل بالذات کا تصور ابھرتا ہے ۔ ایک تو حضرت عمر کا اللہ کے رسول ﷺ کے چچا حضرت عباس سے بزمانہ قحط بارش کے نزول کے لئے وسیلہ اختیار کرنے کا ذکر ہے اور دوسرا ایک نابینا شخص کا واقعہ ہے ، جس نے اپنی بصارت کے عود کر آنے کے لئے نبی ﷺ سے درخواست کی تھی اور نبی ﷺ نے پھر اسے کچھ کلمات ادا کرنے کو کہا تھا کہ جس سے توسل بالذات درست دکھائی دیتا ہے ، ان دونوں واقعات کے بارے میں وضاحت مطلوب ہے ۔
جواب: آج کی نشست میں پہلے واقعے کو لیتے ہیں۔ سیدنا عمر کے دور خلافت میں بارش کی بندش کی بنا پر سخت قحط پڑا تھا تو سیدنا عمر اللہ کے رسول ﷺ کے چچا حضرت عباس کے پاس آئے اور ان سے دعا کی درخواست کی۔ حدیث کے الفاظ ملاحظہ ہوں :
حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ
أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ فَيُسْقَوْنَ (صحیح بخاری)
’’جب لوگ قحط کا شکار ہوتے تو سیدنا عمر بن الخطاب سیدنا عباس بن عبد المطلب سے بارش کے نزول کی استدعا کرتے اور یہ الفاظ ادا کرتے کہ ہم تیرے نبی کے وسیلہ سے تجھ تک رسائی اختیار کرتے ہیں تو تُو ہمیں بارش سے نوازتا تھا اور (اب) ہم تجھ تک تیرے نبی کے چچا کے وسیلےسے رسائی اختیار کرتے ہیں تو ہمیں بارش سے نواز دے ۔‘‘ اور پھر وہ بارش سے نوازے جاتے۔‘‘
اس موضوع پر ہمارے شیخ محمد ناصر الدین البانی نے سیر حاصل بحث کی ہے، اسی کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
’’ اگر اس واقعے سے متعلق تمام روایات کو جمع کیا جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس قول
(إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا ) ،
(ہم تجھ تک اپنے نبی کے وسیلے سے پہنچا کرتے تھے) کے بعد یہاں ایک چیز محذوف معلوم ہوتی ہے، وہ ان دونوں باتوں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔
ایک تو یہ کہ ہم نبی ﷺ کی جاہ و منزلت کا وسیلہ اختیار کرتے تھے اور اب ہم ان کے چچا کی جاہ ومنزلت کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں ۔
یا کہ یہ تیرے نبی کی دعا کا وسیلہ اختیار کرتے تھے اور اب ہم تیرے نبی کے چچا کی دعا کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں۔
اب دیکھیں کہ ان دونوں باتوں میں سے کون سی بات سنت اور تعامل صحابہ سے مطابقت رکھتی ہے !
قحط اور خشک سالی کے زمانہ میں کیا صحابہ کرام گھروں میں بیٹھ کر یا کسی دوسری جگہ پر جمع ہو کر نبی ﷺ کی غیر موجودگی میں یوں کہا کرتے تھے کہ اے الله ! نبی محمد ﷺ کی جو حرمت اور عزت تیرے نزدیک ہے یا ان کی جو قدر و منزلت تیرے پاس پائی جاتی ہے یا ذات محمد ﷺ کے وسیلے سے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر بارش نازل کر !
یا وہ نبی ﷺ کے پاس بنفس نفیس حاضری دیتے تھے اور پھر اپنی ضرورت بیان کرکے ان سے دعا کے طالب ہوتے تھے ؟
اور پھر اللہ کے نبی ﷺ ان کی استدعا کو قبول کرتے ہوئے باری تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر دعا کرتے کہ جس کے نتیجے میں بارانِ رحمت نازل ہو جاتا ۔
اب سنت کے سارے ذخائر دیکھ لیں ، کہیں ایسا واقعہ نہیں ملتا کہ انہوں نے پہلی صورت اختیار کی ہو ۔ سنت سے جو بات ثابت ہوتی ہے کہ صحابہ کرام کو جب کبھی ایسی صورتحال پیش ہوتی تو وہ نبی ﷺ کے پاس خود حاضر ہوتے اور ان سے دعا کی درخواست کرتے ، اور یہ بات اس آیت سے بھی معلوم ہوتی ہے :
﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا﴾ (سورۃ النساء: 64)
’’اور جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہوتا تو کیوں نہ وہ تیرے پاس آتے اور پھر وہ اللہ سے مغفرت طلب کرتے اور رسول بھی ان کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کرتے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا پاتے ۔‘‘
ایسے چند واقعات کا ابتداء مضمون میں ذکر ہو چکا ہے۔
2۔ خود عرب جاہلیت میں توسل کا یہی طریقہ معروف تھا اور آج کل کے دستور کے مطابق بھی ایسا ہی کیا جاتا ہے کہ اگر اس شخص کو صدر محکمہ یا کمپنی کے مینیجر سے کوئی کام کروانا ہے۔ تو وہ اپنے کسی ایسے دوست کے پاس جاتا ہے جس کے صدر محکمہ یا مینیجر کسی کے ساتھ اچھے اور گہرے تعلقات ہیں تو وہ اسے درخواست کرتا ہے کہ وہ اُس کا کام کروا دے۔
اور پھر اس کا یہ دوست جسے ہم وسیط یا مڈل مین کہیں گے، صدر یا مینیجر کے پاس جاکر اپنا مدعا بیان کرتا ہے اور جس کے نتیجے میں وہ کام ہو جاتا ہے اور ایسی صورت میں سائل یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے اس کام کو پورا کروانے کے لیے فلاں شخص کا وسیلہ اختیار کیا تھا۔ کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ اس کی مراد یہ ہے کہ وہ صدر یا مینیجر سے یوں مخاطب ہوا کہ میں اس آدمی کا واسطہ دیتا ہوں جو آپ کے نزدیک بڑا قابل احترام ہے کہ آپ میرا یہ کام کر دیں ۔
اور اس مفہوم کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت عمر خود یہ بات کہتے نظر آتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی میں توہم خود ان کے پاس آکر ان سے دعا کی درخواست کرتے تھے اور اب جب کہ وہ وفات پا چکے ہیں تو ہم ان کے چچا کے پاس اکران کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں۔ یعنی وسیلے کا مفہوم سمجھا دیا کہ اس سے مراد اُن سے دعا کروانا ہے۔
ظاہر ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کی موجودگی میں کسی بھی دوسری بزرگ شخصیت کے پاس اس کام کے لئے جانا ناقابل تصورتھا اور اب حضرت عباس کے پاس آنا اس لئے ممکن ہوا کہ الله کے رسولﷺ اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اور ان سے دعا کروانا ممکن نہیں رہا تھا ۔
اگر حضرت عمر کا یہ اعتقاد ہوتا کہ وفات کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ کا وسیلہ اختیار کیا جا سکتا ہے تو کیا پھر وہ حضرت عباس کے پاس آنے کی زحمت گوارا کرتے اور اگر صحابہ کرام کا کبھی یہی عقیدت ہوتا تو کیا وہ اس بات کو برداشت کر لیتے کہ سیدنا عمر نبی ﷺ کا وسیلہ چھوڑ کر کسی اور کا وسیلہ اختیار کر رہے ہیں ، وہ تو نبی ﷺ کی موجودگی میں کسی اور کے پیچھے نماز پڑھنے کے بھی روادار نہ تھے ، اور ایک دو واقعات ایسے ہوئے بھی ہیں تو اس کا کوئی سبب موجود تھا ، جیسے سفر کے دوران نبی ﷺ کی غیر موجودگی میں عبد الرحمٰن بن عوف کا نماز پڑھانا یا نبی ﷺ کی اجازت ہی سے حضرت ابوبکر کا نماز پڑھانا۔
یہاں ایک شبہ اور ڈالا جاتا ہے کہ افضل کی موجودگی میں مفضول (یعنی کم تر فضیلت کھنے والے) کا وسیلہ اختیار کرنا جائز ہے تو ہم یہ کہیں گے کہ اس سے زیاد مضحکہ خیز بات کوئی نہیں ہو سکتی کہ کہیں آگ لگی ہو۔ قریب ہی پانی کا نل بھی موجود ہو اور لوگ بجائے اس کے کہ نل سے پانی بجھائیں وہ گلاس بھر کر آگ بجھانے کی کوشش کریں۔ یعنی مصیبت بڑی ہو تو اس کو دفع کرنے کے لئے بڑی تدبیر ہی اختیار کی جاتی ہے
اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ نبی ﷺکی وفات کے بعد بھی ان کا وسیلہ جائز ہوتا تو نہ صرف حضرت عمر بلکہ تمام صحابہ کرام بھی اللہ کے رسول ﷺ کا وسیلہ چھوڑ کر حضرت عباس کا کم تر درجے والا وسیلہ نہ اختیار کرتے۔ خود مشرکین عرب بھی شدائد کے اندرا پنے تمام مزعومہ خداؤں یعنی بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ ہی کو پکارا کرتے تھے۔
3۔ اب دیکھئے کہ جب حضرت عباس سے دعا کی درخواست کی گئی تو انہوں نے کیا واقعی دعا کی تھی یا نہیں ! علامہ ابن حجر عسقلانی نے الزبیر بن بکار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت عباس نے دعا کی۔
اللهم إنه لا ينزل بلاء إلا بذنب ولم يكشف إلا بتوبة ، وقد توجه بي القوم إليك لمكاني من نبيك وهذه أيدينا إليك بالذنوب ، ونواصينا إليك بالتوبة ، فاسقنا
’’اے اللہ ! کوئی مصیبت بغیر کسی گناہ کے نازل نہیں ہوتی اور یہ مصیبت سوائے تو بہ کے کبھی نہیں ٹلتی اور یہ لوگ میرے واسطے سے تیری طرف رخ کرتے ہیں (یہ جانتے ہوئے) کہ تیرے نبی سے میرا کیا تعلق تھا اور تیری طرف یہ ہیں ہمارے ہاتھ گناہوں کے ساتھ ، اور تیری طرف یہ ہیں ہماری پیشانیاں توبہ کے ساتھ۔ تو ہمیں بادل برسارے ۔‘‘
راوی کہتا ہے تو پھر آسمان پہاڑوں کی طرح جھک گئے اور زمین جل تھل ہو گئی اور لوگوں کو گزران حاصل ہو گیا۔‘‘ (فتح الباری :3؍150)
اس روایت سے واضح ہوا کہ حضرت عمر کا حضرت عباس کا وسیلہ اختیار کرنا ان کی دعا کے واسطے سے تھا۔ یعنی جس قسم کا وسیلہ نبی ﷺ کی دعا کی شکل میں ظاہر ہوا تھا، بعينہ وہی وسیلہ حضرت عباس کی دعا کی شکل میں ظاہر ہوا۔
اور اگر دعا مطلوب نہ ہوتی اور صرف ذات کا وسیلہ ہی جائز ہوتا تو پھر ایک بزرگ شخصیت کے پاس آنا اور اس سے دعا کی درخواست کرنا بے معنی ہو جاتا ، صرف ذات شخص کا نام لے کر وسیلہ اختیار کر لیا جاتا، لیکن چونکہ وسیلے سے مراد دعا کروانا تھا اس لئے حضرت عمر نے حضرت عباس کا رخ کیا اور معاویہ بن ابی سفیان اور الضحاک بن قیس نے اپنے اپنے وقت میں ایک اور بزرگ ہستی یزید بن الاسود الجرشی سے دعا کی استدعا کی ۔
وسیلے کا یہی مفہوم ایک صحیح مفہوم ہے جو مذکورہ تفصیل کی رو میں نکھر کر ہمارے سامنے آگیا ہے۔
اگلی نشست میں ہم ایک نابینا آدمی سے متعلق حدیث کا جائزہ لیں گے۔
٭٭٭
عید میلاد النبیﷺ
رسول اللہﷺ کی وفات ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہوئی تھی۔ اس ماہ میں میلاد النبیﷺ کی محفلیں اور مجلسیں کرنے کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔ شیخ احمد سرہندی، مجد الف ثانی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور قاضی محمد بن علی شوکانی نقشبندی و دیگر علماء ہمیشہ اس امر کو بدعت و ضلالت قرار دیتے چلے آئے ہیں۔
تبصرہ کریں