سوالات کے جوابات۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

شوہر کے حقوق کے بارے میں ایک روایت (2)

2۔ اگر کوئی راوی (جیسے ربیعہ بن عثمان) صحیحین کے رجال میں سے ہو، تو کیا اس کی باقی روایات (جودوسری کتب حدیث میں بیان ہوئی ہیں) لازمی طور پر صحیح قرار دی جاسکتی ہیں ؟

جمال الدین القاسمی جرج اور تعدیل کے فوائد میں لکھتے ہیں :

’’الشعرانی میزان کے مقدمہ میں حافظ المزی اور الحافظ زیلعی کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ ان راویوں میں سے جن پر کلام کیا گیا ہے، لیکن پھر بھی بخاری اور مسلم نے ان کی روایات لی ہیں، جیسے جعفر بن سلیمان الضبعی، الحارث بن عبیدة ، يونس بن اسحاق

السُبیعی، ابو اویسں تو خیال کرنا چاہئے کہ شیخین جو ایسے لوگوں سے روایات لاتے ہیں تو کچھ شرطوں کے ساتھ لاتے ہیں۔

یعنی ان کی ایسی روایات بیان کرتے ہیں جن پر متابعات موجود ہیں (مطلب ہے کہ ان کی سطح پر یا ان کے مشائخ کی سطح پر کسی اور نے بھی وہی روایت بیان کی ہو ) یا اس کے شواہد موجود ہوں (یعنی صحابہ میں سے کسی دوسرے صحابی نے بھی وہی روایت یا اس سے ملتی جلتی روایت بیان کی ہو) اور وہ یہ جانتے ہوں کہ اس کی اصل موجود ہے اور اگر وہی اکیلے راوی ہوں تو پھراس سے روایت نہیں لاتے ۔

اور الحاکم (صاحب المستدرک اور کئی دوسرے حفاظ حدیث نے ان شروط کا خاطر خواہ لحاظ نہیں رکھا اور وہ اپنی روایت کو کہ جنہیں انہوں اپنی دانست میں صحیح قرار دیا ہے۔ اپنى كتاب (المستدرک) میں اس قول کے ساتھ درج کرتے ہیں کہ یہ روایت بخاری اور مسلم

کی شرطوں کے مطابق ہے لیکن انہوں نے تو اسے نہیں قبول کیا ، ہم اُسے درج کئے دیتے ہیں ۔

یہاں الحاکم سے بھی یہی غلطی ہوئی ہے کہ جس راوی کو بخاری ومسلم نے اپنی کسی روایت کردہ حدیث میں لیا ہے ۔ اس کی ہر روایت کو صحیح قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ بخاری ومسلم کی شرطوں پر پوری اترتی ہے اور وہ اس لیے کہ اس بات کا احتمال رہے گا کہ اس کی ہر روایت کردہ حدیث میں ہو سکتا ہے کہ کوئی شرط پوری نہ ہوئی ہو ۔ (ص 198)

ایک سوال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ بعض محدثین ضعیف راویوں کی روایت کیوں قبول کر لیتے ہیں تو اس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں :

1۔ اس لیے روایت کرتے ہیں کہ ان کا ضعف بیان کر سکیں تاکہ ان سے بچا جا سکے ۔

2۔ صرف بطور متابعت یا شاہد درج کرتے ہیں ، لیکن اگر وہ تنہا ہو تو پھر اس کی روایت کو نہیں لیتے۔

3۔ ضعیف راوی کی روایت میں ،صحيح، ضعیف، باطل ہرطرح کی روایات ہوتی ہیں۔ تو وہ سب لکھ تو لیتے ہیں لیکن حدیث کے ماہر حضرات ان کی چھان بین کر کے صحیح کو ضعیف یا باطل سے جدا کر دیتے ہیں ۔ اور یہی استدلال سفیان ثوری کا تھا کہ

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کلبی سے کیوں روایت کرتے ہیں تو انہوں نے کہا :

“اعرف صدقه من کذبه.”

’’ میں جانتا ہوں کہ اس کی کون سی روایت کھری ہے اور کونسی جھوٹی۔ ‘‘ (قواعد التحدیث ، ص 74)

تو کیا ہم ربیعہ بن عثمان کی احادیث کے بارے میں یہی بات نہیں کہ سکتے کہ امام مسلم نے جو واحد روایت ان سے لی ہے تو اسے سچ جان کرلی ہے ، لیکن ان کی دوسری روایت ( جو کہ ہماری بحث کا موضوع ہے) اُسے تو ہا تھ تک نہیں لگایا ۔

ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ نسائی نے اسے ’’السنن الكبری میں (نمبر 5386) کے تحت درج کیا ہے ۔ المجتبیٰ میں نہیں جو کہ سنن اربعہ میں شامل ہے۔

ابن الصلاح لکھتے ہیں کہ امام نسائی نے جب السنن الکبری کی تالیف کی تو اُسے الرملہ کے امیر کے سامنے پیش کیا تو امیر نے سوال کیا کہ آیا جو کچھ اس کتاب میں لکھا ہے وہ سب صحیح ہے ؟ تو انہوں نے کہا : نہیں ! تو امیر نے کہا ،: تو پھر صحیح‎ احادیث کو علیحدہ کر دو۔ ‘‘

تو پھر النسائی نے” المجتبیٰ” کی تالیف کی۔ (قواعد التحدیث: 247)

اور جہاں تک دار قطنی ، بیہقی ، الحاکم کا تعلق ہے تو ابن الصلاح نے صاف صاف لکھا ہے کہ ان تینوں کتابوں میں نہ صرف ضعیف احادیث شامل ہیں بلکہ موضوع احادیث بھی ہیں ۔

4۔ وہ احادیث جن کا تعلق ترغیب و ترہیب ، فضائل اعمال ، قصص، زہداور اچھے اخلاق سے ہوتا ہے۔ حلال و حرام سے نہیں تو ان کی روایت میں قدرے تساھل سے کام لیا جاتا ہے لیکن پھر بھی موضوع کی روایت سے بچا جاتا ہے۔ (قواعد: ص 114)

3۔ کیا مذکورہ حدیث کے لئے کوئی شاہد ہے ؟ اور اگر ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

الحاکم نے جہاں ربیعہ بن عثمان کی روایت جس کی سند حضرت ابو سعید الخدری تک جاتی ہے۔ اپنی تصنیف المستدرک میں درج کی ہے ، وہاں معاً اس کے بعد ایک اور روایت تحریر کی ہے جس کی سند حضرت ابوہریرہ تک جاتی ہے ، سند اور متن ملاحظہ ہو :

الحاكم حدثنا على بن حمشاد العذل ثنا محمد بن المغيرة السكرى بهمذان ثنا القاسم بن الحكم العرفي ثناسلیمان بن رو اؤد الیمامی عن يحيى بن كثير عن أبي سلمة عن أبى هريرة

( روایت کا متن وہی ہے جو پہلی روایت میں گزر چکا ہے اور پھر جہاں عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان ہوا ہے تو وہاں یہ الفاظ آئے ہیں جو پہلی روایت سے مختلف ہیں)

أن لو سَالَ مَنْخِرَاهُ دمًا وقِيحًا وصَدِيدًا فَلَحَسَتْهُ بِلِسَانِهَا ما أدَّتْ حَقَّهُ، ولو كانَ ينبَغِي لِبَشَرٍ أن يسجدَ لبَشَرٍ لأَمَرْتُ المرأَةَ أن تسجدَ لزوجِهَا إذا دخَلَ عليهَا لمَا فضَّلَهُ اللهُ عليهَا، قالت ْ: والذِي بعثَكَ بالحَقِّ لا أتزَوَّجُ شيئًا ما بَقِيتُ في الدُّنْيَا (صفحہ: 189)

’’ اگر اسے دونوں نتھنوں سے خون ، Pus اور. اور پیپ بھی بہہ رہا ہو اور وہ اُسے اپنی زبان سے چاٹتی رہے تب بھی اس کا حق ادا نہیں کر سکتی، اگر ایک انسان کا دوسرے انسان کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیا کہ جب وہ اس پر داخل ہو تو وہ اسے سجدہ کرے اور وہ اس لیے کہ اللہ نے اُسے عورت پر فضیلت عطا کی ہے۔ اس لڑکی نے کہا: اس ذات کی قسم، جس نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا ہے ، جب تک میں اس دنیا میں ہوں کبھی شادی نہ کروں گی ۔ ‘‘

ذہبی نے اس روایت کے بارے میں کہا:

بَلْ مُنْکَرٌ

’’بلکہ منکر روایت ہے ۔‘‘

و سلیمان وَاہِ : سلیمان بن داؤد بالکل کمزور ہے۔

والقاسم صدوق تكلم فيه: القاسم بن الحكم سچا ہے لیکن اس سر بھی کلام کیا کیا ہے۔

یعنی یہ روایت منکر ہونے کی بنا پر پہلی حدیث کی شاہد نہیں شمار کی جاسکتی۔

قاعدہ یہ ہے کہ اگر روایت معمولی طور پر کمزور ہو (جیسے راوی کا حافظہ کچا ہو ) تو ویسی ہی دوسری روایت اس کی تقویت کا باعث بنتی ہے اور یہ حدیث ضعیف سے نکل کر حسن درجے تک پہنچ جاتی ہے لیکن اگر انتہائی کمزور ہو ( جیسے مذکورہ روایت ہے تو وہ دوسری روایت کی تقویت نہیں کر سکتی۔

4۔ اگر روایت فرد مطلق کے حکم میں ہو یعنی اس ایک سند کے علاوہ کسی دوسرے طریق سے وارد نہ ہوئی ہو تو جس راوی پر اس حدیث کا دارومدار ہے تو اسے کیسے پرکھا جائے گا ؟

پہلے حدیث کی اصطلاح فرد مطلق کو لے لیتے ہیں :

’’وہ حدیث کہ جسے صرف ایک راوی ہی بیان کر رہا ہو ، چا ہے وہ حدیث اس تک متعدد طرق سے پہنچتی ہو یا ایک ہی طریق سے ، اور یہ روایت شاذ بھی ہو سکتی ہے یعنی راوی ثقہ ہو لیکن وہ کئی دوسرے ثقات کی روایت سے مختلف ہو، اور یہ منکر بھی ہو سکتی ہے کہ راوی ضعیف ہو لیکن ثقات کی مخالفت کرتا ہو ۔

ابن الصلاح نے ایک دوسری تعریف بھی لکھی ہے کہ منکروہ حدیث ہے جسے روایت کرنے والا شخص منفرد ہو اور اس کا متن سوائے اس کی اپنی روایت کے کسی دوسرے طریق سے مروی نہ ہو، نہ ویسے جیسے اس نے خود روایت کیا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے انداز سے۔

پھر خلاصہ کلام کے طور پر لکھتے ہیں :

اس لحاظ سے شاذ مردود کی دو اقسام ہو گئیں :

پہلی تو وہ کہ جس میں راوی منفرد ہو اور مخالفت کرتا نظر آتا ہو اور دوسری وہ کہ جس میں راوی کے ثقہ اور ضابط ہونے میں اتنی کمی ہو کہ جس سے اس کے منفرد ہونے اور ضعف اور نکارت کا باعث بننے کا ازالہ نہ ہو سکے ۔ ( توضيح الأفكار، صفحہ 3، 5، 7)

5۔ اگر ایک حدیث کے رواۃ پر معدلین اور جارحین دونوں ہوں تو کسے ترجیح حاصل ہوگی ؟ ایسی روایت کے جس کے رواۃ پر جرح اور تعدیل دونوں طرح کے کلمات پائے جائیں تو اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں۔

1۔ ابن الصلاح لکھتے ہیں کہ اگر ایک راوی کے بارے میں دونوں طرح کے کلمات پائے جائیں یعنی کچھ محدثین اس کے بارے میں اچھے رائے رکھتے ہوں (جسے تعدیل کیا جاتا ہے) اور کچھ ناقدانہ جسے جرح کہا جاتا ہے) تو پھر حرج کو مقدم رکھا جائے گا اور وہ اس لیے کہ معدل تو صرف راوی کے ظاہری حالات کو دیکھتا ہے جب کہ جارح کسی مخفی یا باطنی امر کی وجہ سے اپنی رائے دے رہا ہوتا ہے۔

اگر معدلین کی تعداد زیادہ ہو تو ایک قول تو یہ ہے کہ تعدیل کو ترجیح دیا جائے گی لیکن جمہور کی رائے صحیح معلوم ہوتی ہے کہ پھر بھی جرح کو مذکورہ سبب کی بنا پر فوقیت دی جائے گی۔ (توضیح الافکار: ص 159)

2۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر جرح مفسر ہو (یعنی وہ سبب بیان کیا جائے کہ جس کی وجہ سے راوی کو ضعیف یا منکر قرار دیا گیا ہے) تو ا سے تعدیل پر فوقیت حاصل ہوگی الا یہ کہ معدل نے اس بات کی وضاحت کی ہو کہ ہاں یہ سبب تو پایا جاتا تھا لیکن بعد میں زائل ہو گیا تھا۔

3۔ اگر دونوں طرف کے قائلین برابر تعداد میں ہوں تو پھر دیکھا جائے گا کہ ان میں حفظ اور ضبط کے اعتبار سے کس طرف کے محدثین کا پلڑا بھاری ہے۔ تو پھر ان کے قول کا اعتبار ہوگا۔ (ص158)

6۔ ذکر کیا گیا ہے کہ شیخ البانی نے مذکورہ حدیث کی تحسین کی ہے ؟

میں ان کے اصل الفاظ کی طرف رسائی تو حاصل نہیں کر سکا لیکن اتنا کہنے کی حبارت کروں گا کہ احادیث پر حکم لگانے میں محدثین کا اختلاف ہوتا رہا ہے جیسے الحا کم ایک حدیث کو صحیح قرار دیتے ہیں اور پھر الذھبی اسے ضعیف یا موضوع قرار دے دیتے ہیں، تو یہ ایک اجتہادی اَمر ہے جیسے کہ امام ابن تیمیہ نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن جہاں تک اس اصل کا تعلق ہے کہ بعض دفعہ متن کے الفاظ ایسے نامناسب ہوتے ہیں کہ ان کی نسبت الله کے رسول کی طرف کرنے سے طبیعت ابا کرتی ہے ، تو خود شیخ البانی نے کئی احادیث کو ضعیف ، منکر یا باطل قرار دیتے وقت اس اصل کا اعتبار کیا ہے ۔ میں تین مثالوں پر اکتفا کروں گا :

1۔ حدیث نمبر 134

ثلاثةٌ يَزِدْنَ في قوة البصرِ: النظرُ إلى الخُضرةِ، وإلى الماءِ الجاري، وإلى الوجهِ الحَسَنِ

’’تین چیزیں بصارت کو قوت زیادہ کرتی ہیں : سبزے کی طرف دیکھنا اور ایسے بہتے پانی اور خوبصورت چہرے کی طرف دیکھنا ۔‘‘

ابن الجوزی نے ” الموضوعات” میں اس کا ذکر کیا ہے۔ سند یہ ہے:

و هب بن وهب القرشي عن جعفر بن محمد الصادق عن أبيه عن علی بن الحسين عن جده على بن ابى طالب مرفوعاً

یہ حدیث باطل ہے، وہب کذاب ہے۔

اور پهر ابن القیم کا قول نقل کیا ہے:

فصل: چند وہ عمومی اصول جن سے حدیث کے موضوع (بناوٹی) ھونے کا پتہ چلتا ہے اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ حدیث انبیاء کے کلام سے مشابہ نہ ہو حتی کہ صحابہ کے کلام سے بھی مشابہت نہ رکھتی ہو جیسے (مذکورہ حدیث )

ایسا کلام تو نہ صرف ابو هريرة ، ابن عباس بلکہ سعيد بن المسيب اور حسن بصرى بلکہ امام احمد اور امام مالک سے بھی متوقع نہیں ۔

ملا علی قاری کہتے ہیں کہ حدیث موضوع نہیں بلکہ ضعیف کے درجے میں ہے۔

میں کہتا ہوں ، دونوں اقوال میں تعارض نہیں ۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ اسناد کے اعتبار سے ضعیف ہے لیکن متن کے اعتبار سے موضوع ہے ۔ (سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعه : 1/ 166)

2۔ حديث نمبر 183

لا صلاة لجار المسجد الا في المسجد

’’مسجد کے پڑوسی کی نماز نہیں ادا ہوتی مگر مسجد ہی میں۔‘‘

اسے دار قطنی، الحاکم ، بیہقی نے بروایت سليمان بن داؤد اليمامى عن يحيي بن أبي كثير عن ابى سلمة عن ابي هريرة مرفوعاً روایت کیا ہے ۔

بیہقی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

میں کہتا ہوں : اس حدیث کی علت یہی ہے کہ سلیمان بہت ضعیف ہے۔

ابن معین کہتے ہیں: ليس بشيئ (کچھ نہیں ہے)

بخاری نے کہا : منکر الحدیث ہے ۔

الذھبی نے کہا : بخاری کہتے ہیں کہ جس کے بارے میں، میں منکر الحدیث کہوں تو اس شخص سے روایت کرنا جائز نہیں ۔ (سلسلہ: 2؍ 217)

3۔ حدیث نمبر 766

أربعٌ لا يشْبَعْنَ من أربعٍ أرضٌ من مطرٍ وأنثى من ذكرٍ وعينٌ من نظرٍ وعالمٌ من علْمٍ

’’چار چار سے سیر نہیں ہوتے، زمین پانی سے، مادہ نرسے آنکھ نظر سے اور عالم علم سے۔‘‘

ابو نعیم نے ’ الحلیہ‘ میں اسے روایت کیا ہے، بروايت محمد بن الفضل عن التيمي عن ابن سیرین عن أبى ہريرة مرفو عا

اسے ابن الجوزی نے موضوع قرار دیا ہے، علت یہی شخص محمد بن الفضل ہے جو اس روایت میں منفرد ہے۔

امام احمد کہتے ہیں : اس کی بات جھوٹے لوگوں کی سی ہے ۔

ابن حبان نے کہا : یہ شخص ثقہ راویوں کی طرف نسبت کر کے موضوع روایات بیان کرتا ہے۔

پھر شیخ البانی نے اس حدیث کے تین دوسرے طرق بھی بیان کئے ہیں:

ایک العقیلی کا کتاب الضعفاء میں اور ابن حبان کا بروایت ابى هريرة

دوسری ابن عدی، ابن حبان ، ابن عساکر اور طبرانی کا بروایت سيدة عائشہ ، تیسرے الحافظ محمد بن ظاهر المقدسي كا تذكرة الموضوعات کا ، جہاں اسے بحیثیت متابعت روایت کیا گیا ہے۔

لیکن ان تینوں طرق میں ترتیب کے ساتھ عبد اللہ بن محمد عجلان، عبدالسلام بن عبد القدوس اور حسين بن علوان ضعيف راوی پائے جاتے ہیں ۔

ابن القیم نے اپنی کتاب المنار المنيف میں اسے موضوع قرار دیا ہے اور یہ الفاظ رقم کیے ہیں:

ومما يعرف الحديث كونه موضوعا ركاكة الفاظ الحديث وسما حتها بحيث يمجُّها السمع ويسمح معناه الفطنُ.

’’اور حدیث جن علامات کی بنا پر موضوع پہچانی جاتی ہے، ان میں سے ایک علامت یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ رکیک ہوں اور اتنے نا مناسب ہوں کہ سماعت پر بوجھل ہوں اور ایک باخیر شخص ان الفاظ سے بیزاری کا اظہار کرے ۔‘‘ (سلسله: 2/ 185)

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ربیعہ بن عثمان سے مروی شوہر کے حقوق کے بارے میں حدیث کے موضوع یا کم از کم بہت ہی ضعیف ہونے کے بہت سے اسباب موجود ہیں جس کی بنا پر ہم نے مناسب سمجھا کہ اس حدیث کے بارے میں جہاں بعض محدثین نے اسے صحیح یا حسن قرار دیا ہے تو وہاں دوسری رائے کا بھی ذکر کر دیا جائے اور اس کے دلائل بھی تفصیل کے ساتھ بیان کر دیئے جائیں اور جیسا کہ ہم اسے قبل امام ابن تیمیہ کی رائے قلمبند کر چکے ہیں کہ جن احادیث کے راویوں میں کلام کیا گیا ہے اور اس کلام (یا تنقیدی کلمات) کی بنا پر محدثین میں اختلاف کیا گیا کہ اس پر کسی نے اسے قبول کیا اور کسی نے اسے رد کیا تو وہ ایک اجتہادی امر ہے ۔ اس لئے دونوں آراء کے دلائل دیکھ کر ایک صاحب علم کاجس رائے پر بھی اطمینان ہو وہ اُسے اختیار کر سکتا ہے۔ والله اعلم

٭٭٭

تبصرہ کریں