سوالات کے جوابات۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

شوہر کے حقوق کے بارے میں ایک روایت

علماء الدعوة السلفیہ کے مجموعہ میں حضرت ابوسعید الخدری سے منسوب ایک روایت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا ، وہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی اپنی بیٹی کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری یہ بیٹی شادی کرنے سے انکار کرتی ہے، نبی کریمﷺ نے کہا: تم اپنے باپ کی اطاعت کرو، تو وہ کہنے لگی : نہیں!جب تک کہ تم مجھے یہ نہ بتا دو کہ ایک شوہر کے بیوی پر کیا حقوق ہوتے ہیں تو انہوں نے کہا:

حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ أَنْ لَوْ كَانَتْ لَهُ قُرْحَةٌ فَلَحِسَتْهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ.

زاد بعض الرواة: أَوِ انْتَثَرَ مَنْخِرَاهُ صَدِيدًا أَوْ دَمًا ، ثُمَّ ابْتَلَعَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : لا تُنْكِحُوهُنَّ إِلا بِإِذْنِهِنَّ.

شوہر کا حق بیوی پر یہ ہے کہ اگر اس کے (جسم پر) پھوڑا نکل آئے تو وہ اسے چاٹ لے یا اس کے نتھنوں سے پیپ یا خون بہے اور وہ اسے چاٹ لے تب بھی اس کا حق نہیں ادا کر سکتی۔‘‘

تب اس نے کہا: اس کی قسم، جس نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں کبھی بھی شادی نہیں کروں گی، تو نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ان کی مرضی کےبغیر ان کی شادی نہ کرو۔‘‘

جواباً ایک صاحب علم نے اس حدیث کی تخریج کرتے ہو لکھا کہ یہ روایت حدیث کی کئی کتابوں میں آئی ہے، جس کی تقصیل یہ ہے:

(مصنف ابن ابی شیبہ: 17407، النسائی، السنن الکبریٰ، حدیث نمبر 5386، البزار: 1465، البیہقی: 7/ 291، الحاکم: 2/ 188، ابن حبان: 4165، الدار قطنی: 3/ 237)

اور ان تمام محدثین کی اسناد ربیعہ بن عثمان تک پہنچتی ہیں جو محمد بن یحییٰ سے، وه نہار العبدی ہے ، اور وہ حضرت ابوسعید الخدری سے روایت کرتے ہیں ۔ شیخ البانی اور شیخ شعیب ارناؤوط ( ابن حبان براپنے تحقیقی نوٹ میں) کہتے ہیں کہ اس حدیث کی ا سناد حسن ہے، اس کے راوی صحیح احادیث کے راوی ہیں، سوائے ربیعہ بن عثمان کے ، اُن کی ایک روایت صحیح مسلم میں آئی ہے ، لیکن محدثین ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں ۔

ابن معین، ابن نمیر اور الحاکم نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے ۔

النسائی کہتے ہیں : “لیس به بأس.”

ان سے روایت کرتے ہیں کوئی حرج نہیں۔

مؤلف نے انہیں ثقہ راویوں میں ذکر کیا ہے لیکن یہ بھی کہا ہے :

“ولیس بذالك القوی.”

’’اتنے قوی بھی نہیں ۔‘‘

ابو حاتم نے کہا :

“منکر الحدیث ، يكتب حديثه.”

’’حدیث کے اعتبار سے منکر ہیں، لیکن ان کی حدیث لکھی جاتی ہے ۔‘‘

میں نے اختصار کے ساتھ اس حدیث کے بارے میں ایک دوسری تحقیق کا حوالہ دیا تھا، جواب میں تفصیل کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔

اور وہ یہ کہ جہاں الحاکم نے اس روایت کو یہ کہہ کر پیش کیا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شروط کے مطابق ہے لیکن انہوں نے اسے اپنی کتابوں میں شامل نہیں کیا، لیکن اسے صحیح قرار دیتا ہوں، کو الذہبی نے ابو حاتم کے الفاظ یعنی ربیعہ بن عثمان منکر الحدیث ہیں، نقل کرتے ہوئے ان کا رد کر دیا۔

ہمعصر علماء میں سے شیخ البانی کی رائے آ چکی ہے۔ ایک دوسرے عالم ڈاکٹر یوسف بن عبد اللہ الجدیع نے اپنی کتاب ’تحریر علوم الحدیث‘ میں اس پر مفصل کلام کیا ہے۔ پہلے ہم ان کی تحریر کا خلاصہ پیش کیے دیتے ہیں، پھر اپنی گذارشات عرض کریں گے۔

مولف نے باب کا عنوان باندھا ہے :

” علامات لكشف العلة من منهج المتقدمين.”

یعنی حدیث کی علت کو ظاہر کرنے والی علامات کا بیان متقدمین کا منہج رہا ہے اور پھر اسے کے اسباب گنواتے ہوئے ساتواں سبب یہ ٹھہرایا ہے کہ

حدیث کے منکر ہونے پر ایک علامت یہ بھی ہے کہ محدث اسے بڑھ کر اپنے دل میں انقباض محسوس کرے کہ ایسے الفاظ وحی اور نبوت کے الفاظ سے مناسبت نہیں رکھتے۔

اس مبحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص نبی کریمﷺ کے اقوال کثرت سے پڑھتا رہا ہو، یہاں تک کہ اس کی زبان ان کے ذکر کی عادی ہو چکی ہو اور پھر یکدم وہ ایسے الفاظ دیکھیے کہ اس کے دل میں فورا یہ خیال پیدا ہو کہ ایسے کلا م کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کرنا بڑا مشکل نظر آتا ہے اور پھر وہ اس کی علت کی جستجو میں لگا رہے، یہاں تک کہ وہ اسکے لئے ظاہر ہو جائے۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی خواہش یا اپنے مزاج کی بنا پر ایسا کرے، کیونکہ ایسا کرنا رائے کو جنم دینا ہے، جو کہ غلط ہو سکتی ہے۔

مثال کے طور پر حضرت ابو سعید الخدری کی طرف منسوب روایت اور اس روایت کے الفاظ ایک مدت تک کہ میرے لیے وحشت کا سب بنے رہے، یہاں تک مجھے اس کی علت سمجھ میں آ گئی تو اطمینان قلب حاصل ہوا۔

اور جہاں تک میں نے شوہر اور بیوی کے حقوق کے بارے میں سنت نبوی کا مطالعہ کیا ہے، تو اس قسم کے غیر مانوس الفاظ احادیث مبارکہ میں نظر نہیں آئے ، وہ اس لیے کہ آپ کی زبان مبارک سے حکمت کے موتی پھوٹتے رہے ہیں جو جوامع الحکم کا روپ دھار لیتے ہیں۔

اور میں جب قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کے اسی جامع قول پر نظر پڑتی ہے:

(ولَهُنَّ مثل الذى عليهن بالمعروف) (البقرة : 228)

’’اور ان کے لئے معروف کے مطابق ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر واجبات عائد کئے گئے ہیں ۔‘‘

اس آیت میں زوجین کے باہمی حقوق کو انتہائی مختصر مگر جامع انداز میں بیان کر دیا گیا اور پھر مذکورہ حدیث کی علت صرف یہی نامانوس الفاظ ہی نہیں بلکہ اس کی سندمیں ایک راوی ربیعہ بن عثمان بھی ہیں ۔

محدث البزار ان کے بارے میں کہتے ہیں ،: یہ حدیث ہمارے علم میں سوائے اس ایک ا سناد کے وارد نہیں ہوئی اور ربیعہ سے روایت کرنے والے صرف جعفر ہیں۔

الحاکم نے اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے لیکن الذہبی نے ربیعہ کے بارے میں محد ثین کے اقوال کو دیکھتے ہوئے الحاکم پر تنقید کی ہے۔

میں ایک مدت تک اس خیال سے کہ صبح مسلم کی ایک روایت انہی راوی سے منقول ہوئی ہے: اور اوروہ ہے :

“المؤمن القوى خير أحب إلى الله من المؤمن الضعيف …”

کہ جسے انہوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت کیا ہے، تو میرا رجحان اس حدیث کو قبول کرنے کی طرف رہا۔

لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ مسلم میں بعض دفعہ ایک ایسے راوی کی روایت کو بھی قبول کر لیتے ہیں جو اصلاً تو ثقہ قرار دیے گئے ہیں لیکن ان کے بارے میں تنقید بھی کی گئی ہے، تو وہ ایسے راوی کی اسی حدیث کو لیتے ہیں جو ان کے نزدیک قابل اعتبار ہوتی ہے، لیکن اس روایت کا معاملہ جدا ہے، یہ فرد مطلق والی اسناد کی حامل ہے، یعنی صرف ایک راوی ہیں جعفر جو ربیعہ سے روایت کر رہے ہیں۔

ربیعہ کے بارے میں یحیی بن معین اور محمد بن سعد نے کہا کہ وہ ثقہ ہیں ۔

النسائی کہتے ہیں :

“ليس به بأس.”

’’ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘

مگر ابو زرعہ الرازی کہتے ہیں:

“إلى الصدق ما هو ، وليس بذاك القوى.”

’’سچائی کے قریب ہیں لیکن اتنے قوی بھی نہیں۔‘‘

ابو حاتم الرازی کہتے ہیں :

” منکر الحديث ، يكتب حدثيه .”

اور قاعدہ یہ ہے کہ اگر جرح کے الفاظ واضح ہوں کہ یہ جرح کس بنا پر ہے تو اس سے تعدیل (یعنی قابل اعتماد قرار دیئے جانے والے اقوال ) پر ترجیح دی جائے گی۔ ایسے شخص کا اگر تفرد (تنہا راوی ہو ) زائل ہو جائے یعنی ویسی ہی روایت دوسرے طریق سے بھی روایت کرتے ہوں یا اس کی اصل کسی دوسرے طریق بھی وارد ہوئی ہو تو زیادہ سے زیادہ اُسے حسن قرار دیا جائے گا ۔‘‘ (تحریر علوم الحديث 2/ 757۔760 )

ہم ان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں:

1۔ سند کے علاوہ کیا ایسے خارجی امور بھی ہیں جو ایک حدیث کی جانچ کے لئے قابل قبول ہوں ؟

2۔ اگر کوئی راوی (جیسے ربیعہ بن عثمان) صحیحین کے رجال میں سے ہو کیا اس کی باقی روایات کو (جو دوسری کتابوں میں بیان ہوئی ہوں ) لازمی طور پر صحیح قرار دیا جا سکتا ہے؟

3۔ کیا اس حدیث کے لئے کوئی دوسری روایت بطور شاہد آئی ہے؟

4۔ اگر روایت ’فرد مطلق ‘ کے حکم میں ہو یعنی اس کی ایک ہی سند ہو اور دوسرے کسی طریق سے وارد نہ ہوئی ہو، تو جس راوی پر اس حدیث کا دارومدار ہو تو اسے کیسے پرکھا جائے گا؟

5۔اگر ایک روایت کے راوی پر معدلین اور جارحین دونوں کے اقوال موجود ہوں، تو کس قول کو ترجیح دی جائے گی؟

6۔ گوشیخ البانی نےاسے حسن قرار دیا ہے لیکن کیا انہوں نے متن کی نکارت (غیر مانوس عبارت) کے سبب کسی حدیث کو ضعیف یا موضوع ٹھہرایا ہے ؟

اب آئیے ان نکات پر اختصار کے ساتھ میری گزارشات ملاحظہ ہوں :

1۔ جو بات اس سے قبل شیخ عبدالله الجُدیع نے حدیث کے متن کی بابت کی ہے ، اس کی وضاحت کے لئے چند ائمہ کے اقوال پیش خدمت ہیں :

امام ابن القیم ارشاد فرماتے ہیں:

’’ان سے سوال کیا گیا کہ آیا بغیر سند کی طرف دیکھے ایک حدیث پر موضوع کا کا حکم لگایا جا سکتا ہے تو انہوں نے کہا:

’’یہ ایک اچھا سوال ہے، اس کی پہچان و ہی کر سکتا ہے جو صحیح روایات کا اتنا شناسا ہو کہ وہ اس کا اوڑھنا بچھونا بن چکی ہوں اور پھر اس میں اتنی استعداد پیدا ہو چکی ہو کہ وہ سنن اور آثار کو پہچان سکتا ہو، رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو خوب جانتا ہو، آپ کے ان ارشادات کو خوب سمجھتا ہو کہ کس بات کا حکم دیا گیا ہے اور کس بات سے روکا گیا ہے ، وہ کس کی دعوت دے رہے ہیں، کیا پسند کرتے ہیں اور کیا ناپسند، امت کے لیے کونسی بات بحیثیت شریعت بتا رہے ہیں اور کونسی نہیں؟

گویا کہ وہ انہیں ایسے دیکھتا ہے، جیسے کہ وہ صحابہ کرام کے درمیان موجود ہو،ایسا شخص پھر ان کے ارشادات، ان کے احوال، ان کے کلام، اقوال، افعال کو اسی طرح جان لیتا ہے کہ یہ پرکھ سکے کہ کیا جائز ہے اور کیا نا جائز ہے ؟

اور یہی صورتحال ہر امام کی اپنے مقتدیوں کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس میں جو جتنا امام سے قریب ہوگا، اس کے اقوال و افعال کی پیروی کرنے میں آگے آگے ہوگا۔

یہ جانتا ہوگا کہ جو کچھ اس کے امام کی طرف منسوب کیا جارہا ہے ، اس میں کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے اور جو اس مرتبے کا نہ ہو تو وہ اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا ۔ (جمال الدین القاسمی: قواعد التحديث : 164)

ابن القیم اپنی كتاب ” المنار المنیف ميں موضوع حدیث کی پہچان کے بارے میں لکھتے ہیں :

“ومنها سَماجة الحديث، وكَونه مما يُسخر منه.”

’اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ قبیح ہوں بلکہ اس کا مذاق بنے ۔

جیسے یہ حدیث کہ

اگر چاول آدمی ہوتا تو بڑا بردبار ہوتا ، کوئی بھو کا اسے جب بھی کھاتا سیر ہو کے اٹھتا ۔

یہ کلام بالکل غیر مناسب ہے کہ ایک عاقل سے بھی اس کی توقع نہیں کی جا سکتی چہ جائیکہ سید الانبیاء کی طرف اس کی نسبت کی جائے ۔ (ص 54)

این دقیق العید کہتے ہیں :

اکثر دفعہ محدثین روایت اور اس کے الفاظ کو دیکھ کر اس روایت کے موضوع ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور وہ اس لئے کہ احادیث اور سنن کا وہ کثرت سے مطالعہ کرتے ہیں تو ان کی نفسیاتی ہیئت ایسی ہو جاتی ہے یا ان میں اتنا قوی ملکہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ ایک کلام کو دیکھ کر یہ بتا سکتے ہیں کہ کون سے الفاظ نبی کریمﷺکے ہیں اور کون سے نہیں ہیں ۔

( قواعد التحديث: ص 165)

خطیب بغدادی، تابعی جلیل الربیع بن خیثم کا قول نقل کرتے ہیں :

’’حدیث کے اوپر روشن دن کا سا سماں ہوتا ہے کہ جس سے وہ پہچانی جاتی ہے، اور یا پھر اس پر رات کی تاریکی سایہ فگن ہوتی ہے کہ وہ پہچانی نہیں جاتی ۔ (ص 165)

ابن القیم یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر ایک روایت قرآن کے صریح الفاظ سے مطابقت نہ رکھتی ہو تو وہ بھی اس کے موضوع ہونے پر دلالت کرتی ہے اور اس ضمن میں انہوں نے صحیح مسلم کی ایک روایت پیش کی ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منسوب کی گئی ہے، اور وہ یہ کہ اللہ کے رسول ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا : اللہ عزوجل نے مٹی(یعنی زمین) کو ہفتے کے دن پیدا کیا ، اتوار کے دن اس میں پہاڑوں کو پیدا کیا ، اور پیر کے دن درختوں کو پیدا کیا ، مکروہ کو منگل کے دن پیدا کیا اور بدھ کے دن نور کو پیدا کیا اور جمعرات کے دن اس میں جانور پھیلا دیئے اور سب سے آخری مخلوق آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد جمعہ کی آخری ساعتوں میں، عصر اور رات کے درمیان پیدا کیا ۔‘‘ ( حدیث نمبر 2789)

کہا کہ اس کی اسناد بالکل صحیح ہے لیکن قرآن نے صریحاً بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے:

(اَللهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ) (السجدة : 4) اور یہی مضمون الاعراف: 54، یونس : 3، ہود: 7، الفرقان: 59، الحدید: 4 اور ق: 38 میں بھی بیان ہوا ہے۔)

امام بخاری نے اس حدیث کے بارے میں یہ حکم لگایا ہے کہ یہ قول اصلا کعب الاحبار کا ہے کہ جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے ۔ (الفتاوی : 18/ 18)

اور یہی بات زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے ۔ (جاری)

٭٭٭

اقوال سلف

علامہ حافظ ابن قیم رحمہ الله نے فرمایا :

سلف صالحین کہا کرتے تھے :

دنیا کی مصیبتوں سے اگر واسطہ نہ پڑے تو قیامت کے دن آدمی کا شمار مفلسوں میں ہوگا۔

(زاد المعاد: 176/4)

علامہ حافظ ابن قيم رحمہ اللہ نے فرمایا :

بہترین روزہ دار وہ ہیں جو کثرت سے اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ (الوابل الصيب: 104)

٭٭٭

تبصرہ کریں