
حاملہ عورت کے روزوں کا حکم
سوال:میں برطانیہ میں مقیم ہوں ۔ آٹھ سال قبل جب کہ میں حاملہ تھی اور روزے کا دورانیہ انیس (19) گھنٹے تک جاپہنچا تھا تو ڈاکٹر نے مجھے ہدایت کی کہ میں روزے نہ رکھوں کیونکہ جنین کے ارد گرد پانی کی کمی واقع ہونے کا خدشہ تھا۔
میں نے چند دن روزے رکھے اور چند دن نہیں رکھے اور ان کی جگہ بعد میں مزید کی ادائیگی کے بغیر قضا کی۔ ایسے ہی اگلے حمل کے دوران بھی ہوا ۔ اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ مجھے مزید بھی دیا چاہیے تھا کیونکہ میں روزہ رکھنے کی استطاعت رکھتی تھی لیکن صرف جنین کے بارے میں مذکورہ خدشے کی بنا پر نہ رکھ پائی تھی، میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھے فدیہ دیا جائے ؟ اور اگر دینا ہے تو اس کی کیا مقدار ہوگی ؟ اور کیا بچوں کا باپ یہ فدیہ ادا کرے ؟
جواب :اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ (سورۃ البقرة : 184)
’’اور جو لوگ (قدر کے مشقت کے ساتھ) اس کی استطاعت رکھتے ہوئے تو وہ ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ ادا کریں ۔‘‘
یہ لفظ (اطاق یطیق) کا مطلب ہے کہ کسی چیز کی طاقت تو ہے لیکن بڑی مشقت کے ساتھ اسے ادا کرنا پڑتا ہے ، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں اس کا مصداق ہو سکتی ہیں اور اس لحاظ سے آپ کو یہ فرق کرنا پڑے گا کہ جو روزے حمل کی مشقت کی بنا پر چھوڑے ہیں، ان کا تو صرف فدیہ ادا کیا جاسکتا ہے اور جو روزے مذکورہ خدشے کی بنا پر چھوڑے گئے تھے تو ان کی صرف قضاء کی جائے۔
فدیہ کی مقدار یک غریب ومسکین آدمی کو کھانا کھلانا ہے۔ جتنے روزے بربنائے مشقت چھوٹے ہیں تو اتنے ہی مساکین کو ایک دفعہ کھانا کھلا دیا جائےیا ایک مسکین کو اتنے دن کھانا کھلاتی رہیں۔اگر آپ کا اپنا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے تو بچوں کے والد کو یہ فدیہ ادا کرنا ہو گا۔
مردوں کا خواتین کےساتھ مخلوط کام کرنے کا حکم
سوال : ایک غیر مسلم ملک میں رہائش کی بنا پر کام کے دوران خواتین سے سابقہ پڑتا رہتا ہے، گلی کوچوں میں چلتے وقت بھی ان پر نگاہ پڑ سکتی ہے ۔ ٹی وی پر خبریں دیکھتے بھی خواتین بھی خبریں پڑھتے نظر آتی ہیں تو اس کاکیا حکم ہے ؟
جواب : چلتے وقت تو احتیاط برتنا آسان ہے، خاتون کی طرف نہ دیکھیں ۔ نظریں جھکالیں، کام کے اوقات میں کام سے متعلق امور کی بنا پر خواتین کے ساتھ اپنی بات چیت کو محدود رکھیں۔ خبریں ریڈیو پر بھی سنی جا سکتی ہیں۔ اب چونکہ آواز اور صورت (یعنی ٹی وی کا استعمال) خبروں کی حقیقت کو زیادہ وضاحت سے پیش کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اس بات کا خیال رہے کہ اگر اس میں خواہش ( یا لذت نظر) کا عنصر شامل ہوتا نظر آئے تو پھر صرفِ نظر ہی سے کام لینا چاہیئے۔
ملازم کے لیے پنشن کا حکم
سوال : میں پنشن اسکیم کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں ، برطانیہ کی جس کمپنی میں ، مَیں کام کرتا ہوں وہ ہرماہ میری تنخواہ میں سے ایک حصہ کاٹ لیتے ہیں اور پھرا اپنی طرف سے دُھرا حصہ ڈال کر اسے تجارت میں لگا دیتے ہیں تاکہ ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد تاحیات پنشن ملتی ہے اور اگر ملازم کی دوران ملازمت ہی وفات ہو جائے تو اس کی فیملی کو ایک یک مشت رقم ادا کر دی جاتی ہے۔
ملازمین کی سہولت کے لئے یہ نظام وضع کیا گیا ہے جو عقد ملازمت کا ایک جزوتصور کیا جاتا ہے ۔ اگر میں اس اسکیم میں حصہ نہ لوں تو جس رقم کا میں اس وقت ماہانہ استحقاق رکھتا ہوں، اس کے چو تھائی حصہ سے محروم ہو جاؤں گا ۔ برائے مہربانی اس موضوع پر میری رہنمائی کی جائے۔
جواب:پنشن اسکیم عقد تلازمت کا ایک حصہ ہے جس کی بنیاد باہمی تعاون پر رکھی گئی ہے۔ ملازمت کے دوران بھی اکثر کمپنیاں اپنے کارندوں کو انعامات اور یونس سے نوازتی رہتی ہیں ، چنانچہ پنشن اسکیم اسی مد میں آتی ہے، اگر یہ ریاستی ادارے کی طرف سے ہو تو اس کے قبول کرنے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رعایا کی بے روز گاری میں یا بڑھاپے میں کفالت کرے ۔
اور اگر پرائیویٹ کمپنی کی طرف سے ہو تو یہ دیکھا جائے کہ کمپنی نے پنشن کے نام پر جو پیسہ کاروبار میں لگایا ہے وہ کوئی حرام کا روبار تو نہیں ، اگر ایسا ہے تو وہ شخص اتنی ہی رقم کا مستحق ہوگا جو اس کی تنخواہ میں سے وضع کی گئی تھی ۔ باقی ماندہ رقم کو وہ ذاتی استعمال میں نہ لائے بلکہ محتا جین میں تقسیم کر دے۔ یہی احتیاط کا تقاضا ہے۔ واللہ اعلم
انشورنس والی کمپنی میں ملازمت کا حکم
سؤال:میرے کام کی نوعیت یہ ہے کہ میں تحریر کردہ وصیتوں کی جانچ پڑتال کروں ۔ یعنی یہ دیکھوں کہ جو وصیت کی گئی ہے وہ درست طریقے سے تحریر کی گئی ہے یا نہیں ! عقد ملازمت (CONTRACT) کو دیکھنے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ یہ کمپنی اپنے صارفین کی سہولت کے لئے اُنہیں چند مزید انشورنس اسکیموں کی طرف بھی رہنمائی کرتی ہے جیسے انشورنس برائے حیات، مکان ، صحت اور آمدنی ، کیا ایسا کام میرے لئے جائز ہے ؟
جواب:جہاں تک ملازمت کے مرکزی کام یعنی وصیت کی درستگی کی جانچ پڑتال کرنا ، تو اس میں تو کوئی قباحت نہیں ہے لیکن انشورنس کی بعض اسکیموں پر اعتراضات کئے جاسکتے ہیں ، اگر یہ اضافی کام اختیاری ہے تو آپ اس اضافی کام کو قبول کرنے سے معذرت کر دیں، اور اگر یہ لازمی ہے، تو بہتر ہے کہ کوئی دوسرا جائز کام تلاش کریں ۔
آن لائن خریداری کا حکم
سوال: سکّہ ڈھالنے والی رائل کمپنی (ROYAL MINT) سے سونے کی اشرفیاں یا سونے کی سلاخیں خریدی جاسکتی ہیں اور عام طور پر یہ معاملہ انٹرنیٹ پر کیا جاتا ہے۔ پہلے مکمل ادائیگی (یعنی قیمت) ادا کر دی جاتی ہے اور پھر کمپنی چند دنوں میں ڈاک کے ذریعے آرڈر بھیج دیتی ہے ، تو کیا ایسا معاملہ جائز ہے ؟
جواب: قاعدہ تویہی ہے کہ زر کا تبادلہ برابر سرابر ہو، ہاتھ کے ہاتھ ہو ، یعنی اس میں ادھار جائز نہیں ہے ، لیکن کمپنی کا ادائیگی موصول ہوتے ہی ڈاک کے ذریعے مطلوبہ ہونے کا ارسال کر دیا جانا ایک رسمی معاہده تصویر کیا جاتا ہے ، گویا خریدار اُسے حتمی طور پر وصول کر رہا ہے ، اس لیے چند دن کی دیر سویر سے صرف نظر کرتے ہوتے اسی معاملے کو جائز متصور کیا جائے گا۔
ایسے قبضے یا وصولیابی کو قبضہ بالقوة (Constructive Possession) کہا جاتا ہے ۔
شراب خانے میں ملازمت کرنے کا حکم
سوال: میں کافی دیر سے کام کی تلاش میں ہوں ، بےشمار درخواستیں دے چکا ہوں لیکن جواب نفی میں آتا ہے ۔ اب ایک شراب خانے کی طرف سے مثبت جواب موصول ہوا ہے۔ میرا کام شراب کی بوتلوں کو میزوں پر رکھنا نہ ہوگا بلکہ کھانا پیش کرنا ، میزوں کی صفائی کرنا ، اور ایسے ہی حمامات کی صفائی کرنا ہوگا ، مجھے کام کی شدید ضرورت ہے ، کیا میں یہ کام کر سکتا ہوں ؟
جواب: شراب خانے کے اندر کا م کرنے میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ شراب کی بوتلوں کو رکھنے، اٹھانے اور صاف کرنے کی نوبت بھی آتی رہے ۔ اس لیے بہتر ہے کہ آپ یہ کام نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا 0 وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ ﴾ (سورۃ الطلاق: 2۔3)
’’اور جو اللہ سے ڈرتا رہے ، اللہ اس کے لئے کوئی راستہ بنادے گا اور وہاں سے اسے رزق دے گا جہاں سے اُسے گمان بھی نہ ہوگا۔‘‘
خوبصورتی کے لیے آپریشن کروانا
سوال: میری عمر 23 سال ہے لیکن ابھی سے میری آنکھوں کے نیچے حلقے بن گئے ہیں اور مجھے ذہنی طور پر انتہائی شدید الجھن کا سامنا ہے ۔ میں تو باہر پبلک کے سامنے جانے سے بھی کتراتا ہوں ۔ تو کیا میں وہ آپریشین جسے (BLE PHAROPLASTY) کہا جاتا ہے کہ جس سے ان حلقوں کو بالکل ختم کیا جا سکتا ہے یا کم از کم ان کی تخفیف ہو جاتی ہے ؟
جواب: اس سوال کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ آیا یہ آپریشن کہ جس کے توسط سے لٹکی ہوئی کھال کو سیدھا کر دیا جاتا ہے ، صرف خوبصورت دکھائی دینے کےلیے کیا گیا ہے؟
بظاہر یہی معلوم موتا ہے کہ
اس قسم کے آنکھوں کے حلقے ( EYEBAG ) ایک نوجوان شخصی کو قبل از وقت بوڑھا ظاہر کرتے ہیں کہ جس کی بنا پر انسان ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے، تو جس طریقے سے ڈپریشن ہے (مایوسی) کا علاج کرایا جا سکتا ہے ، اسی طرح اس مسئلے کو بھی سمجھا جائے، کہ یہ صرف اللہ کی خلقت کو بگاڑنا نہیں ہے بلکہ اس میں ایک عیب ظاہر ہو جانے کے بعد اس کا علاج کرنا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
فتویٰ کن علماء سے پوچھا جائے
سوال: کیا اپنے لوکل مفتی یا امام سے ہی مسئلہ پوچھنا چاہئے یا ہم کسی قابل اعتماد عالم کی طرف رجوع کر سکتے ہیں جو کہ اپنے شہر یا اپنے ملک سے باہررہائش پذیر ہے؟
جواب : عام طور پر تو مقامی علماء ہی کی طرف رجوع کیا جانا چاہئے ۔ لیکن اگر کوئی شخص ملک سے باہر کسی عالم کی شہرت، اس کے علم اور اس کے تقویٰ کی بنا پر جوع کرنا چا ہے تو اس میں قطعاً کوئی مضائقہ نہیں ہے ، البتہ اگر مسئلے کا تعلق مقامی عادات و رسوم سے ہو تو پھر بہتر ہے کہ مقامی علماء ہی سے رجوع کیا جائے جو اپنے علاقے کے عادات و رسوم کو اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔
٭٭٭
امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ کا قول ہے کہ
يجبر الأخ على نفقة الأخت إذا كانت محتاجة.
’’بہن محتاج ہو تو اسے خرچ دینا بھائی پر لازم ہو گا۔‘‘
(زاد المسافر: 3090)
تبصرہ کریں