سوالات کے جوابات-ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

مصنوعی تخلیق زر کے چند غیر پسندیدہ نتائج

پچھلی سطور میں ہم جناب شہر الدین کے مقالے کی تلخیص پیش کر چکے ہیں، اب چند میری گزارشات اہل علم کی توجہ کی طالب ہیں :

1۔ بنک جس طرح مصنوعی تخلیق زر پیدا کر رہے ہیں اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص نے کسی نئی بستی کا ایک مخصوص قطعہ زمین خریدا اور اسٹیٹ ایجنٹ کی طرف سے اسے ملکیت زمین کا ایک وثیقہ ( TITLE DEED) بھی دیدیا گیا ، زمین ابھی چونکہ رہنے کے قابل نہیں ہے تو اس شخص نے عملاً اس پر قبضہ نہیں کیا ۔ بہی اسٹیٹ ایجنٹ

آٹھ، دس افراد کو بھی اسی قطعہ زمین کے جعلی وثیقہ جات جاری کر چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب بھی قبضے کا وقت آئے گا تو صرف ایک ہی شخص کو وہ قطعہ زمین مل سکے گا۔ باقی سب دھو کہ کھا کر عدالتوں کے چکر لگا رہے ہوں گے، کئی عالمی بنک اسی سبب کی بنا پر افلاس کا شکار ہو چکے ہیں۔ بنک جزوی طور پر محفوظ بچت کے مذکورہ بالا سسٹم کی بدولت اپنے گاہکوں کی رکھی ہوئی رقوم کو جس طرح کئی دوسرے افراد کو قرض دے کر دس گنا مزید رقم پیدا کر رہے ہیں، ان پر مندرجہ بالا مثال صادق آتی ہے ، اور مصنوعی طریقے سے حاصل کر وہ یہ زر اس وقت لوگوں کے ہاتھوں میں متداول رقوم کا 97فیصد تک جاپہنچا ہے یعنی حس پیسے سے وہ لین دین کر رہے ہیں وہ خود ناجائز مال ہے اور پھر اسی ناجائز مال کو سود کے ذریعے مزید بڑھایا جاتا ہے ۔

دس گنا تو اس صورت میں جب کہ بنک نے لوگوں کے ڈپازٹ کا صرف دس فیصد اپنے پاس رکھا ہو۔ اب تو صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ صرف 5 فیصد بطور ڈپازٹ رکھا جاتا ہے اور باقی 95 فیصد سے بیس فیصد زیادہ کما یا جاتا ہے ۔

2۔گومہنگائی (INFLATION) کے متعدد اسباب ہیں لیکن اس کا ایک بڑا سبب شوری لین دین ہے اور وہ اس طرح کہ اگر ایک تاجر یا صنعت کار اپنے کاروبار کے لئے بنک سے سود پر قرض لیتا ہے جس کی شرح 3فیصد یا 4 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے وہ ہر صورت اپنی مصنوعات یا دکان میں قابل فروخت اشیاء کی قیمتوں میں اپنے منافع کے ساتھ ساتھ اتنی قیمت کا اضافہ ضرور کرے گا کہ جس سے وہ سود کی رقم ادا کر سکے ۔ سودی قرض پر خریدے گئے مکانات کی قیمتیں جس طرح ہرسال بڑھتی ہیں، وہ اس کی واضح مثال ہے ۔ اگر ایک تجارت کا سرمایہ ہی سود پر لیا گیا ہے تو اس کا اثر تمام اشیاء صرف پر لازمی طور پر پڑے گا ۔

یہ بھی ملاحظہ ہو کہ عصر حاضر میں سود کتنی وسعت حاصل کر چکا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں موجود نقد ( سونا اور چاندی) ہی ادھار دیا جاتا تھا اور پھرا س پر سود لیا جاتا تھا کہ جو حرام قرار دیا گیا لیکن موجودہ دور میں پہلے تو بنکوں نے دوسرے لوگوں کی رقوم پر قرض دے کر سود کمایا اور پھر تیسرے مرحلے میں اسی رقم کو بار بار قرض دے کر مزید زر کی تخلیق کی ۔ یہ تو پھر (ا ضعافاً مضاعفہ یعنی سود در سود) کی شکل ہو گئی جسے بھی صراحت کے ساتھ حرام قرار دیا گیا ، یہ وہ شکل ہے کہ جسے کہا گیا کہ کچھ نہ تھا پھر بھی ا س سے مصنوعی زر پیدا کر لیا گیا اور جوں جوں یہ مصنوعی زر مارکیٹ میں پھیلتا‎ چلا جاتا ہے تو طلب اور رسد کے قانون کے مطابق قیمتیں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر مکانات (یعنی طلب) کم ہیں لیکن خریدار پیسے ہاتھ میں لئے (یعنی رسد) زیادہ ہیں تو ظاہر ہے مکانات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی۔

کہا جاتا ہے کہ مہنگائی کا سبب صرف تخلیق زر نہیں ہے بلکہ اس کے دوسرے اسباب بھی ہیں ، وہ اس طرح کے ملک کا مرکزی بنک (جیسے پاکستان میں اسٹیٹ بنک) جب یہ دیکھتا ہے کہ ہوش ربا گرانی ہوتی جارہی ہے تو وہ کمرشل بنکوں کو دیے جانے والے قرضوں پر سود کی شرح بڑھا دیتا ہے، ظاہر ہے جب سود کی شرح بڑھے گی تو قرض لینے والوں کی تعداد کم ہو جائے گی اور زر کے پھیلاؤ میں بھی کمی آجائے گی جس کی بنا پر مہنگائی پرکنٹرول کیا جا سکے گا۔ بعض ماہرین اقتصاد نے پاکستان کی مثال دی ہے کہ اسٹیٹ بنک کی شرح سود 7 فیصد کے لگ بھگ تھی لیکن انہوں نے اسے یکدم 22 فیصد تک بڑھا دیا، جس کے نتیجے میں معیشت بحران کا شکا ر ہو گئی۔ جن لوگوں نے 7 فیصد سودی قرضے پر اپنے کاروبار کھڑے کیے تھے وہ 22 فیصد شرح سود عائد ہونے کی بنا پر کساد بازاری کا شکار ہو گئے لیکن دیکھا گیا کہ مہنگائی پر پھر بھی کوئی اثر نہ پڑا اور وہ اس لیے کہ اصل قرضہ تو حکومت نے لے رکھا ہے ۔ یعنی تمام قرضوں کا 70 فیصد تو صرف حکومت کا ہے اور حکومت سود کی ادائیگی کے لئے مزید قرض لیتی ہے کہ جس سے پچھلا سود ادا کیا جاسکے اور یوں زر کے پھیلاؤ میں قطعاً کوئی کمی نہیں آتی۔

3۔ کئی ممالک کی کرنسی روز بروز گرتی چلی جارہی ہے ؟ آخر اس کا کیا سبب ہے ؟

یہی نہ کہ بجائے وہ اپنے ذرائع پیداوار پر انحصار کریں۔ وہ ورلڈ بنک اور IMF سے اربوں کھربوں کا قرضہ لے کر اپنے جائز اور نا جائز اخراجات پورا کر رہے ہیں ، اور پھر ان قرضوں کے لامتنا ہی سود کی ادائیگی کے لئے اپنے ہی عوام پر زندگی کے ہر گوشے میں بھاری ٹیکس لگانے پر مجبور ہیں کہ جس کی وجہ سے ان کی کرنسی زوال پذیر رہتی ہے ۔ پاکستان کی مثال لے لیجئے ، پاکستان بنتے وقت ایک امریکن ڈالر ایک روپے کے برابر تھا اور

اب 78 سال بعد اس کی قیمت 280 روپے ہو چکی ہے ، عالمی قرض دینے والے اداروں کو مصنوعی تخلیق زر کے نتیجے میں پیسہ دینا آسان اور بیچارے قرض داروں کو خون پسینہ سے حاصل کمائی کو قرض بمع سود ادا کرنا پڑ رہا ہے ۔

یہ کہنا کہ روپے کی قدر بمقابلہ ڈالر گر چکی ہے، ایک لحاظ سے درست نہ ہوگا اسے اس طرح سمجھیں کہ پچاس سال پہلے ایک مرغی ایک ڈالر کی قیمت رکھتی تھی لیکن قرض کی بنیاد پر زر کے پھیلاؤ سے ڈالر کی قیمت میں کمی آنا شروع ہو گئی اور اب پچاس سال بعد آپ ایک ڈالر میں مرغی نہیں خرید سکتے، ہوسکتا ہے کہ اسی وزن کی مرغی اب کوئی 5ڈالر میں ملے، گویا خود ڈالر کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے اور ایسے ہی لوکل کرنسیوں کو بھی اس پر قیاس کر لیا جائے۔

اور اس تفصیل سے ظاہر ہوا کہ عصر حاضر کے سرمایہ دارانہ نظام کہ جس کی آساس ہی سود ہے ، اس کا متبادل نظام ابھی تک قائم نہیں ہو سکا ہے ۔

اسلامی بنکوں کے پرچاکروں کا یہ کہنا کہ انہوں نے اجارہ ، مرابحہ ، مشارکہ ، مضاربہ اور تورق کی شکل میں اسلامی متبادل عقود مہیا کئے ہیں، درست نہیں ہے اور وہ اس لیے کہ وہ تمام کمرشل بنکوں کی طرح مرکزی بنک سے قرض لے کر وہ بھی مصنوعی زر کی تخلیق میں باقی بنکوں سے مختلف نہیں ہیں اور اسی لیے جب بھی کسی مالیاتی عقد کے منافع کی تقسیم کا مسئلہ آتا ہے (یا فروخت کردہ مکان کو عقد اجارہ کے بمو جب کرائے کے تعین کا مسئلہ آتا ہے) تو وہ اسے مرکزی بنک کی شرح سود ( انگلینڈ میں LIBOR اور پاکستان میں KIBOR ہی کے تابع رکھا جاتا ہے ۔

بعض ماہرین اقتصادیات اسلام کے مطابق اس کا حل صرف ایک ہے کہ اول تو بنکوں کا جزوی ریز روسسٹم کو ختم کیا جائے اور انہیں فل ریزرو سسٹم میں تبدیل کیا جائے اور دوسرے یہ کہ کمرشل بنکوں میں ڈپازٹ اکاؤنٹ اور کریڈٹ اکاؤنٹ کو بالکل علیحدہ کر دیا جائے ۔

ایک صرف روز مرہ کے معاملات جیسے پیسے رکھوانے یا رقوم نکلوانے یا انہیں کسی دوسرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروانے سے متعلق ہو اور دوسرا صرف تجارت (INVESTMENT) کی غرض سے ہو جس میں مذکورہ اسلامی عقود کی بنیاد پر کھاتہ داروں کو نفع دیا جا سکے ۔

تیسری بات یہ کہ مرکزی بنک کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ ملک کی GDP کے تناسب ہی سے نئے نوٹ چھاپنے کے پابند ھوں گے۔ گویا جتنے نئے نوٹ چھاپیں گے ان کی پشت پر ملک کے ذرائع پیداوار کا وزن ہوگا ۔

4۔موجوہ بینکنگ نظام سے قبل جو آب زُلال تھا وہ اب گدلے پانی میں تبدیل ہو چکا ہے،یعنی پچھلے زمانہ میں طلائی دینار اور چاندی کے در هم تجارتی سودوں کے لئے استعمال ہوتے تھے اور اس پر اگر قرضہ لیا جاتا تو ایک دینا ر کو دس گنا نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ صرف سود کے اضافے کے ساتھ اُسے قابل آمدن بنایا جاسکتا تھا ، لیکن موجودہ بینکنگ کے ذریعے مال کا اکثر حصہ (97 فیصد جیسے پہلے ذکر کیا جا چکا ہے ) خود نا جائز پیداوار کی حیثیت رکھتا ہے اور پھر اس کے اوپر سود کا اضافہ نہلے پر دھلہ کا مترادف ہے ۔ اب یہ کیا عجب نہیں کہ انسان کے ہاتھ جو پیسہ ہو وہ خود بھی مشکوک ہو ، لیکن اس کے بارے میں قطعا کوئی فکر نہ کی جائے ، البتہ اگر اسے بطور قرض دے کر سود لیا یا دیا جائے تو وہ صرف محل نظر ہو ۔

اسلامی بیکنگ کی کیا یہ صورتحال نہیں کہ وہ تمام کا تمام گدلا پانی برائے فروخت رکھتے ہیں لیکن لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی مصنوعات کے ذریعے اسے مزید گدلا ہونے سے بچا رہے ہیں ۔ بلکہ وہ تو یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں کہ پانی گدلا ہو چکا ہے !!

اس کی مثال تو ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں آب زمزم عطا کیا تھا اور یہ بھی بتا یا تھا کہ اس سے شفاء حاصل ہوتی ہے لیکن کچھ لوگوں نے پانی کی عام بوتل میں زمزم کے چند قطرے ڈال کر اُسے آب زمزم کا لیبل لگا کر مارکیٹ‎ سجالی ہے۔

ہماری صرف یہ استدعا ہے کہ اگر پینے کے لئے صرف گدلا پانی ہی دستیاب ہو تو پھر منفعت عام کی تین صورتیں ہی ہو سکتی ہیں :

1۔ صاف پانی فراہم کرنے کی کوشش کی جائے ۔

2۔ جب تک صاف پانی حاصل نہیں ہوتا ، اسی گدلے پانی کو بقدر استطاعت صاف کرنے کے بعد استعمال کیا جائے ۔

3۔ بدرجہ مجبوری اُسی گدلے پانی کو استعمال کیا جائے۔

اگر پانی گدلا آرہا ہے تو اُ سے صاف کرنا ایک خوش آئند عمل ہے (جو کہ اسلامی بنکوں کا اصل مقصد تھا یعنی سود کی آمیزش سے مال کو صاف کرنا) لیکن اسے مزید گدلا کر کے (یعنی تخلیق زر کے ذر یعے) لوگوں کو یہ باور کرانا کہ اب یہ ماء زلال بن چکا ہے ۔ ایک فریب ہے اور کچھ نہیں اور جب تک یہ نہیں ہوتا تو جو تیسری تجویز ہم نے دی ہے ، یعنی مجبوراً بقدر ضرورت اس گدلے پانی کو استعمال کیا جائے ، وہی قابل عمل ٹھہرتی ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں