سوالات کے جوابات۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

مہندی رنگے ہاتھوں کی تصویر کا حکم

سوال: میں یونیورسٹی کی ایک طالبہ ہوں۔ میں نے مہندی سے متعلق ایک کاروبار شروع کیا ہے۔ جس میں ہاتھوں پر مہندی لگا کر اس کی تصویر بنائی جاتی ہے اور پھر کاروباری نقطۂ نظر سے اس کی تشہیر کی جاتی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تصویر ہر کس وناکس دیکھے گا، میں نے اپنی اور چند دوسری خواتین کے ہاتھوں کی تصویر اپنے انسٹاگرام کے صفحے پر ڈالیں تھیں، لیکن صرف ہاتھوں کی، کلائی اور بازو بالکل ڈھکے ہوئے تھے، پھر اس خیال سے کہ نامحرم مرد اسے دیکھیں گے، میں نے ان تصاویر کو اتار دیا۔

میں نے اس موضوع پر تھوڑی بہت تحقیق بھی کی ہے، وہ حدیث بھی علم میں آئی کہ رسول اللہﷺ نے ایک ہاتھ دیکھا کہ جس پر مہندی نہ تھی تو آپ نے اسے اچھا نا جانا کہ اگر مہندی نہ ہو تو کیسے معلوم ہو کہ یہ مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا؟

پھر معلوم ہوا کہ بعض علماء کے نزدیک یہ ایک ضعیف حدیث ہے اور صحیح بات یہی ہے کہ زینت کو صرف محرم ہی دیکھ سکتے ہیں۔

لیکن اس کے مقابلے میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ مساجد و مراکز میں ایسے پروگرام بھی ہوتے رہتے ہیں جس میں خواتین مہندی لگواتی ہیں تو کیا میں اس کام کو اس نیت کے ساتھ نہیں کر سکتی کہ میرا مقصد غیر محرم افراد کو راغب کرنا نہیں ہے، میں تو صرف اپنے کاروبار کو فروغ دینا چاہتی ہوں، یہاں ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک مسلمان عورت جو شرع کی پابند نہیں ہے، یعنی اس کا لباس شریعت کے تقاضے پورا نہیں کرتا اور وہ یہ چاہتی ہے کہ یہ مہندی اس کے بازو تک لگائی جائے تو کیا میں ایسا کر سکتی ہوں؟ یا اگر ایک عورت اس مقصد کے لیے مہندی لگوانا چاہتی ہے کہ وہ غیر محرم مردوں کو راغب کرسکے؟ میں ان تمام باتوں کا جواب چاہتی ہوں۔

جواب: اس سوال کے جواب سے قبل چند تمہیدی باتیں گوش گذار ہیں:

نسوانی ہاتھ پر مہندی کے نقش ونگار زینت میں آتے ہیں۔ مطالعہ قرآن سے زینت کا یہ مفہوم علم میں آتا ہے۔

زینت ایک خارجی چیز ہے جو اپنے اصل کے ساتھ ہی نمایاں ہوتی ہے، جیسے ایک سادہ کاغذ پر نقش ونگار بنا دیے جائیں تو وہ کاغذ ایک خوبصورت نقش کی طرح نظر آئے گا۔ ایک سادہ کپڑا رنگے جانے کے بعد زیادہ جاذب نظر دکھائی دے گا، اللہ تعالیٰ نے زمین کے بارے میں کہا:

﴿إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا ﴾

’’ہم نے جو کچھ زمین کے اوپر ہے، اسے اس کے لیے زینت بنا دیا۔‘‘ (سورۃ الکہف: 7)

بارش کے بعد جب زمین لہلہا اٹھتی ہے تو اسے “وازينت”سے تعبیر کیا کہ وہ اپنی آرائش کے ساتھ نمودار ہو گئی۔

سیدنا موسیٰ جب کوہ طور پر روانہ ہو گئے اور ان کی واپسی میں تاخیر ہوگئی تو سامری کے بہلانے پھسلانے کی وجہ سے بنی اسرائیل نے اپنے زیورات کو پگھلا کر ایک بچھڑا بنایا اور پھر اس سونے کے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی گئی۔

اور پھرجب سیدنا موسیٰ واپس آئے اور انہوں نے اپنے غم وغصے کا اظہار کیا تو وہ اپنی صفائی میں کہتے ہیں:

﴿وَلَٰكِنَّا حُمِّلْنَا أَوْزَارًا مِّن زِينَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنَاهَا﴾ (سورۃ طہ: 87)

’’لیکن ہم سے تو قوم کی زینت (یعنی زیورات) کا بوجھ اٹھوایا گیا کہ جسے ہم نے لا پھینکا۔‘‘

مسجد جاتے وقت نمازیوں کے لیے حکم ہوا:

﴿ يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ ﴾ (سورۃ الاعراف: 31)

’’اے بنی آدم، ہر سجود کے موقع پر اپنی زینت لے لیا کرو۔‘‘

یہاں جاہلیت کے اس عمل کی مذمت مقصود ہے کہ عرب قبل از اسلام طواف کے لیے اپنے ستر سے بھی غافل ہو جایا کرتے تھے تو انہیں لباس پہننے کی تاکید کی گئی۔ قارون جب اپنی پوری آرائش کے ساتھ باہر نکلا تو اس کے بارے میں ارشاد فرمایا:

﴿فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ﴾

’’تو وہ اپنی قوم کے سامنے پورے ٹھاٹھ کے ساتھ نکلا۔‘‘ (سورۃ القصص: 79)

زینت کے اس مفہوم کو سمجھ لینے کے بعد دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایک ظاہری زینت ہے اور ایک باطنی زینت ہے کہ جس کے چھپانے کا حکم دیا گیا۔

سورۃ النور کی دو آیتیں ملاحظہ ہوں:

﴿وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ﴾ (سورۃ النور: 31)

’’اور وہ اپنے پیروں کو (زمین پر) اس طرح نہ ماریں کہ وہ زینت جسے وہ چھپا کر رکھ رہی ہیں، (لوگوں کو) اس کا علم ہو جائے۔

مراد ہے کہ پازیب وغیرہ کہ اگر وہ پیروں کو زمین پر زور زور ماریں گی تو ان کے کھنکھنانے کی آواز آئے گی اور آس پاس چلنے والوں کو ان کی اس زینت کا علم ہو گا۔

اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

﴿وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَن يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ ۖ وَأَن يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ﴾ (سورۃ النور: 60)

’’اور وہ (بوڑھی عورتیں) جو گھروں میں بیٹھ رہتی ہیں اور جن کے (دوبارہ) نکاح کی توقع نہیں ہے تو انہیں گناہ نہ ہو گا کہ وہ اپنے (غیر ضروری) کپڑے اتار دیں (لیکن اس شرط کے ساتھ کہ) وہ اپنی آرائش وزیبائش کی نمائش نہیں کریں گی اور اگر وہ (اس سہولت سے بھی) باز رہیں تو ہ ان کے لیے بہتر ہے۔‘‘

مراد ہے کہ اگر مرد حضرات ملنے آئیں اور وہ اوڑھنی نہ بھی استعمال کریں تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر وہ زیورات سے لدی پھندی ہوں تو پھر وہ ان کی نمائش نہیں کریں گی۔

اب ہم سورۃ النور کی آیت 31 کی طرف آتے ہیں، فرمایا:

﴿ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ (سورۃ النور: 31)

’’اور وہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود بخود ظاہر ہو جائے۔‘‘

یہاں عنوان بحث یہ ہو گا کہ آیا ایک خاتون کو اپنا سارا جسم چھپانا چاہیے یا جسم کے کچھ حصے کھولنے کی اجازت ہے۔

صحابہ کرام سے دو آراء منقول ہیں اور ان ہی کی روشنی میں ہم مذکورہ سوال کا جواب دے سکیں گے۔

پہلی رائے یہ ہے کہ ایک عورت کو نامحرم مردوں کے ساتھ سارا جسم چھپانا چاہیے، اگر وہ گھر سے باہر جائے تو نقاب سے اپنے چہرے کو اور دستانوں سے اپنے ہاتھوں کو بھی چھپائے۔

لیکن نقاب اور جلباب (چادر) کے ساتھ جب وہ باہر آئےگی تو اس کا یہ لباس جو کہ زینت میں شامل ہے وہ تو بہر صورت نظر آئے گا۔ تو یہاں اسی کا استثناء کیا جا رہا ہے۔ یہ رائے سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور تابعین میں سے امام حسن بصری، امام ابن سیرین، امام ابن الجوزاء اور امام ابراہیم النخعی﷭ سے منقول ہے۔

دوسری رائے یہ ہے کہ چند احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بچی جب بالغ ہو جائے تو اسے سارے جسم کو چھپانا چاہیے سوائے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے اور چونکہ جب چہرہ اور ہاتھ کھلے ہوں گے تو چہرے کی زیبائش جیسے آنکھوں میں کاجل، کانوں کے چھلے، ہاتھ پر مہندی اور انگلی کی انگوٹھی کا ظاہر ہونا ناگزیر ہے، اس لیے ﴿ما ظهر منها﴾ کے مطابق مذکورہ چیزوں کا ظاہر کرنا جائز ہو گا۔

دونوں آراء کے اپنے اپنے دلائل ہیں جو اہل علم کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں، ہمارے استاد شیخ محمد ناصر الدین البانی﷫ دوسری رائے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پہلی رائے افضل ہے، یعنی جو خاتون اس پر عمل کرے گی ان شاء اللہ زیادہ ثواب پائے گی۔

دوسری رائے کے مطابق ایک عورت کا گھر سے باہر جاتے وقت چہرے اور ہاتھوں کو نہ ڈھانپنا ضرورت کی بنا پر ہے، اس لیے مردوں کو ہدایت کی گئی ہے :

﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾

’’اور مؤمن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں۔‘‘ (سورۃ النور: 30)

اس تمہید کے بعد یہ بات تو واضح ہو گئی کہ دوسری رائے کے مطابق چہرے اور ہاتھ کی وہ زیبائش جس کا اتارنا مشکل ہوتا ہے، اس حد تک اس کا اظہار جائز ہے لیکن ہاتھ پر ایک سادہ سی مہندی کا نمایاں ہونا اور ہے دوسرا نقش ونگار بنا کر اسے مزید پر کشش بنانا اور پھر اسے غیر محارم کے سامنے نمایاں کرنا، کیا یہ سب بھی جواز کا حکم رکھے گا؟

دوسری رائے کے قائل حضرات کے نزدیک بھی ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔

محمد علی الصابونی اپنی کتاب تفسیر آیات الاحکام میں لکھتے ہیں:

’’وہ ائمہ جو کہتے ہیں کہ چہرہ اور ہاتھ عورۃ نہیں ہے (یعنی انہیں ظاہر کیا جا سکتا ہے) وہ بھی یہ شرط لگاتے ہیں کہ ان پر زینت کی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے تاکہ کسی قسم کا فتنہ نہ ہو۔‘‘ (تفسیر آیات الاحکام: 2؍157)

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ہتھیلیوں اور بازو پر مہندی کے نقش ونگار لگانا جائز ہے لیکن غیر محرم مردوں کے سامنے اس کا اظہار جائز نہیں۔ سائلہ کے سوال کے مطابق وہ صرف ایسے منقش ہاتھ کی تصویر کی نمائش چاہتی ہے تاکہ اس کی یہ بزنس زیادہ سے زیادہ لوگوں کے علم میں آ سکے۔

اسے خود بھی اس بات کا اقرار ہے کہ یہ تصاویر لوگوں کے لیے فتنے کا باعث بن سکتی ہے۔

اب چونکہ ہاتھ کی یہ تصویر ایک غیر معلوم ہاتھ کی ہوگی۔ یہ ظاہر نہ ہو گا کہ یہ کس کی تصویر ہے تو کیا اس کی گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے؟

ہمارے خیال میں اگر ایسی صورت میں بھی فتنے کا احتمال ہو تو بہتر ہے کہ ایسی تصاویر کی نمائش صرف خاتون کے رسائل، ان سے خاص ویب سائٹس تک ہی محدود رکھی جائے۔ مردوں کا غض بصر کے حکم کے مطابق ان رسائل اور ویب سائٹس کو دیکھنا محل نظر ہو گا۔ واللہ اعلم

جادو ٹونے کا حکم

سوال: ایک خاتون کا سوال ہے کہ اس کا خاوند گھر میں جادو ٹونے کرتا رہتا ہے اور اس کے بہت سے شواہد ملے ہیں جن میں یہ چیزیں شامل ہیں:

1۔ ایسے تعویذ اور طلسم جن کے ذریعے جنوں سے رابطہ کیا جاتا ہے۔

2۔ خاص قسم کے قلم، دھاگے، روشنائی اور سوتی اور اونی نمونے۔

3۔ خاوند جنات سے رابطہ کرنے کے لیے جنگلات کا رخ کرتا ہے اور اس طرح وہ کورونا وائرس کا بھی علاج کرنے کا دعویٰ کرتا ہے کہ جنہیں وہ انسان کے بدن سے جدا کر دیتا ہے۔

4۔ گھر کے عقبی باغیچے میں گوشت پھینکا جاتا ہے۔

جواب: اسلام میں کالا جادو کرنا بالکل حرام ہے۔ سورۃ البقرہ میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت کا ذکر کیا گیا ہے جن کی زبانی جادو کو کفر گردانا گیا ہے۔ آیت 102 ملاحظہ ہو:

اس آیت میں سیدنا سلیمان کے زمانے میں بنی اسرائیل کا نقشہ کھینچا گیا ہے:

﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾

’’اور وہ پیچھے لگے ان چیزوں کے جو سلیمان کے زمانہ میں شیاطین پڑھا کرتے تھے، اور سلیمان نے کفر نہیں بلکہ شیطان کفر کرتے تھے۔ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور وہ سب کچھ جو بابل میں ہاروت اور ماروت پر اتارا گیا تھا اور وہ دونوں جب کسی کو یہ (جادو) سکھاتے تو اسے بتا دیتے کہ ہم تو ایک آزمائش (کے طور پر اتارے) گئے ہیں تو تم یہ کفر نہ کرو!

پھر وہ ان دونوں سے وہ کچھ سیکھتے کہ جس سے وہ ایک شخص اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے۔

اور وہ کسی کو بھی کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے تھے مگر اللہ کے حکم سے،

اور وہ ، وہ کچھ سیکھتے تھے جو انہیں نقصان پہنچاتا تھا اور انہیں فائدہ نہ دیتا تھا، اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جو ایسی چیزیں خریدتا ہے، آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہیں اور کاش وہ جانتے کہ انہوں نے اپنی جانوں کو کسی برے عوض میں بیچ ڈالا ہے۔‘‘

ان آیات میں جادو کو کفر کہا گیا ہے اور اسلام میں بھی اس کا یہی حکم ہے۔

جادو سے عموماً برے کام کیے جاتے ہیں جیسے زوجین کے مابین جدائی ڈالنا یا کسی فریق سے انتقام لینا، بعض دفعہ کسی اچھے کام کرنے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے جیسے زوجین میں قربت پیدا کرنا یا کسی گمشدہ چیز کو برآمد کرنا۔

بہرحال مقصد کچھ بھی ہو، جو طریقہ استعمال کیا جاتا ہے اس میں شرکیہ منتروں کی آمیزش کی جاتی ہے جو کہ اسلام میں ناقابل قبول ہے۔

جادوگرحضرات اپنی محفل میں ایک سنسی خیز ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ جنات کو قابو کیا جا سکے اور ان کے توسط سے اپنے مقاصد حاصل کیے جائیں۔

یہاں ہم چند چیزوں کا ذکر کرتے ہیں جو جادوگروں کے ہتھیار شمار ہوتے ہیں:

1۔ ایک اندھیرا کمرہ جس میں موم بتیاں روشن کی جاتی ہیں۔

2۔ اگر بتیاں جلائی جاتی ہیں لیکن ناپسندیدہ بو کے ساتھ۔

3۔ کالا مرغا وکالا بکرا اللہ کے نام لیے بغیر ذبح کیا جاتا ہے۔

کاروائی کے دوران مذبوح جانور کا گوشت یا ہڈیاں لائی جاتی ہیں اور ان پر جانور کا خون چھڑکا جاتا ہے۔

پھر ان پر منتر پڑھا جاتا ہے اور جن کو حاضر کیا جاتا ہے، جس کی نشانی دھواں ہے جو مذکورہ مواد پر سے اٹھتا نظر آتا ہے۔ پھر جادوگر جن سے بات کرتا ہے اور اس سے مدد چاہتا ہے۔

یہ سادہ ترین کاروائی کا ایک نمونہ ہے، اگر طلب بڑی ہو تو اس کے لیے مزید شیطانی حربے عمل میں لائے جاتے ہیں جن میں انسانی قربانی اور خاص طور پر بچوں کی، عمل میں لائی جاتی ہے اور اسی لیے کئی مشرقی ممالک میں بچوں کی ایک معتدبہ تعداد گمشدہ قرار دی جاتی ہے لیکن انہیں برآمد نہیں کیا جا سکتا۔

جادو کے اس قبیح فعل کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے اور جادوگر کے لیے زیاہ سے زیادہ سزا تجویز کی گئی ہے، ایسے شخص سے رشتہ زوجیت برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں