
طاقتور مؤمن اور کمزور مؤمن کی تشریح
سوال : ایک حدیث میں طاقتور مؤمن کو کمزور مؤمن سے بہتر بتایا گیا ہے، اس کی تشریح مطلوب ہے ۔
جواب: یہ حدیث حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :
«المُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وفِي كُلٍّ خَيْرٌ»
’’ایک طاقتور مؤمن بہتر ہے اور اللہ کو زیادہ محبوب ہے بہ نسبت ایک کمزور مؤمن کےاور ان میں سے ہر ایک خیر کا حامل ہے ۔ ‘‘
«احرص على ما ينفعُك، واستعنْ بالله، ولا تعجز»
’’وہ چیز حاصل کرنے کی خواہش رکھو جو نفع بخش ہواور اللہ سے مدد کے طالب رہو اور عاجز بن کے بیٹھے نہ رہو۔‘‘
«وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ: قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ » (صحیح مسلم : 1520)
’’اور اگر تمہیں کوئی مصیبت آ پہنچے تو یہ نہ کہو : اے کاش میں نے یوں کیا ہوتا تو پھر ایسا ویسا ہو جاتا، لیکن یہ کہو کہ یہ اللہ کی مرضی تھی، جو وہ چاہتا ہے کرتا ہے، وہ اس لیے کہ ’’اگر مگر‘‘ کہنے سے شیطان کو کام کرنے کا موقع ہاتھ آ جاتا ہے۔‘‘
اگر ایک شخص اپنے ایمان میں قوی ہے اور اپنے بدن میں بھی، تو وہ اپنی عبادات جیسے نماز ، روزہ ، حج بھی اچھے طریقے سے ادا کر سکتا ہے اور ایک کمزور مؤمن کے مقابلے میں دوسروں کی مدد کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہے ،اور یہ بات صرف عبادات اور دوسروں کی مدد کرنے پر ہی منحصر نہیں بلکہ نیکی کا حکم دینے اور بدی سے روکنے کی بھی ہ مت عطا کرتا ہے ۔
ظاہر ہے جو شخص اپنے ایمان میں بھی مستحکم ہو اور بدن میں بھی طاقت رکھتا ہو تو وہ کمزور مؤمن کے مقابلے میں یہ سارے کام بخوبی انجام دے سکتا ہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک کمزور مؤمن کو حقارت سے دیکھا جائے ، نہیں! اس میں بھی کچھ نہ کچھ خیر تو ضرور ہوگا اور ہر شخص اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق جوابدہ ہے۔ حدیث کا باقی حصہ کسی بھی کام کے حصول کے لئے اسباب کے اختیار کرنے پر ابھارتا ہے۔
اب دیکھیئے دشمنان اسلام کا مقابلہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ﴾ (سورۃ الانفال: 60)
اور ان کے (مقابلے کے لئے) جتنی تم میں استطاعت ہے اتنی قوت مہیا کرو اور ایسے ہی گھوڑوں کے دستے بھی، کہ جن سے تم ڈرا سکو اللہ کے دشمن کو ، تمہارے اپنے دشمن کو اور ان کے علاوہ ایسے دوسرے لوگوں کو بھی جن کو تم نہیں جانتے ہو ، لیکن اللہ انہیں جانتا ہے ۔‘‘
اور نبی ﷺنے ’قوت ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے:
«ألا إن القُوَّةَ الرَّميُ، ألا إن القوة الرمي»
’’بیشک رمی قوت ہے، بیشک رمی قوت ہے۔‘‘
’’رمی‘‘ پھینکنے کو کہتے ہیں۔ اب دیکھیئے یہ لفظ پچھلے زمانے کے اور پھر آج کل کے زمانے کے ہتھیاروں پر کیسے صادق آتا ہے۔
نبیﷺ کے زمانے میں تیر اور نیزے پھینکے جاتے تھے، منجنیق سے پتھر پھینکنے کے واقعات بھی ملتے ہیں اور ہمارے زمانے میں راکٹ ، میزائیل اور بموں کا پھیکنا ’’رمی‘‘کے مفہوم میں داخل ہے۔
اب اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان کو دونوں طرح قوت حاصل کرنی چاہیے،ایمان کی بھی اور مادی قوت بھی۔
ایمان کی طاقت کے ساتھ ساتھ دشمن کے مقابلے کے لئے موجودہ دور کے معروف ہتھیار ، اسلحہ اور جدید جنگی وسائل کا حصول لازمی ہے تاکہ جب کبھی دشمنان اسلام سے جنگ کا موقع ہو تو دونوں قوتوں کے اجتماع سے فتح حاصل ہوگی ۔
ہوسکتا ہے کہ دشمن کی فوجی استعداد کے مطابق ہماری استعداد نہ ہو لیکن اس کا ازالہ ایمانی قوت سے ہو سکتا ہے اور اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سنت الٰہیہ کی طرف اشارہ کیا ہے :
﴿كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ (سورۃ البقرہ: 249)
’’کتنی ہی چھوٹی سی جماعتیں، اللہ کے اذن سے بڑی جماعتوں پر غالب آتی رہی ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔‘‘
یہی اللہ کی سنت ہے اور اگر کبھی مسلمانوں کو شکست حاصل ہو تو انہیں سوچنا چاہیئے کہ نقص کہاں واقع ہوا ہے ؟ ایمانی استعداد میں یا مادی اسباب ہیں ؟ یا دونوں ہیں ؟ یہ معیار نہ صرف پوری امت ، یا ایک بڑی جماعت کے لئے ہے بلکہ ہر شخص کے لئے انفرادی طور پر بھی مطلوب ہے ، تو جب کبھی دشمن سے مقابلہ ہو تو فتح اور شکست میں یہی دونوں عوامل کارفرما ہوں گے ۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ایک مسلمان کو ہمیشہ اپنے ایمان کی تازگی اور مضبوطی کی فکر کرتے رہنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ دشمن کے مقابلہ کے لئے مادی تیاری سے کبھی بھی غافل نہ ہونا چاہیے ۔ (صہیب حسن)
عمر بھر رہائش کی شرط کے ساتھ گھر کی فروخت
سوال : بعض یورپین ممالک میں عمر رسیدہ افراد اپنے گھر کو عمر بھر رہا ئش کی شرط کے ساتھ فروخت کرنے کے ایک طریقے پر عمل پرائیں جسے انگریزی میں Life Annuity اور فرانسیسی زبان میں VIAGER کہا جاتا ہے۔
اس کی کئی صورتیں ہیں جن میں مندرجہ ذیل دو زیادہ مشہور ہیں:
1۔عمر رسیدہ شخص مشتری کے ساتھ اپنے گھر کے بارے میں یہ معاہدہ کرتا ہے کہ وہ شروع میں ایک مخصوص رقم ادا کرے گا جس پر دونوں اتفاق کریں گے اور اس کے بعد جب تک مالک مکان زندہ ہے ، اُسے وہ ماہانہ ایک رقم ادا کرتا رہے گا ۔ اور مالک مکان کی وفات کے بعد مکان کی ملکیت مشتری کو منتقل ہو جائے گی صرف اس شرط کے ساتھ کہ جب تک مالک مکان زندہ ہے وہ اپنے گھر سے پوری طرح مستفید ہوتا رہے گا ،چاہیے وہ خود وہاں رہائش پذیر رہے یا وہاں کسی کو کرایہ پر رکھے۔
2۔دوسری صورت بھی پہلی کی مانند ہے ، فرق صرف اتنا ہے کہ مشتری شروع میں کچھ زیادہ رقم ادا کرتا ہے ، لیکن ماہانہ رقم دینے کا پابند رہے گا، لیکن اسے مالک مکان کی حیات میں بھی مکان میں اگر کچھ تصرف کرنا چاہے تو اس کی آزادی ہوگی۔
سوال یہ ہے کہ آیا اس قسم کا معاہدہ جائز ہے ؟
جواب مذکورہ دونوں صورتوں میں اور باقی تمام صورتوں میں بھی ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ کہ مشتری مکان کا مالک بننے تک کتنی رقم ادا کرے گا وہ مجہول رہتی ہے اور وہ اس لئے کہ چونکہ مالک مکان کی وفات کسی کے علم میں نہیں ہے اور مشتری ہر ماہ اُسے رقم دینے کا پابند ہے تو کل قیمت مکان کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ فرض کیجئے کہ مالک مکان زیادہ دیر زندہ رہتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ مشتری کو مکان کی اصل قیمت سے زیادہ دینا پڑ جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے ،بلکہ ایسا ہو چکا ہے کہ مشتری کی وفات پہلے ہو جائے ، تو اسے اس مکان میں رہنے یا اس کا قبضہ حاصل کرنے کی نوبت ہی نہ آئے اور پھر اس کے ورثہ پر یہ فرض قانونی
طور پر عائد ہو جائے کہ وہ ماہانہ مالک مکان کو طے شدہ رقم دیتے رہیں۔
اور اس لحاظ سے مندرجہ بالا بیع دو اسباب کی بنا پر نا جائز ہے ، ایک جہالت اور دوسرے غرر ( دھوکہ دہی والا معاملہ) جہالت یوں کہ بیع میں قیمت کا علم ہونا ضروری ہے اور یہاں ایسا نہیں ہے ۔
امام نووی، اپنی کتاب ’المجموع‘ میں لکھتے ہیں:
’’سب فقہاء کا اتفاق ہے کہ قیمت معلوم بھی ہو لیکن اَجل مجہول ہو (یعنی مدت معلوم نہ ہو) تو بیع جائز نہیں۔
مالکیہ کے نزدیک بھی اگر قیمت گن گن کر ادا کی جاتی ہو لیکن مبیع (جو چیز بیچی جا رہی ہے) اس کی مقدار متعین نہ ہو جیسے ایک بند کارٹن ہو، جس میں طرح طرح کی چیزیں بند ہوں) تو ایسی بیع ناجائز ہے کہ یہ غرر کی ایک شکل ہے۔ (ملاحظہ ہو، حاشیہ الدسوقی)
مندرجہ بالا معاملے میں غرر بالکل واضح ہے اور اُسے حضرت ابوہریرہ کی حدیث کے مطابق منع قرار دیا گیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے کنکر کی بیع اور بیع غرر سے منع فرمایا ہے ۔(صحیح مسلم)
( کنکر کی بیع سے مراد ہے کہ بائع نے مختلف چیزیں (برتن، ملبوسات وغيره ) کہیں پھیلا کر رکھے ہوں اور قاعدہ یہ ہو کہ مشتری کنکر پھینکے گا اور کنکر جہاں بھی جا کر پڑے گا وہ ایک طے شدہ رقم کے مطابق اس کی ہو جائے گی۔ )
جمہور فقہاء السي بیع كونا جائز قرار دیتے ہیں کہ میں جس میں ایسی شرط شامل ہو جو عقد بیع کے اصل مقصد کی نفی ہوتی ہو ۔ جیسے ایک شخص اپنا مکان اس شرط پر فروخت کرے کہ خریدنے والا اس میں رہائش نہیں رکھ سکتا ۔ (از ڈاکٹر احمد جابا الله ، عضو یورپین کونسل برائے فتوی)
3۔ مندرجہ بالا صورت سے مشابہ ایک اور صورت یہ بھی ہے کہ جیسے ایک سوال میں پوچھا گیا ہے کہ ایک عمر رسیدہ عورت ایک مسلمان کو اپنا گھر ایک متعین رقم پر بیچ دیتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ اپنی وفات تک اسی مکان میں رہے گی اور مکان کی ملکیت اس کی وفات کے بعد ہی مشتری کو منتقل ہوگی ، البتہ وہ کتنی دیراس گھر میں رہ سکے گی، اس کا ایک اندازہ لگایا جائے گا اور اتنی مدت کے رہنے کا معاوضہ گھر کی مجموعی قیمت میں سے منہا کر لیا جائے گا، تو ایسی صورت کا کیا حکم ہوگا ۔
جواب : بيع و شراء کے تمام معاملات کا جائزہ لیا جائے تو یہ چند باتیں ایسی معلوم ہوتی ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے یہ سب معاملات ناجائز قرار دئیے جائیں گے ۔ سود کا پایا جانا ، رضامندی کا فقدان ، غرر اور ضرر کا پایہ جانا ،مبیع کا یا عقد کا از خود حرام ہونا ۔
یہ وہ چند مرکزی عوامل میں جو ایسے معاملات کو نا جائز بنا تے ہیں ،مندرجہ بالا معاملے میں بہت سی ناپسندیدہ چیزیں پائی جاتی ہیں جن میں غرر کو مرکزی حثیت حاصل ہے ۔
ابن القیم نے ’غرر‘ کی یہ تعریف (Definition) بیان کی ہے :
’’ وہ چیز جس کے حصول کا علم نہ ہو یا اس کی حقیقت اور مقدار کا علم نہ ہو ۔‘‘
یہاں پہلی بات تو یہ ہے کہ اس مدت کا تعین نہیں کیا جاسکتا کہ وہ خاتون کب تک زندہ رہے گی، وہ اس لئے کہ اجل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ مکان کی ملکیت مشتری کو اس وقت تک منتقل نہیں ہوگی جب تک کہ وہ خاتون وفات نہ پا جائے ، یہ شرط باطل ہے جو کسی معاہدے میں نہیں رکھی جا سکتی۔
اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد کے مطابق ایک بائع کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ ایک چیز کو بیچ دینے کے بعد اس کی ملکیت اپنے ہاتھ میں رکھے ۔اس لئے مَیں اس عقد کو جائز نہیں سمجھتا کہ اس میں بہت زیادہ غرر بھی ہےاور ایک باطل شرط بھی ہے ۔
ہاں ایسا ہو سکتا ہے کہ اس بات کو پہلے سے طے کر لیا جائے کہ بائع ایک خاص مدت تک جیسے ایک سال تک اُسی گھر میں رکھے گا لیکن وہ کرایہ ادا کرتا رہے گا، جب کہ مشتری کا حق ملکیت شروع ہی سے اُسے حاصل ہوگا ۔ واللہ اعلم ( از ڈاکٹر عصام البشیر، رکن یورپین کونسل برائے فتوی)
وکالت یا نظام قضاء میں کام کرنے کا حکم
سوال: یہاں جرمنی کے عدالتی نظام یا بحیثیت وکیل یا اس کے اسٹنٹ کے کام کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے جب کہ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ یہاں اسلامی شریعت کا کوئی دخل نہیں ہے ؟
جواب: اصلا تو وکالت یا وکیل کے مساعد کی حیثیت سے کام کرنا جائز ہے کیونکہ اس کام کے جواز میں تو کوئی قباحت نہیں ہے ، فقہی اعتبار سے یوں کہا جائے گا کہ آیا قاضی کے سامنے کسی شخص کی وکالت کی جا سکتی ہے یا نہیں ؟ اور اس حدیث سے اس کا جائز ہونا سمجھ میں آتا ہے جسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’میں تو صرف ایک انسان ہوں اور تم لوگ اپنے جھگڑے لے کر میرے پاس آتے ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے ایک اپنے دلائل کو بہت قوت سے بیان کرسکتا ہو تو میں اس کے دلائل سن کر اس کے حق میں فیصلہ دے دوں، تو وہ یہ یاد رکھے کہ اگر میں نے (اس کی حجت کی بنا پر) جو حق اس کے بھائی کا تھا، اُسے دے دیا تو گویا میں اُسے آگ کا ایک ٹکڑا پیش کر رہا ہوں ۔‘‘
وکیل یا اس کے مساعد کا کام تو یہی ہے کہ چونکہ ان کا مؤ کل اپنے مسئلہ کو بخوبی بیان نہیں کر سکتا تو وہ اسے قاضی کے سامنے قانون کی روشنی میں پیش کر سکتا ہے اور اس طرح وہ اجر اور ثواب کا مستحق ہوتا ہے، کیونکہ اس نے ایک مظلوم شخص کی مدد کی ہے اور اُسے اُس کا جائز حق دلایا ہے اور ایک دوسرے اعتبار سے اس نے قاضی کی بھی مدد کی ہے،تاکہ وہ عدل وانصاف کے ساتھ اللہ فیصلہ سنا سکے،اسے نیکی کے کاموں پر تعاون اور مستحق کو اس کا حق دلانا تصور کیا جائے گا ۔
ہاں وکیل کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ ہمیشہ حق اور سچائی کی تلاش میں رہے ، کبھی کسی ظالم کا دفاع نہ کرے یا اُسے وہ چیز دلانے کی کو کوش نہ کرے جو اس کا حق نہیں ہے یا یہ جانتے بوجھتے کہ اس کا مؤکل حق پر نہیں ہے اور پھر بھی وہ اُسے بری قرار دینے کی سفارش کرے۔
سیدنا عبدالله بن عمر کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمانا:
’’جس شخص نے کسی ناحق مسئلہ کے حصول پر اعانت کی تو وہ اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے ۔‘‘ (سنن ابوداؤد ، مسند احمد، سنن ابن ماجہ)
اور اس لحاظ سے اگر وکیل یا اس کا مساعد اگر حقداروں کو ان کا حق دلاتے ہیں تو ان کی اجرت حلال اور طیب ہے اور اگر نا حق کسی کی پاسداری کی تو پھر اس کی اجرت حرام ہے۔ انہیں اللہ تعالیٰ کا یہ قول یاد رکھنا چاہیئے :
﴿هَا أَنتُمْ هَٰؤُلَاءِ جَادَلْتُمْ عَنْهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَمَن يُجَادِلُ اللَّهَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَم مَّن يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا ﴾ (سورة النساء : 109)
’’ یہ تم لوگ ہو کہ تم نے دنیا میں ان کی طرف سے جھگڑا کیا تو بتاؤ کہ قیامت کے دن ان کی طرف سے اللہ کے سامنے کون جھگڑا کرے گا ؟ یا کون ان کی طرف سے وکالت کرے گا ؟‘‘
(از ڈاکٹر خالد الحنفی، رکن یورپین کونسل برائے فتوی)
غیر مسلم کے شکار کا حکم
سؤال :غیر مسلم کے شکار کا کیا حکم ہے ؟
جواب : اصلا سوائے اہل کتاب کے اور کسی غیر مسلم کا شکار نا جائز ہے اور جیسے اہل کتاب کا ذبیحہ جائز ہے ، اسی پر ان کے شکار کو بھی قیاس کیا جائے گا ، ان تمام شرائط کے ساتھ جو ذبیحہ میں روا رکھی گئی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
﴿ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ﴾ (سورۃ المائدة :5)
’’اور وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی ان کا طعام تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا طعام ان کے لئے حلال ہے۔‘‘
طعام سے مراد ذبیحہ ہے ، تو جس کا ذبیحہ حلال ہے تو اس کا شکار کردہ گوشت بھی حلال ہے ، یہی رائے جمہور فقہاء (حنفیہ، شافعیہ، حنابلہ کی ہے، لیکن جہاں تک سمندر یا پانی کے شکار کا تعلق ہے تو وہ مسلم ، غیر مسلم سب کا جائز ہے ۔ اس حدیث کی بنا بر جس میں عموم کا حکم ہے۔ اللہ کے نبی سمندر کے پانی کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں :
«هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ» (سنن نسائی: 333)
’’اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے ۔‘‘ (از ڈاکٹر امین الحزمی – رکن یورپین کونسل برائے فتوی )
٭٭٭
تبصرہ کریں